The Latest

HRCP010پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے اتوار کو مستونگ میں ایران جانے والی بسوں پر حملے کے دوران شیعہ زائرین کے بیہمانہ قتل کی شدید مذمت کی ہے اور حکومت سے فرقہ وارانہ قتل وغارت کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کمیشن نے کہا: یہ افسوس ناک امر ہے کہ 2012کے آخری دن ایچ آر سی پی مقتولین کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کرنے کی حالت میں ہے جنہیں محض ان کے شیعہ مسلک کے باعث نشانہ بنایا گیا۔ 2012میں ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ مستونگ میں ایران جانے والی شیعہ زائرین کی بسوں کو نشانہ بنایا گیا ہو اورنہ ہی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اس سال پہلی دفعہ پاکستان میں شیعوں کے قتل کی مذمت کی ہے۔ 2012میں شیعوں کے قتل عام کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ حالات بہت کشیدہ ہیں مگر تیزی کے ساتھ کشیدہ ترین ہورہے ہیں جس کا احساس بلوچستان میں ہزارہ شیعوں سمیت بیشتر شیعوں کو ہے جس کا اندازہ ان کی طرف سے ہرحال میں ملک چھوڑنے کے لیے خطرناک ذرائع پر بھروسے کرنے سے لگایا جاسکتا ہے۔ اتوار کو سکیورٹی دستے بسوں کی حفاظت پر مامور تھے تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ مسلّم ہے کہ ان سے حملے کو روکا نہیں جاسکا۔ ایچ آر سی پی سکیورٹی کے معاملات پر مہارت رکھنے کا دعویٰ نہیں کرتا مگر اس امر پر واضح زور دیتا ہے کہ قتل وغارت کے حالیہ وقوعہ کو روکنے کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں تھے؛ مستونگ میں حملے کوصرف اس لیے روکا نہ جاسکا کیونکہ ضروری اقدامات میں سے کوئی ایک قدم بھی نہیں اٹھایا گیا تھا۔ ہر چیز سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد کا خاتمہ ترجیح اورارادے کا مسئلہ ہے۔ اس امر کی بیش بہا شہادتیں موجود ہیں کہ پاکستان میں فرقہ ورانہ تشدد بڑھنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے انسداد کے لیے محض لفاظی کے علاوہ کچھ نہیں کیا جارہا جو مظلوم خاندانوں، پورے فرقے جسے یہ یقین ہوتا جارہا ہے کہ ریاست نے انہیں بے یارومددگار چھوڑ دیا ہے اور انسانیت، انسانی زندگی اور انسانی حقوق کو اہمیت دینے والوں کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔ آج کے دور میں یکے بعد دیگرے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے والے پوشیدہ کیسے رہ سکتے ہیں؟ نفرت کی فضا کے انسداد، حملہ آوروں کو سزا سے حاصل استثنیٰ کے خاتمے اور انہیں کارروائی کا موقع دینے سے انکار کئے بغیر زائرین کے لیے ان سکیورٹی دستوں کی اہمیت حملے کے بعد مردہ خانے میں نعشیں لے جانے والی گاڑیوں سے زیادہ نہیں ہے۔ یہ خام خیال ہے کہ ہلاکتوں کی لہر کے ذمہ دار افراد اور کارروائی کرنے سے انکار کرکے قاتلوں کے آگے جھک جانے والے رضا کارانہ طور پر تشدد کا راستہ ترک کردیں گے۔ یہ وقت اس بات کا تقاضا بھی کرتا ہے کہ تحقیقات کرکے سکیورٹی ایجنسیوں کے اندر موجود قاتلوں کے حمایتیوں کو منظر عام پر لایا جائے۔


زہرہ یوسف
چیئر پرسن

سال 2012 شیعہ نسل کشی کی رپورٹ

Shia genocide  in 2012سال 2012میں 502شیعیان حیدر کرارپاکستان بھر میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے ۔ملک بھر میں دہشت گردوں کی عملی حکمرانی رہی ۔حکومت اور عدلیہ دہشت گردوں کوکیفر کردار تک پہنچانے میں ناکام رہے ۔شہدائے ملت جعفریہ کا لہو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔آصف صفوی سیکرٹری اطلاعات مجلس و حدت مسلمین کراچی ۔
کراچی (پ۔ر)پورے ملک میں سال 2012میں 502شیعیان حیدر کراردہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے ۔ملک بھر میں دہشت گردوں کی عملی حکمرانی رہی ۔حکومت اور عدلیہ دہشت گردوں کوکیفر کردار تک پہنچانے میں ناکام رہے ۔شہدائے ملت جعفریہ کا لہو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ان خیالات کا اظہار مجلس و حدت مسلمین کراچی کے سیکرٹری اطلاعات آصف صفوی نے وحدت ہاؤس کراچی میں پاکستان میں شیعہ نسل کشی کے متعلق سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کیا ۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان میں پر تشدد واقعات کی مذمت کی ہے۔ نیویارک سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں لیوی اہل کاروں کا قتل، کراچی میں بم دھماکے اور مستونگ میں زائرین کی بسوں پر حملے نے انہیں دہشت زدہ کر دیا ہے۔ بان کی مون نے خاص طور پر مذہبی بنیادوں پر قتل وغارت کی مذمت کی۔ انہوں نے 21 لیویز اہلکاروں کے اغوا اور ان کے قتل کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ان ظالمانہ اقدام کا کسی بھی صورت جواز نہیں پیش کیا جاسکتا، انہوں نے کہا کہ ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ بان کی مون نے پاکستانی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مسلسل جدوجہد میں حمایت کا اعادہ کیا۔

Genocide001مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی قائدین نے اپنی نگرانی میں شہدا کے مقدس جنازوں کو ان کے آبائی علاقوں میں بھجوایا اور ہولی فیملی ہسپتال میں زیر اعلاج زخمیوں کی عیادت کی
اسلام آباد ( وحدت نیوز) سانحہ مستونگ کے شہداء کی نعشوں اور زخمیوں کی کوئٹہ سے اسلام آباد منتقلی کے فوراً بعد ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری علامہ امین شہیدی اور سیکرٹری روابط ملک اقرار حسین کے ہمراہ ہولی فیملی ہسپتال میں شہداء کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی عیادت کی ، ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی قائدین شہداء کے لواحقین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سفاک قاتلوں نے زائرین امام رضا ؑ کو خون میں نہلا کر ظلم و بربریت کی انتہا کر دی، انشاء اللہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا

mili yekjehti concileمجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کے سیکرٹری جنرل علامہ سبیل حسن مظاہری نے صوبائی سطح پر ملی یکجہتی کونسل کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس پلیٹ فارم کے احیاء سے مسلمانوں کیخلاف کفر کے فتوے ختم ہوجائیں گے۔ المرکز اسلامی پشاور میں منعقدہ ملی یکجہتی کونسل خیبر پختونخوا کے تاسیسی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملی یکجہتی کونسل کی جانب سے کئے جانے والے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنانے سے ہی اس کے ثمرات حاصل ہوسکتے ہیں۔ ہمارا صوبہ دہشتگردی کے باعث بری طرح متاثر ہوا، اس سے پہلے تک صوبائی سطح پر ملی یکجہتی کونسل کے سیٹ اپ کی تشکیل نہ ہونا ہماری بدقسمتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہنگو، ڈی آئی خان، پشاور اور پارا چنار کے حالات پوری قوم کے سامنے ہیں، تاہم ہم امید کرتے ہیں کہ تمام دینی جماعتیں ملکر ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے حالات کی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ہر قسم کا تعاون ملی یکجہتی کونسل کی قیادت کیساتھ ہوگا اور ہم مرکزی قائدین کی جانب سے کئے جانے والے فیصلوں کی حمایت کرتے ہیں۔

mastung-blast shiaمجلس وحدت مسلمین ضلع لاہور کے سیکرٹری جنرل علامہ محمد اقبال کامرانی نے کوئٹہ مستونگ میں زائرین کی بسوں پر انسانیت دشمن دہشت گردوں کے حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے حالات ایسے رہے تو ملک میں خانہ جنگی دور کی بات نہیں، ملت جعفریہ کے بے گناہ لوگوں کا آئے روز قتل عام کیا جاتا ہے، حکمران اور ریاستی ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کرکے ملک و قوم سے خیانت کر رہے ہیں۔ وہ لاہور میں صوبائی سیکرٹریٹ العارف ہاوس اقبال ٹاون میں ہنگامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جس ضلع لاہور کے اراکین کابینہ نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردوں کے سامنے بے بس ہوچکی ہے، عوام الناس کے جان و مال کے اگر تحفظ نہیں کرسکتے تو اعلان کیا جائے کہ عوام اپنا دفاع خود کرے۔ علامہ کامرانی نے کہا کہ ملک میں بغیر لیت و لعل جہاں جہاں دہشت گرد موجود ہوں، وہاں فوری فوجی آپریشن شروع کیا جائے، بلوچستان میں کالعدم لشکر جھنگوی کے سپانسر انڈیا اور امریکہ ہیں، جو پاکستان اور ایران تعلقات کو نقصان پہنچانے کے در پے ہیں، اگر ہمارے حکمران اور ریاستی ادارے ملک وقوم سے مخلص ہیں تو ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا پاکستانی عوام کا بھروسہ ان اداروں سے ختم ہو رہا ہے، جو ان کے سلامتی کے لیے بنایا گیا تھا، پاکستان کے اعلٰی عدلیہ، افواج پاکستان، حکمران سے ملت جعفریہ سوال کرتے ہیں کہ کیا اس ملت کا یہی قصور ہے کہ یہ محب وطن ہیں، سیاچن کی برف پوش پہاڑوں سے لے کر گوادر کے ساحل تک دشمن کے سامنے سینہ سپر ہو کر پاکستان کا دفاع کرتے ہیں۔ علامہ کامرانی نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور فوجی آپریشن شروع کیا جائے اور گرفتار دہشت گردوں کو عبرت ناک سزا دی جائے، تاکہ دشمن کے عزائم خاک میں ملائے جاسکے۔ اجلاس میں شیخ عمران علی، سید حسین زیدی، فصاحت بخاری، رائے ناصر علی، رانا ماجد علی، مظاہر شگری، نقی مہدی، آغا زاہد قزلباش، نوید حیدر، رضا خان، سید امتیاز کاظمی، حر حیدر نقوی، ریحان علی شریک تھے۔

mastung-attackمجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے سیکرٹری جنرل مولانا صادق رضا تقوی نے وحدت ہاوس سے جاری بیان کہا کہ کوئٹہ مستونگ میں زائرین کی بسوں پر انسانیت دشمن دہشت گردوں کے حملے کی بھر پور مذمت کی انہوں نے کہا بلوچستان کے حالات ایسے رہے تو ملک میں خانہ جنگی دور کی بات نہیں ملت جعفریہ کے بے گناہ لوگوں کا آئے روز قتل عام کیاجاتا ہے حکمران اور ریاستی ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر کے ملک و قوم سے خیانت کر رہے ہیں
مستونگ دھماکہ حکومت کی نااہلی کا ثبوت ہے کراچی سے کوئٹہ تک محب وطن پاکستانیوں کو قتل کیا جارہا ہے اور حکمران خواب غفلت کی نیند سو رہے ہیں ان اخیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمینپاکستان کراچی ڈویژن کے سیکرٹری جنرل مولانا صادق رضا تقوی نے جاری بیان میں کیا ان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی سے کوئٹہ تک ہر روز شیعہ مسلمانوں کو قتل کیا جا رہا ہے اور قاتل آزادگھوم رہے ہیں ۔انکا مزید کہنا تھا کہ اگر سانحہ چلاس ،اور کوئٹہ کے مجرموں کو گرفتار کرلیا جاتا تو آج یہ افسوس ناک واقعہ رونما نہ ہوتا مولانا صادق رضا تقوی نے مزید کہا کہ کراچی سے کوئٹہ تک اور گلگت سے پاراچنار تک ہر روز عزادروں کو قتل کردیا جاتا ہے اور قانون نافظ کرنے والے ادارے کھڑے تماشہ دیکھتے رہتے ہیں ۔کوئٹہ کا واقعہ لمحہ فکریہ ہے اس ہی راستہ پر گزشتہ عرصہ بھی عزاداروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا اور آج پھر انکا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو معلوم تھا کہ چہلم امام حسین ؑ پر عزادروں کی بڑی تعداد زیارت کے لیے اس راستہ سے گزرتی ہے مگر بلوچستان حکومت نے کوئی اقدامات نہ کیے اور انکا نتیجہ اس سانحہ کی شکل میں سامنے ہے ۔قانون ناطٖ کرنے والے ادارے محدود اوار دہشت گرد آزاد ہیں ۔ترجمان مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن آصف صفوی نے کہا کہ اگر دہشت گرد سمجھتے ہیں کہ دو چار دھماکوں سے زائرین خوف زدہ ہوجائیں گے تویہ دہشت گردوں کی خام خیالی ہے شہادت ہمارا ورثہ ہے ہم شہادت سے گھبراتے نہیں حکومت فوری طور پر مجرمان کو گرفتار کرے اور عبرت انگیز سزا دے ۔

mwm.amin.pressconf0مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی آفس میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے کہا کہ آج ایک بار پھر مستونگ کے قریب دہشت و بربریت کا وحشیانہ مظاہرہ کیا گیا۔ اب تک کی خبروں کے مطابق 35شہید ہیں اور درجنوں زائرین زخمی ہوچکے ہیں ۔
حکومت حسب معمول صرف مذمتی بیانات دیکر مطمئن ہے ۔ حکومت کا رویہ بتاتا ہے کہ بے گناہ زائرین کے قتل عام اور محب وطن پاکستانی مسلمانوں کی کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ سے انہیں کوئی واسطہ نہیں ۔
ہم دہشت گردی کے ان تمام واقعات میں وزیر اعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی کو مکمل طور پر ملوث سمجھتے ہیں اور اسلم رئیسانی بلوچستان اور وفاقی حکومت کے علاوہ ملکی سکیورٹی کے ذمہ دار تمام اداروں کو ان کاروائیوں کا اصل ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

mwm.benazir.raja nasirمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ سابق اعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کے قانون کی گرفت میں نہ آ نے سے دہشت گردی اور لاقانونیت کو فروغ مل رہا ہے ، اگر دختر مشرق کے قاتلوں کو گرفتار کر عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا تو آج سرزمین وطن پر امن و امان کی صورتحال مختلف ہوتی ، محترمہ بے نظیر کی پانچویں برسی کے موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکمرانوں کو امن و امان کی صورتحا ل اور عوام کی جان و مال کے تحفظ سے کوئی دلچسپی نہیں ، وہ حکمران جو سابق وزیر اعظم کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے ان سے عام شہریوں کے قاتلوں کے گرد قانوں کا گھیرا کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی ،

mwm.pak001

مجلس وحدت مسلمین صوبہ خیبر پختونخوا کے سیکرٹری جنرل علامہ سبیل حسن مظاہری کی سربراہی میں صوبائی کابینہ نے نوشہرہ، ہری پور، ایبٹ آباد مانسہرہ، چارسدہ اور مردان کے دورہ جات کئے اور مذکورہ اضلاع میں تنظیم سازی کا عمل مکمل کرلیا گیا۔ علامہ سبیل حسن، صوبائی سیکرٹری امور جوانان علامہ سید مجتبٰی حسینی، سیکرٹری جنرل ضلع ہنگو علامہ ارشاد علی اور صوبائی آفس سیکرٹری ارشاد حسین بنگش نے پہلے مرحلے میں ہزارہ ڈویژن کا دورہ کیا۔ وفد نے اس دوران ایم ڈبلیو ایم ضلع ہری پور کے سیکرٹری جنرل علامہ سید وحید کاظمی کے ساتھ ملاقات کی۔ جس میں تنظیم کی کارکردگی اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بعد ازاں دورہ ایبٹ آباد کے دوران ایم ڈبلیو ایم ضلع ایبٹ آباد کے سیکرٹری جنرل علامہ جہانزیب علی جعفری سے ملاقات کی گئی اور ضلع ایبٹ آباد میں مسائل کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی اور ضلعی کابینہ کی تکمیل میں درپیش رکاوُٹ کو دور کیا گیا۔

اس موقع پر علامہ جہانزیب جعفری نے ضلعی کابینہ کا بھی اعلان کیا۔ جس کے مطابق سید ابرار شاہ کو ڈپٹی سیکرٹری جنرل، سید اظہر شاہ کو سیکرٹری مالیات، نسیم حیدر کو سیکرٹری تربیت، سعادت مہدی کو سیکرٹری امور جوانان اور شہزاد علی کو سیکرٹری اطلاعات نامزد کیا گیا۔ علامہ جہانزیب علی جعفری کا کہنا تھا کہ انشاءاللہ بہت جلد کابینہ کے باقی اراکین کا بھی اعلان کیا جائے گا اور یونٹ سازی کا عمل بھی جلد شروع کیا جائے گا۔ بعدازاں صوبائی رہنماوں کے وفد نے علامہ جہانزیب اور علامہ وحید کاظمی کے ہمراہ مانسہرہ کا بھی دورہ کیا، اور وہاں علامہ وقار حسین کے ساتھ تفصیلی ملاقات ہوئی۔ اس دوران علامہ وقار حسین کو ایم ڈبلیو ایم ضلع مانسہرہ کا سیکرٹری جنرل منتحب کر لیا گیا۔

مجلس وحدت مسلمین کے رہنماء حویلیاں بھی گئے، جہاں علامہ سبیل حسن مظاہری نے علاقے کے لوگوں کو مجلس وحدت مسلیمن کا تعارف کرایا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ہم منبر اور محراب کا فرق ختم کرنے نکلے ہیں۔ ہم سب علی (ع) والوں کو اکھٹا کرنے نکلے ہیں۔ تمام مکاتب فکر کے لوگ اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے ایک ہوجاتے ہیں مگر اہل تشع کو پوچھنے والا کوئی نہیں۔ جس کی وجہ سے جوان علماء نے ملکر مجلس وحدت مسلمین کی بنیاد رکھی۔ اس موقع پر علامہ سبیل حسن مظاہری نے مدثر حسین کو تحصیل حویلیاں کا سیکرٹری جنرل مقرر کیا۔ دورے کے دوسرے مرحلہ میں ایم ڈبلیو ایم کی صوبائی کابینہ کے اراکین نوشہرہ، مردان اور چارسدہ گئے، اس موقع پر اورنگزیب علی جعفری کو مجلس وحدت مسلمین ضلع نوشہرہ کا سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا۔

جس کے بعد وفد نے ضلع مردان کا دورہ کیا۔ جہاں معززین کے ساتھ ملاقات ہوئی اور سرگرم شخصیت اکرام حسین کو ایم ڈبلیو ایم ضلع مردان کا سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا۔ وفد نے مردان امام بارگاہ کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر علامہ سبیل حسن نے علاقہ عمائدین کو یقین دہانی کرائی کہ امام بارگاہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنے والوں کیخلاف مجلس وحدت مسلمین عوام کیساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔ آخر میں علامہ سبیل حسن نے اپنے وفد کے ہمراہ چارسدہ کا بھی دورہ کیا۔ جہاں ساجد باچا کو ایم ڈبلیو ایم ضلع چارسدہ کا سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا۔ دو روزہ دورے کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ بہت جلد صوبہ بھر کے ضلعی سیکرٹری جنرلز کا اجلاس بلایا جائے گا۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree