The Latest

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے کہا ہے کہ اپنی کرپشن اور لوٹ مار کو چھپانے کے لیے سابق وزیر اعظم نواز شریف اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔قومی خزانے کی لوٹ مار سے بنائے ہوئے اپنے اثاثوں کو بچانے کے لیے نواز شریف اور ان کے خاندان نے پورے ملک کو داؤ پر لگایا ہوا ہے۔انہوں نے سابق وزیر اعظم کے اس بیان کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کی اپنی جماعت برسراقتدار ہے تمام ریاستی ادارے ان کے اپنے وزیر اعظم کے ماتحت ہیں پھر انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ کون بنا رہا ہے۔قومی اداروں پر بے تنقید کر کے نواز شریف لوگوں میں اداروں کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ احتساب عدالت کے فیصلے کو ججز کا بغض قرار دے کر عوام کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونکی جا سکتی۔اپنی کرپشن پر پردہ ڈالنے کے لیے ریاستی اداروں کی بے توقیری کی اجازت کسی کو ہر گز نہیں دی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کی ظلم و زیادتیوں کا پردہ چاک ہو چکا ہے۔نواز شریف کے دور حکومت میں قومی سرمائے کو جس بے رحمی سے لوٹا گیا ہے اس کی پاکستانی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔پاکستان کے بیس کروڑ عوام قومی سرمایہ لوٹنے والوں کا بے رحمانہ احتساب چاہتے ہیں۔نواز شریف اور ان کے خاندان سے لوٹی ہوئی ایک ایک پائی وصول کی جائے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی لوٹ مار کے باعث بیرونی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیا جس کے باعث ملکی معیشت عدم استحکام کا شکار ہو کر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ہندوستان کی ایما پر پاکستان کی سالمیت و بقا کو خطرات سے دوچار کرنے والی کسی معافی کے مستحق نہیں۔ عہدوں کا ناجائز استعمال اور آئین کی پامالی ملک و قوم سے غداری ہے ۔کرپٹ اور لیٹرے حکمرانوں کا کڑا احتساب قانون و انصاف کا تقاضہ ہے جسے ہر حال پورا ہونا چاہیے۔

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت  بلتستان ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ احمد علی نوری،شیخ مبارک عارفی،وزیر سلیم ، فدا علی شگری،حاجی محمد علی، سید الیا س موسوی نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی کی جبری گمشدگی ملک بھر میں دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشن ردالفساد کے منہ پر طمانچہ ہے۔ مذہبی سیاسی جماعت کے رہنماء کا اغواء مسلم لیگ نون کی کارستانی ہے۔ اگر پنجاب حکومت ناصر شیرازی کے اغواء میں ملوث نہیں ہے تو ان کی جبری گمشدگی ظاہر کرتی ہے پورے صوبے میں انکی رٹ ختم ہوچکی ہے ایسے میں ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشتگردوں کی ہمنوا ء حکومت کو معزول کر کے ایسی حکومت سامنے لائی جائے جس میں شہریوں کی جان مال عزت و آبرو کا تحفظ یقینی ہو۔

 انہوں نے کہا کہ ناصر شیرازی جیسی محب وطن ، اتحاد بین المسلمین کی داعی، پاکستان کی نظریاتی و فکری سرحدوں کی محافظ شخصیت کو اغواء کر کے حکومت چاہتی ہے کہ ملک کے امن و امان کی صورتحال خراب ہو اور ملت جعفریہ کا تصادم ریاستی اداروں کے ساتھ ہو۔ یہ بات واضح ہے کہ ناصر شیرازی اس وقت کہاں ہے حساس اداروں کو معلوم ہے کیونکہ ریاست کے حساس ادارے دنیا کے بہترین اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ ایک اہم شخصیت موبائل فون سمیت تخت لاہور کی معروف شاہراہ سے اٹھائی جاتی ہے اور انکو مخفی رکھنے والی جگہوں کا علم نہ ہو ممکن نہیں۔اگر انہیں معلوم نہ ہو تو یہ خود حساس اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اور افسوسناک ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سالمیت کے لیے بھی انتہائی تشویشناک ہے۔انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ ملک میں مذہبی منافرت پھیلانے والے، دہشتگردوں کی اخلاقی و مالی پشت پناہی کرنے والے، ملک کو مختلف طریقوں سے نقصان پہنچانے،ریاستی اداروں کو کمزور کرنے والے مجرمین یاتو ایوانوں میں بیٹھے ہیں یا ریاستی پروٹول کے اندر گھوم رہے ہیں جبکہ وطن عزیز کے مفادات پر اپنے مفادات کو قربان کرنے والے، دہشتگردی کی ہر صورت کی مخالفت کرنے والے، مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے والے اس وطن کے حقیقی بیٹوں کو یا تو ٹارگٹ کلکنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا دہشتگرد وں کی ہمنوا جماعتوں کے ذریعے اغوا کیا جا تا ہے جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔  لہذا ہم پاکستان آرمی کے سربراہ، عدالت عظمیٰ کے سربراہ سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ناصر شیرازی سمیت دیگر جبری گمشدگان کے معاملے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے انہیں بازیاب کرانے میں اپنا کردار ادا کریں نیز ریاست میں افراتفری پھیلانے والی مودی کے کاروباری شراکت دار کا گھیرا تنگ کریں۔نیز پاکستان کی ایک محب وطن ملت کو دیوار سے لگانے کی مذموم سازش کو ناکام بنا کر تمام مکاتب فکر کو انکی تعلیمات کے مطابق آزادانہ زندگی گزرانے کا موقع فراہم کرکے انسانی بنیادی حقوق کو یقینی بنائیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ریاستی اداروں کو اپنی حکومت کے لیے استعمال کرنے والی طاقتوں کے مذموم مقاصد کو کامیاب نہ ہونے دیں ۔

ناصر شیرازی کا اغواء اور پس پردہ عوامل

وحدت نیوز (آرٹیکل) اٹھارہ اکتوبر کو واٹس اپ چیک کیا تو ناصر شیرازی کا میسج آیا ہوا تھا ۔میسج اوپن کیا تو یہ انکی میڈیا ٹاک کی ایک ویڈیو تھی ۔جس میں بولے گئے انکے الفاظ یہ تھے ”پاکستان کے جو سٹیٹ انسٹیٹیوشنز ہیں جن میں جوڈیشری ہے ،جن میں فوج ہے انکو divide کرنے کی کوشش کرنا یہ نا صرف غداری کے زمرے میں آتا ہے بلکہ یہ ڈس کوالیفائی کے زمرے میں آتا ہے۔بس جو بندہ پبلک آفس رکھتا ہو وہ سٹیٹ انسٹیٹیوشنز کوdivide کرنے کی کوشش کرے گا کسی بھی بنیاد پر ،وہ غداری کا مرتکب بھی کہلائے گا اورآئین کے تحت نا اہل بھی قرار پائے گا۔صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے ایک ایسا فیصلہ جو معروف فیصلہ ہے جسٹس باقر نجفی صاحب کا جو جوڈیشل کمیشن بنا تھا،اس کمیشن نے جو رپورٹ بنائی تھی اس رپورٹ پرلائیو ٹی وی چینل پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہا کہ یہ جج صاحب ایک خاص مسلک سے تعلق رکھتے ہیں ۔انہوں نے ایک خاص مسلک کو نشانہ بنایا ۔ججز کا کوئی مسلک نہیں ہوتا ۔ججزلاءکی بنیاد پر فیصلہ دیتے ہیں،ججز آئین اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ دیتے ہیں ۔اگر جوڈیشری کو مسلک کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی سازش کی گئی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سٹیٹ انسٹیٹیوشنز کو ڈس انٹیگریٹ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو غداری کے مترادف ہے “۔وغیرہ وغیرہ ۔

 ناصر شیرازی نے وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ کیخلاف عدالت میں انکی بطور ممبر صوبائی اسمبلی نا اہلی کے حوالے سے دائر کی گئی پٹیشن کے بعد یہ الفاظ میڈیا بریفنگ میں ادا کیے ۔اس پٹیشن کے تقریباً دو ہفتے بعدیکم نومبر کوبعد مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ناصر شیرازی کوواپڈا ٹاون کمرشل مارکیٹ کی شاہراہ پر رات نو بجے سیاہ ڈبل کیبن ڈالے میں سوار پنجاب ایلیٹ فورس کی وردی اور سادہ لباس میں ملبوس افراد نے اس وقت اغواءکر لیا جب وہ فیملی کیساتھ واپڈا ٹاون جا رہے تھے ۔ان کے اغواءکو کئی دن گزر چکے ہیں مگر تاحال ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا(تاہم بعض ذرائع کے مطابق ناصر شیرازی کاونٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ کی تحویل میں ہیں )تاہم کاونٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ اسکی تصدیق نہیں کر رہااور پنجاب حکومت نے بھی اس پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ناصر شیرازی کے اغواءنے جہاں کئی سوالات کو جنم دیا ہے وہیں پنجاب حکومت کو ایک بار پھر مشکوک بنا دیا ہے ۔پنجاب حکومت اپنے مخالفین کو انجام تک پہنچانے کے حوالے سے خاصی شہرت رکھتی ہے ۔شریف خاندان جو برسوں سے پنجاب پر برسر اقتدار ہے ،اس کے دور حکومت میں مخالفین کو جس طرح سے تشدد اور جان سے بھی پار کر دینے کا رجحان پایا جاتا ہے یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ۔پنجاب حکومت میں برداشت نام کی کوئی چیز نہیں ۔کئی صحافیوں کو خلاف لکھنے پر مختلف طریقوں سے ابدی نیند سلاد یا گیا یا انکی زبان بندی کرا دی گئی ۔

پاکستان میں سیاسی مقدمے عروج پر رہے ہیں ،ان میں پنجاب کا شاید پہلا نمبر ہو ۔ماڈل ٹاون سانحہ تو ابھی انصاف کا طلبگار ہے جس میں سفاکیت کی انتہا کرتے ہوئے درجن بھر نہتے افراد کو موت کی وادی میں دھکیل دیا گیا ۔بدقسمتی قوم کی یہ ہے کہ آج تک نہ کسی نے واقعہ کی ذمہ داری لی اور نہ کسی کو سزادی جا سکی جبکہ پنجاب حکومت جسٹس باقر نجفی رپورٹ کو اوپن کرنے اور اس میں ملوث افراد کو سزا دینے کی بجائے اسے متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔اوراس کیلئے پنجاب حکومت کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔رانا ثناءاللہ کارپورٹ کے حوالے سے مسلکی بیان قابل مذمت ہے ۔حد تو یہ ہے کہ پنجاب حکومت اپنے کیے پر نادم اور خود کو قانون کے کٹہرے میں پیش کرنے کے بجائے ملک میں انتشار پھیلانے کے درپے ہے ۔راقم کی ناصر شیرازی سے کئی برس کی شناسائی ہے ۔وہ پڑھے لکھے اور عالمی منظر نامے پر گہری نظر رکھنے والے نوجوان ہیں ۔میڈیا پرسنزکے ساتھ انکے ہمیشہ اچھے روابط رہے ہیں۔وہ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں مگر کمیونٹی کی فلاح و بہبود کیلئے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔اس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں اگرقانون کے دائرے میں رہ کر کمیونٹی کی خدمت کی جائے یا انکے حقوق کیلئے آواز بلند کی جائے ۔متعدد نظریاتی جماعتیں اپنی کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور حقوق کیلئے کام کر رہی ہیں ۔

ناصر شیرازی ایک مکتبہ فکرکی جماعت مجلس وحدت مسلمین سے وابستہ اور اس کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل تھے ۔جب بھی ان سے بات ہوئی ہر بار انکی باتوں سے پاکستان اور پاکستانیت سے سچی محبت کی خوشبو آئی ۔وہ ملک میں آئین اور قانون کی بالا دستی کیلئے سرگرم عمل رہے اور رانا ثناءاللہ کیخلاف بھی انہوں نے اس لیے پٹیشن دائر کی کہ وہ عدالیہ جیسے اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے ۔پوری قوم کی طرح ناصر شیرازی اور انکے مکتبہ فکر نے دہشت گردی کے ناسور کے خاتمہ کیلئے اہم کردارا دا کیا۔ پنجاب حکومت ہمیشہ کسی بات پر صبر ،تدبر اور تحمل کی بجائے اس معاملہ کو فوراً قصہ پارینہ بنا دینے پر تل جاتی ہے ۔اس حوالے سے اسکا ٹریک ریکارڈ بھی سب کے سامنے ہے ۔کالعدم تنظیمیں کن کی سپورٹ سے دندناتی پھرتی تھیں یہ بھی اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ،مگر بھلا ہو آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کا کہ پاک فوج نے ملک سے ان ناسوروں کے خاتمے کی ٹھانی اور پنجاب حکومت کو بھی مجبوراً اپنی بوئی گئی فصلوں کو اپنے ہاتھوں سے کاٹنا پڑا ۔انسان یہ سوچ کر دنگ رہ جاتا ہے کہ رانا ثناءاللہ جیسا متنازعہ شخص صوبے کا وزیر قانون ہے جس کا سانحہ ماڈل ٹاون سمیت کئی دوسرے حوالوں سے ایک شہرہ ہے۔

آفرین ہے شریف برادران پر جنہیں رانا ثناءاللہ کے علاوہ دوسرا کوئی شخص اس عہدے کے قابل نظر نہیں آتا ۔ابھی حال ہی میں قادیانیوں کے حوالے سے موصوف اپنے غیر متنازعہ بیان کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہیں ۔رانا ثناءاللہ جیسا وزیر داخلہ صوبے کیلئے بہت بڑا سکیورٹی رسک ہے مگر شریف برادران کی مجبوری ہے کہ وہ انہیں خود سے دور بھی نہیں کر سکتے چونکہ رانا صاحب میاں بردران کے بہت بڑے رازدان اور بعض” معاملات“ میں برابر کے شریک بھی ہیں۔ناصر شیرازی کے اغواءمیں ایک اورپہلواورخدشہ یہ ہے کہ کسی دوسرے فریق نے اس تمام صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہو۔مگر یہ خدشہ اس وقت دم توڑ جاتا ہے جب اس کیس میں پنجاب حکومت کی سستی اورسردمہری سامنے آتی ہے ۔جب یہ الفاظ قلم سے رواں ہیں ناصر شیرازی کے اغواءکو ایک ہفتہ گزر چکا ہے مگر تاحال پنجاب حکومت کی طرف سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی اور نہ اس حوالے سے کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی۔

سیف سٹی منصوبہ کے اربوں روپے کے کیمرے کہاں گئے؟ایک پر ہجوم سڑک پر وردی اور سادہ لباس میں ملبوس افراد زبردستی ایک شہری کو لے جاتے ہیں ،سکیورٹی ادارے کہاں ہیں؟ابھی تو ملک میں سکیورٹی بھی الرٹ ہے۔ان عوامل سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے نہیں تو اب تک چکھ نہ کچھ سراغ لگایا جا چکا ہوتا ۔کیونکہ پنجاب حکومت خاص طور پر رانا ثناءاللہ بخوبی جانتے ہیں کہ اس اغواءکی ذمہ داری ان پر ڈالی جا رہی ہے اس لیے اگر انکا اس اغواءمیں کوئی کردار نہیں تو وہ بازیابی کیلئے تمام وسائل برائے کار لاتے جو عملی طور پر دیکھنے میں نہیں آئے۔ناصر شیرازی کے بھائی کی طرف سے رانا ثناءاللہ اور شہباز شریف کیخلاف دی گئی درخواست پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔مگر مغوی کے بھائی کی طرف سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں عدالت نے مغوی کو دو یوم کے اندر 8نومبر کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دے دیا ۔ناصر شیرازی کا اغواءبلاشبہ پنجاب حکومت کو ایک بار پھر مشکوک بنا گیا ہے۔


فیض احمد فیض نے کیا خوب کہا ہے۔
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے


تحریر۔۔۔۔۔صابر بخاری

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی  سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے ۔پاکستان کے امن کا تباہ کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔دہشتگرد وں کو سر حد پار سے مدد مل رہی ہے۔دہشتگردی کیخلاف جاری جنگ میں سیکیورٹی اداروں کے جوانوں کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کوئٹہ دھماکے میں ملک دشمن عناصر ملوث ہیں ۔دہشت گرد آپریشن رد الفساد سے خوفزدہ ہوکر اس طرح کی بزدلانہ کارروائیاں کررہے ہیں۔ دہشت گردوں کیخلاف جنگ میں شہداء کی قربانیوں کو پاکستانی قوم کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ ملک دشمن عناصر اس طرح کی بزدلانہ کارروائیاں کرکے خوف وہراس پھیلانا چاہتے ہیں ۔وطن عزیز کیلئے جانیں قربان کرنے والوں کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہوکر دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔کوئٹہ دھماکہ شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے غمزدہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں بھارتی مداخلت کو ختم کئے بغیر دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ۔ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں براہ راست ملوث ہے۔علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مزید کہا کہ سید ناصر شیرازی کی گمشدگی کیخلاف آج چہلم کے جلوسوں میں ملک بھر میں احتجاج کریں گے اور اس ظلم کیخلاف آواز بلند کریں گے،چہلم امام حسین ع کے بعد سید ناصر شیرازی کی بازیابی کے لئے بھر پور تحریک شروع کریں گے۔

وحدت نیوز(لاہور) صوبائی وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کی نااہلی کیلئے انٹرا کورٹ اپیل کی جلد سماعت کیلئے درخواست منظور کر لی گئی۔ ہائیکورٹ کا دو رکنی بینچ سماعت کریگا۔ انٹرا کورٹ اپیل مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل  ناصر عباس شیرازی نے ایڈووکیٹ فدا حسین رانا کی وساطت سے دائر کی، جس میں چیف سیکرٹری پنجاب، وزیر قانون رانا ثناء اللہ اور الیکشن کمیشن پاکستان کو فریق بنایا گیا ہے۔ اپیل کنندہ نے موقف اختیار کیا کہ رانا ثناء اللہ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن جوڈیشل کمیشن کے سربراہ کے بارے میں بیانات دیئے۔ درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت سنگل بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور رانا ثناء اللہ کو فوری طور پر صوبائی اسمبلی کی نشست سے نا اہل کرے۔ واضح رہے پٹیشنر ناصر عباس شیرازی کے اہل خانہ کا موقف ہے کہ انہیں واپڈا ٹاؤن لاہور سے رانا ثناء اللہ کے ایماء پر اغواء کرکے پنجاب پولیس کے مخصوص اہلکاروں نے نجی عقوبت خانے میں مبحوس کر رکھا ہے۔

وحدت نیوز (پاراچنار) پاکستان میں موجودہ حکومت سعودی عرب اور امریکہ کی کاسہ لیس ہے۔ چنانچہ وہ انہی کے اشاروں پر ناچتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق سینیٹر اور تحریک حسینی کے سرپرست اعلٰی علامہ سید عابد حسین الحسینی نے اسلام ٹائمز کے ساتھ گفتگو کے دوران کیا۔ انکا کہنا تھا کہ اپنے آقاؤں کے اشاروں پر وہ وطن عزیز کے مخلص شہریوں بالخصوص شیعیان حیدر کرار کو تنگ کرتی ہے۔ مہینوں تک انہیں لاپتہ کرکے انہیں جیل میں مختلف قسم کی اذیتیں جبکہ انکے ورثاء کو ذہنی طور پر اذیت سے دوچار کیا جاتا ہے۔ ناصر شیرازی کے اغوا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے علامہ حسینی کا کہنا تھا کہ ناصر شیرازی کا گناہ صرف اور صرف یہ ہے کہ انہوں نے کرپٹ اور استحصالی حکمرانوں کے کرتوتوں سے پردہ اٹھایا۔ انکا کہنا تھا کہ اس اغوا میں بیرونی، نیز اندرون ملک دہشتگرد تنظیموں کا ہاتھ کارفرما ہے۔ انہی کے اشارے سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کے اکثر وزراء کا چونکہ دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ قریبی تعلق ہے اور انہی کی ڈکٹیشن پر وہ اہل تشیع کے خلاف کارروائیاں کرتی ہے، مگر یاد رکھے کہ ایسے حربوں سے شیعہ دبنے والے نہیں۔انہوں نے تمام سیاسی پارٹیوں خصوصاً شیعہ تنظیموں کے قائدین سے مطالبہ کیا کہ اس کیس کو اپنا کیس سمجھ کر قیام کریں، کیونکہ یہ آگ کہیں انکی دہلیز پر نہ آپہنچے۔

 

علامہ حسینی نے تفتان میں زائرین کے ساتھ وحشیانہ سلوک پر وہاں پر موجود فورسز اور ذمہ دار افراد کے رویئے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا سے سکھ حضرات جب اپنے مذہبی پیشوا کی زیارت کی غرض سے حسن ابدال آتے ہیں تو حکومت انکی تمام مشکلات کا خصوصی خیال رکھتی ہے، تاکہ انہیں کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے، جبکہ اہل تشیع کے ساتھ انکے سلوک کی حالت آپ خود دیکھ رہے ہیں، جس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ حکمرانوں کا سکھوں کے ساتھ کوئی مذہبی رشتہ ہے جبکہ اہل تشیع ساتھ انکی خصوصی مخاصمت ہے۔ اہل تشیع کے ساتھ مخاصمت کی وجہ بتاتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں شیعوں نے سامراج اور استعمار کے ظلم و ستم کی مخالفت کی ہے، جبکہ ہمارے حکمران انہی قوتوں کے ہم نوالہ و ہم پیالہ ہیں، لہذا انکی برائی بیان کرنا ان سے ہضم نہیں ہو رہا، اسی وجہ سے وہ اہل تشیع کی دشمنی پر تلی ہوئی ہے۔ شیعیان پاکستان، خصوصاً سیاسی اور مذہبی تنظیموں سے مخاطب ہوکر انکا کہنا تھا کہ متفق و متحد ہوکر قیام کرکے اپنی تقدیر کا فیصلہ وہ خود کریں۔

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین نے چہلم امام حسین ؑ کے بعد ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔ تحریک کا اعلان ایم ڈبلیوایم پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ مبارک علی موسوی نے دیگر تنظیموں کے قائدین کے ہمراہ پنجاب کے صوبائی سیکرٹریٹ میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پاکستان شیعہ پولیٹیکل پارٹی کے سربراہ سید نوبہار شاہ، آئی او پاکستان کے سابق چیئرمین افسر رضا خان، شیعہ شہریان پاکستان کے صدر وقارالحسنین نقوی، امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر انصر مہدی سمیت دیگر رہنما اور علمائے کرام موجود تھے۔

علامہ مبارک موسوی نے کہا کہ ناصر شیرازی کو لاہور جیسے مصروف ترین شہرسے اغوا کیا گیا ہے، اور تاحال پولیس کوئی سراغ نہیں لگا سکی۔ انہوں نے کہا کہ ناصر شیرازی کا جرم صرف یہ ہے کہ انہوں نے شیعہ سنی کو متحدکیا، تکفیریوں کو بے نقاب کیااور اتحاد کی فضا قائم کرنے میں کردار ادا کیا، اسی جرم کی پاداش میں پنجاب حکومت کے غنڈوں نے انہیں اغواء کر لیاہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہو رپولیس نے عدالت میں بھی آئیں بائیں شائیں کے سواکوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا، پولیس نے عدلیہ کیساتھ ساتھ قانون اور آئین کو بھی مذاق بنا رکھا ہے، لاہور ہائیکورٹ نے سی سی پی او کو طلب کیا، لیکن ایک ڈی ایس پی لیول کا افسر عدالت میں پیش ہوگیا جس پر عدالت نے اس کی سرزنش کی اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور سی سی پی او لاہور کو دوبارہ طلب کیا جس پر سارے پولیس افسران عدالت پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت میں اب پولیس نے ایک ہفتے کی مہلت مانگی ہے کہ ایک ہفتے کے بعد ناصر شیرازی کو پیش کر دیا جائے گا۔

 انہوں نے کہا کہ ہم عزاداری کو عزت واحترام کے ساتھ مناتے ہیں، چہلم کے جلوسوں میں اہم پرامن احتجاج کریں گے، اگر ناصر شیرازی کو بازیاب نہ کرایا گیا تو چہلم کے بعد لاہور میں وزیراعلیٰ ہاوس کا گھیرا ؤ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ چہلم کے بعد حکومت گراؤ تحریک چلے گی اورشہباز شریف سمیت اس کے سارے چیلوں کو گھر پہنچا کردم لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ناصر شیرازی عام شہری نہیں بلکہ ایک سیاسی جماعت کا مرکزی رہنما، ہائیکورٹ کا سینئر وکیل اور اتحاد بین المسلمین کا داعی ہے اور اسے اسی جرم کی سزاد ی جا رہی ہے جبکہ آئین اور قانون کے مجرم حکومت کی صفوں میں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تحریک اتنی بھرپورہوگی کہ پنچاب حکومت پچھتائے گی کہ اس نے کسی بندے کو اٹھانے کی غلطی کی ہے۔

آئی ایس او کے مرکزی صدر انصر مہدی کا کہنا تھا کہ ناصر شیرازی آئی ایس او کے سابق مرکزی صدر ہیں، ان کے اغواء سے طلباء برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ فوراً ناصر شیرازی کو رہا کرے بصورت دیگر ہمارا احتجاج حکومت ایوانوں کی بنیادیں ہلا دے گا۔ انہوں نے کہا کہ طریقہ واردات سے واضح ہوتا ہے کہ اس اغواء میں پنجاب حکومت خود ملوث ہے، اور ہمیں پتہ ہے کہ کہاں منصوبہ بنایا گیا اور اسے کن قوتوں کے پاس رکھا گیا ہے۔ ہم پر امن اندازمیں احتجاج کر رہے ہیں اگر ناصر شیرازی بازیاب نہ ہوئے تو اس احتجاج میں شدت آجائے گی جس کی ذمہ داری وزیر قانون راناثناء اللہ پر عائد ہوگی۔

پاکستان شیعہ پولیٹیکل پارٹی کے سربراہ سید نوبہار شاہ نے کہا کہ کیا پاکستان میں شیعہ ہونا جرم ہے؟ رانا ثناٗ اللہ نے خود تعصب کا مظاہرہ کیا اور عدالت عالیہ کے دو ججز کو شیعہ جج کہہ کر تعصب کو ہوادی جس بذات خود جرم ہے، اس جرم کی سزا رانا ثناء اللہ کو دینے کے بجائے بے گناہ ناصر شیرازی کو اغوا کرلیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہندویا پارسی اقلیت نہیں ، پاکستان کی سب سے بڑی افرادی قوت ہیں، بدمعاش حکومت ہمیں تنہا نہ سمجھے۔ ہم بربریت پھیلانے والی حکومت کو ایسا سبق سکھائیں گے کہ وہ یاد کریگی۔علامہ وقار الحسنین نقوی نے کہا ہم انیس صفر کو شیخوپورہ میں احتجاج کریں گے اورناصر شیرازی کی بازیابی کا مطالبہ کریں گے۔

وحدت نیوز(لاہور) لاہورہائی کورٹ میں ناصرعباس شیرازی کی بازیابی کیس کی تیسری سماعت آج بروز بدھ 8نومبر کو جسٹس قاضی محمد امین احمد کی عدالت میں ہوئی ،سی سی پی او  کو ناصرعباس شیرازی کی بازیابی کیلئےایک ہفتہ کی مہلت،عدالت کا ناصرعباس کوبازیاب کرکے16نومبرکوپیش کرنےکاحکم، تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس قاضی محمد امین احمدنے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل سید ناصرعباس شیرازی  بازیابی کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو پولیس افسران کی عدم حاضری پر شدید برہمی کا اظہار کیا، عدالتی حکم پر ناصرشیراز ی کی عدم پیشی پر فاضل جج نے سی سی پی او اور ایڈوکیٹ جنرل کو دوپہر 1:30بجے عدالت میں پیش ہونے  کا حکم دیا،انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں نے عدالت حکم کو مزاق سمجھ رکھا ہے میں آج بیٹھا ہوا ہوں پولیس اس معاملے کو ہلکا نا لے۔

 بعد ازاں سی سی پی اوامین وینس ،ایس پی لیگل رانامحمد لطیف،ایس پی صدررضوان گوندل سمیت دیگر افسران بھی ہائیکورٹ میں پیش ہوئے، جبکہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل شازیہ اختر بھی عدالت میں پیش ہوئیں،  جج جسٹس قاضی محمد امین احمدنےسی سی پی اوکو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آ پ کےشہرسےایک بندہ اٹھا لیاگیا،ابھی تک بندہ بازیاب کیوں نہیں ہورہا،جس پر سی سی پی او نے کہا کہ بازیابی کیلئےتمام وسائل بروئےکارلارہےہیں،ایس پی صدرکوناصرعباس کو بازیاب کرکے16نومبرتک عدالت میں پیش کرنےکاحکم سنا دیا۔

وحدت نیوز(انٹرویوبشکریہ روزنامہ اوصاف) باشعور لوگ جانتے ہیں کہ ہر وہ ملک جس میں قانون کی عمل داری نہ ہواور قوانین بھی جو بنتے ہیںان بنیادی اصول کے مطابق بنتے ہیں۔جو آئین کے اند ر ایک سوشل کنٹریکٹ کے تحت اس ملک کے تمام عوام اس کو قبول کرتے ہیں۔انہیں آرٹیکل کے تحت ہی تمام قانونی سازی کی جاتی ہے۔ادارے بنتے ہیں،سسٹمDevelop ہوتے ہیںاور دنیا میںجوایک سسٹم رائج ہے وہاںپر قوئہ مقننہ ،قوئہ عدلیہ ، قوئہ مجریہ ہوتی ہے۔ان تینوں قوئہ کا استدلال بہت اہم ہے۔کہ ایک دوسرے سے تصادم نہ کریں۔بلکہ اپنے دائرہ کارمیں رہتے ہوئے اپنے کار پر عمل کرے۔پھر انہیں کے ذیل میں بعض ایسے ریاستی ادارے بھی وجود میں آتے ہیں۔جن کا کام ملک کی سرحدوں کی حفاظت بھی ہے اور بعض انتظامی ادارے ہیں۔جن کاکام ملک کےاندر لوگوں کی جان ، مال، اور عزت کی حفاظت اور قانون کی عمل داری کرنا ہوتا ہے۔اب جب قانون کی عمل داری ہواور جتنے بھی ادارے ہیںوہ اپنے قانونی اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئےاپنی ذمہ داریوں کو انجام دیںتو میرے خیال میں مشکلا ت وجود میں نہیںآتی مسائل وہی جنم لیتے ہیںجہاں قانون شکنی شروع ہوتی ہے اور آئین اور قانون کو پائوں تلے روند دیا جاتا ہے،افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں سے ہے جہاںکبھی آئین کو کاغذ کا ٹکڑا قرار دیا جاتا ہے۔ جہاں قانون کو بنانے والے اور نافذ کرنے والے ہی قانون کو پائوں تلے روند دیتے ہیں۔اس کی تحقیر اور مذمت کرتے ہیں۔اس کی حرمت اور تقدس کو پامال کرتے ہیںتو یہیں سے لوگوں کے اندر بھی جرأت اور حوصلہ پیدا ہوتا ہےاور پھر یہاں سے کرپشن ، فساد اور قانون شکنی کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میںامن و امان ہوں کرپشن نہ ہو،فساد نہ ہو ،ترقی ہو پیش رفت ہو۔ہم civilizedہوں ہم Culturalہو جائیں ہم مہذب ہو جائیںتو اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم قانون کی عمل داری اور آئین کی تعین کردہ حدود کے اندر رہ کر اقدامات کریں۔اگر ہم کوئی ایسا اقدام کریں گے جو آئین کی حدود سے بالاتر ہو گا جو کوئی بھی ہوگا مشکلات کو پیدا کرے گا۔مشکلا ت کو حل نہیں کرے گا۔وہ بحران کو اور زیادہ بڑھائے گا بحران کو حل نہیں کرے گا۔چاہئے وہ technocratہوں۔چاہئے کوئی بھی ہو۔ کوئی بھی عمل جو قانون اور آئین کے دائرہ کار سے باہر ہو گا۔ وہ درست نہیں ہے،وہ ہمارے ملک کے اندر نہیں ہونا چاہیے ۔ہم کئی تجربے گذشتہ  70 سال کے اندرچکے ہیں۔ ہم نے کتنی بار قانون اور آئین کو پائوں تلے روندا ہے۔ نئے جذبے اور ولولے کے ساتھ آئیں ہیں۔کہ ہم یہ کر دیں گے ، ہم سب ٹھیک کر دیں گے۔بالآخر خرابی اور بربادی کے سوا ہمیںکچھ نہیں ملا۔


پس جو بھی قد م اُٹھایا جائے وہ قانون اور آئین کے دائرے کے اندر رہتے اُٹھایا جائےقانون اور آئین کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے بحرانوں کے حل کے لئے ضروری ہے۔

    1۔  ایک ایسا الیکشن کمیشن بنایا جائے جو بااختیار ہویعنی اس کے اندر کرپٹ اشخاص نہیں ہوں،بائیومیٹرک الیکشن ہونے چاہیں،بائیو میٹرک سسٹم لانا چاہیے۔
    2۔ آئین کی عمل داری ہونی چاہئے
    
اگر ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ کا اثر رسوخ افغانستان کے اندر کم کریں اور انڈیا کوCondemn کریں تو پاکستان ،چین روس،ایران،ترکی ان پر مشتمل ایک الائنس بن جائے۔جس کے نتیجے میں افغانستان میں امریکن اثر رسوخ کم ہو جائے گا اور انڈیا Condemnہوجائے گا اور پاکستان کا چائنا پر انحصار کرنا بھی کم ہو جائے گا۔ اب دنیا unipolar worldنہیں رہی بلکہ پاور کے اعتبار سےRe-shape ہو رہی ہے۔امریکن گلف میں آئے تھے۔دنیا کو Re-shape کرنے کیلئے وہاں یہ شکست کھا گے ہیںوہاں ان سے شام نہیں ٹوٹا، اگر شام ٹوٹتاتو شام ایشیاء کی بلڈنگ کی وہ اینٹ ہےجو اگر نکل جاتی توعراق ، ترکی ، ایران ، افغانستان، چائنا اور پاکستان نے بھی ٹوٹنا تھایعنی سنٹرل ایشیا ءپورے کا پورا تباہ و برباد ہو جاتاامریکن کو Western Asia میںResistance کے بلاک روس اور چائنا نے ملکر کائونٹر کیا۔UNO میںآٹھ ویٹو ہوئے ہیں جن میں سے چھ میں روس اور چائنہ اکٹھے ہیں ،اگر روس اکیلا بھی ویٹو کرتا تو بھی کافی تھا ۔لیکن چین بھی ساتھ ویٹو کر رہا تھا۔۔۔۔کیوں؟؟؟

چین کے سوریاکے اندر Economic Interests نہیں تھے۔Strategic Interestتھے۔چین کو پتہ تھا اگر سوریا ٹوٹا تو پھر بات چائنہ تک آئی گی۔لہذا چین بھی وہاں کھڑا ہو گیا اوUNOمیں ویٹو کرنا شروع ہو گیاجس کے نتیجے میں امریکن اور اسرائیل کو شکست ہو گی۔شکست کیسے کھائی ؟؟؟ ان کا خیال تھا کہ شام کی حکومت کو گرا کر ان ممالک کو توڑیں گے،سعودی عرب کو بھی توڑیں گےاور ان تمام اسلامی ممالک کو توڑ کر چھوٹے چھوٹے قطر اور کویت بنائیں گےجن میں اپنی مرضی کے حکمران لائیں گے۔ اور ان ممالک میں آپس میں اختلافات پیدا کریں گےکیونکہ مسلم ممالک کی پاور امریکہ اور اسرائیل کیلئے ایک بہت بڑاخطر ہ ہےجیسے کہ انہوں نے روس کوتوڑا او ر وہ روس کو اور مزیدتوڑنا چاہتے تھے،اسرائیل پر پہلے ہی بہت پریشر ہے۔وہ غزہ کے اندر فلسطینیوں کو کائونٹر نہیں کرپا رہاوہ حز ب اللہ کو کنٹرول نہیں کر پا رہا۔

 امریکہ اور اسرائیل نے جو داعش بنائی تھی سوریا کیلئے وہ اب منتقل کر رہے ہیں لیبیااور افغانستان میں تا کہ لیبیامیں افریقی ممالک مصر، الجزائر ،تیونس اوریمن کوDisturb کرے اور افغانستان میں داعشوں کے ذریعے افغانستان، چین، تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان کوDisturbکریں۔انہی داعشوں کے ذریعے یہ سی پیک کو بھی Disturbکرنا چاہ رہے ہیں۔

    Weldonal نے اپنی تاریخ تمدن میں لکھا ہےکہ پاور ہمیشہ یورپ اور ایشیاء میںمنتقل ہوتی رہی ہےاور امریکہ میں Extention ہے یورپ کی جبکہ اب پاور ایشیاء کی طرف منتقل ہورہی ہے، ایشیاء میں جو پاور کا منتقل ہونا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ
    1۔     آبادی کے لحاظ سے بہت بڑا براعظم
    2۔    ری سورسس (ذرائع)کے لحاظ سے بہت ریچ ہے۔
    3۔     منڈی بہت بڑی ہے۔
    4۔     سکیل مین پاوردنیا کی بیسٹ پاور ہے۔
    5۔    لیبر سستی ہے۔
    6۔    دنیا کے جتنے بھی بڑے مذاہب ہیں ان کی پیدائش کی جگہ ایشیاء ہے( مسیحیت،یہودیت،اسلام،بدھ مت،ہندو مت)
        
اب امریکی یہ چاہتے ہیں کہ کائونٹر کریںایشیاء کی طرفShift of Power کو، پہلے مرحلے میں اسکو (Slow) آہستہ کریںپھر روک دیں ۔۔۔کیسے ؟؟؟ ایشیاء کو عدم استحکام کا شکار کریںایشیاHeart Point کو ڈسٹرب کیا جائے۔جس طرح انسان کے جسم میںHeart Point ہوتے ہیں یعنی دل ڈسٹرب ہوجائے تو سارا جسم ڈسٹرب ہو جاتا ہے۔ایشیاء کے Heart Point کون سے ہونگے؟جہاں ذرا سی بھی ہل چل ہوگی تو ساری دنیا متاثرہو گی،ایکHeart Point ایشیاء کا ویسٹرن ایشیاء تھاجہاں آئل ہے، جہاں ساری دنیا آئی ہےوہاں ڈسٹرب کیا جائے،جنوبی ایشیاءHeart Point ہے۔جہاں ساری دنیا آئی گی ، امریکہ،چائنا ،روس آئے گا۔ افغانستا ن اور شمالی کوریا ، مغربی کوریا بھی ایسا ہی ہے۔اس کو بھی ڈسٹرب کیا جائے۔کیسے؟؟؟ بعض جگہ پر تکفیریت کے ذریعے مذہبی انتہا پسندی کے ذریعے جہاں ممکن ہے،ویسٹرن ایشیا ء میں ممکن ہے اور جہاں یہ ممکن نہیں ہے وہاں نسلی فساد پیدا کریں اور آزادی کی تحریکیں چلیںاور اس کے علاوہ ممالک کے آپس کے اختلافات پیدا کرناجیسے پاکستان انڈیا، چائناانڈیا، پاکستان ایران،ایران ترکی، ترکی عراق، سوریاایران، سعودیہ ایران،چائنا فلپائن، نارتھ کوریا سائوتھ کوریا،کے اختلافات کو ہوا دی جائے۔تاکہ ایشیا ء کو ڈسٹرب کیا جائے،اتنا ڈسٹرب کیا جائے کہ یہ اس قابل نہ ہو کہ یہ دنیا کو لیڈ کر سکے۔

اب اس سارے منصوبے کو کیسے کائونٹر کیا جا سکتا ہے جیسا کہ میں نے ذکر کیااب پاکستان ، چین ، روس ، ایران، ترکی اور عراق ملکر کر ایک الائنس بنالیں تو یہ کائونٹر ہو سکتا ہے۔ان ممالک کے فورم بننے چاہیں۔Asian Nation کے فورم بننے چاہئیں۔دانشوروں کے فورم بننے چائیں۔صحافیوںکے فورم بننے چائیں۔پارلیمنٹرینز کے فورم بننے چائیں۔ادیبوں کے فورم بننے چائیں۔شعراء کے فورم بننے چائیں۔ایشیاء لیول پر کوششیں ہونی چایئے، پاکستان ایشیاء کے اندر ہے پاکستان زبر دست جگہ پر ہے۔اللہ نے پاکستان کوGeo Political location دی ہے۔یہ وہ ملک ہے جو پانچ ارب انسانوں کو آپس میں ملاتا ہے۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس کےEast اور North میں دنیا کی 40% فیصد آبادی ہے اور یہاں سے ہی روس اور ترکی کے راستے نکلتے ہیںجہاں پر آئل کے ذخائر موجود ہیں وغیرہ اب آپ خود ہی سوچیں جب یہ خطہ اتنا اہم ہے ۔تو آپ کو یاد ہو گاکہ برصغیر جب تقسیم نہیں تھا تو سکندر اعظم اُٹھتا ہے اور مکدونیہ سے یہاں آتا ہے۔مغل وہاں سے آئے،برطانیہ سے انگریز یہاں آئے۔ کیوں؟؟؟؟

برصغیر بہتRich تھا،دنیا کے بلند و بالا پہاڑ یہاں،عظیم دریا یہاں،سرسبز و شاداب زمینیں یہاںیہ خطہ بہتRich تھا لوگ یہاں آ کرقبضہ کرتے تھے لوٹتے تھے ۔انگریز کیو ں یہاں آئے تھے،اسی طرح پاکستان بہت اہم جگہ پر واقع ہے، اب اگر پاکستان مضبوط ہوتا ہے اور امریکن بلاک سے نکلتا ہے تو اس پورے ایشیا ء کو فائدہ ہےاور اگر پاکستان کمزور ہوتا ہے تو امریکہ کا National Interest اسی کامتقاضی ہے،جسطر ح روس کی ex-worldگوادراینڈHot Waterمیںا مریکن اورEuropean National Interest کوThreatsکرتی تھی،اسطرح چائنا کی ریچ ورلڈ گوادریہ بھی امریکن اورEuropean National Interest  کوThreatsکر تی ہے،اس کو کائونٹر کرنا چاہتی ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کمزور ہو وہ پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیںتاکہ پورا ایشیاء ہلتا رہے ڈاواں ڈول رہےیہی وجہ ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی فیصلہ ہو تا ہے چاہئے غلط ہو یا ٹھیک ہو اس میں امریکہ کا عمل دخل ہوتا ہے، کیونکہ ہمارے سیاستدانوں، بیوروکریٹ اور ٹیکنو کریٹس میں اتنا زیادہ امریکن اثر رسوخ ہے کہ جسکو کائونٹر کرنے کے لئے ہماری قوم کےاندر کوئی یک سوئی نہیں کہ ہم اس کو کائونٹر کر سکیں۔اب تو دشمن کی بھی شناخت اور پہچان ہمارے ملک کے اند ر نہیں ہے۔کوئی کہتا ہے انڈیا ہمارا دشمن ہے کوئی کہتا ہے انڈیا دشمن نہیں ہے مودی دشمن ہے،جو قوم اپنے دشمن کے مقابلے میں کنفیوژہو وہ اس کا کیسے مقابلہ کر سکتی ہےوہ تو شکست کھاتی ہےوہ تو سائے سے لڑتی رہتی ہے،کون دشمن ہے ہمارا انڈین اسٹیبلشمنٹ دشمن ہے یا مودی دشمن ہے؟ امریکہ دشمن ہے یا اسرائیل دشمن ہے،کون دشمن ہے ہمارا؟؟؟ اتنا زیادہ امریکن اثر رسوخ پایا جاتا ہے کہ اپنے دشمن کی پہچان کرنا مشکل ہے۔

سوال:سوریامیں امریکہ و اسرائیل کیسے ناکام ہوا؟

علامہ راجہ ناصرعباس: اصل ناکامی اس کو کہتے ہیں کہ جو وہ اہداف لے کر آیا تھا اس میں وہ اس میں ناکام ہواآپ دیکھ لیں پاکستان میں مسلکی لڑائی نہیں ہے،افغانستان میں مسلکی لڑائی نہیں ہےاگر یہاں مسلکی لڑائی ہوتی تو گلی گلی ، کوچہ کوچہ لڑائی ہوتی،امریکن نے اس پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کی لیکن وہ ناکام ہوئے ہیں۔

سوال:آئندہ الیکشن میں آپ کی جماعت کا کیا رول ہوگا ؟

علامہ راجہ ناصرعباس :میں پاکستان کے آئین پر یقین رکھتا ہوںاور پاکستان کے آئین کی روشنی میں جو جمہوری جدوجہد ہے وہ ہمارے لئے ایک درست راستہ ہے۔لہذا ہم الیکشن سے تو کبھی بھی ہم اپنے آپ کو باہر نہیں کریں گے،اب الیکشن کے اندر اب جو بہترین صورت حال ہے وہ الائنس ہے۔عموماً پارٹیاں الائنس کرتی ہیں اگر الائنس نہ بھی ہوتا تو پھر بھی ہم الیکشن میں جائیں گے۔ہمارا مقصد ہے کہ پاکستان علامہ اقبال اور قائد اعظم والا پاکستان ہو،جہاں آئین اور قانون کی عملداری ہو، Discrimination کے خلاف اسٹینڈ لینے والے ہوںDiscrimination کو سپورٹ نہ کریں،پاکستان کو ایک مسلم پاکستان بنائیںاس کو انتہا پسند پاکستان نہ بنائیںجہاں تعلیم ،صحت اور ترقی کی راہیں کھلتی ہوںپاکستان میں مسلک کے نام پر کبھی بھی جماعتیں نہیں بننی چاہیں تھیں ہم مجبور ہوئے ہیں جماعت بنانے پرجب بسوں سے اُتار کر شناختی کارڈ چیک کر کے قتل کیا گیامساجد اور امام بارگاہوں میں بم بلاسٹ کیے گئےہمارے لوگوں کو پاراچنار میں محصور کیا گیااس وقت ہماری بات کوئی سننے کیلئے بھی تیار نہیں ہوتا تھامیڈیا میں کوئی ہماری خبر تک نہیں دیتا تھاکاش ریاست اپنی ذمہ داری ادا کرتی تو آج اس ملک میں مسلکی بنیادوں پر جماعتیں کبھی نہیں بنتی۔

جیسے پاکستان مسلم لیگ کوئی مسلکی جماعت نہیں تھی اور جو مسلک کی بنیادوں پر جماعتیں تھی وہ پاکستان بننے کے خلاف تھیں،پاکستان مسلم لیگ برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد کر رہی تھی، اس میں تمام مسلمان شریک تھے حتیٰ غیرمسلم بھی اس میں شامل تھےاور جو جماعتیں برصغیر میں مسلکی بنیادوں پر بنی تھیں وہ تو پاکستان بننے کی مخالفت کر رہی تھیں، کاش ایسا نہ ہوتا ہمارے ملک کے اندر اور ہم نے جیسے پاکستان بنایا تھا ویسے ہی اسے آگے بڑھانے کی سیاسی جدوجہد کرتے ، ہم نے اس ملک کو تقسیم کر کے رکھ دیا ہے ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے، قومی ، مذہبی، لسانی بنیادوں پر ہم نے جماعتیں بنا کر پاکستان کو تقسیم کر دیا ، ریاست کہاں گئی، اس طرح کی جماعتوں اور گروہوں نے وہ جذبہ ختم کر دیا، کاش ہم دوبارہ وہ جذبہ اور ولولہ حاصل کر لیں جس کے تحت پاکستان بنا تھا، موجود ہ مسلم لیگ اس نہج پر نہیں ہے، اس کے سربراہ کو سپریم کورٹ نااہل قرار دیتی ہےاور پانچ ججز نے اتفاق رائے سے فیصلہ دیا اور آپ ان پر چڑھ دوڑے ہیں، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ قانون جدوجہد کرتے، بھٹو کو پھانسی دی گئی تو اس کی بیٹی نے سیاسی جدوجہد کی، جن کا قانون پر ایمان ہوتا ہے وہ سختیاں جھیلتے ہیں، وہ قانون کو پاوں تلے نہیں روندتے ، مثال کے طور پر امام حسین علیہ السلام جب مکہ سے کربلا کی طرف جارہے تھے تو راستے میں انہیں حر کا لشکر ملا، امام حسین علیہ السلام نے انہیں پانی دیا، ان کے جانوروں کو بھی سیراب کیا، جینے کا حق ہر کسی کو ہے یہ ہے بنیادی انسانی حقوق پر عمل ،لیڈرشپ کارویہ یہ ہوتا ہے، یہ لوگ معاشرے کو لیکر آگے بڑھتے ہیں، اب ان کے بیٹے کہتے ہیں کہ ہم نے پاکستان آنا ہی نہیں ہے،  یہ کیسے حکمران ہیں، باپ حکمرانی کرنے آئے گا، بیٹے آتے ہی نہیں ہیں، ہمارے عوام سادہ لوح ہیں جس کی وجہ سے یہ لوگ مالدار ہو گئے ہیں۔ حکومتی اسٹیل مل کمزور ہو گئی ہے ان کی طاقتو ر ہو گئی ہے۔ کتنا ظلم ہے کہ ستر سالوں میں ہمیں قوم نہیں بننے دیا گیا، حالانکہ ہم میں اس کی صلاحیت موجود ہے، کشمیر میں زلزلہ آیا تو لوگ کیسے نکل کھڑے ہوئے تھے ، لیکن ہمیں فوجی اور سیاسی حکمرانوں نے قوم نہیں بننے دیا۔

ہم مسلکی بنیادوں پر سیاست کے مخالف ہیں، ہم نے اہل سنت کے ساتھ قربتیں پیدا کیں، شیعہ سنی جھگڑے کو ختم کیا، ہم سیاست بھی ایسی نہیں کریں گے جو مسلکی ہو، کاش قائداعظم کی مسلم لیگ دوبارہ بن جائے۔ جب سے مجلس وحدت مسلمین بنی ہے ہم نے دھرنا دیا ہے، پتھر نہیں مارا۔  جب ہمارے لوگ زیادہ مر رہے تھے تو ایک امکان تھا کہ ملک میں عسکریت پسندی جنم لے گی،  ایم ڈبلیو ایم جب بنی تو ہم نے پہلے کہا کہ ہم نے ملک کے اندر اسلحہ نہیں اٹھانا اور اہم نے اس کی قیمت دی ہے، آئین اور قانون کی حکمرانی میں رہتے ہوئے کام کیا ہےاسلحہ اٹھانے سے بربادی ہوتی ہے۔

ہم اگر انتہا پسند ہوتے تو صاحبزادہ حامد رضا اور ڈاکٹر طاہر القادری کا ساتھ نہ دیتے، ضیاءاللہ بخاری شاہ صاحب اچھے دوستوںمیں سے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ۔۔۔
وطن سے محبت کی انتہا نہیں بھول سکتا ، جس دن پاکستان دو لخت ہوا، میرے والد ریڈیو کمنٹری سنتے تھے، اٹھتے تھے بیٹھتے تھے، دکھ کا اظہار کیا اور انہیں ہارٹ اٹیک ہو گیا۔ میں تو اس دن یتیم ہو گیا تھا، جس دن پاکستان ٹوٹا۔
مسلک دین سمجھنے کا ذریعہ ہے نہ کہ انسان دین کے نام پر دوسروں کے گلے کاٹے۔

امام خمینی اسلحہ کے زور پر نہیں بلکہ عوامی طاقت کے بل بوتے پر انقلاب لیکر آئے۔

پارا چنار چار سال محاصرے میںرہا، چاروں طرف سے حملہ کیا جاتا تھا، ان کی ناموس محاصرے میں تھی، یہ مجلس وحدت مسلمین وہیں سے بنی،  اس تمام معاملے پر اخبار میں خبر نہیں چھپتی تھی اور صوبائی حکومت بھی بات نہیں سنتی تھی، وہ کہتے تھے پارا چنار چھوڑ دو کہیں اور پناہ لے لو،اب ایسی صورتحال میں کہ جب چار اطراف سے حملہ ہوگا آپ دفاع نہیں کریں گے،پاراچنار کے لوگ محب وطن اور پڑھے لکھے ہیں، پارا چنار کا لٹریسی ریٹ اسلام آباد کے برابر ہے، وہاں ہیروئن کی فیکٹریاں نہیں ہیں، یہ ایک ایسی ایجنسی ہے جہاں پاکستان کا جھنڈا لہراتا ہے، پاکستان کے خلاف کوئی کام نہیں ہوتا۔ فوج پر حملہ نہیں ہوتا، تذویراتی حوالوں سے بھی بہت اہم ہے تین اطراف میں افغانستا ن ہے، یہ علاقہ افغانستان کے اندر گھسا ہوا ہے،اس لئے طالبان اس علاقے کے باسیوں کو مار رہے تھے۔  اس علاقے کے لوگوں کا 1500 بندہ مارا گیا ہے۔

آج کی فرقہ واریت ضیاالحق کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے،  جمہوریت کے خلاف اقدام اٹھایا گیا، ایک خاص سوچ کے لوگوں کو پروان چڑھایا گیا۔ امریکہ نے پیسہ لگایا اور پاکستان کو تختہ مشق بنایا گیا۔ ملک میں علمائے کرام کو بے گناہ قتل کیا گیا ، یہ عالمی سازش اور ان کی Investmentہے۔

ٓٓٓانگریز نے مسلمانوں کی طاقت توڑنے کے لئے انہیں تقسیم کیا مسلم لیگ میں سنی اور شیعہ اکٹھے تھے توپاکستان بن گیا اسی وجہ سے انہیں آپس میں لڑوا دیا گیا تاکہ یہ طاقت نہ بن جائیں۔

پاکستان مسلم امہ میں ایک فعال ملک ہوا کرتا تھالیکن اسے اب مسائل میں الجھا دیا گیا ہے۔

سعودیہ کے ساتھ اگر ہمارے تعلقات اچھے ہوں گے تو ا س ریجن کافائدہ ہے، پاکستان اکیس کروڑ عوام کا ایک ایٹمی ملک ہے،  اس کے تعلقات کسی بھی ملک کے ساتھ خراب نہیں ہونے چائیں ۔

 سوال:کالعدم جماعتوں کا بڑا شوشا ہے ان کو الیکشن میں آنا چاہے یا نہیں؟
جواب: میں کہتا ہوں پاکستان کے آئین اور دستور پر عمل ہونا چاہے مثال کے طور پر ایک آدمی کو قتل کر دیا جاتا ہے جو شادی شدہ نہیں تھا
جس نے قتل کیا وہ شادی شدہ تھا اب اسلام نے کیا کہا اسکو سزا دو  پھانسی کی اب قاتل کے بیوی بچے بھی ہیںاگر اسکو پھانسی دی جائے تو اس کے بچے یتم ہو جائیں گے اور گھر اجڑ جائے گا اب اسلام جزوی چیزوں کو نہیں دیکھتا اسلام  As a whole دیکھتا ہے اسلام ہر بات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتا ہے اور قانون بنتا ہے ممکن ہے کسی ایک کو نقصا ن ہو لیکن As a whole پوری سوسائٹی کو فائدہ ہے قانون اور آئین کے مطابق عمل ہونا چاہئے نہ انصافیاں جرائم کو جنم دیتی ہیں۔

سوال: یہ فرقہ وارنہ جنگ کیوں ہوئی پاکستان میں اور دونوں طرف سے لٹریچر چھپا؟
علامہ راجہ ناصرعباس: پاکستان میںکبھی فرقہ ورانہ جنگ نہیں ہوئی البتہ فرقہ وارت ہوئی ہے اور اس کی بنیادضیاءالحق نے رکھی یہ پاکستان کی ڈیموکریسی کے خلاف ہوئی یہ افغان پالیسی کا رزلٹ ہے، انہوں نے مخصوص لوگوں کو انتہا پسندی کی طرف راغب کیا ان کے لشکر بنائے پلان امریکہ کا تھا پیسہ دوسرے ملکوں کا تھا اور اجرا پاکستان نے کیا بر صغیر میں جب بر طانیہ آیا توحکومت مسلمانوںسے چھینی تھی جو مسلمانوں کا حق ہے اور مسلمانوں کو تقسیم کیا گیا اور یہ لٹریچربھی اس وقت چھپنا شروع ہوا ایک طرف کہتے تھے کہ فلاں کتاب لکھو ابھی کتاب پرنٹ نہیں ہوتی تھی اس کا مسودہ شیعہ دے دیا جاتا تھا کہ یہ آپکے خلاف لکھا جا رہا ہے جیسے ہی کتاب پرنٹ ہوتی تھی اس کا جواب بھی آجاتا تھا اہلسنت اور شیعہ کو تقسیم کر کے توڑا گیا مسلم لیگ میں شیعہ سنی ایک ساتھ تھے اسی وجہ سے مسلمانوں کو توڑا گیا اور فرقہ وانہ کتابیں برطانیہ کے آنے کے بعد پرنٹ ہوئی اورمجیب الرحمٰن شامی صاحب نے اپنے ایک پرگرام میں کہا یہ کتابیں انڈیا سے پرنٹ ہوتی ہیں اور ان پر ایڈریس کسی اور ملک کا ہوتا ہے ، پاکستان کے سعودیہ کے ساتھ تعلقات اچھے ہونے چاہے اس سے خطے کو فائدہ ہو گا اگر کہیں حالت خراب بھی ہوئے تو پاکستان ٹھیک کر سکتا ہے پس پاکستان اکیس کروڑ عوام کا ملک ہے اور ایٹمی ملک ہے اس کا کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات کسی دوسرے ملک کے تعلقات کے ساتھ کمپرومیز نہیں ہونا چاہیے ایک سمجھ دار حکومت کی طرح سلوک کرنا چاہیے اور ان کو سیکھنا چاہے کون سی چیز میڈیا پر لانی ہے اور کون سی نہیں  ہزاروںمسائل ہوتے ہیں آپس میں حکومتوں کے۔

انٹرویو بشکریہ روزنامہ اوصاف اسلام آباد

وحدت نیوز(مظفرآباد) پنجاب حکومت ملت تشیع کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے اپنانے سے باز آجائے، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی ایڈووکیٹ کا اغواء مسلم لیگی نام نہاد جمہوریت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے، اگر انہیں کسی بھی قسم کا نقصان پہنچا تو حالات کی ذمہ دار پنجاب حکومت ہو گی،ناصر شیرازی کے اغوا کے ذمہ دار شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ ہیں،تفصیلات کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی ایڈووکیٹ کو واپڈا ٹاؤن لاہور سے اغوا کر لیا گیا ہے۔مغوی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اپنی رہائش گاہ کی طرف جا رہے تھے کہ ڈبل کیبن میں سوار نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی کو روکا اور پولیس کی وردی میں ملبوس افراد انہیں زبردستی اپنی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔یاد رہے کہ ناصر شیرازی نے صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے خلاف آئینی پیٹیشن لاہور ہائی کورٹ میں دائر کر رکھی ہے جس کی سماعت دو رکنی بینچ کر رہا ہے۔پیٹیشن میں کہا گیا تھا کہ رانا ثنا اللہ اپنے بیانات سے عدلیہ کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما کی گرفتاری کے خلاف مختلف تنظیموں کی طرف سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ ایم ڈبلیو ایم آزادکشمیرکے ریاستی سیکرٹری جنرل علامہ مولانا طالب ہمدانی نے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناصر شیرازی کے اغوا کے ذمہ دار شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ ہیں۔اگر انہیں کسی بھی قسم کا نقصان پہنچا تو حالات کی ذمہ دار پنجاب حکومت ہو گی۔سید ناصر عباس شیرازی سیاسی و سماجی حلقوں کی ایک معروف شخصیت ہیں،ان کے ساتھ اس طرح کا فعل انتہائی افسوسناک ہے۔انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ناصر عباس شیرازی کو فوراََ بازیاب کرایا جائے۔انہوں نے کہا اگر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی ایڈووکیٹ کو فوری پور پر بازیاب نہ کروایا گیا تو پورے پاکستان سمیت ریاست بھر میں شدید احتجاج کیا جائیگا۔

Page 6 of 783

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree