وحدت نیوز(گلگت) صدر و وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر گلگت بلتستان کے بارے میں بھارتی موقف کی حمایت کرکے غداری کے مرتکب قرار پائے ہیں۔گلگت بلتستان نہ تو آزاد کشمیر کا حصہ رہا ہے اور نہ ہی یہ خطہ کسی کشمیری لیڈر نے آزاد کرایا ہے۔یہ خطہ یہاں کے عوام نے بزور بازو ڈوگروں سے آزاد کرایا ہے۔گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے میں بظاہر کوئی دشوار ی حائل نہیں البتہ وفاقی حکمرانوں کی بدنیتی ضرور حائل ہے۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ شیخ نیئر عباس نے اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کا شروع دن سے مطالبہ رہا ہے کہ اس محروم خطے کو پاکستان کے دوسرے صوبوں کی طرح مکمل صوبہ بنایا جائے۔صدر اور وزیراعظم آزاد کشمیر گلگت بلتستان کے متعلق سیاست کرنے سے پہلے کشمیر کے مستقبل کافکر کرتے ہوئے اپنے عوام کو ایک پیج پر لائیں،گلگت بلتستان کے مستقبل کا فیصلہ یہاں کے عوام کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا کسی کشمیر ی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ گلگت بلتستان کے معاملات میں مداخلت کرے۔یہ علاقہ کسی بٹوارے کے نتیجے میں آزاد نہیں ہوا بلکہ یہاں کے عوام نے ڈوگروں سے جنگ لڑ کر 28 ہزار مربع میل پر مشتمل یہ خطہ آزاد کرواکر پاکستان میں شامل کیا ہے جبکہ کشمیری رہنما مسئلہ کشمیر کے نام پر انٹرنیشنل کمیونٹی سے بھیک مانگ کر مال بنانے والی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور یہ مفاد پرست کشمیر ی ٹولہ قیامت تک مسئلہ کشمیر کا حل نہیں چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام مفت میں کشمیریوں کیلئے قربانی کا بکرا نہیں بنیں گے،حقیقت یہ ہے کہ آج تک کسی کشمیری صدر اور وزیر اعظم نے گلگت بلتستان کا دورہ تک نہیں کیا ہے اور بھارتی ایجنٹوں کے ایماء پر اخباری بیانات جاری کرتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام ان نام نہاد مفاد پرست کشمیری رہنماؤں سے نفرت کرتے ہیں اور ان کے بیانات کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دیکر سالہا سال کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے۔
وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ تبلیغات کے مرکزی سیکریٹری علامہ اعجاز حسین بہشتی نے گلگت بلتستان کے نو منتخب وزیراعلیٰ اور قائد حزب اختلاف کے بارے میں اپنے رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں شیعہ دشمن وزیراعلیٰ اُن علماؤں کے محنت کا نتیجہ ہیں جنہوں نے مکتب تشیع اور گلگت بلتستان کے حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے دہشت گردوں کے سرپرستوں اور ان کے سیاسی ونگ کو سپورٹ کیا ، ہم نے گلگت بلتستان میں اپنی حجت تمام کی ہےاور آخری حد تک اتفاق واتحاد کے لئے کوششیں کی ہیں لیکن جب ہمارے اپنے ساتھ نہ دیں تو یقیناًدشمن کو ہی آگے آنا تھا، مگر ہمیں اپنے امیدواروں اور گلگت بلتستان کے غیور عوام کے عزم و حوصلوں پر فخر ہیں، انشاء اللہ ہم نے اب بھی ہار نہیں مانا ہے ، مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کی جنگ کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک گلگت بلتستان کو آئینی حقوق نہیں دیے جاتے۔
علامہ اعجاز بہشتی کا مزید کہنا تھا کہ ہار جیت سیاسی میدان کا حصہ ہیں ،مجلس وحدت مسلمین کا اصل حدف محروم عوام کو ان کے حقوق دلانا اور ظالموں سے مقابلہ کرنا ہے، ہم گلگت بلتستان سمیت ملک کے ہر کونے میں مظلوموں کی آواز پر لبیک کہیں گے کامیابی ملنا یا نہ ملنا ہماری منزل نہیں ہیں، ہم مظلوم اور بے یارومددگار لوگوں کی مدد کرنا اور ان کی حقوق کی آواز کو بلند کرنا اپنا شرعی فریضہ سمجھ کر ادا کرتے ہیں، لہذا یا فتح نصیب ہوگی یا شہادت کو گلے لگایں گے مگر کھبی کسی ظالم کے سامنے نہیں جھکیں گے نہ ہی کسی کے حقوق کو پامال ہونے دیں گے۔
وحدت نیوز (گلگت) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صوبائی سیکریٹری روابط اور سابق مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان عارف قمبری دو ماہ بعد ضمانت پر رہا ہوگئے ہیں ، اطلاعات کے مطابق عارف قمبری کو مظلومین یمن کی حمایت میں ریلی نکالنے پر سعودی نواز حکومت نے گرفتار کر رکھا تھا ۔مجلس وحدت مسلمین لیگل ایڈ کمیٹی کی کاوشوں سے عارف قمبری دو ماہ بعد ضمانت پر رہا ہوئے ہیں۔
مزید اطلاعات کے مطابق گلگت میں یمن کی صورتحال پر احتجاجی ریلی نکالنے پر عارف قمبری ،مولانا بلال سمائری، مولانا شیخ نیر عباس ،سمیت آئی ایس او گلگت کے صدر پر یکم اپریل کوایف آئی آر درج کی گئی، جبکہ عارف قنبری کو گلگت سے گرفتار کیا گیا تھا جو اب ضمانت پر رہا ہوگئے ہیں۔
وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید ناصر عباس شیرازی نے ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان کے عہدیداروں کے نام پیغام میں ہدایات جاری کیں ہیں کہ کسی بھی مذہبی سیاسی جماعت کو تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون اختلافات کو ہوا دے کر اپنا الو سیدھا کرنا چاہتی ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین اتحاد کی داعی ہے اور اپنے عمل سے اسے ثابت کر دکھایا ہے۔ ہم کسی بھی صورت اپنے داخلی و خارجی اتحاد کو پارہ پارہ نہیں ہونے دیں گے۔ ہمیں کارکنوں کی اس تکلیف کی شدت کا بھی اندازہ ہے، جو مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کی روش اور طرز عمل کے نتیجے میں انہیں برادشت کرنا پڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کسی مذہبی سیاسی جماعت یا شخصیات کے خلاف کوئی بیان نہیں دینا۔ ہم اپنے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے اپنے موقف کا بہترین دفاع کریں گے۔
ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری سیاسیات کا کہنا تھا کہ کچھ کالعدم جماعتیں سیاسی جماعتوں کی آڑ میں مجلس وحدت مسلمین کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں، جنہیں بالآخر ناکامی ہوگی۔ ہم گلگت بلتستان میں شائستہ اور باوقار اپوزیشن کی بنیاد رکھیں گے۔ یہ خطہ شیعہ سنی وحدت کا مثالی نمونہ بن کر ابھرے گا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت میں پیپلز پارٹی کے اعلٰی سطح کے وفد نے ہمارے دفتر کا دورہ کیا ہے، جو خوش آئند اور جمہوری طرز عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نون لیگ سے ہماری کوئی ذاتی دشمنی نہیں بلکہ اصولی اختلاف ہے۔ آئندہ آنے والا وقت ہمارے اس موقف کی تائید کرے گا۔ ہم اسلامی تحریک پاکستان سمیت تمام جماعتوں کا احترام کرتے ہیں۔ سیاسی اختلاف رائے کا حق ہمیشہ شائستگی کے دائرے میں ہی کیا جائے گا۔
وحدت نیوز (آرٹیکل) امید ،انسانی زندگی کا ستون،بے کسوں کا سہارا،مظلوموں کا عصا اور اہلِ ہمّت کی شاہراہ ہے۔کسی بھی انسان کی نااہلی کے لئے اتناہی کافی ہے کہ وہ نااہل لوگوں سے اپنی امیدیں وابستہ کرلے۔ہمارے ملک میں دہشت گردی کے دلخراش واقعات صرف حکومتی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان نہیں بلکہ عوامی نااہلی پر بھی دلالت کرتے ہیں۔
اس ملک میں جہاں دہشت گردوں اور سرکاری اہلکاروں کے مفادات مشترک ہیں وہاں عوام کا کرپٹ بیوروکریسی،بے دین سیاستدانون ،رشوت خور پولیس و ملیشیا سے اپنے دفاع اور تحفط کی امید باندھنا حماقت نہیں تو اور کیاہے!
تفتان سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے کراچی و اسلام آباد تک پولیس ،ملیشیا اور لیویز کے جو اہلکار جگہ جگہ مسافروں کو خوفزدہ کرکے رشوت بٹور رہے ہیں وہ مسافروں کو کیا تحفظ دیں گے!
جو اپنی صبح کا آغاز لقمہ حرام سے کرتے ہیں وہ دہشت گردوں کے خلاف کیا آپریشن کریں گے!
سانحہ بابوسر،سانحہ چلاس،سانحہ تفتان،سانحہ پشاور،سانحہ صفورا۔۔۔اور اب سانحہ مستونگ ۔گزشتہ روز بلوچستان کے ضلع مستونگ میں 2 کوچز کے 20 مسافروں کو اغوا کے بعد قتل کردیا گیا۔
قارئینِ کرام ! پاکستان میں سرکاری سرپرستی میں جاری حرام خوری اوردہشت گردی کے خلاف جتنا بھی احتجاج کیاجائے وہ کم ہے۔اب احتجاج زیادہ سے زیادہ ہونا چاہیے لیکن اس وقت احتجاج کا سب سے موثر موقع اہلیانِ گلگت و بلتستان کو حاصل ہے۔
اہلیانِ گلگت و بلتستان کو چاہیے کہ وہ درپیش انتخابات میں بے دین سیاست دانوں ،بے اصول لیڈروں،بے بصیرت شخصیات ،مفاد پرست پارٹیوں اور حرام خور بیوروکریسی کا اپنے قیمتی ووٹ کے ذریعے صفایا کریں۔
اس وقت الیکشن کمپین میں تفتان روٹ پر زائرین کی اہانت کے مسئلے کو اٹھایاجائے اورمسافروں سے سرکاری اہلکاروں کے رشوت وصول کرنے کے سلسلے کو رکوایا جائے،مسافروں کے تحفط اور دفاع کی خاطر بھرپور آواز اٹھائی جائے۔خصوصی طور پر موجودہ حکومت سمیت تمام تجربہ شدہ پارٹیوں اور ان کے حاشیہ براداروں و نمک خواروں کا ناطقہ بند کیاجائے۔
ہاں اہلیانِ گلگت و بلتستان! اس وقت آپ ایسا کر سکتے ہیں۔اس وقت قسمت نے آپ کو یہ موقع دیا ہے کہ آپ زائرینِ مشہدو کربلا کے تحفظ کے لئے اٹھیں،اس وقت حالات نے آپ کو یزیدانِ عصر کے مقابلے میں لاکر کھڑا کردیاہے کہ آپ چاہیں تو انہیں از سرِ نو اپنے اوپر مسلط کردیں اور چاہیں تو ان کے کھوکھلے رعب و دبدبے کو حرفِ غلط کی طرح مٹا دیں۔
ہاں ہاں ! اہلیانِ گلگت و بلتستان !
اپنے ووٹ،احتجاج ،کمپین اور اپنی سیاسی طاقت کو سمجھیے۔اس وقت آپ اس ملک و ملت کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ آپ کا درست فیصلہ کرپٹ حکومت اور مفاد پرست پارٹیوں کی بساط اُلٹ سکتاہے،اس وقت آپ کے ووٹ کا صحیح استعمال اور آپ کا بھرپور احتجاج زائرینِ مشہد و کربلا کی عزّت و ناموس اور جان و مال کے دفاع کا باعث بن سکتاہے اور آپ کی خاموشی،سادہ لوحی اورووٹ کا غلط استعمال یزیدانِ عصر حاضر کو فائدہ دے سکتاہے۔
بلاشبہ اس وقت تمام پاکستانیوں کی امیدیں اہلیانِ گلگت و بلتستان پر لگی ہوئی ہیں اور یہ تو ہم جانتے ہی ہیں، امید ،انسانی زندگی کا ستون،بے کسوں کا سہارا،مظلوموں کا عصا اور اہلِ ہمّت کی شاہراہ ہے۔آج ملت پاکستان اس راز کو جان چکی ہے کہ کسی بھی انسان کی نااہلی کے لئے اتناہی کافی ہے کہ وہ نااہل لوگوں سے اپنی امیدیں وابستہ کرلے۔چنانچہ اس وقت ملت ِ پاکستان کی امیدیں رشوت خور سرکاری اہلکاروں اور مفادپرست سیاستدانوں اور پارٹیوں کے بجائے گلگت و بلتستان کی دیندار اور باشعورعوام سے وابستہ ہیں۔
ہم سب گلگت و بلتستان کی دیندار اور باشعور عوام سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ اپنی سیاسی طاقت کو ظلم،بے بصیرتی اور فرعونیت کے خلاف استعمال کریں گے۔
تحریر۔۔۔۔۔۔نذرحافی
وحدت نیوز (گلگت) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے عوام کے آئینی حقوق کی جنگ بھرپور انداز سے لڑے گی اور اس وقت تک حکمرانوں کا جینا دوبھر کردینگے جب تک یہاں کے عوام کو آئینی حقوق نہیں دئیے جاتے۔ہمارا یہ نعرہ صرف انتخابی مہم کا حصہ نہیں بلکہ یہ نعرہ ہمارے منشور کا بنیادی حصہ ہے۔ان خیالات کا اظہا ر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے نگر خاص میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم مجلس وحدت مسلمین کے پلیٹ فارم سے کوئی ایسا غیر قانونی اقدام نہیں اٹھائینگے جس سے عوام ہمیں مستقبل میں ندامت کا سامنا کرنا پڑے ۔ خطے کے عوام کو گزشتہ 68 سالوں بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اور ہم انشاء اللہ اقتدار میں آکر پہلے پانچ سالوں میں گلگت بلتستان کے عوام کی ان محرومیوں کا ازالہ کرینگے اور علاقے کی تعمیر و ترقی کیلئے دن دوگنی رات چکنی محنت کرینگے۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے ضلع ہنزہ نگر کیلئے بے داغ ماضی ، اہل اور دیانت دار افراد کا انتخاب کیا ہے جو یقیناًدوسری جماعتوں کے نامزد کردہ امیدواروں سے ممتاز ہیں اور عوامی امنگوں کی ترجمانی کرینگے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کو غصب کرنے والوں سے جلد حساب لیا جائیگا ،عوام مطمئن رہیں مجلس وحدت مسلمین خطے کے عوام کو مایوس نہیں کرے گی۔ہم نے علاقے کی نمائندگی کیلئے اہل افراد کو میدان میں اتار کر اپنی وعدے کی پاسداری کی ہے اور ہمیں امید ہے کہ عوام ہمارے نامزد کردہ امیدواروں کا ضرور کامیابی دلوائیں گے۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سنی اتحاد کونسل پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ گلگت بلتستان کے بلند و بالا چٹانو ں کے درمیان رہنے والے باوفا پاکستانیوں کا شعور بھی بلند ہے اور ان جوانوں کے حوصلے بھی چٹانوں کی مانند مضبوط ہیں۔ان سنگلاخ چٹانو ں کے درمیان بسنے والے عوام کی صلاحیتیں کسی سے کم نہیں ،لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مفاد پرست حکمرانوں نے آج تک خطے کے با صلاحیت افراد کو اقتدار میں شامل کرکے ان کی صلاحیتوں استفادہ کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ہے۔ حکمرانوں نے 63 سال بعد ایک پیکیج کے ذریعے ڈمی صوبائی سٹیٹس تو دیا ہے لیکن تمام تر اختیارات کو یہاں کے منتخب عوامی نمائندوں کو منتقل نہیں کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکمران علاقے کے عوام سے مخلص نہیں ۔
انہوں نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل اور مجلس وحدت مسلمین نے پورے پاکستان میں تکفیریت کو بے نقاب کردیا ہے اگر وحدت مسلمین پاکستان کو میرے خون کی ضرورت پڑی تو دریغ نہیں کرینگے اور سنی شیعہ اتحاد وحدت کی قوت سے پاکستان دشمن قوتوں کا قلع قمع کردینگے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نواز دہشت گردوں کی پشت پناہی اور انہیں تحفظ فراہم کررہی ہے جس کے ہمارے پاس شواہد موجود لہٰذا گلگت بلتستان کے عوام نواز لیگ کے جھوٹے نعروں کے دھوکے میں نہ آئیں ورنہ رانا ثناء اللہ جیسے تکفیری سوچ رکھنے والے لیگی متوالے آپ کے مستقبل کے فیصلے کرنے لگیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ 8 جون کا سورج وحدت مسلمین کی فتح کی نوید لیکر طلوع ہوگا ۔