وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے تحت  اسلام آباد میں بیداری امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین امامیہ آرگنائزیشن لعل مہدی خان نے کہا ہے کہ اپنے شہداء اور محسنوں کو یاد رکھنے والی اقوام زندہ رہتی ہیں، ایک طرف ہمارے دامن میں ولایت آل محمد (ع) کا اثاثہ موجود ہے، تو دوسری طرف شہداء کی یاد کا عظیم اثاثہ ہمارے پاس موجود ہے۔ ہم دنیا کے لوگوں کو پیغام دے رے ہیں کہ ہماری زندگی شہادت کے بعد شروع ہوتی ہے۔ آج شہید کو ہم سے بچھڑے ستائیس سال بیت چکے لیکن آج بھی میں اپنی ملت کے نوجوانوں کے شہید حسینی کی محبت دیکھ سکتا ہوں۔ ضرورت اس امر کی ہے شہید حسینی کے پیغام اور درس و مشن سے وفا کی جائے۔ شہید حسینی کے پیغام کو اس وقت تک نہیں سمجھا جا سکتا جب تک امام خمینی کی فکر کو نہ سمجھا جائے، امام راحل نے دنیا کو یہ پیغام دیا تھا کہ اسلامی فکر عام فکر نہیں بلکہ اسلامی فکر انسانیت کی ہر قسم کی رہنمائی کرنے کی طاقت و قدرت رکھتی ہے۔ شہید حسینی، امام خمینی کی اسی فکر کے نقیب تھے، اگر امام خمینی کی ذات اتحاد و وحدت ایجاد کرنے والی تھی تو شہید حسینی اس پرچم اسلامی کے علمبردار تھے۔

امام خمینی نے اسلام ناب محمدی کی بات کی تھی، آج سرزمین پاکستان تکفیری فکر سے پاکستان کی سالمیت کو خطرات لاحق ہیں۔ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد کو فروغ دینا ہے۔ آج ہمیں نفاق کے راستہ کو بند کرنا ہوگا، اسی میں ہماری کامیابی ہے۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیر اہتمام قائد تحریک جعفریہ شہید سید عارف حسین الحسینی کی ستائیسویں برسی کے سلسلے میں ’’بیداری امت کانفرنس‘‘ کا انعقاد فضل الحق رو G-6/2اسلام آباد میں کیاگیا۔ جس میں ملک بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس میں شرکت کے لئے پنجاب سمیت تمام صوبوں سے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی و صوبائی رہنما شیعہ سنی علمائے کرام اور اکابرین اسلام اسلام آباد پہنچے ۔ برسی کی تقریب سے ملک کے جید شیعہ سنی علماء کرام خطاب کیا اور قائد شہید کی مذہبی و ملی خدمات پر روشنی ڈالی۔ ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے وطن عزیز کو درپیش مسائل اور استحکام پاکستان میں ہماری ذمہ داریاں کے عنوان سے صدارتی خطاب کیا، پنڈال میں تا حد نگاہ سبز ہلالی پرچموں اور ایم ڈبلیوایم کے جھنڈوں کی بھر مار تھی۔

وحدت نیوز (سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان بلتستان ڈویژن کے سیکریٹری جنرل آغا علی رضوی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی مدافع فکر اقبال اور نظریہ پاکستان تھے۔ وہ فرزند خمینی پاکستان میں موجود محروموں اور مظلوموں کی امیدوں کامحور تھا، اس کی شہادت سے ملت یتیم نہیں ہوئی بلکہ ملک کا ہر مستضعف اور ہر محروم و مظلوم یتیم ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ علامہ عارف حسین الحسینی مسیحائے ملت پاکستان تھے انہوں نے ملت کی درد کا حقیقی مداوا تلاش کیا اور ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی مسائل کا ادراک کرتے ہوئے میدان عمل میں اترے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو امریکہ کی غلامی سے نجات دلانے اور باوقار و آزاد خارجہ پالیسی کے لیے زمینہ سازی کی۔ اس کے علاوہ ملک میں موجود اتحاد بین المسلمین کی فقدان کو درک کرتے ہوئے شیعہ سنی وحدت کا علمبردار بن کر علمی اقدام اٹھائے ۔ شہید قائد نے ملک میں جتنے اقدامات اٹھائے اس میں عالم اسلام اور ملک کی سرفرازی کا راز پوشیدہ تھا اور انکے اقدامات سے استکبار و استعمار اور سامراج کے لیے وطن عزیز میں گھیرا تنگ ہو رہا تھا ۔ اسلام اور پاکستان کے دشمنوں نے اس چیز کو درک کرتے ہوئے انہیں پاکستان سے اٹھانے کو ہی اپنی عافیت کا ذریعہ سمجھا لہذا اس فرزند علی نے نماز فجر کے بعد جام شہاد ت نوش فرمائے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سروخرو ہوئے۔ شہید عارف حسین الحسینی اگر چہ ہمارے درمیان نہیں لیکن شہید ہونے کے ناطے وہ اس وقت بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ ملک بھر میں شیعہ سنی وحدت کے لیے اٹھنے والے اقدامات، مظلوموں اور محروموں کے حقوق کے لیے اٹھنے والی آواز اور دشمن اسلام و پاکستان امریکہ و اسرائیل کے خلاف اٹھنے والی مردہ باد امریکہ کی آواز دراصل شہید عارف حسینی کی آواز ہے۔ اس مسیحائے ملت نے قو م کو اپنی افکار سے بیدار کر دیا ہے اور حق و باطل کا پیمانہ دے دیا ہے۔ امام خمینی رھ نے عارف حسینی کی شہادت پر انہیں اپنا حقیقی فرزند قرار دے کر انکے ہر عمل اور ہر اقدام پر مہر تصدیق ثبت کی ہے،اور انہوں نے تاکید فرمائی تھی کی شہید قائد کے افکار کو زندہ رکھیں۔ شہید عارف کے ہر ہرا قدام اور ہر ہر پالیسی کو زندہ رکھنا حکم بت شکن کی اتباع ہے چاہے وہ اقدام عملی سیاست کے ذریعے محروموں کے حقوق کے لیے کوشش کرنا ہو یا اہل سنت برادی کے ساتھ شانے سے شانے ملا کر اور انہیں عزت و تکریم دے کے اجتماعی جدوجہد کرنا ہو ، خواہ ملک بھر میں امریکہ مردہ باد کے نعرے کو زندہ رکھنا ہو یا طالبان اور دہشتگرد تنظیموں کے خلاف ہر سطح پر اٹھ کھڑے ہو کر انہیں پاکستان میں دفن کرنا ہو۔ شہید عارف حسین سے بڑھ کر کوئی پاکستان میں فرزند انقلاب اور فرزند خمینی ہونے کا دم نہیں بھر سکتا۔ اور نہ ہی کسی کو یہ حق حاصل ہے شہید عارف کے نظریات کے خلاف اقدامات اٹھائے اور انکی تعریفیں بھی کریں اور خود کو وارث خمینی قرار دے۔ علامہ عارف حسین الحسینی نے اپنا نظر یہ اپنا عمل کھلی کتاب کی مانند سب کے سامنے رکھ دیا ہے اور کوئی ابہام نہیں رکھا ہے۔ اور انشا ء اللہ ملت اور وطن عزیز کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہونے، محروموں کے حقوق کے مدافع ہونے، اتحاد بین المسلمین کے حقیقی داعی اور امریکہ و طالبان کے حقیقی دشمن ہونے کی دلیل ہمارا خون دے گا۔ ہم جانیں لوٹا دیں گے اور اپنے شہید قائد کے افکار و نظریات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

وحدت نیوز(گلگت) حکومت جھوٹے الزامات کے تحت مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں کو گرفتارکرکے تصادم کی طرف لیجانا چاہتی ہے تاکہ گلگت بلتستان میں الیکشن کے دوران کئے گئے وعدوں سے عوام کی توجہ ہٹائی جاے۔ مجلس وحدت مسلمین مسلسل حکومت کو ان کے کئے گئے وعدوں کو یاد کراتی رہے گی اور جماعت کے خلاف ہر قسم کی سازشوں کا مقابلہ قانونی طریقے سے کرینگے،ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی ترجمان محمد الیاس صدیقی نے اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یمن فوج بھیجنے کے خلاف نکالی جانیوالی ریلی میں ایم ڈبلیو ایم کے رہنماؤں کے خلاف کاٹی گئی ایف آئی آر بد نیتی پر مبنی ہے جس کو عد الت میں چیلنج کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت دہشت گردوں سے مذاکرات کے ذریعے انہیں محفوظ راستہ د ینا چاہتی تھی اس راستے کے سامنے مجلس وحدت حائل ہوئی اور حکومت خواہش کو شرمندہ تعبیر ہو نے نہیں دیااور نواز لیگ کی خواہش کے برخلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا جس کی مجلس وحدت نے مکمل سپورٹ کیا اور اسی جرم کی پاداش میں نواز حکومت مجلس وحدت کے رہنماؤں کے خلاف جھوٹے ایف آئی آر کے ذریعے بدنام کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں لیگی حکومت ایم ڈبلیو ایم کے کارکنوں اور رہنماؤں کو انتقام کا نشانہ بنارہی ہے ،علامہ امین شہیدی کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری کروانا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی جبر کے سامنے مجلس وحدت گھٹنے ٹیکنے والی نہیں اور ہر ظلم کے خلاف میدان میں کمربستہ رہے گی ،جہاں ظلم ہوگا وہاں مجلس وحدت کو کھڑے پائیں گے۔انہوں نے کہا کہ گرفتاریاں اور جیل ہمارے عزم اور حوصلے کو شکست نہیں دے سکتی بلکہ ایسی چیزوں سے ظلم کے خلاف اور مظلوموں کی حمایت کا جذبہ مزید پختہ ہوتا جائیگا۔

وحدت نیوز (سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان بلتستان ڈویژن کے سیکریٹَری جنرل علامہ آغا علی رضوی نے پاکستان کے معروف عالم دین اور ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی کے خلاف وارنٹ گرفتاری پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نواز حکومت کی جانب سے علامہ امین شہیدی کو دہشتگردوں کی مخالفت کرنے اور دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کی حمایت کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ علامہ امین شہیدی نے ہمیشہ نظریہ پاکستان کا دفاع کیا، ملک دشمن عناصر کے خلاف ملک بھر میں زمینہ سازی کی، دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کرنے والی آرمی کی اخلاقی پشت پناہی کی اور ملک بھر میں قائم فوجی عدالتوں پر میڈیا میں ہونے والے حملوں کا دفاع کیا۔

انہوں نے میڈیا پر اپنے دلائل کے ذریعے روح آئین پاکستان کو زندہ کرنے کی کوشش کی اور اقبال کے پاکستان کی نظریاتی حفاظت کی۔ آج ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری دراصل دہشتگردوں کے سیاسی ونگ کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کا شاخسانہ ہے۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ سانحہ راولپنڈی کی آڑ میں شیعہ شخصیات بالخصوص علامہ امین شہیدی کو پابند سلاسل کرنے کی حکومتی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے، نواز حکومت شیعہ دشمنی میں اندھی ہوچکی ہے۔ گلگت بلتستان میں بھی صوبائی حکومت اسی پالیسی پر کاربند ہے۔ میں گلگت بلتستان کے عوام کو ہوشیار رہنے کی تاکید کرتا ہوں اور واضح کرتا ہوں کہ علامہ امین شہیدی کے خلاف وارنٹ گرفتاری کے بعد نواز حکومت کا چہرہ واضح ہوگیا ہے۔ نواز شریف کی صوبائی حکومت گلگت بلتستان میں بھی ضیاء کے دور کو تازہ کرنے کی کوشش میں ہے اور فرقہ واریت کو ہوا دینا چاہتی ہے، عوام ہوشیار رہیں۔

وحدت نیوز(گلگت) مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں پر غداری کی جھوٹی ایف آئی آر درج کروانے والے پاکستان دشمن اور اس ملک کے وفادار نہیں ،الیکشن سے قبل تک ایمپاورمنٹ آرڈر کی مخالفت میں بیانات دینے والوں کو صرف اپنے مفادات سے غرض ہے۔ محب وطن افراد کو محض سیاسی مخالفت کی بناء پر پاکستان مخالف قرار دینے کی مذموم کوشش ہرگز کامیاب نہیں ہوگی۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل علامہ نیئر عباس مصطفوی اور شیخ محمد بلال سمائری نے صوبائی،ڈویژنل اور ضلعی عہدیداروں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت جھوٹی ایف آر کی آڑ میں مجلس وحدت مسلمین سے سیاسی انتقام لے رہی ہے جس کی انہیں بھاری قیمت چکانا پڑے گی،ہماری شرافت سے کوئی ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے۔ہم نے سیاست کو عبادت سمجھ کر سیاسی میدان میں قدم رکھا ہے اور مخالفین کی ہر سازش کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف بغاوت کی جھوٹی ایف آئی آر سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے ،انتخابی عمل میں ن لیگ کی پالیسیوں کی مخالفت کی پاداش میں علماء کرام اور بے گناہ رہنماؤں کو پابند سلاسل کیا گیا ہے جو جمہوریت کی دعویدار جماعت کی قلعی کھولنے کے لئے کافی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت انتقامی کاروائیوں سے باز آئے اور خطے کی محرومیوں اور استحصال کا سد باب کرے ورنہ حکومت کی انتقامی پالیسیوں سے علاقے میں احساس محرومی اور آبادی کے مختلف طبقات کے مابین نفرتوں کی بنیاد جو حکمرانوں نے ڈالی ہے اس میں اضافہ ہوگا۔اجلاس میں علامہ امین شہیدی کے جھوٹے مقدمے میں وارنٹ گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

Page 77 of 120

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree