The Latest

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین کا سید ناصر شیرازی کی جبری گمشدگی کیخلاف ملک گیر مظاہرے،چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہرے و ریلیاں،لاہور میں مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام لاہور پریس کلب سے وزیراعلیٰ ہاوس مال روڈ تک احتجاجی ریلی،ریلی میں بڑی تعداد میں مرد خواتین اور بچوں نے شرکت کی ریلی کے شرکاء نے 90 شاہرائے قائد اعظم پر دھرنا میں بھی دیا،ریلی سے مختلف سیاسی مذہبی جماعتوں کے نمائندہ وفود نے بھی خطاب کیا،سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے احتجاجی ریلی میں خصوصی شرکت کی،علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اپنے خطاب میں کہا کہ سید ناصر عباس شیرازی شریف النفس اور پرامن قومی لیڈر ہیں،پنجاب حکومت ظلم و بربریت کی انتہا کرکے قانون کے چہرے کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے،ہم ناصر شیرازی کے اغوا پر خاموش رہیں گے یہ حکمرانوں کی بھول ہے،انشااللہ ہم ہر قسم کی آئینی قانونی اور عوامی جدو جہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،رانا ثنااللہ اور حمزہ شہباز شریف ناصر شیرازی کے اغواء کے ذمہ دار ہیں،ہم ان ظالموں کے رسوا کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے،پنجاب میں ہمیں چن چن کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،پنجاب کے انسان دشمن حکمران سن لیں ہم نہ جھکنے والے ہیں نہ بکنے والے بلکہ ہم میدان میں سرکٹانے والے ہیں۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ اگر ناصر شیرازی کو بازیاب نہ کیا تو اتوار کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ کی طرف مارچ کریں گے،اور اس بعد پنجاب کے ہر شہر سے تخت لاہور کی طرف مارچ ہوگا اور ہم اس مارچ میں وزیر اعلیٰ ہاوس کا گھیراو کریں گے،شرکا نے پنجاب حکومت،شہباز شریف،رانا ثنا اللہ اور آئی جی پنجاب کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔مقررین نے کہا مجلس وحدت مسلمین ایک ملک گیر سیاسی و مذہبی جماعت ہے اورجماعت کے مرکزی سینئر رہنما ناصر شیرازی ایڈووکیٹ کو اغوا کرکے حکومت پنجاب نے جس غنڈہ گردی اور سیاسی و مسلکی انتقام کا مظاہرہ کیا ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ایم ڈبلیو ایم ایک پُرامن جماعت ہے جس کا ملکی استحکام، رواداری و بھائی چارے کے فروغ میں اہم کردار رہا ہے۔اس جماعت نے ہمیشہ ایسی قوتوں کی مخالفت کی ہے جو ملک میں نفاق کا بیج بو کر وطن عزیز کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔رانا ثنا اللہ اپنے بیانات کے ذریعے عدلیہ کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا۔ اس کے خلاف ناصر شیرازی ایڈووکیٹ نے عدالت عالیہ میں پٹیشین دائر کررکھی     تھی جس پر انہیں انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے اغوا کرایا گیا ہے۔انہوں نے کہا ریاستی اداروں کو گھر کی لونڈی سمجھنے والے نا اہل حکمران اپنے انجام سے زیادہ دور نہیں ہیں۔پنجاب کے وزیر اعلی سابق وزیر اعظم کی رعونت کے عبرت ناک انجام سے سبق سیکھیں۔

مقررین نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک ملک گیر مذہبی و سیاسی جماعت کے سینئر رہنما کے اغوا پرسوموٹو ایکشن لیتے ہوئے ذمہ دار اداروں کو طلب کیا جائے۔ انہوں نے کہا سیکورٹی اداروں کو دہشت کی علامت بنا کرعوام کو عدم تحفظ کا شکار کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ملک میں قانون و آئین کی بجائے طاقت و اختیارات کی حکمرانی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو پھر قانون کے نام پر قانون شکنی کرنے والے عناصر کے حوصلوں کو تقویت ملتی رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ ناصر شیرازی پر کسی قسم کا کوئی مقدمہ یا الزام نہیں ہے،ان کی جبری گمشدگی پنجاب حکومت کی غنڈہ گردی اور انتقامی کاروائی ہے۔ وزیر اعظم اور وفاقی وزیر داخلہ سے بھی مطالبہ کیا کہ ناصر شیرازی کی فوری بازیابی کے احکامات صادر کیے جائیں۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ریاستی اداروں کو آئین و قانون کے تابع ہونا چاہیے مگر بدقسمتی سے ادارے نا اہل حکمرانوں کی اطاعت میں پیش پیش ہیں۔ ملت تشیع کے سینکڑوں نوجوان کئی سالوں سے جبری گمشدہ ہیں۔انہیں نہ تو عدالتوں میں پیش کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ان کے اہل خانہ کو ان کی خیریت سے آگاہ کیا جارہا ہے۔جو بنیادی انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ملت تشیع کے لاپتا تمام نوجوانوں کو فوری بازیاب کیا جائے۔مظاہرے سے سید اسد عباس نقوی،علامہ ابوذر مہدوی،علامہ حسن ہمدانی،افسرحسین خاں،سید حسنین زیدی،علامہ ملازم نقوی،سمیت دیگر رہنماوں نے بھی خطاب کیا بعدازآں شرکاء پرامن طور پر منتشر ہوئے۔

وحدت نیوز( ملتان) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی ایڈووکیٹ کے اغوا کے خلاف ملک کے دیگر حصوں کی طرح جنوبی پنجاب کے تمام شہروں میں نماز جمعہ کے احتجاجی مظاہرے کیے۔ تفصیل کے مطابق ملتان میں نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد الحسین نیو ملتان سے گلشن مارکیٹ تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، ریلی کی قیادت مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی،علامہ قاضی نادر حسین علوی ،امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ملتان کے ڈویژنل صدر موسی کاظم،علی حیدر،سلیم عباس صدیقی، مہر سخاوت سیال اور دیگر نے کی۔ ریلی کے شرکاء نے حکومت مخالف سخت نعرے بازی، رہنمائوں نے خطاب کرتے ہوئے کہ ایک مذہبی وسیاسی جماعت کے ایسے مرکزی رہنما کو پنجاب حکومت کی ایما پر اغوا کیاگیا ہے جس پر کسی قسم کا کوئی مقدمہ یا الزام نہیں۔انہیں رانا ثنا اللہ کے خلاف پیٹیشن دائر کرنے پر انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ناصر شیرازی کا اغوا جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ پنجاب کی انتظامیہ اور ادارے ریاست کی بجائے شخصی غلامی کا حق ادا کر کے قانون و آئین سے انحراف کر رہے ہیں۔ سیکورٹی ادارے عوام کوتحفظ فراہم کرنے کی بجائے دہشت کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔اس اغوا کے ذمہ دار شہباز شریف، رانا ثنا اللہ اور آئی جی پنجاب ہیں۔ اختیارات اور طاقت کا ناجائز استعمال غیر آئینی اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ اگر ناصر شیرازی کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچا تو حالات کی تمام تر ذمہ داری پنجاب حکومت پر ہو گی۔

 

رہنمائوں نے کہا کہ مغوی کے بھائی کی درخواست پر مقدمہ دائر کرنے سے پولیس نے انکار کر دیا ہے۔اغوا کاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے ہم نے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ظالموں کے مقابلے میں ہم کبھی سرنگوں نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ نفرت اور تعصب اس ملک کی سالمیت کے دشمن ہیں ۔ہم ان دشمنوں کے خلاف پورے عزم کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔ وطن عزیز کی سلامتی و استحکام کے دشمن ملک میں انارکی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ناصر شیرازی کے اغواکا مقصد حکومت مخالف مذہبی و سیاسی جماعتوں کا دھمکانا ہے۔پوری انتظامی مشینری نا اہل وزیر اعظم کو پروٹوکول دینے میں مصروف ہے۔ملکی آئین و قانون کو پامال کیاجا رہا ہے۔انہوں نے وزیر اعظم اور وفاقی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی ایڈووکیٹ کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔اس سنگین مسئلہ میں حکومت کی غیر سنجیدگی ملت تشیع کے اضطراب میں اضافے کا باعث ہو گی۔علاوہ ازیں جنوبی پنجاب کے 9 شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی جائیں گی، مظفرگڑھ میں دن گیارہ بجے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، اوچشریف میں نمازجمعہ کے بعد علمدار چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، لیہ میں پریس کلب کے سامنے نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، بہاولپور میں نماز جمعہ کے بعد مرکزی جامع مسجد سے فرید گیٹ تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، صادق آباد، لیاقت پور اور خان پور میں سہہ پہر تین بجے جبکہ رحیم یارخان میں سہہ پہر پانچ بجے رحیم یارخان پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

وحدت نیوز (کوئٹہ ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے زیر اہتمام ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنما ناصر شیرازی ایڈوکیٹ کی بلاجواز اور غیر قانونی گرفتاری کے خلاف جامع مسجد کلاں کوئٹہ کے باہر بعد نماز جمعہ احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس سے ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنما علامہ سید ہاشم علی موسوی نے خطاب کیا، انہوں نے کہا کہ ناصر شیرازی کو پنجاب حکومت کی جانب سے ریاستی ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جارہا ہے، انہوں نے عدلیہ کے تقدس کی خاطر رانا ثناءاللہ کے خلاف عدلیہ کا دروازہ کھٹکایا تھا جس کی سزا انہیں پنجاب کے گلو بٹوں کے ہاتھوں اغواء کرواکر دی گئی، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف جسٹس ناصر شیرازی کی فوری بازیابی کے لیئے اقدامات کریں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی ایڈووکیٹ کے اغوا کے خلاف اسلام آباد،لاہور،ملتان،کراچی، کوئٹہ,سکردو،گلگت،سکھر اور پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے جن میں ایم ڈبلیو ایم ، آئی ایس اور مختلف شیعہ سنی تنظیموں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔وفاقی دارالحکومت میں پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ہواجس کی قیادت ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنما نثار فیضی اور مولانا انصاری نے کی۔مظاہرین نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کے خلاف اور ناصر شیرازی کی فوری بازیابی کے نعرے درج تھے۔ شرکا نے پنجاب حکومت،شہباز شریف،رانا ثنا اللہ اور آئی جی پنجاب کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔مقررین نے کہا مجلس وحدت مسلمین ایک ملک گیر سیاسی و مذہبی جماعت ہے اورجماعت کے مرکزی سینئر رہنما ناصر شیرازی ایڈووکیٹ کو اغوا کرکے حکومت پنجاب نے جس غنڈہ گردی اور سیاسی و مسلکی انتقام کا مظاہرہ کیا ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ایم ڈبلیو ایم ایک پُرامن جماعت ہے جس کا ملکی استحکام، رواداری و بھائی چارے کے فروغ میں اہم کردار رہا ہے۔اس جماعت نے ہمیشہ ایسی قوتوں کی مخالفت کی ہے جو ملک میں نفاق کا بیج بو کر وطن عزیز کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔رانا ثنا اللہ اپنے بیانات کے ذریعے عدلیہ کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا۔ اس کے خلاف ناصر شیرازی ایڈووکیٹ نے عدالت عالیہ میں پٹیشین دائر کر رکھی تھی جس پر انہیں انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے اغوا کرایا گیا ہے۔انہوں نے کہا ریاستی اداروں کو گھر کی لونڈی سمجھنے والے نا اہل حکمران اپنے انجام سے زیادہ دور نہیں ہیں۔پنجاب کے وزیر اعلی سابق وزیر اعظم کی رعونت کے عبرت ناک انجام سے سبق سیکھیں۔مقررین نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک ملک گیر مذہبی و سیاسی جماعت کے سینئر رہنما کے اغوا پرسوموٹو ایکشن لیتے ہوئے ذمہ دار اداروں کو طلب کیا جائے۔ انہوں نے کہا سیکورٹی اداروں کو دہشت کی علامت بنا کرعوام کو عدم تحفظ کا شکار کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ملک میں قانون و آئین کی بجائے طاقت و اختیارات کی حکمرانی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو پھر قانون کے نام پر قانون شکنی کرنے والے عناصر کے حوصلوں کو تقویت ملتی رہے گی۔

وحدت نیوز( لاہور/اسلام آباد/کراچی/ کوئٹہ /سکردو/ملتان ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی ایڈووکیٹ کے اغوا کے خلاف اسلام آباد،لاہور،ملتان،کراچی، کوئٹہ,سکردو،گلگت،سکھر اور پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے جن میں ایم ڈبلیو ایم ، آئی ایس اور مختلف شیعہ سنی تنظیموں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔وفاقی دارالحکومت میں پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ہواجس کی قیادت ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنما نثار فیضی اور مولانا انصاری نے کی۔مظاہرین نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کے خلاف اور ناصر شیرازی کی فوری بازیابی کے نعرے درج تھے۔ شرکا نے پنجاب حکومت،شہباز شریف،رانا ثنا اللہ اور آئی جی پنجاب کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔مقررین نے کہا مجلس وحدت مسلمین ایک ملک گیر سیاسی و مذہبی جماعت ہے اورجماعت کے مرکزی سینئر رہنما ناصر شیرازی ایڈووکیٹ کو اغوا کرکے حکومت پنجاب نے جس غنڈہ گردی اور سیاسی و مسلکی انتقام کا مظاہرہ کیا ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ایم ڈبلیو ایم ایک پُرامن جماعت ہے جس کا ملکی استحکام، رواداری و بھائی چارے کے فروغ میں اہم کردار رہا ہے۔اس جماعت نے ہمیشہ ایسی قوتوں کی مخالفت کی ہے جو ملک میں نفاق کا بیج بو کر وطن عزیز کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔رانا ثنا اللہ اپنے بیانات کے ذریعے عدلیہ کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا۔ اس کے خلاف ناصر شیرازی ایڈووکیٹ نے عدالت عالیہ میں پٹیشین دائر کر رکھی تھی جس پر انہیں انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے اغوا کرایا گیا ہے۔انہوں نے کہا ریاستی اداروں کو گھر کی لونڈی سمجھنے والے نا اہل حکمران اپنے انجام سے زیادہ دور نہیں ہیں۔پنجاب کے وزیر اعلی سابق وزیر اعظم کی رعونت کے عبرت ناک انجام سے سبق سیکھیں۔مقررین نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک ملک گیر مذہبی و سیاسی جماعت کے سینئر رہنما کے اغوا پرسوموٹو ایکشن لیتے ہوئے ذمہ دار اداروں کو طلب کیا جائے۔ انہوں نے کہا سیکورٹی اداروں کو دہشت کی علامت بنا کرعوام کو عدم تحفظ کا شکار کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ملک میں قانون و آئین کی بجائے طاقت و اختیارات کی حکمرانی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو پھر قانون کے نام پر قانون شکنی کرنے والے عناصر کے حوصلوں کو تقویت ملتی رہے گی ۔

لاہور میں مجلس وحدت مسلمین اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام ناصر شیرازی ایڈوکیٹ کےپنجاب حکومت کی ایماء پر  اغواء کے خلاف پریس کلب سے وزیر اعلیٰ ہاوس تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی ، اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما اسد عباس نقوی ، آئی ایس او کے مرکزی صدر انصر مہدی سمیت علامہ مبارک موسوی، پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی قائدین اور دیگر علمائے کرام بھی بڑی تعداد میں موجود تھے، مقررین نے اعلیٰ عدلیہ کے مطالبہ کیا ہے محب وطن اور فرض شناس شہری کی حیثیت سے ناصر شیرازی کی فوری بازیابی کے لیئے اقدامات کیئے جائیں اور اغواء میں ملوث وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے خلاف مقدمہ درج کرکے فوری کاروائی عمل میں لائی جائے۔

ناصر شیرازی او ردیگر شیعہ جوانوں کے ماورائے عدالت اغواءکے خلاف مجلس وحدت مسلمین اور آئی ایس اوکے زیر اہتمام حسینی جامع مسجد برف خانہ ملیر اور جامع مسجد نور ایمان ناظم آباد کے باہر بعد نماز جمعہ احتجاجی مظاہرے کیئے گئے، جبکہ شرکاء سے ایم ڈبلیوایم کے مرکزی اور صوبائی رہنماوں علامہ سید احمد اقبال رضوی، علامہ مرزایوسف حسین، علامہ نشان حیدراور احسن عباس رضوی نے خطاب کیا، مظاہرین نے ہاتھو ں میں بینزراور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ناصر شیرازی اور دیگر اسیران ملت جعفریہ کی فوری بازیابی اور حکومت وقت کے خلاف نعرے درج تھے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ناصر شیرازی پر کسی قسم کا کوئی مقدمہ یا الزام نہیں ہے،ان کی جبری گمشدگی پنجاب حکومت کی غنڈہ گردی اور انتقامی کاروائی ہے۔ وزیر اعظم اور وفاقی وزیر داخلہ سے بھی مطالبہ کیا کہ ناصر شیرازی کی فوری بازیابی کے احکامات صادر کیے جائیں۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ریاستی اداروں کو آئین و قانون کے تابع ہونا چاہیے مگر بدقسمتی سے ادارے نا اہل حکمرانوں کی اطاعت میں پیش پیش ہیں۔ ملت تشیع کے سینکڑوں نوجوان کئی سالوں سے جبری گمشدہ ہیں۔انہیں نہ تو عدالتوں میں پیش کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ان کے اہل خانہ کو ان کی خیریت سے آگاہ کیا جارہا ہے۔جو بنیادی انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ملت تشیع کے لاپتا تمام نوجوانوں کو فوری بازیاب کیا جائے۔

 ملک کے دیگر حصوں کی طرح جنوبی پنجاب کے تمام شہروں میں نماز جمعہ کے احتجاجی مظاہرے کیے۔ تفصیل کے مطابق ملتان میں نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد الحسین نیو ملتان سے گلشن مارکیٹ تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، ریلی کی قیادت مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی،علامہ قاضی نادر حسین علوی ،امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ملتان کے ڈویژنل صدر موسی کاظم،علی حیدر،سلیم عباس صدیقی، مہر سخاوت سیال اور دیگر نے کی۔ ریلی کے شرکاء نے حکومت مخالف سخت نعرے بازی، رہنمائوں نے خطاب کرتے ہوئے کہ ایک مذہبی وسیاسی جماعت کے ایسے مرکزی رہنما کو پنجاب حکومت کی ایما پر اغوا کیاگیا ہے جس پر کسی قسم کا کوئی مقدمہ یا الزام نہیں۔انہیں رانا ثنا اللہ کے خلاف پیٹیشن دائر کرنے پر انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ناصر شیرازی کا اغوا جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے۔پنجاب کی انتظامیہ اور ادارے ریاست کی بجائے شخصی غلامی کا حق ادا کر کے قانون و آئین سے انحراف کر رہے ہیں۔سیکورٹی ادارے عوام کوتحفظ فراہم کرنے کی بجائے دہشت کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔اس اغوا کے ذمہ دار شہباز شریف ،رانا ثنا اللہ اور آئی جی پنجاب ہیں۔اختیارات اور طاقت کا ناجائز استعمال غیر آئینی اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔اگر ناصر شیرازی کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچا تو حالات کی تمام تر ذمہ داری پنجاب حکومت پر ہو گی۔رہنمائوں نے کہا کہ مغوی کے بھائی کی درخواست پر مقدمہ دائر کرنے سے پولیس نے انکار کر دیا ہے۔اغوا کاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے ہم نے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ظالموں کے مقابلے میں ہم کبھی سرنگوں نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ نفرت اور تعصب اس ملک کی سالمیت کے دشمن ہیں ۔ہم ان دشمنوں کے خلاف پورے عزم کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔ وطن عزیز کی سلامتی و استحکام کے دشمن ملک میں انارکی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ناصر شیرازی کے اغواکا مقصد حکومت مخالف مذہبی و سیاسی جماعتوں کا دھمکانا ہے۔پوری انتظامی مشینری نا اہل وزیر اعظم کو پروٹوکول دینے میں مصروف ہے۔ملکی آئین و قانون کو پامال کیاجا رہا ہے۔انہوں نے وزیر اعظم اور وفاقی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی ایڈووکیٹ کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔اس سنگین مسئلہ میں حکومت کی غیر سنجیدگی ملت تشیع کے اضطراب میں اضافے کا باعث ہو گی۔علاوہ ازیں جنوبی پنجاب کے 9 شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی جائیں گی، مظفرگڑھ میں دن گیارہ بجے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، اوچشریف میں نمازجمعہ کے بعد علمدار چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، لیہ میں پریس کلب کے سامنے نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، بہاولپور میں نماز جمعہ کے بعد مرکزی جامع مسجد سے فرید گیٹ تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، صادق آباد، لیاقت پور اور خان پور میں سہہ پہر تین بجے جبکہ رحیم یارخان میں سہہ پہر پانچ بجے رحیم یارخان پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

  ملک بھر میں حکومتی ایماء پر سکیورٹی اداروں کے ہاتھوں ماورائے آئین و قانون درجنوں افراد کی جبری گمشدگی کے خلاف آواز بلند کرنے کے جرم میں مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماء ناصر عباس شیرازی کے اغواء کے خلاف بلتستان بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔شیڈول فور کی آڑ میں ملک بھر میں جاری سیاسی انتقام اورعزاداروں کی جبری گمشدگی کے خلاف بلتستان میں روندو، گمبہ اسکردو،شگر، گول اور کھرمنگ میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن  بلتستان ڈویژن کے زیر اہتمام نکالی جانیوالی احتجاجی ریلی میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ شرکاء ریلی نے حکومت کے ظالمانہ اقدام ، مسلم لیگ نون، نواز شریف ، شہباز شریف ، رانا ثناء اللہ کے خلاف نعرے لگائے گئے اور ناصر شیرازی سمیت دیگر جبری طور پر گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے مطالبہ کیا گیا۔ یادگار شہداء اسکردو پر منعقدہ احتجاجی جلسے میں پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، گلگت بلتستان یوتھ الائنس کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یاد گار شہدا ء اسکردو پر منعقدہ احتجاجی جلسے سے سید الیاس موسوی، محمد دلشاد،فدا حسین، شیخ ذیشان، شیخ حسن جوہری اور شیخ احمد علی نوری نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان بھر سے بے گناہ درجنوں عزاداروں کی جبری گمشدگی افسوسناک اور انسانی حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ حکومت جان بوجھ کر ملکی صورتحال خراب کرنا چاہ رہی ہے اور چاہتی ہے کہ ریاستی اداروں کا عوام کے ساتھ ٹکراو ہو۔ ریاستی اداروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ملت جعفریہ نے کبھی ریاست کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی۔ ملک بھر میں ملت جعفریہ کو حب الوطنی کی سزا دی جا رہی ہے جبکہ کلعدم جماعتوں کے افراد دھندناتے پھر رہے ہیں ۔ سانحہ آرمی پبلک سکول کی ذمہ داری قبول کرنے والے احسان اللہ احسان کو ہیرو بناکر پیش کرنے کی کوشش ہو رہی ہے جبکہ ملت جعفریہ کے بے گناہ رہنماوں اور عزاداروں میں لاپتہ کیا جا رہا ہے جو کہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنما ناصر عباس شیرازی کی بلاجواز گرفتاری پنجاب حکومت کی بوکھلاہٹ اور سکیورٹی اداروں میں نواز لیگ کی غیر معمولی مداخلت کا نتیجہ ہے۔ سکیورٹی اداروں کو ہوش کے ناخن لینا چاہیے اور ملک کو لوٹنے والے ان بدمعاش حکومتوں کی ایماء پر وطن کے باوفا بیٹوں کی حب الوطنی کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔  ملت جعفریہ کا کوئی فرد اگر ریاست کے خلاف سرگرم ہو تو عدالتوں میں ٹرائل کیا جائے بصورت دیگر یہ سراسر ناانصافی اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔ملت جعفریہ نے دہشتگردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دینے کے باوجود بیلنس پالیسی کی خاطر یاکسی خاص طبقے کی خوشنودی کی خاطر عرصہ حیات تنگ کرنا افسوسناک ہے۔ احتجاجی مظاہرہ میں مطالبہ کیا کہ آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان ملک بھر میں جاری گمشدگی کا نوٹس لے اور ملت جعفریہ کے تحفظات کو دور کرنے ، آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے، ریاستی اداروں کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال ہونے سے بچانے اور جمہوری و انسانی حقوق کی پامالی روکنے میں کردار ادا کریں۔

کوئٹہ میں مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام ناصر شیرازی کی بلاجواز اور غیر قانونی گرفتاری کے خلاف جامع مسجد کلاں کوئٹہ کے باہر بعد نماز جمعہ احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس سے ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنما علامہ سید ہاشم علی موسوی نے خطاب کیا، انہوں نے کہا کہ ناصر شیرازی کو پنجاب حکومت کی جانب سے ریاستی ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جارہا ہے، انہوں نے عدلیہ کے تقدس کی خاطر رانا ثناءاللہ کے خلاف عدلیہ کا دروازہ کھٹکایا تھا جس کی سزا انہیں پنجاب کے گلو بٹوں کے ہاتھوں اغواء کرواکر دی گئی، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف جسٹس ناصر شیرازی کی فوری بازیابی کے لیئے اقدامات کریں ۔

وحدت نیوز(سکردو )  ملک بھر میں حکومتی ایماء پر سکیورٹی اداروں کے ہاتھوں ماورائے آئین و قانون درجنوں افراد کی جبری گمشدگی کے خلاف آواز بلند کرنے کے جرم میں مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماء ناصر عباس شیرازی کے اغواء کے خلاف بلتستان بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔شیڈول فور کی آڑ میں ملک بھر میں جاری سیاسی انتقام اورعزاداروں کی جبری گمشدگی کے خلاف بلتستان میں روندو، گمبہ اسکردو،شگر، گول اور کھرمنگ میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن بلتستان ڈویژن کے زیر اہتمام نکالی جانیوالی احتجاجی ریلی میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ شرکاء ریلی نے حکومت کے ظالمانہ اقدام ، مسلم لیگ نون، نواز شریف، شہباز شریف، رانا ثناء اللہ کے خلاف نعرے لگائے گئے اور ناصر شیرازی سمیت دیگر جبری طور پر گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے مطالبہ کیا گیا۔ یادگار شہداء اسکردو پر منعقدہ احتجاجی جلسے میں پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، گلگت بلتستان یوتھ الائنس کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یاد گار شہدا ء اسکردو پر منعقدہ احتجاجی جلسے سے سید الیاس موسوی، محمد دلشاد،فدا حسین، شیخ ذیشان، شیخ حسن جوہری اور شیخ احمد علی نوری نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان بھر سے بے گناہ درجنوں عزاداروں کی جبری گمشدگی افسوسناک اور انسانی حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ حکومت جان بوجھ کر ملکی صورتحال خراب کرنا چاہ رہی ہے اور چاہتی ہے کہ ریاستی اداروں کا عوام کے ساتھ ٹکراو ہو۔ ریاستی اداروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ملت جعفریہ نے کبھی ریاست کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی۔ ملک بھر میں ملت جعفریہ کو حب الوطنی کی سزا دی جا رہی ہے جبکہ کلعدم جماعتوں کے افراد دھندناتے پھر رہے ہیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ سانحہ آرمی پبلک سکول کی ذمہ داری قبول کرنے والے احسان اللہ احسان کو ہیرو بناکر پیش کرنے کی کوشش ہو رہی ہے جبکہ ملت جعفریہ کے بے گناہ رہنماوں اور عزاداروں میں لاپتہ کیا جا رہا ہے جو کہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنما ناصر عباس شیرازی کی بلاجواز گرفتاری پنجاب حکومت کی بوکھلاہٹ اور سکیورٹی اداروں میں نواز لیگ کی غیر معمولی مداخلت کا نتیجہ ہے۔ سکیورٹی اداروں کو ہوش کے ناخن لینا چاہیے اور ملک کو لوٹنے والے ان بدمعاش حکومتوں کی ایماء پر وطن کے باوفا بیٹوں کی حب الوطنی کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔  ملت جعفریہ کا کوئی فرد اگر ریاست کے خلاف سرگرم ہو تو عدالتوں میں ٹرائل کیا جائے بصورت دیگر یہ سراسر ناانصافی اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔ملت جعفریہ نے دہشتگردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دینے کے باوجود بیلنس پالیسی کی خاطر یاکسی خاص طبقے کی خوشنودی کی خاطر عرصہ حیات تنگ کرنا افسوسناک ہے۔ احتجاجی مظاہرہ میں مطالبہ کیا کہ آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان ملک بھر میں جاری گمشدگی کا نوٹس لے اور ملت جعفریہ کے تحفظات کو دور کرنے ، آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے، ریاستی اداروں کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال ہونے سے بچانے اور جمہوری و انسانی حقوق کی پامالی روکنے میں کردار ادا کریں۔

وحدت نیوز(لاہور) لاہور ہائی کورٹ کہ معزز جج جناب جسٹس سردار احمد نعیم نے سی سی پی او لاہور پولیس کو حکم جاری کیا ھے کہ پیر کو سید ناصر شیرازی ایڈوکیٹ کو بازیاب کراکے عدالت میں پیش کیا جائے ۔ واضح رہے کہ مجلس وحدت مسلمین کہ مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری سید ناصر شیرازی ایڈوکیٹ کو بدھ کو لاہور کہ علاقے واپڈا ٹاون سے سادہ لباس و ایلیٹ فورس کی وردی میں ملبوس اھلکارُوں نے اغواء کیا تھا جب وہ اپنے اہل خانہ ہمراہ گھر جارہے تھے۔

ناصر شیرازی ایڈوکیٹ کہ اغواء کہ خلاف انکے بھائی نے شہباز شریف اور رانا ثناءاللہ کہ خلاف اغواء کی درخواست بھی مقامی تھانے میں جمع کرائی تھی لیکن اس پہ تاحال عملدرآمد نہ ہوسکا جسکے بعد انکے اہل خانہ کی طرف سے جمعرات کو ہائی کورٹ میں اغواء کہ خلاف پٹیشن جمع کرائی تھی ۔ پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے معزز جج لاہور ھائی کورٹ جسٹس سردار نعیم احمد نے CCPO لاہور پولیس کو حکم دیا کہ ہر صورت میں سید ناصر شیرازی ایڈوکیٹ کو پیر تک رانا ثناء اللہ یا کسی بھی جگہ سے بازیاب کراکے عدالت کہ روبروپیش کیا جائے ۔

اطلاع کہ مطابق ناصر شیرازی ایڈوکیٹ نے عدلیہ کو فرقہ وارانہ بنیادوں پہ تقسیم کرنے کہ رانا ثناء اللہ کہ بیانات و سازش کہ خلاف لاہور ھائی کورٹ میں پٹیشن دائر کررکھی تھی جسکی دو سماعتیں ہوچکی ہیں اور مجلس وحدت کہ رہنماوں کہ مطابق یہی درخواست نااہلی رانا ثناءاللہ و مکتب تشیع کی نمائندگی ہی ناصر شیرازی کہ اغواء کا سبب بنی ہے ۔ جس کو شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بھی آشیرواد حاصل ھے

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل ناصر شیرازی کی جبری گمشدگی کیخلاف ایم ڈبلیو ایم کراچی اور آئی ایس او کراچی  کے تحت جامع مسجد نورایمان ناظم آباد اور جامع مسجد حسینی برف خانہ ملیر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ احتجاجی مظاہروں  میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور رانا ثناء اللہ کی ایماء پر ناصر شیرازی کی جبری گمشدگی کی مذمت کی اور انکی رہائی کا مطالبہ کیا۔ احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے علامہ احمد اقبال رضوی، علامہ مرزا یوسف حسین ،علامہ نشان حیدر ساجدی اور احسن عباس رضوی  نے کہا ہے کہ  ناصر شیرازی کا اغوا جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے،ظالموں کے مقابلے میں کبھی سرنگوں نہیں ہوں گے، ایک مذہبی وسیاسی جماعت کے ایسے مرکزی رہنما کو پنجاب حکومت کی ایما پر اغوا کیاگیا ہے جس پر کسی قسم کا کوئی مقدمہ یا الزام نہیں،انہیں رانا ثنا اللہ کے خلاف پیٹیشن دائر کرنے پر انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے، پنجاب کی انتظامیہ اور ادارے ریاست کی بجائے شخصی غلامی کا حق ادا کر کے قانون و آئین سے انحراف کر رہے ہیں،سیکورٹی ادارے عوام کوتحفظ فراہم کرنے کی بجائے دہشت کی علامت بنتے جا رہے ہیں،اس اغوا کے ذمہ دار شہباز شریف ،رانا ثنا اللہ اور آئی جی پنجاب ہیں۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے ناصر شیرازی کے اغواء کا ذمہ دار رانا ثناءاللہ کو قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ناصر شیرازی کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کی متعصبانہ کارروائیاں تمام حدیں کراس کرچکی ہیں، رانا ثناء اللہ کی ملت جعفریہ سے دشمنی اور عناد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، ناصر شیرازی کی جبری گمشدگی میں پنجاب کے وزیر قانون ملوث ہیں، ان کیخلاف ایف آئی آر کا اندراج نہ کرکے پولیس قانون اور آئین کو پامال کر رہی ہے، ہم پنجاب حکومت کے ان اوچھے ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہونگے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی صفوں میں دہشتگردوں کے سرپرست چھپے بیٹھے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن نہیں کیا گیا۔

مقررین نے دھمکی دی کہ اگر ناصر شیرازی کو بازیاب نہ کرایا گیا تو احتجاج کا دائرہ ملک بھر میں پھیلا دیا جائے گا اور پورے ملک کو جام کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کو اس پر سوموٹو ایکشن لینا چاہیے۔ مقررین نے پنجاب پولیس کے رویے کی بھی مذمت کی اور کہا کہ پنجاب پولیس ریاست کی بجائے شریف برادران کا باندی بن چکی ہے، آئی جی کو اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہیں، وہ تنخواہ ریاست سے لیتے ہیں اور نوکری شہباز شریف کی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناصر شیرازی کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے لاپتہ شیعہ افراد کیخلاف آواز اٹھائی تھی، وہ اتحاد امت کی بات کرتے ہیں، وہ شیعہ سنی کو متحد کرنے کی بات کرتے ہیں۔

انہوں نے تکفیریوں کو بے نقاب کیا جس کی پاداش میں تکفیریوں کے سرپرست نے ریاستی فورس کو استعمال کرتے ہوئے ناصر شیرازی کو اغواء کروا لیا ہے۔مقررین  نے وزیر اعظم اور وفاقی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی ایڈووکیٹ کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے،اس سنگین مسئلہ میں حکومت کی غیر سنجیدگی ملت تشیع کے اضطراب میں اضافے کا باعث ہوگی۔

وحدت نیوز(گلگت)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کے اغوا سے پنجاب حکومت کی کھلم کھلا دہشت گردی ہے۔ناصر عباس شیرازی کو پنجاب حکومت نے سیاسی ا نتقام کا نشانہ بنایا ہے،سیکورٹی کے نام پر پرامن سیاسی جماعت کے رہنما کا اغوا جمہوریت کا ڈھول پیٹنے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے کہا کہ بغیر کسی ایف آئی آر کے ناصر عباس شیرازی کا اغوا پنجاب حکومت کے ایماء پر کیا گیا ہے اور انہیں راناثناء اللہ کے خلاف پٹیشن دائر کرنے پر انتقام کا نشانہ بنایاگیا ہے۔پنجاب میں انتظامی ادارے ریاست کی بقا اور عوام کو تحفط فراہم کرنے کی بجائے دہشت کی علامت بن چکے ہیں،اختیارات کا ناجائز استعمال غیر آئینی اور جمہوری اقدار کے منافی اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ ظالمانہ اقدامات کے ذریعے خوف وہراس پھیلانے کا پنجاب حکومت کے منصوبے کو خاک میں ملادیا جائیگا،ظلم کے آگے ہم ہرگز تسلیم خم نہیں ہونگے ۔نفرت اور تعصب کے مقابلے میں ہمیشہ میدان میں رہینگے اور ملک دشمن عناصر کے ایجنڈے کو تکمیل ہونے نہیں دیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین کے رہنما ناصر عباس شیرازی کو کچھ ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری پنجاب پولیس پرعائد ہوگی۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) ایم ڈبلیوایم کے رہنما ناصر شیرازی کے دن دھاڑے اغوا کرنے پر مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما سیکریٹری تبلیغات علامہ اعجاز حسین بہشتی کا کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل برادر ناصر شیرازی کو اغوا کر کے پنجاب حکومت نے شیعہ دشمنی اور غنڈہ گردی کا ثبوت پیش کیا ہے، اگر برادر ناصر شیرازی کو فل فور رہا نہ کیا گیا تو حالات کی تمام تر ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد ہوگی۔ قائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے اعلان پر انشااللہ کل ملک بھر میں پنجاب حکومت کی جانب سے اس غیر قانونی کاروائی پر بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا اور ہم حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ مکتب تشیع کے خلاف متعصبانہ کاروائیوں کو فوری بند کریں آخر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ وطن عزیز کے محب وطن و باوفا بیٹوں کو غائب کیا جائے۔پنجاب حکومت نے  برادر ناصر شیرازی کو مظلوموں کی حمایت کے جرم میں اغوا کیا گیا اگر برادر ناصر شیرازی کو کچھ بھی ہوا تو اس کی ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد ہوگی، جو حکومت ماڈل ٹاؤن میں خواتین سمیت چودہ افراد کو دن دھاڑے قتل کر سکتے ہیں تو ان سے کچھ بھی بعید نہیں ہے۔

Page 9 of 783

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree