The Latest

وحدت نیوز (انٹرویو)  معروف سکالر اور مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے فلسطینیوں پہ اسرائیلی حملے کے اسباب پہ ایک بین الاقوامی خبررساں ادارے کیساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شام کے اندر وہ علاقے جو اسرائیل کے بارڈر کے ساتھ لگتے ہیں، وہاں مزاحمتی بلاک زیادہ مضبوط ہوگیا  ہے۔ اسرائیل کی پریشانی اس حوالے سے بڑھ گئی ہے، کیونکہ پہلے لبنان والا اس کا بارڈر غیر محفوظ تھا اور اب شام والا بھی اس کیلئے غیر محفوظ ہوچکا ہے۔ اگر دونوں سرحدوں پہ اسرائیل مخالف قوتیں مضبوط ہوں تو دونوں بارڈر خود اسرائیل کیلئے چکی کے دو پاٹ ثابت ہوتے ہیں، جس میں یہ پس جائیگا۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی پیشہ کے اعتبار سے قانون دان ہیں اور لاہور ہائیکورٹ میں پریکٹس کرتے ہیں۔ قبل ازیں وہ ایم ڈبلیو ایم میں مرکزی سیکرٹری سیاسیات کے عہدے پر بھی کام کرچکے ہیں۔ ناصر شیرازی امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر بھی رہ  چکے ہیں، جبکہ انکا بنیادی تعلق پنجاب کے معروف ضلع سرگودھا سے ہے۔ انہوں نے تاریخ، بین الاقوامی تعلقات اور قانون میں ایم فل کیا ہے۔ آئی ایس او پاکستان کی مرکزی صدارت کے دوران متحدہ طلبہ محاذ کی قیادت بھی کرتے رہے ہیں۔ سید ناصر شیرازی ملکی اور عالمی حالات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار ہیں، وہ  اپنی تحریر و تقریر میں حقائق کی بنیاد پہ حالات کا نہایت درست اور عمیق تجزیہ پیش کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انٹرنیشنل ریلیشنز اور کرنٹ افیئرز سے دلچسپی رکھنے والے حلقوں میں انہیں بڑی پذیرائی حاصل ہے۔ انہوں نے ایم ڈبلیو ایم کے پلیٹ فارم سے سیاست میں نمایاں خدمات سرانجام دیں، ملت جعفریہ میں سیاسی شعور بیدار  کرنے میں بھی ناصر شیرازی کا اہم کردار رہا ہے، شیعہ سنی وحدت کیلئے بھی انکی خدمات انتہائی نمایاں ہیں۔ سید ناصر شیرازی مشرق وسطٰی کے موضوع پہ انتہائی گرفت رکھتے ہیں تو ایک بین الاقوامی خبررساں ادارے نے اسی تناظر بالخصوص فلسطینیوں کیخلاف اسرائیل کی حالیہ بربریت اور شام میں مختلف ممالک کے اہداف اور  حالیہ شام اسرائیل جھڑپ کے بارے میں سید ناصر عباس شیرازی کیساتھ ایک تفصیلی نشست کا اہتمام کیا ہے، اس نشست کا تفصیلی احوال انٹرویو کیصورت میں پیش خدمت ہے۔


سوال: اسرائیل نے حال ہی میں فلسطینیوں کیخلاف طاقت کا بے محابہ استعمال کرکے ظلم و بربریت کی ایک نئی مثال قائم کی ہے، اس اسرائیلی جارحیت کے بنیادی مقاصد یا محرکا ت کیا ہیں۔؟

سید ناصر شیرازی: اس کی مختلف وجوہات اور مقاصد ہیں۔ میں مختصر الفاظ میں بتاتا ہوں۔

اول یہ کہ اسرائیل کمزور ہے اور اپنی کمزوری چھپانے کیلئے کمزور پہ طاقت کا استعمال کرکے مرعوب کرنا چاہتا ہے۔اسرائیل کی تزویراتی گہرائی بہت کم ہے۔ اس کا جغرافیہ بہت چھوٹا ہے۔ اس کے پڑوس میں اسکی حمایت نہیں پائی جاتی اور دنیا میں ایسا ملک بدترین بحران کا شکار رہتا ہے کہ جس میں یہ کمزوریاں ہوں اور وہ خطے میں اپنے اتحادی نہ رکھتا ہو۔ اسرائیل نے ہمیشہ اپنی اس کمزوری کو مختلف طریقوں سے کم کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی حمایت اور اس کی ویٹو پاور کے ذریعے اور اپنے جارحانہ کردار کے ساتھ یعنی پڑوسی ممالک کو طاقت کے زور پہ دبا کر اسرائیل نے ان مسائل سے نمٹنے کی کوشش کی ہے۔ ابھی تازہ صورت حال کی وجہ یہ بنی ہے کہ اسرائیل کبھی بھی اپنی کمزوری کو آشکارا نہیں کرنا چاہتا کہ وہ کمزور ہو رہا ہے۔ جب بھی ایسا ہوتا ہے کہ اس کی یہ کمزوری آشکار ہونے لگتی ہے تو وہ ایسے جارحانہ اقدامات کے ذریعے یہ باور کراتا ہے کہ وہ کمزور نہیں ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ اسرائیل کمزور ہوچکا ہے، وہ اسرائیل کہ جو گریٹراسرائیل کی بات کرتا تھا، جو دجلہ و فرات کے پانیوں پہ جانے کی بات کرتا تھا، اسے اپنی ہی سرحد پہ دیواریں بنانا پڑ رہی ہیں، یعنی وہ خود محدود ہو رہا ہے۔ اس کی اپنی معاشی استعداد میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے اور معاشی حالت اتنی اچھی نہیں جا رہی۔


مشرق وسطیٰ میں اس کا اپنا سارا منصوبہ ناکامی سے دوچار ہوچکا ہے۔ حزب اللہ اس کے اپنے بارڈر پہ پہلے سے بہت طاقتور اور قدرت مند ہوچکی ہے۔ شام میں بشارد اور اس کی اتحادی مزاحمتی قوتیں بہت طاقتور ہوچکی ہیں اور عالمی سطح پہ بھی اس کو درکار حمایت نہیں مل رہی۔ اس کی اپنی کمزوریاں کھل کر سامنے آنا شروع  ہوگئیں تھیں۔ شام کی سرزمین سے اس کے ایف سولہ طیارے کو گرایا گیا، جو کہ غیر متوقع ہے۔ اسی طرح ایف سولہ کے علاوہ ان کے فوجی مقامات پہ حملوں کا ہونا اسرائیلی کمزور ی کا اظہار ہیں۔ جس سے توجہ ہٹانے کیلئے اسرائیل نے فلسطینیوں پہ بدترین حملے کئے ہیں۔ ان پہ ظلم کیا ہے اور بدترین بمباری کا نشانہ بنایا ہے۔  اس کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اسرائیل کا سب سے بڑا دفاع خود امریکہ ہے، جو شام میں مکمل طور پر ناکام ہوا ہے اور شام کے وہ علاقے جو اسرائیل کے بارڈر کے ساتھ لگتے ہیں، وہاں مزاحمتی بلاک زیادہ مضبوط ہوگیا ہے۔ اسرائیل کی پریشانی اس حوالے سے بڑھ گئی ہے، کیونکہ پہلے لبنان والا اس کا بارڈر غیر محفوظ تھا  اور اب شام والا بھی اس کیلئے غیر محفوظ ہوچکا ہے۔ اگر دونوں سرحدوں پہ اسرائیل مخالف قوتیں مضبوط ہوں تو دونوں بارڈر خود اسرائیل کیلئے چکی کے دو پاٹ ثابت ہوتے ہیں، جس میں یہ پس جائیگا۔ اس کے علاوہ غوطہ جو کہ بشارد حکومت کے خاتمے کیلئے امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کی آخری امید تھی، اس میں

انہیں توقع تھی کہ مشرقی غوطہ کثیر آبادی والا علاقہ ہے۔ اسی کے ذریعے انہیں عوامی حمایت حاصل ہے اور یہاں موجود دہشتگرد جو اسرائیلی ہتھیاروں سے لیس ہیں، ان کے ذریعے دمشق پہ قبضہ کیا جاسکے گا۔ اب یہ امید بھی ٹوٹ گئی اور دمشق کے تمام اطراف مزاحمتی قوتوں کے کنٹرول میں ہیں اور وہاں پہ رٹ آف دی  گورنمنٹ قائم ہوگئی ہے۔ اب ان مزاحمتی قوتوں کا اگلا ہدف گولان ہائٹس کے نزدیکی وہ اسٹریٹجک علاقے ہیں، جو اسرائیل کے نزدیک ہیں، جہاں پہ اگر مزاحمتی قوتیں کاملاً اپنا تسلط قائم کر لیں اور وہاں سے دہشتگردوں کو نکال باہر کریں تو اسرائیل کی اپنی بقاء پہ سوالیہ نشان لگ جاتے ہیں۔ اسرائیل نے شام کو اس حد تک آفر کی ہے کہ  یہاں موجود شدت پسند عناصر کو وہ اپنے علاقے میں جگہ دینے کو تیار ہے، مگر شرط یہ ہے کہ اس علاقے میں لبنانی حزب اللہ اور اسرائیل مخالف مزاحمتی قوتیں نہ آئیں۔ بہرحال مشرقی غوطہ میں ناکامی بڑی وجہ بنی ہے کہ اسرائیل نے فلسطینیوں پہ اپنا غصہ نکالا ہے۔

غلامانہ ذہنیت کا مالک محمد بن سلمان بھی ایک وجہ ہے
ایک معاملہ یہ بھی ہے کہ امریکہ و اسرئیل کو عالم اسلام سے اتنی غلامانہ ذہنیت رکھنے والا بندہ نہیں مل سکتا تھا، جیسا انہیں محمد بن سلمان کی صورت میں ملا۔ وہ کام جو امریکہ اپنے نان اسلامک چہرے کی وجہ سے نہیں کرسکتا اور وہ کام کسی اسلامی چہرے سے لیتا ہے یعنی سعودی عرب، جو سب سے زیادہ امریکی اہداف کیلئے کام کرتا ہے، جس میں نام نہاد اسلامی اتحاد کی تشکیل، پھر اسلامی ممالک کی کانفرنس کہ جس کی صدارت ٹرمپ نے کی۔ اس کے علاوہ اسلامی تشخص رکھنے والے معاشرے کو یورپ کی طرز پہ منتقل کرنا، مقدس سرزمین کو فحاشی کے مراکز میں بدلنا، یہ ساری وہ چیزیں ہیں، جو محمد بن سلمان نے کیں۔ انہیں یہ بھی توقع  تھی کہ یہ اسلامی دنیا کو محمد بن سلمان کی مدد سے اسی طرح ہینڈل کر لیں گے کہ مخالفت اور مزاحمت دونوں ہی پست ترین سطح تک چلی جائیں اور اب اس سے اگلے مرحلے میں ’’ڈیل آف دی سنچری‘‘ جو کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیل کو باضابطہ طور پر ایک ملک کے طور پہ  تسلیم کر لیا جائیگا اور اس ملک میں فلسطینیوں کی واپسی کا خواب، خواب ہی رہ جائیگا تو اس تناظر میں اسرائیلی حملوں کی ٹائمنگ انتہائی اہم تھی۔ تاہم یہ ساری منصوبہ بندی اسرائیل اور ان کے ساتھیوں کو الٹ پڑ گئی ہے۔ محمد بن سلمان کو اپنے ملک و خطے میں وہ حمایت حاصل نہیں رہی، یہ محمد بن سلمان کا ہی فقرہ ہے کہ

’’فلسطینی یا تو اسرائیل کی بات مان لیں یا پھر اپنا منہ بند رکھیں۔‘‘

ؓBACK TO PALESTINE MOVEMENT
فلسطینیوں نے ایک تحریک بھی شروع کی ہوئی ہے کہ جس کا عنوان ہے ’’فلسطینیوں کی فلسطین میں واپسی‘‘ اور اس تحریک میں شدت بھی ہونی تھی، کیونکہ ماہ مئی میں ہی فلسطینیوں کو اپنے گھروں سے بیدخل کیا گیا تھا۔ 15 مئی یوم نکبہ ہے۔ فلسطینی اس حوالے سے اپنی تحریک شروع کئے ہوئے تھے، اس میں شدت اور  تصادم بھی اس وجہ سے زیادہ تھا کہ ایک طرف یہ نظریہ تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے اور دوسری طرف فلسطینی اپنی زمین پہ واپس جانے کی تحریک شروع کئے ہوئے ہوں اور اسرائیل کے وجود کو ہی تسلیم نہ کر رہے ہوں تو یہ ایک بڑی نظریاتی جنگ تھی اور جب کوئی نظریہ سے ہار جاتا ہے تو بندوق کا سہارا لیتا ہے، یہی کام اسرائیل نے کیا ہے۔ نظریئے سے شکست کھانے کے بعد فلسطینیوں پہ طاقت کا استعمال کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں فلسطینی تحریک پہ بدترین ظلم کیا ہے اور ایک مہینے میں تقریباً پہلے 62 افراد شہید ہوئے اور 15 مئی کے دن 60 افراد شہید ہوئے۔ اسرائیل کو یقین تھا کہ ایسے موقع پہ طاقت کے جابرانہ استعمال سے فلسطینیوں کو جھکا لے گا۔

اسرائیل پہ ٹرمپ کا دست شفقت اور ٹرمپ کا یہودی داماد
حملوں کی وجوہات میں اسرائیل کو حاصل ٹرمپ کی اعلانیہ مدد بھی ہے۔ ٹرمپ کا اپنا داماد جو کہ یہودی ہے۔ یہودی لابی کبھی بھی اتنی طاقتور امریکہ میں نہیں رہی۔ چنانچہ ٹرمپ کا اپنا مزاج، اس کا حکومت میں ہونا بھی اس ظلم کی وجہ بنا ہے۔ اس ظلم کے بعد جو عالمی ردعمل تھا، اس کو کنٹرول کرنے میں بڑی حد تک امریکہ نے  تعاون کیا ہے۔ اس معاملے پہ عرب لیگ کا جو اجلاس ہوا ہے، اس میں جی سی سی ممالک کا کوئی سربراہ شریک نہیں ہوا ہے۔ اس ظلم کے خلاف جو قرارداد پیش ہوئی تو اسے بھی امریکہ نے ویٹو کر دیا۔ اس ظلم کے خلاف جو ردعمل اسلامی دنیا سے متوقع تھا، اسے بھی دبانے میں امریکہ نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ یعنی ٹرمپ کی  موجودگی بھی اسرائیل کے اس جرم عظیم کی ایک وجہ بنی ہے۔

مزاحمتی بلاک کی سیاسی کامیابیوں سے اسرائیل ناخوش
اس کے علاوہ لبنان میں حزب اللہ کی کامیابی، عراق میں حشدالشعبی کی کامیابی بھی انہیں آئندہ کیلئے ایک بڑے خطرے کے طور پر نظر آرہی ہے، کیونکہ ان کامیابیوں سے عوام میں جو احساس فتح، احساس برتری پیدا ہوا ہے، جس کو کاونٹر کرنے کیلئے نہتے افراد پہ اسرائیل نے طاقت کا استعمال کیا ہے۔ بہرحال طاقت کا استعمال  اگر نہتے لوگوں پہ ہوگا تو وہ بربریت کے زمرے میں آتی ہے۔ اس کے علاوہ رہبر معظم نے فلسطینیوں کی جو حمایت کی بات کی اور جو مزاحمتی قوتوں سے جو فرمایا کہ آپ اسرائیل کو ختم ہوتے دیکھیں گے اور فلسطین کی آزادی دیکھیں گے اور بیت المقدس کی آزادی سنت الہیہ میں سے ہے اور 25 سال کی ڈیڈ لائن،جس میں  سے چند سال گزر چکے ہیں، وہ بھی چل رہی ہے تو اسرائیلی اس کو نوٹ کرتے ہیں۔ اس فرمان کے نتیجے میں فلسطینیوں میں جو امنگ، احساس فتح تھا، اس کو کاری ضرب لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس ظلم میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا اصلی روپ دنیا کے سامنے آیا ہے۔ اس ظلم کے خلاف دنیا کی طرف سے جو ردعمل  آیا ہے، وہ حوصلہ افزا ہے، گرچہ وہ اتنا نہیں ہے کہ جتنا آنا چاہیئے تھا، مگر اس کے باوجود اس ردعمل سے فلسطینیوں کی کاز کو تقویت ملی ہے۔

سوال: امریکی سفارتخانہ بیت المقدس میں منتقل ہونے سے مقدمہ فلسطین کو کیا نقصان پہنچا۔؟
سید ناصر شیرازی: پہلی بات تو یہ کہ بیت المقدس اقوام متحدہ کے تحت مذاہب کا مشترکہ ورثہ ہے، جس میں عیسائی، یہودی اور مسلمان شامل ہیں۔ چنانچہ اگر یہ کبھی بنا تو یہ آزاد سٹی بن سکتا ہے کہ جس میں تمام مذاہب اور مسالک کے افراد کو جانے کی اجازت ہوگی۔ چنانچہ یہ آزاد شہر تو ہوسکتا ہے مگر اسرائیل کے  دارالحکومت کے طور پر کبھی بھی نہیں ہوسکتا، یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں ہے۔ اسرائیل کا جو نظریاتی ہدف ہے کہ جو اس کی ریاست کا دارالحکومت یا پایہ تخت ہے، وہ بیت المقدس یا یروشلم کو ہی بنایا جائے۔ اس کے بعد یہیں سے ہی وہ گریٹر اسرائیل کے خواب کو دیکھتے ہیں۔ ایک ایسا آئیڈیل موقع ان کے ہاتھ لگا ہے کہ ٹرمپ  مزاج کے لحاظ سے بھی ان کے ہم آہنگ ہے اور اس کا داماد خود بھی یہودی ہے۔ لہذا اس موقع کو انہوں نے بہترین سمجھا۔ امریکہ نے ستر سال میں اپنے غیر جانبدار ہونے کی دلیل یہی رکھتا تھا، حالانکہ وہ کبھی بھی غیر جانبدار نہیں رہا، مگر غیر جانبدار رہنے کی اس کے پاس اکلوتی دلیل یہی تھی کہ اس نے اپنا سفارتخانہ بیت  المقدس میں نہیں بنایا۔ بہرحال ٹرمپ سے یہودیوں نے یہ فائدہ اٹھایا ہے۔ گرچہ یہ ابھی ایک فیصلہ ہے کہ جس میں اس جگہ کی نشاندہی کی گئی ہے کہ یہاں امریکی سفارتخانہ بنے گا اور رفتہ رفتہ یہاں منتقل ہوگا۔ اس امریکی فیصلے میں کئی ناکامیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ امریکی صدر جس نے اس افتتاح میں جانا تھا، وہ نہیں گیا، اس کے خلاف اتنا عالمی پریشر آیا ہے۔ اس منتقلی پہ امریکہ کو درکار حمایت حاصل نہیں ہوئی ہے اور جو قرارداد بھی آئی ہے تو اس میں دنیا کے چند چھوٹے چھوٹے ملک کہ جن کا نام عالمی سیاست میں ہی شامل نہیں  ہے، ان کے علاوہ پوری دنیا نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ جس میں یورپ، افریقہ اور دنیا کے دیگر ممالک شامل ہیں۔ یہ امریکہ و اسرائیل کی ناکامی ہے۔ کوئی بھی اقدام جس پہ آپ کو عالمی تائید ملتی ہے تو اسے کامیابی گردانا جاتا ہے، کوئی بھی ایسا اقدام کہ پوری دنیا جس کی نفی کر رہی ہو، اسے ناکامی ہی  سمجھا جائے گا۔ ایک مقبوضہ علاقہ ہے، جہاں پہ قوت طاقت کے بل بوتے پہ قابض افواج کا پہرہ ہے۔ وہاں آپ ایک عمارت کو اپنا سفارتخانہ قرار دیتے ہیں تو کئی سوالات آپ پہ ثبت ہوں گے۔ یہ تو ایسا فیصلہ ہے کہ ’’ڈیل آف دی سینچری‘‘ میں جانے والے محمد بن سلمان وغیرہ کو بھی اس کی مخالفت کرنا پڑی ہے۔ جب تک دنیا کے باقی ممالک وہاں اپنے سفارتخانے منتقل نہیں کرتے، وہاں نہ تو سفارتکاری کا ماحول بن سکتا ہے اور نہ ہی عالمی سطح پہ اسے وہ حیثیت حاصل ہوسکتی ہے کہ جو آپ دینا چاہتے ہیں۔ یہ امریکی سفارتکاری کی بہت بڑی ناکامی اور اسرائیل کی دنیا میں تنہائی ہے۔

سوال: اسرائیلی حملوں کیخلاف اوآئی سی سمیت دیگر اسلامک فورمز سے جو ردعمل سامنے آیا، کیا وہ قابل اطمینان ہے۔؟
سید ناصر شیرازی: اقوام متحدہ تو امریکی کٹھ پتلی تھی۔ ویسے بھی پانچ ممالک کے پاس ویٹو پاور موجود ہے، لہذا ان سے کوئی توقع رکھنی بھی نہیں چاہیئے، کیونکہ ان میں سے کوئی ایک بھی مسلم ملک نہیں ہے۔ اس سب کے باوجود بھی جنرل کونسل کے اندر جو قراردادیں آئی ہیں تو ان میں اسرائیل کو اور امریکہ کو ہزیمت کا سامنا  کرنا پڑا ہے اور عالمی برادری ان کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی ہے۔ لہذا یہ جو فورم ہے، اپنی غیر جانبداری اور اہمیت کھو چکا ہے، مگر مغرب اور امریکہ زدہ سمجھے جانے والے اس فورم پہ بھی امریکہ اور اسرائیل کو حمایت نہیں ملی ہے اور انہیں بدترین تنہائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دوسری جانب جب ہم عرب لیگ کی بات کرتے ہیں  تو چونکہ اس پہ سعودی اثر غالب ہے اور اس کے علاوہ اس فورم نے ان عرب ممالک کی رکنیت ہی منسوخ کی ہوئی ہے کہ جو اپنے حق کی بات کرتے ہیں، جیسا کہ شام، جو کہ عرب ملک ہے مگر عرب لیگ میں نہیں، اسی طرح یمن ہے، جو عرب ملک ہونے کے باوجود عربوں کے ہی نشانہ پہ ہے۔ عرب لیگ اس وقت جی سی سی کے  ہاتھ میں ہے اور جی سی سی سعودی عرب کے ہاتھ میں ہے۔ چنانچہ عرب لیگ سے ماسوائے ایک قرارداد مذمت کے اور زیادہ توقع عبث ہے۔ اسرائیل کے خلاف فرنٹ مورچہ تو شام ہے۔ شام اس وقت عرب لیگ کا معطل رکن ہے۔ اب اگر او آئی سی کی طرف دیکھتے ہیں تو یہ ایک مناسب اقدام ہے کہ او آئی سی نے اس پہ ایک ہنگامی  اجلاس بلایا ہے۔ اس اجلاس میں دنیا کے بیشتر اسلامی ممالک کے سربراہان شریک ہوئے ہیں، البتہ وہ سربراہان شریک نہیں ہوئے کہ جو سعودی اثر میں ہیں۔ ترک قیادت سے ان تمام تحفظات کے باوجود کہ جن میں ترکی کے اندر اسرائیلی سفارتخانے کا قائم رہنا، ان کی تقریبات، ٹریڈ کا جاری رہنا کہ جس کے ذریعے انہوں نے اسرائیل کو  قبول کیا ہوا ہے، ان سب کے باوجود ترکی کا اقدام انتہائی مناسب تھا اور او آئی سی نے علامتی طور پر ہی سہی مگر اس معاملے پہ ایک صفحہ پہ ہونے کا اظہار کیا ہے۔

سوال: کثیر الملکی سعودی فوجی اتحاد کا ردعمل کیا ہے۔؟
سید ناصر شیرازی: تمام تر صورتحال میں وہ اسلامی اتحاد بھی اپنے کردار کے لحاظ سے عیاں ہوا ہے کہ اس کا اسلامک مفاد اور اسلامی دنیا کے ایشوز سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ خالصتاً فرقہ وارانہ بنیادوں پہ مزاحمتی ممالک ایران اور اس کے حامیوں کے خلاف مسلکی بنیادوں پہ تشکیل دیا گیا ہے، جو کہ بہت خطرناک ہے  اور امت مسلمہ کیلئے بدترین بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ اس میں ایک بدترین چیز پاکستان کے سابق آرمی چیف کا اس کی قیادت کرنا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب امت مسلمہ شام میں امریکی حملوں کی مذمت کر رہی تھی تو اس وقت سعودی عرب اور ترکی ان حملوں کی توجیہات پیش کر رہے تھے تو پھر کیسے اور کس منہ سے آپ فلسطینیوں کے حقوق یا ان کی آزادی یا ان پہ اسرائیلی حملوں کے خلاف بات کرسکتے ہیں۔ عرب ملکوں کا معاملے میں کوئی اچھا کردار نہیں رہا۔ وہ مزاحمتی قوتیں کہ جنہوں نے فلسطینی کاز کی حمایت کی ہے، وہاں آنے والی سیاسی تبدیلیاں مزاحمتی عمل کی تائید و حمایت میں جا رہی ہیں۔ جو کہ مشرق وسطیٰ کے مستقبل میں  انتہائی اہم اور کارآمد ہیں۔

سوال: شام اور اسرائیل کے مابین جھڑپ سے اسرائیلی دفاع کو نقصان پہنچا ہے۔؟
سید ناصر شیرازی: شام ایک ایسا میدان ہے کہ جہاں روس، امریکہ،حزب اللہ، ایران، ترکی اور کردوں کا مفاد موجود ہے۔ چنانچہ شام میں مختلف قوتوں کو اپنے جوہر دکھانے کا موقع مل رہا ہے۔ تاہم زمینی حقائق میں بشارد الاسد اور مزاحمتی قوتوں نے ملکر ملک کے بڑے حصے سے دہشتگردوں کو نکال باہر کیا ہے۔ اس کے بعد باقی  دنیا کے مفادات یہاں بتدریج کم ہونا شروع ہوئے ہیں یا ان کے حصول کے امکانات بتدریج کم ہوئے ہیں۔ مزاحمتی بلاک کا شام میں طاقتور ہونے کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ اندرونی علاقوں کی جنگ سے وہ تقریباً فارغ ہوچکے ہیں اور بیرونی اسٹریٹجک ایریاز میں جنگ منتقل ہونا شروع ہوگئی ہے۔ جیسے گولان ہائیٹس کے نزدیکی علاقے، قونیطرہ، قلمون وغیرہ میں کوئی بڑی تبدیلی واقع ہوتی ہے اور یہاں اگر حزب اللہی قوتیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو پھر اسرائیل کی آئندہ شکست میں شام اور ان علاقوں کا بڑا کردار ہوگا۔ اسرائیل نے بھی ان چیزوں کو نوٹ کیا اور ردعمل میں شام کو کئی مقامات پہ ہٹ کیا ہے۔ جس میں ایران کے کئی افراد شہید ہوئے ہیں۔ گرچہ ایران اور شام کے درمیان بہترین ہم آہنگی موجود ہے، مگر چونکہ اسرائیل نے شام پہ حملہ کیا تھا اور اس کا جواب بھی شام سے ہی گیا ہے، تو یہ جواب شام نے ہی دیا ہے۔ ابھی تک ایران نے اس  کا جواب نہیں دیا ہے۔ ایران نے واضح کہا ہے کہ جب ہم جواب دیں گے تو اعلان کرکے جواب دیں گے۔ ایران کے پاس جو میزائل سسٹم ہے، اس کیلئے آئرن ڈوم کو ناکام بنانا، جو اسرائیل کا میزائل ڈیفنس سسٹم ہے، بے بس ہے۔ ایران، حزب اللہ اور شام کے مفاد میں یہی تھا کہ جب اسرائیل پریشر کو کم کرنے کیلئے شام میں مختلف مقامات پہ حملے کرے تو یہ اس کو کاونٹر کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسرائیلی ایف سولہ کو مار گرانا، اسرائیل کے فرنٹ مورچوں کو نشانہ بنانا، اسرائیل کے اندر ایک ہنگامی صورتحال کا ہونا، وہاں لوگوں کا زیر زمین بنکرز میں منتقل ہونا اور لوگوں کا وہاں بھی بنیادی ضروریات کا پورا نہ ہونا، اسرائیل کی فوجی طاقت کے غبارے سے ہوا نکلنے کے مترادف ہے۔

سوال: کیا ایران اپنے شہید فوجیوں کا انتقام لے گا۔؟
سید ناصر شیرازی: دونوں جانب سے ہونے والے ان حملوں میں دونوں فریقوں نے اپنے مسلز ٹسٹ کئے ہیں، اسرائیل کو شدت سے اس بات کا بھی احساس ہوا ہے کہ مزید کچھ ہونے کی صورت میں ردعمل کہیں شدید ہوسکتا ہے۔ مزاحمتی بلاک جو شام میں موجود ہے، وہ نہ تو ایف سولہ بنا رہا ہے اور نہ ایف تھرٹی، وہ آئرن ڈوم بھی  نہیں بنا رہا ہے۔ تاہم وہ ایسی ٹیکنالوجی پہ ضرور کام کر رہا ہے کہ جو ان تمام ٹیکنالوجیز کو کاونٹر کرکے اسے نیوٹرل کرسکے۔ اس کیلئے گرچہ سرمایہ کم درکار ہے، مگر ردعمل میں چوٹ شدید پہنچا سکتے ہیں اور اسرائیلی حملے کے جواب میں اپنی قوت کا معمولی اظہار انہوں نے کیا ہے۔ یہ کھلا پیغام ہے اسرائیل کیلئے کہ اگر  تم ہماری کسی کمزوری کو نشانہ بنانے کی کوشش کرو گے کہ ہم داخلی جنگ میں ہیں تو آپ بدترین بحران سے دوچار ہوں گے۔ سیر کا جواب سوا سیر سے شام اور اس کی اتحادیوں نے دیا ہے۔ اسرائیلی حملے میں ایران کے فوجی شہید ہوئے ہیں اور ایران نے اعلان کیا ہے کہ ان کا انتقام وہ ضرور لے گا مگر اس کیلئے وہ وقت اور  جگہ کا انتخاب خود کریگا۔ ایران کا یہ اعلان بھی اسرائیل کیلئے ایک لٹکتی تلوار ہے۔ اب اسرائیل کی کوشش یہی ہے کہ اس ممکنہ ایرانی ردعمل کو کسی طور روکا جاسکے اور اس کی کوئی ممکنہ گارنٹی حاصل کی جا سکے۔


انٹرویوبشکریہ۔۔۔اسلام ٹائمز




وحدت نیوز(آرٹیکل)  وہ بابصیرت خاتون جو عام الفیل سے 15سال قبل اور ہجرت سے 68 سال قبل شہر مکہ میں پیدا ہوئیں ۔ وہ یکتا پرست خاتون جو اسلام سے قبل یعنی زمانہ جاہلیت میں بھی آسمانی کتابوں پر اعتقاد رکھتی تھیں اور خدائے وحدہ لا شریک کی پرستش کرتی تھیں۔ وہ اپنے تجارتی کاروان کو دور دراز ممالک کی طرف روانہ کرتے وقت کعبہ میں جاکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خدا سے اپنی تجارت میں برکت حاصل ہونے کی دعا کرتی تھیں۔ وہ با اخلاق خاتون جن کی توصیف عصر جاہلیت میں حضرت ابو طالب اس طرح  سےکرتے ہیں :{ انّ خديجۃَ اِمْرَأَۃکاٌ كمِلَۃٌ مَيمُونۃٌ فاضِلَۃٌ تَخْشَي العار و تَحْذِرُ الشَّنار}1۔بے شک خدیجہ ایک کامل پربرکت اورفاضلہ عورت ہے جو ہر قسم کی ننگ و عار اوربد نامی سے دور ہے۔


وہ خوبصورت خاتون کہ امام حسن مجتبی علیہ السلام تمام تر کمالات کے باوجوداپنے آپ کو حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا سے شبیہ قراردیتے ہوئے فرماتے ہیں :{۔۔وَ کُنْتُ أَنَا أَشْبَہَ اَلنَّاسِ بِخَدِيجَۃَ اَلْکُبْرَی} 2۔ میں خدیجہ کبری سے سب سے زیادہ شباہت رکھنے والاہوں۔ وہ پاکیزہ خاتون جس کی پاکدامنی کی وجہ سےایام جاہلیت میں ہی آپ کو طاہرہ کے لقب سے نوازا گیا تھا۔ وہ عظیم خاتون جس نے سب سے پہلےرسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی، اسلام قبول کیا اور اسلام کی پہلی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ادا کی۔ وہ پارسا خاتون جس کی ایمان کی گواہی حضرت علی علیہ السلام دیتے ہوئے  فرماتے ہیں :{لم یجمع بیت واحد یومئذ فی الاسلام غیر رسول الله وخدیجہ واناثالثھا} 3۔ جب روئے زمین پر کوئی مسلمان نہ تھابجز اس خاندان کے جو رسول اور خدیجہ پر مشتمل تھا اورتیسرا فرد میں تھا۔
وہ مالدار خاتون جوتجارت کرتی تھیں اور اپنے سرمایہ کو مضاربہ اور لوگوں کو تجارت کے لئے استخدام کرنے میں استعمال کرتی تھیں۔ وہ شریف خاتون جس کے لئےخداوند نے خیر اور کرامت کو مدنظر رکھاجو نسب کے لحاظ سے عرب کے ایک متوسط گھرانے سے متعلق تھیں لیکن عظیم شرافت اور دولت کی مالک تھیں۔

وہ پاک طینت خاتون جن کی خصوصیات میں فضیلت پسندی، فکری جدت، عشق و کمال اور ترقی جیسی خصوصیات شامل ہیں۔ ـ
وہ نجیب خاتون جونوجوانی کی عمر سے ہی حجاز اور عرب کی نامور اور صاحب فضیلت خاتون سمجھی جاتی تھیں۔

وہ پاک دامن خاتون جس نے اپنا رشتہ مانگنے والے اشراف قریش کی درخواست مسترد کرکے رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شریک حیات کے عنوان سے منتخب کیا اور یوں مادی و دنیاوی ثروت کی نعمت کو آخرت کی سعادت اور جنت کی ابدی نعمتوں سے مکمل کیا اور اپنی عقلمندی و دانائی اپنے زمانے کے لوگوں کو جتادی۔

وہ عفیف خاتون تھیں جنہیں ایسے شوہر کی تلاش تھی جو متقی اور پرہیزگار ہو جب ملک شام سے واپس آنے کے بعد جب میسرہ  غلام نے سفر کے واقعات حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کو بتائے تو ان کے دل میں امین قریش کیلئے جذبہ محبت والفت بڑھ گیا البتہ اس محبت کا سرچشمہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ذاتی

کمالات اور اخلاقی فضائل تھے۔

وہ باکردار خاتون جس نے خود رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کا پیغام بھیجا اوراس کا فلسفہ کچھ اس طرح بیان فرمایا: اے میرے چچا زاد بھائی چونکہ میں نے تمہیں ایک شریف ،دیانتدار ، خوش خلق اور راست گو انسان پایا اسی وجہ سے میں تمہاری جانب مائل ہوئی ہوں {اور شادی کے لئے پیغام بھیجا ہے}

وہ  ملیکۃ العرب جن کے بارے میں شیعہ و سنی مورخین کی ایک گروہ کا عقیدہ یہ ہے {ابو القاسم اسماعیل بن محمد اصفہانی، ابو القاسم کوفی، احمد بلاذری، علم الہدی سید مرتضی کتاب شافی اورشیخ طوسی کتاب تلخیص شافی } کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شادی کرنے کے وقت حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا

کنواری تھیں اور اس سے پہلے ان کا کوئی شوہر نہیں تھا۔4

وہ دور اندیش خاتون جو ظاہری حسن و جمال اور کافی سرمایہ اور بہتر اجتماعی حیثیت کی مالکہ ہونے کے باوجود کبھی اس زمانہ کے معاشرہ کے بظاہر پرکشش حالات کے دھوکہ میں نہیں آئیں اور انسانی فضائل و صفات کو ہرگز نہیں چھوڑا۔

وہ نیک خاتون جس نے قرآن کے احکام پر عمل اور اسلام کے فروغ اور مسلمانوں کی امداد کے لئے اپنی دولت خرچ کرکے، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس اہداف کی راہ میں اپنی پوری دولت کو قربان کر گئیں اور اسلام کی ترقی و پیشرفت میں ناقابل انکار کردار ادا کیا۔
وہ سخی خاتون جس نے اپنی ساری دولت رسول خدا  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بخش دی لیکن یہ محسوس نہیں کر رہی تھیں کہ اپنی دولت آپ کو بخش رہی ہیں بلکہ محسوس کر رہی تھیں کہ اللہ تعالی جو ہدایت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور دوستی کی وجہ سے، آپ کو عطا کر رہا ہے دنیا کے تمام خزانوں پر

فوقیت رکھتی ہے۔

وہ کریم خاتون جس کے بارے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے: {ما نَفَعَنِي مالٌ قَطُّ ما نَفَعَني (أَو مِثلَ ما نَفَعَني) مالُ خَديجۃ}5۔کسی مال نے مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا فائدہ مجھے خدیجہ (س) کی دولت نے پہنچایا۔

وہ نیک خاتون جو اسلامی تاریخ کی بہت بہترین عورتوں میں سے ایک تھیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ دنیا میں چار بہترین عورتیں گزری ہیں۔1۔ خدیجہ بنت خویلد 2۔فاطمہ بنت محمد3۔ مریم بنت عمران  4۔ آسیہ بنت مزاحم

وہ باوفا خاتون جس کے بارے میں عائشہ کے اس بیان پر{کہ یا رسول اللہ خدیجہ ایک ضعیفہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھی جو مرگئی اور خدا نے آپ کو اس سے برتر عطا کردی ہے }رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ و سلم غضبناک ہو کر  فرمایا : {لاوالله ماابد لنی اللہ خیر امنھااٰمنت بی اذکفر الناس وصدقتنی اذکذبنی الناس وواستنی

بھالھااذحرمنی الناس ورزقنی منھاالله ولدادون غیرھامن النساء}6۔خدا کی قسم خدانے مجھے اس سے بہتر عطانھیں کی وہ مجھ پر اس وقت ایمان لائی جب لوگ کفر اختیار کئے ہوئے تھے اس نے میری اس وقت تصدیق کی جب لوگ مجھے جھٹلارہے تھے اوراس نے اپنے مال کے ذریعہ میری اس وقت مدد کی جب لوگوں نے مجھے ہر

چیز سے محروم کردیاتھا اورخدانے صرف اسی کے ذریعہ مجھے اولاد عطافرمائی اورمیری کسی دوسری بیوی کے ذریعہ مجھے صاحب اولاد نہیں کیا۔

وہ بافضیلت خاتون جس کے لئے خداوند متعال نے اس دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی ہے ۔رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:{ قال لي جبرائيل:بشّر خديجۃ ببيت في الجنۃ من قصب لا صخب فيہ و لا نصب فيہ۔يعني قصب الزمرد } جبرئیل نے مجھے بشارت دی ہے کہ خدیجہ تمہارے لیے بہشت میں ایک قصر ہے اور وہ

قصر زمرد کا بنا ہوا ہے ۔7

وہ جانثار خاتون جس کی اور حضرت ابو طالب علیہما السلام کی جدائی پر رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اس سال کو عام الحزن قرار دیااور یہ مصیبت رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے لئے اتنی سخت تھی کہ رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم خانہ نشین ہو گئے ۔

وہ باحیاء خاتون جو جب تک زندہ رہیں رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے اطمینان و سکون کا سبب بنی رہیں۔ دن بھر کی تبلیغ سے تھک کر اور کفار کی ایذا رسانیوں سے شکستہ دل ہوکر جب رسول خدا  صلی الله علیہ وآلہ وسلم گھر میں قدم رکھتے  تو جناب خدیجہ کی ایک محبت آمیز مسکراہٹ رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم

کے مرجھائے ہوئے چر ے کو پھر سے ماہ تمام بنا دیا کرتی تھی۔

وہ پرہیز گار خاتون جس نے اسلام اور رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت پر ایمان کو اپنے عمل سے عجین کیا اور اس حدیث شریف کا مصداق ٹھہریں جس میں کہا گیا ہے کہ: {الایمَانُ مَعْرِفَۃٌ بِالْقَلْبِ وَ إِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ وَ عَمَلٌ بِالاَرْکَانِ} 8۔ ایمان قلبی اعتقاد، زبانی اقرار اور اعضاء و جوارح کے ذریعے عمل کا نام ہے۔

وہ باکمال  خاتون جن نے مکہ کی عورتوں کے طعنہ زنی اور ان کےمذاق {کہ انھوں نے کیوں عبداللہ کے یتیم کے ساتھ شادی کی} کے جواب میں بڑی متانت سے فرمایا:کیا آپ لوگ پوری سرزمین عرب میں محمد {ص} جیسے نیک، پسندیدہ خصلت والے اور شرافت  کے مالک کسی دوسرے شخص کو پیدا کرسکتی ہیں؟

وہ اطاعت گذارخاتون  جورسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمودات کی من و عن اطاعت کرتی تھیں اور انھیں عملی جامہ پہناتی تھیں۔جن کی وجہ سے آپ نے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی حیات میں دوسری شادی نہیں کی اور ان  کی وفات کے بعد بھی انہیں فراموش نہ کرسکے اور ان کی نیکیوں کا ذکر فرماتے

رہتےتھے۔

وہ عظمت والی خاتون جنہیں جنت کے جوانوں کے سردار کی نانی بننے کی شرف حاصل ہوئی۔ ایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم } نے مسجد میں حسن اور حسین { علیہما السلام} کی شان میں فرمایا{:ایھا الناس الا اخبرکم بخیر الناس جدا و جدہ؟} اے لوگو؛ کیا میں تمھیں خبر دے دوں کہ نانا اور نانی کے لحاظ سے کون بہترین

انسان ہیں؟ لوگون نےعرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ ہمیں خبر دیجئے؛ آنحضرت {ص} نے فرمایا:{الحسن و الحسین جدہما رسول اللہ و جد تہما خدیجہ بنت خویلد}9۔وہ حسن و حسین علیہما السلام ہیں کہ ان کے نانا رسول خدا اور ان کی نانی خدیجہ بنت خویلد ہیں۔

وہ بلند مرتبہ خاتون جن کے بارے ائمہ اطہار علیہم السلام فخر و مباہات کا اظہار کرتے تھے، اور ان کو عزت و احترام سے یاد کرتے تھے۔ حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام معاویہ سے مناظرہ کرتے ہوئے اپنی سعادت و خوش قسمتی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: معاویہ؛ چونکہ تمھاری ماں " ہند" اور دادی" نثیلہ"

ہے { اور تم نے اس قسم کی پست اور کمینہ عورتوں کی آغوش میں پرورش پائی ہے} اس لئے تم اس قسم کے برے اور نا پسند اعمال کے مرتکب ہو رہے ہو۔ میرے خاندان کی سعادت، ایسی ماوں کی آغوش میں تربیت پانے کی
وجہ سے ہے کہ جو حضرت خدیجہ اور فاطمہ سلام اللہ علیہما جیسی پاک و پارسا خواتین ہیں۔

امام حسین علیہ السلام نے عاشور کے دن اپنے آپ کو دشمن کے سامنے متعارف کراتے ہوئے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا:{ أَنْشُدُکُمُ اللّہ َ ہَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ جَدَّتِي خَدِيجَۃُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ أَوَّلُ نِسَاءِ ہَذِہِ الاُمَّۃِ إِسْلَاماً قَالُوا اللَّہُمَّ نَعَمْ10{۔ تمھیں خدا کی قسم کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ میری نانی خدیجہ {س} بنت خویلد اس امت کی پہلی خاتون نہیں کہ

جس نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا ہے؟

امام سجاد علیہ السلام دمشق میں دربار یزید میں شام کے سرداروں اور بزرگوں کے سامنے اپنے مشہور خطبہ میں اپنا تعارف یوں کرتا ہے: {انا بن خدیجۃ الکبری}11۔میں اسلام کی باعظمت خاتون حضرت خدیجہ کبری {س} کا بیٹا ہوں۔

وہ خوش قسمت خاتون جن کی کفن رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک عباتھی۔آپ نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو بلا فرمایا:" اے میری نور چشم ؛ اپنے باپ، رسول خدا سے کہدو کہ میری ماں کہتی ہیں کہ: میں تدفین کے مراسم کے بارے میں آپ {ص} سے درخواست کر رہی ہوں کہ مجھے اپنی اس عبا کا کفن دے

کر قبر میں دفن کرنا جو وحی نازل ہوتے وقت آپ کے زیب تن ہوتی ہے۔حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا  نےاس بات کو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا۔ پیغمبر  خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عبا کو حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے لئے بھیجا اور وہ خوش ہو گئیں۔12

وہ مہربان خاتون جن کی رحلت کے وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے بالین پر بیٹھ کر رو رہے تھے۔ اچانک جبرئیل بہشت سے ایک کفن لے کر حاضر ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ خداوند متعال نے آپ پر سلام بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ خدیجہ نے اپنے مال کو

ہماری راہ میں صرف کیا ہے ہمیں حق ہے کہ ان کے کفن کی ذمہ داری خود سنبھا لیں۔

وہ  مومنہ خاتون جنہیں خداوند متعال اورجبریل امین سلام بھیجتا ہے۔ابو سعید خدری نقل کرتے ہیں کہ پیامبر خداصلی الله علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے معراج کی شب جبرائیل سے پوچھا کہ کیا کوئی حاجت رکھتے ہو ؟جبرئیل امین نے کہا :{حاجتي أن تقرأ علی خديجۃ من الله و مني السلام}میں چاہتا ہوں کہ خدا اور میری طرف

سے خدیجہ کو سلام کہئے۔جب پیامبر خداصلی الله علیہ و آلہ وسلم نے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کو سلام پہنچایا تو ام المؤمنین نے فرمایا:{ إن اللهہو ه السلام، و منی السلام، و إليہ السلام، و علی جبرئيل السلام}بیشک اللہ خود سلام ہے و تمام سلامتی اسی کی طرف سے ہے اور اسی کی جانب پلٹتی ہیں اور جبریل پر سلام ہو۔13


تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

وحدت نیوز (آرٹیکل )  انسان دیگر موجودات سے بہت مختلف ہے، دوسروں کی بات کو سمجھنا اور اپنی بات کو سمجھا نا انسان کی جبلت ہے۔ افہام و تفہیم کے بغیر انسانی سماج کا تصور ممکن نہیں۔انسانوں کے برعکس جانوروں کے گلے میں پٹہ ڈال کر کھینچا جاتا ہے۔ جانوروں کے جہان میں افہام و تفہیم کی وہ اہمیت نہیں جو انسانوں کے ہاں ہے۔ہمارے ہاں سیاست دانوں سے ناامید ہونے کے بعد لوگ مذہبی رہنماوں سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں،  لیکن مذہبی رہنما خود ہر مسئلے پر تقسیم ہیں۔ کچھ علما پاکستان کے آئین کو اسلامی کہتے ہیں تو کچھ غیر اسلامی، کچھ پاکستان کو اسلامی جمہوریہ کہتے ہیں اور کچھ کافرستان، کچھ  علما ایم ایم اے کے پلیٹ فارم پر جمع ہونے کو عالمِ اسلام کے لئے بہت بڑی  خوشخبری قرار دیتے ہیں اور کچھ  علمائے کرام ایم ایم اے کو عالم اسلام کی تمام تر مصیبتوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں، کچھ علمائے دین ایم ایم اے کے قائد کواپنے قائد کا بھی قائد قرار دیتے ہیں اور کچھ ایم ایم اے کے قائد کو پاکستان کے تمام بنیادی مسائل کا سبب گردانتے ہیں۔

 کچھ کے نزدیک پاکستان کے انتخابات میں حصہ لینا شرعی ذمہ داری ہے اور کچھ کے نزدیک انتخابات میں حصہ لینا کفر و شرک کا موجب ہے۔المختصر یہ کہ اگر اُس طرف جنابِ شیخ ہیں تو اس طرف بھی جنابِ شیخ ہی ہیں۔ ہر کسی کا یہی دعویٰ ہے کہ وہی  انقلاب کا علمبردار ، بصیرت کا مینار اور  سیرت کا پیروکار ہے۔ ہر کو ئی اپنے عمل کے لئے آیات و روایات کا سہارا لیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اس زمانے میں فلاں امامؑ کی سیرت پر عمل کر رہا ہوں۔ ظاہر ہے جب ہر طرف سے انالحق کی صدا آنے لگے  تو عوام پر حق مشتبہ اور مبہم ہو جاتا ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ بھی ہے کہ بعض اوقات  لوگوں کی گردنوں میں افکارو نظریات کو پٹے کی صورت میں ڈال کر  زبردستی کھینچا جاتا ہے  اور مخالفت کرنے والے کی تکفیر تک کی جاتی ہے۔ یعنی عام آدمی سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت بھی سلب کر لی جاتی ہے اور اسے کہاجاتا ہے کہ بس فلاں نے کہہ دیا ہے لہذا فلاں کی بات پر ہی عمل کرو ، صرف یہی حق کا راستہ ہے ورنہ گمراہ ہو جاو گئے۔ پتہ نہیں ہم کب یہ سمجھیں گے کہ نظریا ت و افکار ٹھونسنے  اور پوجنے کے لئے نہیں بلکہ  سمجھنے اور سمجھانے کے لئے ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں سوچ و بچار کے بجائے نظریات و افکار کو بھی عقیدت کے ساتھ منوانے کی سعی اور کوشش کی جاتی ہے۔ لوگوں کو تحقیق اور موازنہ  کرنے کی ترغیب  دینے کے بجائے ان سے   اطاعتِ محض کا تقاضہ کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں لکھنے والا ایک ہی نکتہ نظر کو لکھتا ہے، بولنے والا ایک ہی بات دہراتا رہتا ہے اور سننے والا ہر وقت سر دھنتا رہتا ہے۔ صرف واہ واہ اور چاپلوسی کرنے والوں کی کبھی نہ ماضی میں کمی تھی اور نہ آج ہے۔ لیکن اب دنیا بہت ترقی کرچکی ہے، افکار و نظریات کے طوق نماٹھیلوں کی رونق ماند پڑتی جا رہی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں نے سوچنا ، سمجھنا اور پرکھنا شروع کر دیا ہے۔

اب جان لیجئے کہ  تسبیح کے دانے جتنے بھی ہوں ، تسبیح کا گھمانا بھی ایک فن ہے، لوگ مذہبی رہنماوں کے  ہاتھوں کی حرکات، چہرے کے تاثرات، زبان کی لکنت اور بیان کی روانی سے بھی بہت کچھ سمجھنے لگے ہیں۔ اب وہ دور نہیں رہا کہ لوگوں کی گردنوں میں عقیدت کا پٹہ ڈال کر انہیں زبردستی کھینچا جائے ، اب   تحقیق اور جستجو کا زمانہ ہے  لہذا ہمارے مذہبی حلقوں کوبھی چاہیے کہ وہ  عوام کی شہ رگ سے تکفیر کا خنجر ہٹائیں، لوگوں کو  سیاسی و قومی مسائل  کی گہرائی میں اترنے دیں، بال کی کھال اتارنے دیں ، مکالمے کو رواج پکڑنے دیں، افکارونظریات پر مناظرات ہونے دیں۔ جب تک مکالمہ نہیں ہوگا، بحث نہیں ہوگی تب تک کھرے اور کھوٹے میں جدائی نہیں ہو سکتی۔ ضروری ہے کہ تمام مسائل میں قصیدہ گوئی کے بجائے تجزیہ و تحلیل اور تقابلی جائزہ پیش کیا جائے اور مختلف سیاسی و نظریاتی  آرا و نظریات کا باہمی موازنہ کیا جائے۔ تجزیہ و تحلیل کے دوران شخصیات اور تنظیموں کی تعریفوں کے پُل باندھنے کے بجائے ہمیں  ہر مسئلے پر طرفین کا موقف بیان کر کے موازنہ کرنا چاہیے۔

پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے یا نہیں، پاکستان کے انتخابات میں عوام کو حصہ لینا چاہیے یا نہیں، اور ایم ایم اے  کا اتحاد پاکستان کی سلامتی کے لئے کس قدر مفید اور ضروری ہے !ان سوالات کا  گہراتعلق پاکستان کی سلامتی کے ساتھ ہے۔لہذا پاکستان کی سلامتی کے لئے  یہ ضروری ہے کہ کسی کی قصیدہ گوئی کے بجائے حق گوئی کی روش اپنا ئی جائے چونکہ دلیل کے بدن پر تاویل کا پتھر رکھنے سے سچائی مر نہیں سکتی اور حق گوئی کے بجائے واہ واہ کرنے اور قصیدہ نگاری سے قوم کی حالت تبدیل نہیں ہو سکتی۔ اب یہ ذمہ داری بنتی ہے ہمارے لکھنے  اور بولنے والوں کی کہ وہ لکھتے اور بولتے وقت  مذہبی رہنماوں  کے بیانات اور اقدامات  کی تاویلات پیش کرنے کے بجائے ملکی مسائل پر مختلف آرا کو  سچائی کے ساتھ ویسے بیان کریں جیسا کہ بیان کرنے کا حق ہے۔ورنہ یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ جنابِ شیخ کا نقشِ قدم یُوں بھی ہے اور یُوں بھی

تحریر۔۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز(شکارپور) وارثان شہداء کمیٹی شکارپورکا اہم اجلاس چیئرمین شہداء کمیٹی علامہ مقصودعلی ڈومکی کی زیر صدارت جامع مسجد سیدالشہداء ع شکارپور میں منعقد ہوا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہداء کمیٹی کے چیئرمین اور مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندہ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصودعلی ڈومکی نے کہا ہے کہ شیڈول فورکا دھشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی بجائے وارثان شہداء کے خلاف استعمال شرمناک عمل ہے۔ ادارے اس قانون کو شریف اور معزز شہریوں کے خلاف استعمال کرنے سے گریز کریں۔

انہوں نے کہا کہ سندہ کے مختلف اضلاع خصوصا شکارپور میں وارثان شہداء کمیٹی کے معزز اراکین اور مجلس وحدت مسلمین شکارپورکے معزز رہنما کے نام شیڈول فور میں لانا گذشتہ کئی عشروں سے جاری ظالمانہ بیلنس پالیسی کا حصہ ہے۔ اس طرح کے ناجائز اقدامات دھشت گردی کے خاتمے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ وارثان شہداء اور مجلس وحدت مسلمین کے رہنما کا جرم یہ ہے کہ اس نے شہداء کے خون کا انصاف مانگا ہے، کیا دھشت گردوں کے خلاف بولنا جرم ہے؟
                  
انہوں نے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ میں بیٹھے ہوئے متعصب لوگ دھشت گردوں کو بچانے کے لئے نیشنل ایکشن پلان سمیت ہر قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں تاکہ مجرموں کو تحفظ ملے اور معصوم شہریوں پر زمین تنگ ہو۔ مجالس عزا اور عزاداری کے خلاف جاری اقدامات اور ظلم کے ضابطے بھی اسی رویے کی دلیل ہیں۔
   
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی حرکتوں سے حق و سچ کی آواز کو دبانا ناممکن ہے، وطن عزیز پاکستان کے باوفا بیٹے ظالم دھشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ہمیشہ کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا اس لسٹ پر نظر ثانی کرتے ہوئے شریف شہریوں کے نام نکالے جائیں۔

وحدت نیوز (سکردو)  عوامی ایکشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس ایم ڈبلیو ایم سیکرٹریٹ اسکردو میں منعقد ہوا، جس میں آغا علی رضوی، غلام شہزاد آغا، نجف علی، خواجہ مدثر، محمد علی دلشاد، شیخ کر یمی ،ایڈووکیٹ عقیل، مبشر رضوی,آصف اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018ء کے خلاف پورے خطے میں بھرپور اور سخت احتجاج کا آغاز 25 مئی سے کیا جائے او ر پورے جی بی کو جام کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت کے سربراہ حفیظ الرحمان مکمل طور پر وفاق کا نمائندہ بن چکا ہے اور جی بی کے عوام کے ساتھ غداری پر اتر آیا ہے۔ 25مئی سے کالے قانون کے خلاف جی بی میں دنگل سجایا جائے گا اور حکمرانوں کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ موجودہ نام نہاد اصلاحاتی پیکیج کو منظور کرنے کی اگر کسی قسم کی غلطی کی گئی تو جی بی میں جس طرح کی بے چینی اور مسائل پیدا ہوں گے اس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔

 عوامی ایکشن کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ کسی صورت کالے قانون کو نافذ ہونے نہیں دیں گے۔ جی بی آرڈر عوام کی ساتھ سنگین مذاق اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، اس ظلم کے خلاف خاموش نہیں بیٹھا جائے گا۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے کہا کہ حکومت خطے کی مجموعی صورتحال کو خراب کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ ریاستی ادارے خطے کی حساسیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے جی بی آرڈر جیسے کالے قانون کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

وحدت نیوز (لاہور)  ملک میں آئندہ انتخابات کے اعلان کے ساتھ ایم ڈبلیوایمکی اعلیٰ قیادت کے مختلف سیاسی ومذہبی جماعتوں سے رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے،اس حوالے سے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی اور چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا کی پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی سے ملاقات ہوئی، اس موقع پر رہنمائوں کے درمیان موجودہ ملکی صورت حال اور 2018 الیکشن پر تفصیلی گفتگوہوئی۔

ایم ڈبلیوایم کے رہنما ناصرعباس شیرازی نے کہاکہ پاکستان کودرپیش مسائل کے حل میں محب وطن جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنما اسدعباس نقوی نے ن لیگ کی منفی سیاست کے خاتمے کے لئے ایم ڈبلیوایم ہم خیال جماعتوں سےساتھ مل کر جدوجہد کریگی، چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے کہاکہ وقت آگیا ہے کالعدم تکفیری جماعتوں کے سرپرست جماعت ن لیگ کو اپنی اوقات یاد دلائی جائے۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے چوہدری برادران کا کہنا تھاکہ موجودہ ملکی صورت حال پر ہم خیال جماعتیں اپنی مشاورت جاری رکھیں گی، نگراں وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے ناموں پر تمام جماعتوں کو اعتماد ہونا چاہئے،یہ شخصیات غیر متنازعہ ہونی چائیں ،الیکشن کمیشن غیرجانبدارانہ انتخابات کیلئے تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے، 2013کے انتخابات غیر شفاف تھےجس کی بناءپر تمام جماعتوں نے انہیں آراوز کا الیکشن قرار دیا تھا، ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرنا چاہئے ۔

واضح رہے کہ اس سے قبل مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر خان ترین سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی، جس میں آئندہ قومی انتخابات اور ملکی سیاسی صورتحال کے پر تفصیلی بات چیت ہوئی تھی۔

وحدت نیوز(حیدرآباد)  مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین ضلع حیدرآبادکے فلاحی ادارے  بیت زہرا( س) کیمینیجنگ اور ورکنگ کمیٹی کی جانب سے یونٹ نمبر ۴ لطیف آباد میں بچت بازار کا انعقاد کیا گیا جس میں علاقہ مکینوں کی بھر پور شرکت بچت بازار سفید پوش افراد کے لیے انتہائی کم قیمتوں پہ گھریلوں اشیاء اور روزمرہ کے استعمال کی چیزیں جیسے بچوں اور بڑوں کے عام اور تقریبات میں پہنے جانے والے پرانے اور نئے ملبوسات ،کراکری،ہینڈزبیگ ،نئی اور پرانی جیولری ،جوتے ،الیکٹرونک اشیاء (ٹیلی ویژن،استری)،بچوں کے لیے تھرماس فروخت کیے گئے اس بچت بازار کا مقصد مستحق افراد تک چیزوں کی آسان اور سستی فراہمی ہے۔

وحدت نیوز(حیدرآباد) مجلس وحدت مسلمین ضلع  حیدرآباد شعبہ خواتین کی جانب سے غریب و سفید پوش افراد کے لیے ماہ رمضان میں افطار کا انتظام، مجلس وحدت مسلمین ضلع حیدرآباد شعبہ خواتین کی سیکریٹری جنرل محترمہ عظمیٰ تقوی نے  یونٹ نمبر ۴ لطیف آباد میں بچت بازار کے موقع پر ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے علاقہ مکین سفید پوش افراد کے لیے ۵ ماہ رمضان کودعوت افطار کا انتظام کیا تاکہ سب مل کر ماہ مبارک رمضان کی رحمتوں اور برکتوں کو سمیٹ سکیں۔

وحدت نیوز (تلہ گنگ)  مجلس وحدت مسلمین تنظیمی ضلع تلہ گنگ کے زیر اہتمام استقبال رمضان کے سلسلے میں ورکشاپس کا انعقادہوا. چار روزہ ورکشاپ کشمیری امام بارگاہ تلہ گنگ میں میں منعقد ہوئی. ورکشاپ میں مہدویت , احکام , حالات حاضرہ تنظیم , تنظیم کی اہمیت, پاکستان کی سیاسی صورتحال , ماہ صیام کی اہمیت اور افادیت اور شہداء کی زندگیوں کے موضوع پر سیر حاصل لیکچر دئیے گئے ورکشاپ میں مختلف موضوعات پر قائد وحدت علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کے لیکچرز اسلامی دستاویزی فلمیں ملٹی میڈیا کے ذریعے خواتین کو دکھائی گئی.خواہر ام کلثوم, خواہر کنیز اور خواہر طاہرہ  نے خطاب کیا جبکہ مرکزی راہنماء  ایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین خواہر تغزل شاداب نے خصوصی شرکت اور خطاب کیا ان کا کہنا تھا کہ رمضان اللہ تعالی' کا مہینہ ہے . جس کے ذریعے خداوند متعال نے انسان کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھلنے کا بہترین موقع دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رمضان کے ایام سے زیادہ سے زیادہ مستفعید ہونے کی کوشش کریں اور مجلس کا لائحہ عمل عوام تک پہنچانے میں بھی رمضان کے ایام بہترین ہیں . ورکشاپ میں ضلع بھر کی خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی ،تلہ گنگ کے علاقے درمنڈھ میں بھی ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد 28 شعبان کو گیا ایک روزہ ورکشاپ میں عصر ظہور میں خواتین کے کردار , احکام رمضان تنظیم کی ضرورت کے موضوعات پر لیکچر ز اور سوال و جواب کی نشست ہوئی اختتامی نشست سے خواہر تغزل شاداب نے خطاب کیا 29 شعبان کو ماہ شعبان کی مناسبت سے جشن آئمہ (ع) کا انعقاد کیا گیا جس کے بعد مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی پروفیشنلز کے ساتھ خصوصی نشست ہوئی جس میں محترمہ تغزل شاداب نے ایم ڈبلیو ایم کے قیام کے محرکات , ضرورت , اہداف و مقاصد , مجلس کی کاوشوں اور کامیابیوں کے حوالے سے خصوصی گفتگو کی۔

وحدت نیوز (لاہور)  سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین لاہور علامہ سید حسن رضا ہمدانی نے کہا کہ میاں نواز شریف نے آج کی پریس کانفرنس میں غلط تاثر دیا گیا کہ انہیں کرپشن اور منی لانڈرنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے تناؤ کی وجہ سے نکالا گیا۔ نواز شریف اس وقت بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اورعوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں ۔ نواز شریف دنیا کے واحد والد ہیں جنہوں نے عدالت میں اپنی کرپشن چھپانے کے لیے بچوں سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا۔

 انہوں نے کہا کہ ایک شخص کی ساری زندگی کی سیاست ایک جابر ڈکٹیٹر ضیا الحق کی مرہون منت ہے اور آج جب وہ شخص خود کو معصوم ثابت کرنے کے لیے ملکی اداروں کے خلاف بات کرے تو عجیب لگتا ہے۔ سید حسن ہمدانی کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف اس وقت افغانستان، بھارت اور دشمن ممالک کے ایجنڈے کو پروان چڑھا کر ملک دشمنی کا ثبوت پیش کر رہے ہیں۔اداروں اور ملک کو بدنام کرنے سے 300 ارب کی کرپشن نہیں چھپائی جا سکتی۔ علامہ حسن ہمدانی نے پی ٹی آئی کے نعیم الحق کے رویے کی بھی مذمت کی اور کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن عدم برداشت کا رویہ قابل مذمت ہے۔

Page 6 of 859

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree