The Latest


(مورخہ 14دسمبر، برو ز جمعتہ المبارک ، بمقام: رہائشگاہِ شہید آغا سید ضیاء الدین رضویؒ ، امپھری گلگت)
محترم صحافی حضرات ۔۔۔السلام علیکم!
سب سے پہلے آپ تمام حضرات کا انتہائی مشکور ہوں کہ آپ نے اپنی بے پناہ مصروفیات میں سے وقت نکال کر یہاں تشریف لائے۔
محترم صحافی حضرات!
آج آپ کو یہاں زحمت دینے کا مقصد ایک انتہائی اور حساس مسئلے سے آپکو آگاہ کرنا ہے۔
8جنوری 2005ء کو سرزمین گلگت میں اتحاد بین المسلمین کے داعی اور پاکستان کے ایک مضبوط حامی علامہ سید ضیاء الدین رضویؒ کو ایک منظم و گہری سازش کے تحت شہید کیا گیا۔
مجھے انتہائی دکھ اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سات سال کا طو یل عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک آغا ضیاء الدین شہید کے قتل کیس کے پس پردہ محرکات سے ہمیں اور عوام الناس کو آگاہ نہیں کیا جارہا ہے ۔آغا ضیاء الدین رضوی قتل کیس کی سازش کہاں تیار ہوئی ، ساز ش میں کون کونسی طاقتیں ملوث تھی اور سازش کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کن لوگوں کو مہرے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ان تمام سوالات کے جوابات ابھی تک منظر عام پر نہیں لائے جا سکے جس کی وجہ سے پاکستان سے محبت کرنے والے اور امن پسند عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ خطرناک دہشت گرد شاکر اللہ جو چترال میں سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف پر خود کش حملوں کی منصوبہ بندی بناے کے الزام میں گرفتار ہوا اور تحقیقات کے دوران آغا ضیاء الدین رضوی شہید کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کرنے پر گلگت پولیس کے حوالہ کردیا گیا اور یہاں پر دوران تفتیش آغا ضیاء الدین رضوی شہید کے قتل کا باضابطہ اقرار بھی اس دہشت گرد نے کیا ۔ اس کیس میں شاکر اللہ کے علاوہ قتل کیس میں ملوث دیگر لوگوں پر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں عرصہ سات سال سے کیس زیر سماعت ہے۔ مگر جان بوجھ کر ایک سازش کے تحت اس اہم اور حساس کیس کا فیصلہ سنانے میں مسلسل تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں جو معنی خیز ہے؟اور اس عرصہ میں اس اہم نوعیت کے کیس کی سماعت کیلئے چار جج تبدیل کئے جا چکے ہیں جبکہ آغا ضیاء الدین رضوی شہید قتل کیس کے ماسٹر مائنڈ قاری ندیم استوری کو اسلام آباد میں ایک عرصہ قبل گرفتار کیا جا چکا ہے مگر ہماری بار بار کی گزارشات کے باوجود تاحال ماسٹر مائنڈ قاری ندیم استوری کو گلگت منتقل نہیں کیا جارہا ہے ۔
محترم صحافی حضرات!
ایک سوچی سمجھی ساز ش کے تحت آغا ضیاء الدین رضویؒ شہید قتل کیس کے اہم ملزم کو ڈسٹرکٹ جیل کشروٹ گلگت سے ایف سی ہیڈ کوارٹر میں واقع چیتا جیل سکوار منتقل کیا گیا اور وہاں پر نہ صرف قتل کے ہائی پروفائل ملزم کو اہم شخصیت کا پروٹوکول دیا گیا ، ٹی وی، موبائل فون کی سہولیات بھی اس خطرنا ک اور اہم دہشت گرد کو فراہم کی گئیں بلکہ ایف سی اہلکاروں نے قتل کے ملزم شاکر اللہ کو اپنا پیش نماز اور خطیب مقرر کرکے باقاعدہ ان کے پیچھے نماز پڑھتے رہے ۔ یہ صرف زبانی باتیں نہیں ہیں بلکہ اس حوالے سے ہم نے بارہا صوبائی حکومت ، انتظامیہ اور پولیس کو تحریری اور زبانی آگاہ کرتے رہے اور خبردار کرتے رہے کہ ایف سی کسی بھی وقت اپنے پیش نماز کو وہاںں سے فرار کرائیگی مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے خدشات درست ثابت ہوئے اور حکومت ، انتظامیہ اور پولیس کی ملی بھگت سے شاکر اللہ ایک اور اہم دہشت گرد قیدی قاری عارف الدین جو نہ صرف دہشت گردی کی کئی وارداتوں میں ملوث تھا بلکہ یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ انہوں نے جیل میں بیٹھ کر دہشت گردوں کو ہینڈ گرنیڈ فراہم کیا ۔
محترم صحافی حضرات!
آپ کے سامنے یہ اہم انکشاف بھی کرتے ہیں کہ ایک عرصہ سے ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم کے امیر اور معروف دہشت گرد ملک اسحاق ، شہید آغا ضیاء الدین رضویؒ قتل کیس میں ملوث اس دہشت گرد شاکر اللہ کی رہائی کیلئے کوششوں میں مصروف تھا اور گلگت شہر کی کئی اہم شخصیات سے رابطہ کرکے یہ پیش کش کرتا رہا کہ میں آٹھ کروڑ روپے تک دینے کیلئے تیار ہوں ۔ملک اسحاق نے شاکر اللہ کو فرار کرانے کیلئے اپنے منظم دہشت گرد وں کے نیٹ ورک کے زریعے کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی ، جیل میں موجود ایف ، سی اہلکاروں اور دیگر عملہ کو بھاری رقم کے عوض شاکر اللہ کو جیل سے فرار کرایا گیاجبکہ منصوبے کے تحت بھاری رقم خرچ کرکے اسی روز گلگت شہر میں احتجاجی مظاہرے کرائے گئے تاکہ سیکورٹی فورسز شہر میں مصروف رہیں اور شاکر اللہ اور اسکے ساتھی کو با آسانی سے گلگت شہر سے نکالا جا سکے۔
محترم صحافی حضرات!
آغا ضیاء الدین رضوی کو شہید کرنے کا مقصد گلگت شہر میں دہشت گردی کو فروغ دینا تھا اور دہشت گرد جو اسلام و پاکستان دشمن ہیں اس سازش میں کسی حد تک کامیاب ہوئے۔
گلگت شہر میں شیعہ سنی کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ دونوں مکاتب فکر کے عمائدین پر امن ہیں اور علاقے میں قیام امن کیلئے ہر اول دستے کا کردار اداء کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہینگے۔مگر ایک دہشت گرد گروپ کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ گلگت شہر میں فرقہ واریت کو فروغ ملے اور بھائی بھائی کا دشمن بن جائے ۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ کراچی یونیورسٹی ، پنجاب یونیورسٹی لاہور ، قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آبادسمیت ملک بھر کی تمام جامعات میں ہر سال یوم حسین ؑ منایا جاتا ہے اور تمام مکاتب فکر کے علما ء اس پروگرام سے خطاب کرتے ہیں اور گلگت شہر میں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے قیام سے ابتک باقاعدگی سے یوم حسین ؑ منایا جاتا رہا ہے اور یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ گزشتہ سال کے آئی یو میں یوم حسین ؑ کے پروگرام کے مہمان خصوصی ممتاز عالم دین ، وزیر اعظم پاکستان کے مشیر مولانا عطاء اللہ شہاب تھے ۔
محترم صحافی حضرات!
کونسا ایسا مسلمان ہوگا جو امام حسین ؑ سے محبت نہ رکھتا ہو ، ہر مسلمان نواسہء رسول ؐ، حضرت امام حسین ؑ سے محبت اور عقیدت رکھتا ہے ، یوم حسین ؑ منانے پر اعتراض کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ مگر انتہائی دکھ اور افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پورے ملک کے بر عکس گلگت شہر میں ایک ایسا گروپ بھی موجود ہے جو یوم حسین ؑ پر معترض ہوا اور اس سے بھی زیادہ دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یونیورسٹی کی ناہل انتظامیہ نے ایک مٹھی بھر شرپسند گروپ کے دباو میں آکر یوم حسین ؑ کے پروگرام کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ۔
یہ بات بھی آپکے علم میں لانا چاہتے ہیں کہ یکم دسمبر سے ۱۰ دسمبر تک کے آئی یو کو بند کر دیا گیا جس کے بعد اس مسئلے کے حل کیلئے ہوم سیکرٹری کی زیر نگرانی ایک اہم اجلاس ہوا جس میں دونوں مساجد بورڈز کے نمائندے، یونیورسٹی انتظامیہ کے نمائندوں کے علاوہ ڈی سی گلگت نے بھی شرکت کی ، اجلاس میں اتفاق رائے سے کے آئی یو میں ہر سال دو پروگراموں یوم حسین ؑ اور یوم مصطفی ؐ منانے کا فیصلہ کیا گیا ۔
اس متفقہ فیصلے پر قراقرم یونیورسٹی کی تمام طلباء تنظیموں نے اتفاق کر لیا تھا جس کے بعد ۱۰ دسمبر کو کے آئی یو کو دوبارہ کھول دیا گیا اور خلاف توقع یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اچانک یوم حسین ؑ پر پابندی عائد کرنے کا باضابطہ اعلان کرکے طلباء کو اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی مگر کے آئی یو کے طلباء نے بدھ کے روز یونیورسٹی کے اندر پرامن انداز میں یوم حسین ؑ منعقد کیا جس میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات نے بھر پور شرکت کرکے ثابت کر دیا کہ یوم حسین ؑ کسی مخصوص فرقے کا پروگرام نہیں ۔
محترم صحافی حضرات!
دوسری جانب ایک مٹھی بھر شر پسند گروہ نے یوم حسین ؑ کو جواز بنا کر گلگت شہر کی مختلف شاہراوں کو بلاک کرکے پرتشدد احتجاج شروع کردیا اور درحقیقت یہ عناصر اسی روز چیتا جیل سکوار سے شہید آغا ضیاالدین رضوی قتل کیس میں ملوث ملزم شاکر اللہ کے فرار ہونے کے واقعہ سے توجہ ہٹانے کی سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھا۔
بدھ کے روز سیکورٹی فورسز اور شرپسندوں کے مابین ہونے والی فائرنگ سے جو انسانی قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں اس پر ہمیں بے حد افسوس ہے ۔ حکومت اور انتظامیہ کے اہلکاروں کے علم میں ہے کہ روڈ کس کی ایماء پر بلاک کئے گئے اور بھاری ہتھیاروں سے سیکورٹی فورسز اور نہتے شہریوں پر فائرنگ کس کی طرف سے کی گئی مگر افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میڈیا پر اسے دو طلباء گروہوں کا تصادم قرار دیا جاتا رہا حالانکہ یہ ایک شرپسند گروپ اور سیکورٹی فورسز کے مابین تصادم تھا۔
اب یہ حکومت اور انتظامیہ کا فرض ہے کہ وہ تحقیقات کریں کہ دہشت گردوں کے پاس اتنا بھاری اسلحہ کہاں سے آیا ۔
یہاں یہ بات بھی آپکے علم میں لانا چاہتے ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے نااہلی اور سازش پر پردہ ڈالنے کیلئے یونیورسٹی سے16بیگناہ و پر امن طلباء کو بے دخل کیا گیا ہے ۔ جس کی پر زور مزمت کرتے ہیں اور یہ بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم اس طرح کہ غیر منصفانہ اور یکطرفہ فیصلے کو کسی صورت قبول نہیں کرینگے۔
محترم صحافی حضرات!
ہم گزشتہ دنوں ۱۶ ایم پی او کے تحت بیگناہ و مہذب شہریوں او رملت جعفریہ کے کارکنان کی گرفتاری کو بھی بلا جواز اور غیر سنجیدہ اقدام تصور کرتے ہوئے انتظامیہ سے فی الفور تمام گرفتار شدگان کی فی الفور رہائی کا بھی پر زور مطالبہ کرتے ہیں۔
ہم یہاں واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم اس علاقے میں مستقل قیام امن ، اتحاد بین المسلمین کے فروغ کیلئے ماضی کی طرح آئند ہ بھی اپنا بھر پور کردار اداء کرتے رہینگے اور ہماری تمام مکاتب فکر کے سنجیدہ طبقات اور علماء و عمائدین سے یہ اپیل ہوگی کہ علاقے میں اتحاد و وحدت کے فروغ اور مستقل قیام امن اور انہتاپسندی و دہشت گردی کے مکمل خاتمہ اور اپنے حقوق کے حصول و تحفظ کیلئے ملکر بھر پور عملی کردار اداء کیا جائے۔
خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو!
( دیدار علی ، ممبر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی و سید نظام الدین رضوی و خانوادہ شہید علامہ سید ضیاء الدین رضوی گلگت)

karachi sirin mwm sucپاکستان بھر میں اور خصوصاً شہر کراچی میں شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف جمعہ کے روز ہزاروں شیعیان حیدر کرار (ع) کا نمائش چورنگی پر احتجاجی دھرنا جاری ہے۔ ملک بھر میں جاری شیعہ مسلمانوں کی مسلسل نسل کشی کے خلاف نمائش چورنگی پر ہزاروں شیعیان حیدر کرار(ع) احتجاجی دھرنے میں شریک ہیں۔احتجاجی دھرنے میں بعد نماز جمعہ شہر بھر سے ہزاروں افراد قافلوں کی صورت میں نمائش چورنگی پہنچنا شروع ہوئے جبکہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایم اے جناح روڈ پر ہزاروں شیعیان حیدر کرار (ع) موجود ہیں ۔
احتجاجی دھرنے میں شریک ہزاروں افراد میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے جبکہ شرکائے احتجاجی دھرنا نے ہاتھوں علم حضرت عباس علیہ السلام اٹھا رکھے ہیں اور سروں پر سرخ و سیاہ پٹیاں بھی باندھ رکھی ہیں جن پر لبیک یا حسین (ع) اور لبیک یا مہدی (عج) سمیت لبیک یا فاطمہ زہرا(ع) کے شعار درج ہیں۔شرکائے احتجاجی دھرنا میں کراچی میں کالعدم دہشت گردوں کے حملوں میں شہید ہونے والے سیکڑوں شیعہ شہداء کے خانوادے بھی موجود ہیں ۔احتجاجی دھرنے میں شریک ہزاروں عزاداران امام حسین علیہ السلام شریک ہیں جو کہ سیاہ کپڑوں میں ملبوس ہیں اور اس عزم کے ساتھ دھرنے میں شریک ہیں کہ ہماری جانیں سید الشہداء امام حسین علیہ السلام پر قربان ہوں ۔
شیعہ نسل کشی کے خلاف احتجاجی دھرنے کے انتظامات کے حوالے سے شیعہ علماء کونسل پاکستان نے دیر پا انتظامات کر رکھے ہیں تا کہ غیر معینہ مدت تک دھرنے کو طول دیا جا سکے۔واضح رہے کہ شیعہ علماء کونسل پاکستان کو شیعہ نسل کشی کیخلاف احتجاجی دھرنے کے حوالے سے تمام شیعہ قومی وملی جماعتوں بشمول مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی حمایت حاصل ہے ۔
تمام شیعہ جماعتوں نے حکومت سے دوٹوک مطالبہ کیا ہے کہ کالعدم دہشت گرد اورتکفیری گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے اور شیعہ نسل کشی کے سلسلہ کو فی الفور بند کیا جائے اور شیعہ شہداء کے قاتلوں کو گرفتار کر کے سزائیں دی جائیں۔
نمائش چورنگی پر شیعہ نسل کشی کے خلاف ہونے والے احتجاجی دھرنے کی قیادت شیعہ علماء کونسل کے رہنما مولانا ناظر عباس تقوی اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی کے سیکرٹری جنرل مولانا صادق رضا تقوی کر رہے ہیں۔جبکہ احتجاجی دھرنے میں دیگر سینئر مذہبی اسکالر اور رہنما بھی شریک ہوں گے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق احتجاجی دھرنے میں شریک ہزاروں شرکا نماز مغربین کی ادائیگی ایم اے جناح روڈ پر کریں گے جس کے بعد دعائے کمیل کی تلاوت کی جائے گی اور شہر کی معروف انجمنیں نوحہ خوانی و سینہ زنی کریں گی۔
شہر کراچی کا علاقہ ایم اے جناح روڈ اور مزار قائد اعظم محمد علی جناح (رح) اس وقت لبیک یا حسین علیہ السلام کے فلک شگاف نعروں سے گونج رہا ہے۔

abdulkhalisq asadi lhrپنجاب سیکرٹریٹ میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی نے کہا کہ 13 جنوری کو لیاقت باغ راولپنڈی کا اجتماع ملت جعفریہ کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ انہوں نے صوبہ پنجاب کے تمام اضلاع میں اجتماع چہلم شہدا کیلئے کمیٹیوں کا اعلان کر دیا جس میں ہر ضلعی سیکرٹری جنرل کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام ذمہ داران عوامی رابطہ مہم تیز کر دیں اور لوگوں کی اجتماع میں شرکت کو یقینی بنائیں۔

علامہ اسدی نے کہا پاکستان میں ملت تشیع نسل کشی میں امریکہ اور یہودی لابی ملوث ہیں جو ایک مخصوص گروہ کو پھر سے ملک بھر میں منظم کر رہے ہیں، ہماری ایجنسیاں اور سیکورٹی کے ادارے تمام معلومات کے باوجود خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ علامہ اسدی نے کالعدم جماعت کی جانب سے لاہور کے دیواروں پر شیعہ مخالف اشتہارات کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کو فی الفور گرفتار کر کے اس گھناونی سازش کو بے نقاب کریں۔

علامہ اسدی نے کہا کہ ملت تشیع پاکستان کی پرامن ترین قوم ہے لیکن ہماری حب الوطنی اور امن کی سوچ کو بزدلی سے تعبیر کیا جا رہا ہے، اگر حکومت نے تکفیری گروہ کو لگام نہ دی تو ہم خود راست اقدام کریں گے اور اس کی تمام تر ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت تکفیری گروہ کی سرپرستی کر رہی ہے اور ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ اجلاس میں 16 دسمبر کو منعقدہ پنجاب بھر کے ضلعی مسؤلین کے اجلاس اور ان کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

allama raja nasir Queetaمجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ کوئٹہ کی مشکل قابل حل ہے اور ہم باہمی وحدت سے ہی اس مشکل کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کوئٹہ میں ہونے والی شیعہ ٹارگٹ کلنگ کو علاقائی مسئلہ بنانا چاہتا ہے، لیکن مجلس وحدت مسلمین اس مسئلہ کو قومی ایشو بنا دے گی، آئے روز کی ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے واقعات حکومت، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تن دہی اور ایمانداری سے کام کرتے تو مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکتا ہے، لیکن جب ان اداروں میں کالی بھیڑیں موجود ہوں اور حکومتی وزراء اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث پائے جاتے ہوں تو ان سے کوئی امیدیں وابستہ رکھنا عبث ہے۔

sheikh billal sumairi mwmgbمجلس وحدت مسلمین گلگت کے رہنما علامہ شیخ بلال سمائری نے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں کرپشن عروج کو پہنچ چکی ہے اور سرکاری نوکریاں برائے فروخت ہیں جس کا سدباب کیا جانا انتہائی ضروری ہوچکا ہے ،اور اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو مجلس وحدت مسلمین عدالت سے رجوع کریگی
انہوں نے کہا کہ متعلقہ سرکاری اداروں کے اہلکار اللہ سے ڈریں ،حکومت اپنی کرپشن چھپانے کے لئے عوام کو مختلف معاملات میں الجھا رہی ہے حیدرہ پورہ گرنیڈ حملہ بھی اس سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے جس کا مقصد عوام کو اصلی مسائل سے ہٹاکر فرعی مسایل میں الجھانا ہے انہوں نے کہا کہ گلگت میں جاری بدامنی اور دھماکوں کے مسلسل واقعات کے مجرموں کو بے نقاب کیا جائے

stop shia killingشہر کراچی ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں کے رحم وکرم پر، 72گھنٹوں میں باپ بیٹا سمیت 5شیعہ عمائدین ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن گئے،شہر میں امریکی و اسرائیلی ایجنٹ تکفیری دہشتگردوں کاعملی راج۔حکومت شہر کراچی میں ہونے والی شیعہ نسل کشی پر بے حس تماشائی بنی ہوئی ہے۔
حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لئے شہر کو مقتل گا بنا رہے ہیں۔
کراچی( )شہر کراچی ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں کے رحم وکرم پر، 72گھنٹوں میں باپ بیٹا اور کے ڈی اے کا ڈپٹی ڈائرکٹر سمیت 5 سے زائد شیعہ عمائدین ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن گئے،شہر میں امریکی و اسرائیلی ایجنٹ تکفیری دہشتگردوں کاعملی راج۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ مختار امامی نے شہر کراچی میں ایک مرتبہ پھر شروع ہونیو الی شیعہ ٹارگٹ کلنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کیا۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستا ن صوبہ سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ مختار امامی کاکہنا تھا کہ شہر کراچی میں چار روز میں درجنوں افراد کو دہشت گردی کا نشناہ بنا دیا گیا جبکہ گذشتہ 72گھنٹوں میں باپ بیٹا ، کے ڈی کے کے ڈپٹی ڈائرکٹر سمیت 5سے زائد شیعہ عمائدین کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جانا حکومت اور سیکورٹی اداروں کے منہ پر زور دار تھپڑ کی مانند ہے۔علامہ امامی نے کہا کہ ریاستی اداروں کی سرپرستی میں کام کرنے والے تکفیری دہشت گرد گروہ مسلسل شیعہ ٹارگٹ کلنگ میں مصروف عمل ہیں لیکن حکومت تاحال کسی ایک ناصبی دہشت گرد کو گرفتار کرنے اور سزا دینے میں عملی طور پر ناکام رہی ہے۔
علامہ مختار امامی کاکہنا تھا کہ حکومت میں شامل سیاسی جماعتیں شہر کراچی میں اپنے ناپاک اور پلید سیاسی عزائم کی تکمیل کے لئے بے گناہ شہریوں کا قتل عام کروا رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد وقاتل آزاد دندناتے پھر رہے ہیں اور معصوم اور بے گناہ شہریوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ مختار امامی نے حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر شہر کراچی میں شیعہ عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بند نہ ہوا اور کالعدم تکفیری دہشت گردگروہوں کے خلاف عملی اقدامات نہ کئے گئے تو جمعہ کے روز سے شروع ہونے والے احتجاجی تحریک کا دائرہ وسیع کر کے ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا اور پہلے مرحلے میں سندھ بھر کی شاہراہوں کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ احتجاجی سلسلہ لا متناہی ہو گا اور اس وقت تک ختم نہیں کیا جائے گا جب تک کالعدم دہشت گرد تکفیری گروہوں کے خلاف آپریشن کر کے ملک اور شہر کراچی کو صاف نہیں کر دیا جاتا

krch.dharnaشیعہ جماعتوں بشمول قومی سب سے بڑے سیاسی ومذہبی پلیٹ فارم مجلس وحدت مسلمین پاکستان، اورجعفریہ لیگل ایڈ کمیٹی اور آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی، مرکزی تنظیم عزاء، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پیام ولایت فاؤنڈیشن سمیت دیگر شیعہ جماعتوں نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کی جانب سے جمعہ (14 دسمبر) کے روز نمائش چورنگی ایم اے جناح روڈ کراچی میں شیعہ نسل کشی کے خلاف ہونے والے احتجاجی دھرنے کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ اس بات کا اعلان کراچی پریس کلب میں ہونے والی شیعہ جماعتوں کی مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا گیا۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان سندھ کے صوبائی جنرل سیکرٹری علامہ ناظر عباس تقوی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ جمعہ کے روز نمائش چورنگی پر احتجاج شروع کیا جائے گا جبکہ ملک بھر اور کراچی میں شیعہ نسل کشی کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا جائے گا اور حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا کہ شیعہ نسل کشی میں ملوث ناصبی دہشت گردوں کو فی الفور سزائے موت دی جائے۔

jaikab abad.mwmمجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع جیکب آباد کے زیر اھتمام جناح ہال میں شھدائے کربلاکانفرنس منعقد ہوئی. کانفرنس کے مھمان خاص ‏مجلس وحدت‏ سندہ کے صوبائی سیکریٹری سیاسیات عبداللہ مطہری تھے. کانفرنس سے ‏MWM‏ بلوچستان کے‎ ‎سیکریٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی ‏PPP‏ کے رھنما لالہ غضنفر علی ‏JUP‏ کے رھنما مولانا سید امیر علی شاہ شہری اتحاد کے چیرمین میر محمد اکرم ابڑو ‏PMLn‏ کے رھنما عبدالحئی سومرو شھر کے ممتاز سماجی شخصیت میر سعید خان جکھرانی مولانا عبدالھادی گولاٹو شریک ہوئے. اس موقعہ پر کانفرنس سے خطاب کرتے ھوئے مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے سربراہ علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ کربلا ہر دور کی باطل یزیدی قوتوں کے لئے پیغام اجل اور آفاقی پیغام ھے امام حسین ع نے قوموں کو ذلت سے نجات کا راستہ دکھایا امت مسلمہ عصر حاضر کی یزیدیت سے مقابلہ کے لئے اسوہ شبیری ع پر عمل کرے. امام خمینی رح نے یزیدیت سے مقابلے کے لئے کربلا سجائی.
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عبداللہ مطھری نے کہا کہ کربلا اقتدار کے مقابل اقدار کی جنگ تھی. عظمت کردار کے معاملے میں کربلا کے بہتر سپاھیوں میں حسینی کردار کی جھلک تھی.

raheem shah mwm sindhبلوچستان کے شہر حب سے تعلق رکھنے والے مجلس وحدت مسلمین صوبہ بلوچستان کے سیکرٹری شعبہ امور جوانان سید رحیم شاہ دوپاسی جامشورو کے قریب ایک روڈ حادثے میں انتقال کر گئے۔ ان کی نماز جنازہ حب کی مرکزی امام بارگاہ میں ادا کی گئی، اور امام بارگاہ کے احاطے میں تدفین کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق مرحوم سید رحیم شاہ اپنی فیملی کے ہمراہ حیدرآباد سے حب جارہے تھے کہ ان کی گاڑی کا اگلا ٹائر نکلنے کی وجہ گاڑی حادثہ کا شکار ہوگئی جس کے نتیجے میں سید رحیم شاہ موقع پر ہی انتقال کرگئے جبکہ ان کے بہنوئی اور گھر کے دیگر افراد سول ہسپتال حیدرآباد میں زیر علاج ہیں۔

اس موقع پر حب میں سید رحیم شاہ کی نماز جنازہ میں ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات نثار عابدی، کراچی ڈویژن کے سیکریٹری تنظیم سازی میثم رضا و دیگر بھی موجود تھے۔ اس موقع پر نثار عابدی نے مرحوم سید رحیم شاہ کے والد پیر سید شیر شاہ دوپاسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سید رحیم شاہ کا اچانک انتقال بلوچستان اور بالخصوص حب کے مومنین کے لئے بہت بڑا نقصان ہے، مرحوم سید رحیم شاہ کی حب میں عزاداری کے فروغ کے لئے کی جانے والی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ خدا سید رحیم شاہ کی روح کو آئمہ کرام (ع) کے جوار رحمت میں جگہ عنایت فرمائے۔

ایم ڈبلیو ایم نے قوم کی سوچ بدل کر اسے بہادر بنا دیا ہے
شیعہ علماء کونسل اگر ملک بھر میں اہل تشیع امیدواروں کو سپورٹ کرتی ہے تو ایم ڈبلیو ایم بھرپور ساتھ دیگی، ناصر شیرازی سیکرٹری سیاسیات مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی اسلام ٹائمز نامی سائیڈ کو انٹریو
ناصر عباس شیرازی: جب ہم کسی مذہبی سیاسی جماعت کی بات کرتے ہیں تو مجلس وحدت مسلمین مروجہ سیاسی جماعتوں میں سے نہیں۔ ایسی مروجہ سیاسی جماعتیں جو اپنے سیاسی اہداف کے حصول کے لیے ہر طریقہ استعمال کرتی ہیں اور اپنے مقاصد کے لیے ہر راستہ اختیار کرتی ہیں، ایم ڈبلیو ایم ایسی سیاسی جماعتوں سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ مجلس وحدت مسلمین اصولوں کی سیاست کرنا چاہتی ہے۔ وطن عزیز پاکستان میں ایم ڈبلیو ایم اسلام ناب محمدی (ص) کا نفاذ چاہتی ہے، اسی لیے دیگر تمام مروجہ سیاسی جماعتوں سے ایم ڈبلیو ایم کی سیاست کا انداز بالکل جدا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ مجلس وحدت مسلمین درحقیقت ملت جعفریہ کی نمائندہ جماعت ہے۔ پاکستان میں ملت تشیع کو بے توقیر کر دیا گیا ہے اور ملکی سیاست میں بھی ملت تشیع کو پس دیوار لگا دیا گیا ہے۔ قومی معاملات میں بھی ملت تشیع کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ پس مجلس وحدت مسلمین کا نقط آغاز یہ ہے کہ ہم نے سب سے پہلے ملت تشیع کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ہے اور اس کے بعد ملت تشیع میں بیداری پیدا کرنے کا مرحلہ ہے۔ اس کے بعد ہم شعور و آگاہی دے کر ووٹ کے ذریعے ملت تشیع کو طاقتور بنائیں گے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ واحد مکتب تشیع جس نے آج تک پاکستان کے خلاف سوچا تک بھی نہیں اور مکتب تشیع محب وطن ہے۔ علاوہ ازیں نہ ہی ملت جعفریہ ملک دشمن قوتوں کی آلہ کار بنی۔ پاکستان میں سب سے زیادہ قربانی دینے والی قوم نے اب تک اپنے ہاتھوں سے حب الوطنی کا پرچم نہیں چھوڑا۔ فکری طور پر بھی یہی وہ مکتب و ملت ہے جس نے پاکستان کو بنایا تھا اور آئندہ پاکستان کو مزید آگے ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتا ہے۔ 
ہم غیر شعوری طور پر مروجہ سیاسی جماعتوں کے انداز کا حصہ ضرور ہیں، جیسے اسی سسٹم میں لوگ اپنا کاروبار کر رہے ہیں، اسی سسٹم میں لوگ اپنی تعلیم کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنے روزمرہ کے امور کو چلا رہے ہیں۔ ہر ایک کی خواہش یہی ہے کہ یہاں پر اسلامی نظام قائم ہو اور ہماری بھی یہی خواہش ہے۔ اسلامی نظام کے تحت پاکستان میں تشیع کا قدرت مند ہونا انقلاب امام زمانہ(ع) کی بنیادی ضروریات میں سے ہے۔ قدرت مند تشیع ہی امام زمانہ(ع) کی صحیح معنوں میں مدد کر سکتی ہے۔ پس اسی لیے یہ نقط? ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایم ڈبلیو ایم مروجہ سیاسی نظام کا حصہ نہیں۔ ہم حق باوسیلہ حق کے قائل ہیں اور ہم اپنے ہدف کے حصول کے لیے ہر قسم کے راستے کو منتخب نہیں کریں گے۔

تیسری بات 
’’ اگر تحریک اسلامی ملک بھر میں شیعہ امیدواروں کی سپورٹ کے لیے کوئی اعلان کرتی ہے تو ایم ڈبلیو ایم ہر صورت ان کا بھرپور ساتھ دے گی۔ ‘‘
یہ ہے کہ فی الحال ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں۔ عاقل وہ نہیں ہوتا جو اچھائی و برائی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے، بلکہ عاقل وہ ہوتا ہے جو دو برائیوں میں سے ایک یا دو خامیوں میں سے کم خامی یا کم برائی کا انتخاب کرے۔ پس ہم ایک آزاد مملکت کا قیام چاہتے ہیں اور اس کا مرحلہ آغاز اضطراری صورت میں اسی سسٹم کے اندر ہے۔ جس طرح اسی سسٹم میں رہتے ہوئے حزب اللہ لبنان کا ایک مضبوط سیٹ اپ ہے اور اس کا سیاسی سیٹ اپ بھی موجود ہے جو اپنے تشیع کا بھی تحفظ کرتی ہے، اپنی لبنانی شناخت کا بھی تحفظ کرتی ہے اور ان کے ساتھ ساتھ اپنی اسلامی شناخت کی بھی حفاظت کرتی ہے۔ پاکستان کے اندر اسی سسٹم میں رہتے ہوئے اضطراری طور پر ہمیں اپنی شیعہ شناخت، اسلامی شناخت اور پاکستان کے حوالے سے بھی اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے زمینہ فراہم کر رہی ہے۔
بعض حلقوں میں سوالات اٹھائے گئے کہ ایم ڈبلیو ایم کی وجہ سے شیعہ قوم تقسیم در تقسیم ہو گئی ہے، مثلاً کچھ لوگ ایم ڈبلیو ایم کو ووٹ دیں گے اور کچھ ان لوگوں کے کہنے پر جو پہلے سے موجود ہیں۔؟ 
ناصر عباس شیرازی: دیکھیں! شیعہ ووٹ کہاں تقسیم نہیں، کیا یہ درست نہیں کہ پی پی پی شیعہ ووٹ بینک کو اپنا سمجھتی ہے اور اسے یہ ووٹ جاتا ہے۔ جھنگ، بھکر و پنجاب کے دیگر بعض حلقوں میں مسلم لیگ ن یہ نہیں سمجھتی کہ شیعہ ووٹ بینک ان کے لیے بہت ہی کارآمد ہے۔ اگر ملک میں شیعہ ووٹ ایک کروڑ بھی ہو تو یہ پہلے ہی تقسیم شدہ ہے، ہم اس میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ہم تو صرف اسی تقسیم شدہ ووٹ کو نکال کر اسے ایک جگہ اکھٹا کر رہے ہیں، ہم اس کو وحدت کی لڑی میں پرونا چاہتے ہیں۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ تشیع کا ووٹ یعنی مکتب آل محمد (ع) کا ووٹ مختلف سیاسی پارٹیوں و گروہوں میں تقسیم نہ ہو۔ ایسے لوگوں کو شیعہ ووٹ نہ ملیں جو اہل تشیع کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں، پاکستان کی عزت اور سلامتی کو بھی پامال کریں اور شیعہ اس سارے عمل میں ان کا بالواسطہ طور پر ساتھ دیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ شیعہ ووٹ کی بناء4 پر آزاد ہو کر خود پالیسی میکر بنیں اور انشاء4 اللہ یہ جلد ہوگا۔ پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ ووٹ تقسیم نہیں ہو رہا بلکہ شیعہ ووٹ کو ہم ایک جگہ اکٹھا کر رہے ہیں۔ 

اسلام ٹائمز: کیا ایسے امکانات موجود ہیں کہ شیعہ علماء کونسل اور ایم ڈبلیو ایم کم از کم سیاسی ایجنڈے پر متفق ہوں، تاکہ شیعہ ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچایا جاسکے اس کی طاقت سے اپنے اہداف کو حاصل کیا جاسکے۔؟
ناصر عباس شیرازی: بدقسمتی سے ایم ایم اے بھی پاکستان میں ناکام ہوئی۔ نہ صرف یہ کہ ایم ایم اے سیاسی طور پر ناکام جماعت 
’’ ہم تکفیری گروہوں کو ووٹ کی طاقت کے ساتھ پارلیمنٹ میں نہیں گھسنے دیں گے۔ ‘‘
ہے بلکہ مذہبی حوالے سے بھی ناکام نظر آتی ہے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ جو بھی پلیٹ فارم ہو، اس میں موجود تمام مذہبی و سیاسی جماعتیں آپس کے اختلافات کو بھلا کر کام کریں۔ جب آپ سیاسی اہداف کی بات کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ مولانا فضل الرحمن صاحب اور ہمارے سیاسی ایجنڈے میں بہت زیادہ فرق ہے۔ اسی طرح دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی ہمارا ایجنڈا مختلف ہے۔ اگر تحریک اسلامی ملک بھر میں شیعہ امیدواروں کی سپورٹ کے لیے کوئی اعلان کرتی ہے تو ایم ڈبلیو ایم ہر صورت میں ان کا بھرپور ساتھ دے گی۔ اس کے علاوہ تحریک اسلامی اگر پارلیمنٹ سے تکفیری گروہوں کو باہر نکالنے کے لیے بھی کوئی کردار ادا کرتی ہے تو مجلس وحدت مسلمین کا بھی یہی ایجنڈا ہے۔ ہم تکفیری گروہوں کو ووٹ کی طاقت کے ساتھ پارلیمنٹ میں نہیں گھسنے دیں گے۔ اگر کوئی بھی شیعہ سیاسی جماعت ہمارے اس ایجنڈے کے ساتھ کام کرتی ہے تو ہم ان کے ساتھ بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ 

اسلام ٹائمز: کیا کسی ایک جماعت کے ساتھ کھڑا نہ ہونے سے مسائل پیدا نہیں ہونگے، کیا ایم ڈبلیو ایم کے ورکرز تقسیم نہیں ہوجائیں گے کہ ایک حلقے میں آپ کسی پیپلزپارٹی کے امیدوار کو سپورٹ کر رہے ہوں اور ساتھ والے حلقے میں ق لیگ کے امیدوار کو سپورٹ کر رہے ہوں۔؟
ناصر عباس شیرازی: ایک وقت میں اگر آپ نے پی پی پی کو سپورٹ کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے پی پی پی کے ایجنڈے کی سپورٹ کی۔ ہم پی پی پی کے ایجنڈے کی سپورٹ نہیں کرسکتے، مسلم لیگ ن اور ق کے ایجنڈے کی بھی سپورٹ نہیں کرسکتے۔ اس کے بعد ہم شخصیات کی بات کرتے ہیں۔ ہم کسی ایک پارٹی کے ساتھ اتحاد بھی نہیں کرسکتے۔ ہم پارلیمنٹ میں صرف معتدل لوگوں کو بھیجنا چاہتے ہیں۔ تکفیری گروہوں کے لوگوں کو پارلیمنٹ سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم مکتب اہل بیت علیہم السلام کے ماننے والوں کی تعداد کو پارلیمنٹ میں بڑھانا چاہتے ہیں۔ پس ہم اس ایجنڈے کو مستقل طور پر چلائیں گے اور کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد نہیں کریں گے۔ 

اسلام ٹائمز: جھنگ کا حلقہ بہت ہی اہم ہے، وہاں پر ایم ڈبلیو ایم کسے سپورٹ کریگی، یعنی اختر شیرازی کو یا پھر امان اللہ خان سیال کو؟ کچھ لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ شیخ وقاص اکرم کو ہرانے کے لیے ایم ڈبلیو ایم نے اختر شیرازی کو الیکشن کے لیے کھڑا کیا ہے۔؟ 
ناصر عباس شیرازی: پہلی بات یہ کلیئر ہونی چاہیے کہ اختر شیرازی صاحب کو ہم نے الیکشن کے لیے کھڑا نہیں کیا، بلکہ وہ خود اس سیٹ کے لیے امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ اس حوالے سے ان کے پاس اپنے دلائل اور ثبوت ہیں۔ اس کے باوجود ہم نے وہاں کے لیے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ جھنگ میں ہمارا ٹارگٹ یہ ہے کہ وہاں پر لوگوں کو جنہوں نے یرغمال بنایا، ہم انہیں یرغمال نہیں بننے دیں گے۔ آپ نے شیخ وقاص اکرم کی بات کی تو شیخ صاحب نے کبھی بھی شیعوں کو سہولیات نہیں دیں بلکہ شیخ وقاص صاحب تو یہ سمجھتے ہیں کہ شیعوں کی مجبوری یہ ہے کہ انہوں نے تکفیری گروہوں کے مدمقابل ان کا ساتھ ضرور دینا ہے، اس کے علاوہ شیعوں کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ اس تمام صورتحال کے باوجود شیعہ اب بیدار ہوچکے ہیں اور وہ اپنا اچھا برا خود خوب سمجھتے ہیں۔ اختر شیرازی صاحب کا الیکشن کے لیے کھڑا ہونا بھی شیعہ بیداری کا واضح ثبوت ہے۔ 
مجلس وحدت مسلمین جھنگ کے حوالے سے ابھی مزید اجلاس کرے گی اور ان اجلاسوں میں فیصلے کی روشنی میں کسی بھی امیدوار کی سپورٹ کی جائے گی۔ امان اللہ خان سیال صاحب ہماری 
’’ ہم یہ لوگوں کو باور کرا رہے ہیں کہ ہمارا ووٹ بالآخر طاقت ہے اور اس طاقت کو وہاں استعمال ہونا چاہیے جہاں ہماری ملت کو سہولیات ملیں، ہماری ملت کو فائدہ پہنچے۔ ایسا نہ ہو کہ ہم ووٹ مثال کے طور پر پی پی پی کو دیں اور اس کے باوجود بھی ملک میں شیعہ نسل کشی جاری ہو۔ ‘‘
بہت ہی پرانی سیاسی شخصیت ہیں اور ان کی بہت ساری کاوشیں ہیں۔ امان اللہ خان سیال اس الیکشن میں اختر شیرازی صاحب کے مدمقابل کھڑے نہیں ہوئے۔ 

اسلام ٹائمز: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی اب تک سیاسی بڑی کامیابی کیا ہے، جسے دیکھ کر ایم ڈبلیو ایم سے کوئی امیدیں وابستہ کی جا سکیں۔؟ 
ناصر عباس شیرازی: مجلس وحدت مسلمین بالآخر لوگوں کو ایک نظام کی طرف دعوت دے رہی ہے۔ ایم ڈبلیو ایم لوگوں کو خدا کے نظام کی طرف بلا رہی ہے۔ زیادہ تر لوگ ایم ڈبلیو ایم کی طرف اس لیے آ رہے ہیں چونکہ یہ جماعت الٰہی جماعت ہے اور اس کا ہدف و مقصد بھی الٰہی ہے۔ آزادی کی کئی قسمیں ہیں، جیسے سوشل آزادی، اقتصادی آزادی، سیاسی آزادی، جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم اس وقت سیاسی غلام ہیں۔ ہم پاکستان میں سیاسی طور پر غلام ہیں، کہیں مسلم لیگ ن، کہیں مسلم لیگ ق، کہیں پی پی پی وغیرہ کے، ہم شیعوں کو اسی سیاسی غلامی سے نجات دلا رہے ہیں، انہیں آزادی دلانا چاہتے ہیں۔ ہم یہ لوگوں کو باور کرا رہے ہیں کہ ہمارا ووٹ بالآخر طاقت ہے اور اس طاقت کو وہاں استعمال ہونا چاہیے، جہاں ہماری ملت کو سہولیات ملیں، ہماری ملت کو فائدہ پہنچے۔ ایسا نہ ہو کہ ہم ووٹ مثال کے طور پر پی پی پی کو دیں اور اس کے باوجود بھی ملک میں شیعہ نسل کشی جاری ہو۔ وہ لوگ جو شیعہ نسل کشی میں ملوث ہوں اور ہمارا ووٹ بھی انہی کو جا رہا ہو۔

پس یہی پیغام ہم نے عام کرنا ہے اور اپنی قوم کو بیدار کرنا ہے اور انہیں شعور و آگاہی دینی ہے۔ اسی سلسلے میں ہمیں بہت کامیابی بھی ملی ہے۔ میں نے گزشتہ دنوں لیہ، کراچی، جھنگ، ڈیرہ اسماعیل خان، بھکر، لاہور، سرگودھا، فیصل آباد، شیخوپورہ سمیت ملک کے دیگر علاقوں کا دورہ کر چکا ہوں، جہاں شیعہ بیلٹ کی ایک بڑی اکثریت کا یہ کہنا ہے کہ ہمیں جو ایم ڈبلیو ایم کی قیادت کہے گی ہم وہی کام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نہ کسی وڈیرے کو ووٹ دیں گے، نہ کسی چوہدری کو اور نہ ہی کسی لوکل سیٹ اپ کی بناء4 پر ووٹ دیں گے بلکہ ہم وسیع تر مفادات کی خاطر ایم ڈبلیو ایم کی قیادت کے کہنے پر ووٹ دیں گے۔ مجلس وحدت مسلمین کی لوگوں کو دی ہوئی سیاسی آزادی کا نقط? آغاز ہی اس الٰہی جماعت کی کامیابی ہے۔ 

اسلام ٹائمز: پاکستان کی سیاست کی ڈائنمکس کو مدنظر رکھتے ہوئے بتائیں کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ مذہب کے نام پر ووٹ مل جائیں اور کوئی جماعت بڑی کامیابی سمیٹ کر حکومت بنا سکے، بقول کسی سیاستدان کے کہ انہیں قربانی کی کھالیں، چندہ اور زکوا? تو مل سکتی ہے لیکن ووٹ نہیں ملتا۔؟
ناصر عباس شیرازی: پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں صرف مذہبی بنیاد پر ہی ووٹ ملتا ہے۔ پاکستان میں جو اعلانیہ طور پر سیکولر جماعت ہو اور مذہب کا نام بھی نہ لیتی ہو، اس کو ووٹ نہیں ملتا۔ اگر آپ پیپلز پارٹی کی بات کریں تو کیا یہ وہی جماعت نہیں کہ جنہوں نے قادیانیوں کو کافر قرار دیا تھا، کیا پی پی پی وہی جماعت نہیں کہ جس نے جمعہ کی چھٹی کا اعلان کیا تھا، پس یہی مذہبی دباؤ ہے۔ یہ تمام اقدامات صرف اور صرف اپنے آپ کو مذہبی ثابت کرنے کا ایک حصہ ہیں۔ پاکستان میں مذہب ایک بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ مذہبی جماعتوں پر بھی لوگ اعتماد کرتے ہیں۔ ایم ایم اے نے خود لوگوں کے اعتماد کو توڑا۔ ہمارے ہاں بدقسمتی تو یہ ہے کہ مذہبی سیاستدان اپنے آپ کو اچھا مذہبی ثابت تو کر لیتے ہیں، ایک اچھا سیاستدان ثابت نہیں کرسکتے ہیں۔ 

جب لوگ مذہبی سیاستدان کو ووٹ دیتے ہیں اور بعد میں دیکھتے ہیں کہ اس میں اور مثال کے طور پر عمران خان میں کوئی فرق نہیں یا کسی اور سیکولر سیاستدان میں فرق نہیں، (یہ بھی دیگر لوگوں کی طرح بدیانتی ہی کرتا ہے) تو پھر مذہبی رشتہ ختم ہو جاتا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین ایک ایسا پلیٹ فارم ہے کہ جو اپنے وسیع تر اہداف کے لیے اپنے سات ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے ووٹ کو بروئے کار لائے گی۔ ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں مبلغین، ذاکرین، خیرالعمل فاؤنڈیشن، امور جوانان، شعبہ
’’ مجلس وحدت مسلمین بھی صاف و شفاف پانی کا وہ چشمہ ہے، جس نے پوری ملت کو شیر کی طرح زندہ رہنے کا فن سکھایا۔ ‘‘
خواتین و دیگر ہیں، یہ ایسے ڈیپارٹمنٹ جو ملکر اچھی کوآرڈینیشن کے طور پر کام کریں گے تو انشاء4 اللہ آپ دیکھیں گے کہ لوگ ووٹ بھی دیں گے اور ایم ڈبلیو ایم ایک واضح سیاسی تبدیلی بھی ضرور لائے گی۔

اسلام ٹائمز: ایم ایم اے کی ماضی کے مقابلے میں کتنی کامیابی کے امکان موجود ہیں۔؟
ناصر عباس شیرازی: میرے خیال میں مخصوص حلقوں کے ذریعے شائد افراد پارلیمنٹ میں آنے میں کامیاب ہو جائیں، ایم ایم اے کا سب سے زیادہ فائدہ مولانا فضل الرحمان کو پہنچے گا، باقی شائد اب یہ اس پوزیشن میں نہیں ہوگی کہ یہ صوبے میں حکومت بناسکے۔ میں ایم ایم اے کو ملاء4 ملٹری الائنس سمجھتا ہوں اور یہ مسلسل اپنا سابقہ کردار ہی ادا کرے گا۔ 

اسلام ٹائمز: آئندہ الیکشن ہوتے ریکھ رہے ہیں اور اگر ہوں گے تو کیا صورتحال بن پائے گی۔؟
ناصر عباس شیرازی: بظاہر تو یہی لگ رہا ہے کہ الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہو جائیں گے، لیکن سیاسی تجریے سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ الیکشن اپنے وقت پر نہیں ہوں گے۔ 

اسلام ٹائمز: سوال اٹھایا جاتا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین نے کونسا ایسا کام کیا ہے جو پہلے نہیں ہو پا رہا تھا، کیا ٹارگٹ کلنگ رکی، کیا قوم کے مسائل حل ہوئے۔ وہی احتجاج، وہی دھرنوں کی سیاست، وہی مینار پاکستان کا اجتماع، کچھ بھی تو نہیں بدلا۔؟
ناصر عباس شیرازی: یہ آپ کا بہت ہی اچھا سوال ہے۔ میں پہلے عرض کر دوں کہ پہلے بھی پاکستان میں تشیع کا وجود تھا اور آج بھی ہے، جس طرح سے پہلے عزاداری برپا ہو رہی تھی، اسی طرح سے آج بھی عزاداری برپا ہوتی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کی مثال اس شیر کے بچے جیسی ہے جس نے ابتدائی طور پر ہی (روز اوّل سے) بھیڑوں کے سایے تلے زندگی بسر کی اور اپنی شناخت کھو بیٹھا تھا، لیکن ایک دفعہ وہ صاف و شفاف پانی تک پہنچا اور اس میں اپنا عکس دیکھا تو کہا کہ میں تو ان سے مختلف ہوں، جن کے ساتھ رہ رہا ہوں، میں تو کچھ اور ہوں، بس اس کے بعد اس نے ردعمل دکھایا۔ 

پس مجلس وحدت مسلمین بھی صاف و شفاف پانی کا وہ چشمہ ہے جس نے پوری ملت کو شیر کی طرح زندہ رہنے کا فن سکھایا۔ ایم ڈبلیو ایم نے ملت کو احساس دیا کہ آپ دوسروں سے الگ ہو۔ اہل تشیع کو ایم ڈبلیو ایم نے اعتماد لوٹایا ہے۔ میں نے خود کئی بڑے بڑے شہیدوں کے جنازے دیکھے ہیں۔ لاہور میں شہید کے جنازے میں بیس یا پچاس آدمی شریک ہوتے تھے۔ اس صورتحال میں لوگوں کو اپنے گھروں سے علم عباس (ع) اتارتے ہوئے دیکھا ہے، لیکن آج ایم ڈبلیو ایم نے قوم سے خوف کے جن کو بھگایا اور قوم میں اعتماد پیدا کیا، جس کی وجہ سے آج کی صورتحال پہلے سے بہت مختلف ہے اور آج قوم ثابت قدم نظر آتی ہے اور اپنے شہداء4 پر فخر کرتی ہے۔ اہل تشیع کے اجتماعات گلی کوچوں سے نکل کر بازاروں و چوکوں میں آ گئے ہیں اور ملکی سطح پر پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ کیا آپ خود نہیں دیکھتے کہ ایک شیعہ شہید کیا جاتا ہے تو اگلے روز اس کے جنازے میں شرکت کرنے والوں کی تعداد دو گنا ہوتی ہے۔

ہم نے ملت کو کھڑا ہونے کا حوصلہ دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں علامہ ناصر عباس جعفری کو علاقہ بدر کرنے کی کوشش کی گئی تو پورا گلگت بلتستان کھڑا ہوگیا اور بیس گھنٹوں کے اندر وزیراعلٰی گلگت بلتستان کو اپنے احکامات واپس لینے پڑے اور معافی بھی مانگی۔ گلگت بلتستان کے وزیراعلٰی نے علامہ نیئر عباس مصطفوی کو گرفتار کیا تو اس کے ردعمل میں وہاں کے مکینوں نے آئی جی کو یرغمال بنا لیا۔ ایم ڈبلیو ایم جھنگ کے ضلعی سیکرٹری جنرل علامہ اظہر حسین کاظمی صاحب کو 9 محرم کو گرفتار کیا گیا تو اس کے نتیجے 
’’ شام میں اگر کوئی بڑا بحران آیا تو اس کے اردگرد والے علاقے بھی اس بحران کی زد سے بچ نہ پائیں گے۔ اس وقت وہ لوگ جنہوں نے یہ جنگ چھیڑی تھی، اب اس جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ‘‘
میں پورا شہر بند ہوگیا۔ جس کے بعد بالآخر حکومت کو علامہ اظہر کاظمی صاحب کو رہا کرنا پڑا۔ اسی طرح سرگودھا کے اندر مقامی حکومت نے آرڈر جاری کیے کہ عزاداری کو روکا جائے، لیکن اس کو عملی جامہ نہ پہنایا جاسکا۔ یہ سب سازشیں ناکام ہو گئیں اور وہ اس لیے کہ ملت کے اندر شعور و آگاہی پیدا ہوچکی ہے۔ 

ملت کا اپنے رہبر کے ساتھ رابطہ اور زیادہ مضبوط ہوگیا ہے۔ ملت کا ایم ڈبلیو ایم کے قائدین پر اعتماد بڑھ گیا۔ ملتیں و قومیں صرف اسلحے کے ساتھ ہی نہیں لڑا کرتیں بلکہ اعتماد کے ساتھ لڑا کرتیں ہیں، اپنے مورال کے ساتھ لڑا کرتیں ہیں، اپنے مقصد کی بنیاد پر لڑا کرتیں ہیں اور انشاء4 اللہ آپ دیکھیں گے کہ ملت کے جوش و جذبے اور شعور و آگاہی میں روز بروز اضافہ ہوتا جائے گا۔ ملت اپنے اہداف و مقاصد کو بخوبی سمجھنے لگ پڑی ہے اور اسے معلوم ہوگیا ہے کہ اس کا دنیا میں کیا مقصد ہے۔ بس اسی شناخت کو تلاش کرنا ہے اور یہی شناخت ملت تشیع کے لیے آئندہ کے حالات میں بہت ہی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree