The Latest

وحدت نیوز (کربلا) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل علامہ آغا علی رضوی نے کربلا معلٰی سے اپنے صوتی پیغام میں کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے ظلم حد سے بڑھ گیا ہے، لوٹ کھسوٹ اور سیاسی انتقام کے بعد ٹیکسز کی سونامی حقوق سے محروم عوام پر بہت بڑا ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کربلا معلی اور نجف اشرف میں جی بی کے مظلوم عوام کے حق میں اور انہیں ظالم حکومتوں سے نجات کے لیے خصوصی دعا کی ہے۔ خطے کے عوام کا غی رآئینی ٹیکس کے خلاف سڑکوں پر نکلنا لائق تحسین ہے۔ انجمن تاجران اور عوامی ایکشن کمیٹی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس ظلم کے خلاف قیام کا اعلان کیا اور میدان میں ڈٹ گئے۔ حکومت جی بی کے عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کرے گی لیکن امید ہے کہ باشعور اور غیرت مند عوام اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کے خواب کو چکنا چور کریں گے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون کی حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ ہوش کے ناخن لیں اور عوام کے مطالبے کو تسلیم کر کے ثابت کریں کہ وہ اس خطے کے باسی ہیں۔ وفاقی حکومت کے غرور میں عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والی حکومت کو معلوم ہونی چاہیے کہ وفاقی حکومت خود عبرت بننے والی ہے۔ اگر صوبائی حکومت ٹیکس کے فیصلے کو واپس نہ لے تو وہ بھی دوسروں کے لیے عبرت بن جائے گی۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ تمام جماعتیں اور تنظیمیں اپنے اندر اتحاد قائم رکھتے ہوئے صبر اور ہمت سے کام لیتے ہوئے اس تحریک کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔ میں بھی اپنے سفر کو مختصر کر کے میدان میں حاضر رہنے والے اور ظالموں کے خلاف قیام کرنے والے غیرت مندوں کی صفوں میں پہنچ کر اس تحریک کو مزید تیز کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جی بی کے عوام بلخصوص مجلس وحدت مسلمین کے تمام کارکنان، خیرخواہان اور رہنماء ٹیکس کے خلاف جاری تحریک میں صف اول کا کردار ادا کریں اور کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کریں۔ غیر قانونی ٹیکس کے خلاف قیام اخلاقی ذمہ داری ہے۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سندھ علامہ دوست علی سعیدی نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب حکومت کے ہاتھوں ناصر عباس شیرازی کے اغواء کے خلاف سندھ بھر کے تمام اضلاع کی جامع مساجد کے باہر احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے جبکہ مرکزی احتجاجی مظاہرہ جامع مسجد نورایمان ناظم آباد کراچی کے باہر کیا جائے گا۔ صوبائی سیکرٹریٹ سولجر بازار میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ دوست علی سعیدی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ اس پولیس اسٹیٹ کے بادشاہ ہیں جہاں لاقانونیت، عدم تحفظ اور ظلم و بربریت کا راج ہے، سیاسی مخالفین کو بلاجواز گھروں سے اٹھاکر نجی عقوبت خانوں میں قید کر لیا جاتا ہے، ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنما سید ناصر شیرازی کو ایلیٹ فورس کی گاڑیوں کے ذریعے اغواء ہوئے دو ہفتے گزر چکے ہیں، عدالتی حکم کے باوجود انہیں نہ تو عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی ان کی خیریت سے ان کے اہل خانہ کو آگاہ کیا جا رہا ہے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور آئین و قانون کی پامالی کی اس سے بڑی مثال نہیں ملتی۔

وحدت نیوز (کراچی) ملتِ جعفریہ پاکستان کی نمائندہ مذہبی و سیاسی جماعت کے مرکزی رہنماء ناصر عباس شیرازی کے ماورائے عدالت اغوا نے جہاں وزیرِ اعلیٰ پنجاب باالخصوص وزیرِ قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کے بدنماں اور بھیانک چہرے کو آشکار کیا وہیں کالعدم تکفیری دہشتگرد جماعتوں کے سیاسی و معاشی سہولت کار رانا ثناء اللہ کے زرخرید پنجاب پولیس کےا نتہائی حساس ادارے سی ٹی ڈی کے کردار کو بھی مشکوک بنا دیا ہے۔ پنجاب ہائی کورٹ کے فاضل جج سمیت اعلیٰ عدلیہ اور پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے وزیرِ قانون پنجاب کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے والے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء سید ناصر عباس شیرازی کے ماورائے عدالت کے خلاف آئندہ جمعہ 17 نومبر کو مجلس وحدت مسلمین ڈسٹرکٹ سینٹرل کراچی کی جانب سے ضلع بھر کی جامعہ مسجد کے باہر احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔

 ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان ڈسٹرکٹ سینٹرل کراچی کے ترجمان و سیکریٹری اطلاعات سید عرفان حیدر نے ڈویژن آفس کراچی سے جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں کیا۔عرفان حیدر کا کہنا تھا کہ ایک جانب پاکستان کے قیام سے لیکر اب تک ملتِ جعفریہ پاکستان نے ملکی سلامتی کی خاطر ہزاروں جانوں کی قربانیاں دیں اور اب اس پر ستم کی انتہا یہ ہے کہ ہمارے جوانوں کو ماورائے عدالت اغوا کر کے ملک میں انارکی پھیلانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں اور ان سازشوں میں ملوث افراد کے چہرے پاکستانی حساس اداروں کے سامنے عیاں ہیں لیکن افسوس کہ وطن عزیز اور پاک افواج سمیت حساس اداروں کے خلاف نازیبا بیانات دینے والے ان بیرونی آقاؤں کے زرخرید غلاموں کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں نھیں لائی جاتی کہ جس کی بنیاد پر یہ ملک دشمن عناصر اب سرِ عام اپنا کام انجام دینے میں مصروف ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان کا ہر چھوٹا بڑا شہر ملک دشمن اسلام دشمن کالعدم تکفیری دہشتگردوں کے دہشتگردانہ حملوں کی زد میں تھا اور اسی دوران پشاور میں آرمی پبلک اسکول جیسا عظیم سانحہ رونما ہوا تو اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کالعدم دہشتگرد جماعتوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب کے اعلان کیا تھا جس پر ایوانوں اور مدرسوں میں بیٹھے بیرونی طاقتوں کے زرخرید غلاموں نے کالعدم تکفیری دہشتگرد جماعتوں کے خلاف کسی بھی فوجی آپریشن کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے ان سفاک بھیڑیوں سے مزاکرات کا مطالبہ کیا تھا تو اس وقت ملتِ جعفریہ پاکستان کی نمائندہ جماعت مجلس وحدت مسلمین پاکستان ہی تھی کہ جس کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کالعدم تحریک طالبان سمیت دیگر کالعدم تکفیری دہشتگرد جماعتوں کے خلاف بھرپور فوجی آپریشن کا مطالبہ کیا تھا ،اور اس آپریشن کے حوالے پاک افواج کو اس بات کی یقین دہانی بھی کروائی تھی کہ ایک لاکھ شیعہ جوان ان سفاک تکفیری دہشتگردوں کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن ضربِ عضب میں پاک افواج کے شانہ بشانہ میدانِ جنگ میں شریک ہونگے۔

عرفان حیدر کا کہنا تھا کہ ایک جانب ملتِ جعفریہ پاکستان کا ہر بوڑھا ،جوان اور بچہ اپنے وطن کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے ہر وقت آمادہ ہے تو دوسری جانب اسی ملتِ جعفریہ کے جوانوں کو ماورائے عدالے اغوا کئے جانے کی کاروائیوں نے ملتِ جعفریہ پاکستان کا ایک اور امتحان میں ڈال دیا ہے۔انکا کہنا تھا کہ گزشتہ دو ہفتے قبل لاھور کے علاقے واپڈا ٹاؤن سے وزیرِ قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کی ایماء پر پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی لاھور کے ہاتھوں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی مرکزی نظارت کے رکن سید ناصر عباس شیرازی کے ماورائے عدالت اغوا نے جہاں پنجاب کے ابنِ زیاد شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کے بدنماں چہرے کو آشکار کیا وہیں پنجاب پولیس کے حساس ادارے سی ٹی ڈی کی جانب سے ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے والی ملتِ جعفریہ کی نمائندہ سیاسی و مذہبی جماعت مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء کو ماورائے عدالت اغوا کئے جانے سے ملکی سیاست میں ہلظل پیدا کردی ہے۔عرفان حیدر کا کہنا تھا کہ وزیرِ قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کی جانب سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کا فیصلہ سنانے والے فاضل جج جسٹس باقر نجفی کے خلاف فرقہ واریت پر مبنی بیان دینے پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء ناصر عباس شیرازی نے رانا ثناء اللہ کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ اور اس سے قبل پاک فوج سمیت دیگر اعلیٰ دفاعی اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کے خلاف پنجاب ہائی کورٹ میں رانا ثناء اللہ کی نااہلی کے حوالے سے پٹیشن داخل کی تھی جس پر پنجاب ہائی کورٹ کی جانب سے دو رکنی بینچ بھی تشکیل کا جاچکا تھا  اور اسی بنیاد پر سید ناصر عباس شیرازی کو اغوا کیا گیا ۔

عرفان حیدر نے سید ناصر عباس شیرازی کے ماورائے عدالت اغوا پر حکومت پاکستان باالخصوص سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے خاموشی پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معمولی اور غیر ضروری معاملات پر سوموٹو ایکشن لینے والی اعلیٰ عدلیہ ایسے باہمت شخص کے ماورائے عدلات اغوا پر کیوں سوموٹو ایکشن نھیں لیتی کہ جو اعلیٰ عدلیہ اور اس کے فاضل جج کی عزت و ناموس اور اعلیٰ وقار کے دفاع میں کھڑا ہوا اور آج ان ملک دشمن عناصر کی ایماء پر قانون شکنی کرنے والے قانون کے محافظوں کے ہاتھوں سرِ راہ اغوا ہو جاتا ہے۔عرفان حیدر کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے ملک دشمن، اسلام دشمن کالعدم تکفیری دہشتگرد جماعتوں کے سہولت کار رانا ثناء اللہ کو وزیرِ قانون بنا کر قانون کی دھجیاں بکھیریں اور رانا ثناء اللہ اپنی وزارت کی آڑ میں ملک کی اعلیٰ عدلیہ اور پاک فوج سمیت اعلیٰ دفاعی اداروں کی تحقیر میں مصروف ہے۔عرفان حیدر نے چیف جسٹس آف پاکستان اور پاک فوج کے سربراہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ناصر عباس شیرازی کی جلد اور بخیر بازیابی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کریں اور رانا ثناء اللہ جیسے ملک دشمن شخص کو اعلیٰ عدلیہ اور پاک فوج اور دیگر اعلیٰ دفاعی اداروں کی تحقیر کرنے کے جرم میں تختہ دار پر چڑھائیں۔

ڈویژن آفس کراچی سے جاری ہونے والے اپنے بیان میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان ڈسٹرکٹ سینٹرل کراچی کے ترجمان و سیکریٹری اطلاعات عرفان حیدر کا کہنا تھا کہ دو ہفتے گزر جانے کے باجود مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی مرکزی نظارت کے رکن سید ناصر عباس شیرازی کی عدم بازیابی کے خلاف 17 نومبر بروز جمعہ حتجاجی پورے ڈسٹرکٹ سینٹرل کی جامعہ مساجد کے باہر احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے، جبکہ مرکزی مظاہرہ جامعہ مسجد نورِ ایمان ناظم آباد پر منعقد کیا جائے گا کہ جس سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی،صوبائی اور ڈویژنل رہنماؤں سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماء خطاب فرمائیں گے۔

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصرشیرازی ایڈوکیٹ کے اغواءکیس کی لاہور ہائی کورٹ میں چوتھی سماعت ،پولیس 15ویں روز بھی ناصرشیرازی کوعدالت میں پیش کرنے میں ناکام ، جسٹس قاضی محمد امین کا شدیداظہار برہمی، مغوی کی عدم بازیابی اور پولیس کے غیر سنجیدہ رویئےپر سخت احکامات جاری کرنے کا عندیہ، تفصیلات کے مطابق ناصر شیرازی اغواء کیس کی سماعت آج16نومبربروز بدھ کی  صبح لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس قاضی محمد امین کی عدالت میں ہوئی ،سماعت کے دوران سی سی پی او لاہورامین وینس  نے ایک بار پھر عدالت کے سامنے اپنی معذوری ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم ناصر شیرازی کا پتہ نہیں چلا سکے لہٰذا ہمیں مزید مہلت دی جائے ۔ معزز جج نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی دار الحکومت سے بند ہ غائب ہوجاتا ہے اور پولیس کے حکام ٹس سے مس نہیں ہو رہے، پولیس ایک محکمے کا نام ہے اور ایک بندہ بازیاب نہیں کرواسکی،عدالت ابھی تک صرف ہدایات جاری کررہی ہے، اگرعدالت نے بازیابی کیلئے احکامات جاری کیئے تواس کے نتائج بھی بھگتنے پڑیں گے، ایسے غیر سنجیدہ رویئے پر  جسٹس قاضی محمد امین نے تمام سرکاری ایجنسیوں کے حکام کو  عدالت طلب کرتے ہوئے سماعت 22نومبرتک سماعت موخر کردی ہے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) بلوچستان ایک مرتبہ پھر بے گناہوں کی مقتل گاہ بناہے، کوئٹہ میں ایس پی انویسٹی گیشن محمد الیاس کو ان کی اہلیہ اور معصوم بچوں سمیت قتل اور تربیت میں 15نہتے مزدوروں کا قتل عام بربریت کی بدترین مثال ہے،دشمن ممالک کوبلوچستا ن کا امن کسی صورت نہیں بھاتا، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ان کی آنکھ کا کانٹا ہےجو انہیں بہت چبھتاہے، ان خیالات کا اظہارمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے بلوچستان کے شہر کوئٹہ اور تربت میں ہونے والے دہشت گردی کے دواندھوناک سانحات پر اپنے تعزیتی بیان میں کیا ۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں ایس پی محمد الیاس کو ان کے اہلیہ اور بچوں اور تربیت میں روز گار کی تلاش میں سرگرداں نہتے مزدوروں کو شناخت کرے بس سے اتار کرمارنے کا دکھ، افسوس اور غم ہم بہترمحسوس کرسکتے ہیں ،گذشتہ تین دھائیوں سے پاکستان کی گلی کوچوں، بازاروں اور درباروں میں محب وطن شیعہ سنی عوام کو چن چن کر نشانہ بنایاگیا، اسی بلوچستان میں ہمارے ہزارہ شیعہ بھائی بہنوں کو بسوں سے شناختی کارڈ دیکھ کر اتارا گیا اور گولیوں سے بھونا گیا، ہم نے اس وقت بھی شور مچایا اور قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن صاحبان اقتدار اور ریاستی اداروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی تھی،اگر کل ہمارے احتجاج پر کان دھر لیئے جاتے توآج نوبت یہاں تک نا آتی۔

ان کامذید کہناتھاکہ پاک فوج نے کافی حد تک بلوچستان میں امن وامان کے قیام کیلئےکوششیں کیں، آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے مطابق کالعدم جماعتوں کے خطرناک دہشت گرد ماضی قریب میں قاصل جہنم ہوئے ، دہشت گردوں کی بعد کمین گاہیں بھی تباہ کی گئیں لیکن  پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بھارت ، اسرائیل ، امریکہ اور خلیجی ممالک کی آنکھ کا کانٹا ہےجو انہیں  بہت تکلیف دیتا ہے، بلوچستان میں ہونے ماضی میں ہونے والی شیعہ نسل کشی اور اب سکیورٹی افسران اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کا قتل عام ایک ہی سازش کی کڑی ہے، علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے کوئٹہ میں ایس پی محمد الیاس ،ان کے اہل وعیال اور تربیت میں میں شہید ہونے والے15 بے گناہ مزدوروں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے ، ان کاکہناتھاکہ مجلس وحدت مسلمین دکھ کی اس گھڑی میں شہداءکے خانوادگان کے غم میں برابر کی شریک ہے ، انہوں نے بارگاہ ایزدی میں دعا کی وہ تمام شہداءکو اپنے جوار میں محشور فرمائے اور تمام پسماندگان کو صبر جمیل عنایت فرمائے۔

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نےوفد کے ہمراہ  پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری سے  بلاو ل ہاوس لاہور میں ملاقات کی،علامہ راجہ ناصرعباس اور بلاول بھٹو کے درمیان اہم ملکی سیاسی صورت حال سمیت ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل ناصر شیرازی ایڈوکیٹ کے اغواء کے حوالے سے بھی تفصیلی بات چیف ہوئی، بلاول بھٹو نے ناصر شیرازی کی جبری گمشدگی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پنجاب حکومت کو اس واقعہ کا ذمہ دار ٹھرایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی و مذہبی جماعت کے مرکزی رہنما کا اغوا نام نہاد جمہوریت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کی بازیابی کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی قومی اسمبلی،سینٹ اور سندھ اسمبلی میں آواز اٹھائے گی،علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سید ناصر شیرازی کی بازیابی کے لیے تعاون کی بھرپور یقین دہانی پربلاول بھٹو زرداری  کا شکریہ ادا کیا، اس موقع پرمرکزی رہنما علامہ احمد اقبال رضوی، علامہ مبارک موسوی،مظاہر شگری اور آصف رضا ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔

وحدت نیوز( لاہور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نےوفد کے ہمراہ  پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے  لاہور میں ملاقات کی،علامہ راجہ ناصرعباس اور چوہدری شجاعت حسین کے درمیان اہم ملکی سیاسی صورت حال سمیت ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل ناصر شیرازی ایڈوکیٹ کے اغواء کے حوالے سے بھی تفصیلی بات چیف ہوئی ، چوہدری شجاعت حسین نے ناصر شیرازی کی جبری گمشدگی کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ناصر شیرازی کے اغوا کی ذمہ دار پنجاب حکومت ہے۔قاف لیگ اس ظالمانہ اور غیر آئینی اقدام کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کے ساتھ کھڑی ہے۔اس ایشو کو سینٹ اور قومی اسمبلی میں بھرپور انداز سے اٹھایا جائے گا۔ علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا پنجاب حکومت سیاسی مخالفین کو ریاستی اداروں کے ذریعے انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔آئین و قانون کی اس تضحیک اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر پارلیمانی جماعتوں کو پنجاب حکومت کے خلاف اپنا بھرپورکردار ادا کرناچاہیے تاکہ آئین کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا ظلم و بربریت کا کوئی بھی حربہ ہم پر کارگر ثابت نہیں ہو گا۔ملت تشیع کو دیوار سے لگانے کی حکومتی کوشش ارباب اختیار کو مہنگی پڑے گی۔جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نہیں چلنے دیں گے۔مسلم لیگ نون سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے عاری جماعت ہے جوعدلیہ کے منصفانہ فیصلوں کو دوہرا معیار قرار دے کر اپنے اندر کا غبار کم کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف ہے۔ریاستی اداروں کے کردار پر تنقید کر کے عوام میں شکوک و شبہات پیدا کیے جا رہے ہیں جس کا مقصد ملک کو مزید عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا ناصر شیرازی کا اغوا پنجاب حکومت کی منظم منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ان کی بازیابی میں تاخیری حربے پنجاب حکومت کے لیے مشکلات پیدا کریں گے۔علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سید ناصر شیرازی کی بازیابی کے لیے تعاون کی بھرپور یقین دہانی پرچوہدری شجاعت حسین   کا شکریہ ادا کیا، اس موقع پرمرکزی رہنما علامہ احمد اقبال رضوی، علامہ مبارک موسوی،مظاہر شگری اور آصف رضا ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مختار امامی نے کہا ہے کہ پنجاب کو عملاََ پولیس سٹیٹ بنا دیا گیا ہے۔شہباز شریف اور راناثنا اللہ اس پولیس سٹیٹ کے بادشاہ ہیں جہاں لاقانونیت، عدم تحفظ اور ظلم و بربریت کا راج ہے۔سیاسی مخالفین کو بلا جواز گھروں سے اٹھا کر نجی عقوبت خانوں میں قید کر لیا جاتا ہے۔ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنما سید ناصر شیرازی کو ایلیٹ فورس کی گاڑیوں کے ذریعے اغوا ہوئے دوہفتے گزر چکے ہیں۔عدالتی حکم کے باوجود انہیں نہ تو عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی ان کی خیریت سے ان کے اہل خانہ کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔اختیارات کے ناجائز استعمال اور آئین و قانون کی پامالی کی اس سے بڑی مثال نہیں ملتی۔پاکستان میں ملت تشیع کی نمائندہ سیاسی جماعت کے مرکزی رہنما کو محض اس لیے انتقام کا نشانہ بنایا گیا کہ یہ جماعت حکومت کی بدعنوانیوں کے خلاف کھل کر اپنی آواز بلند کرتی ہے۔ ظلم و جبر سے ہمارے حوصلوں کوپسپا کرنے کی کوشش بے سود ہے۔ پنجاب حکومت نے بوکھلاہٹ میں اپنا بھیانک روپ آشکار کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن 2018 میں ملت تشیع کی طرف سے مسلم لیگ نون کانہ صرف مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا بلکہ عزاداری اور عزاداروں کے خلاف پنجاب حکومت کی انتقامی کاروائیوں کی مکمل رپورٹ شائع کی جائے گی تاکہ عصر حاضر کی یزیدیت کا پردہ چاک کیا جا ئے۔انہوں نے آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سیدناصر شیرازی ایڈووکیٹ کے اغوا کا نوٹس لیتے ہوئے فوری بازیابی کے احکامات صادر کریں۔

وحدت نیوز(فیصل آباد) ایم ڈبلیوایم کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل ناصر شیرازی ایڈوکیٹ کے اغواءکے خلاف مجلس وحدت مسلمین ، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور دیگر سیاسی ومذہبی جماعتوں کی مشترکہ پریس کانفرنس، ناصرشیرازی کی فوری بازیابی کا مطالبہ ، پریس کانفرنس میں ڈاکٹر افتخار حسین نقوی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پنجاب،سیدصفدررضا رضوی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین ضلع فیصل آباد،سید زین علی ڈویژنل صدر امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان فیصل آباد،صاحبزادہ حسن رضاسنی اتحاد کونسل،میاں کاشف محمودضلعی رہنما پاکستان عوامی تحریک،رانا عظیم خان ضلعی صدر پاکستان مسلم لیگ(ق)،سید حسنین شیرازی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین فیصل آباد اور رانا جاوید اشرف خان ترجمان پاکستان تحریک انصاف  ویسٹ پنجاب شامل تھے۔

ایم ڈبلیوایم کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر افتخار حسین نقوی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہماری مادر وطن ہے اور ہم اس کے وفاداربیٹے ہیں اس مادر وطن کو بنانے سے لے کر آج تک جب بھی کسی نے میلی آنکھ ڈالنے کی کوشش کی ملتِ جعفریہ سینہ سَپر ہو کر میدان میں نکل آئی۔25 ہزار سے زائد شہداء دے کر ہم نے اس کی بنیادوں کو مضبوط کیا ہے۔جس کی دلیل یہ ہے کہ آج تک میرے مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے کسی شخص نے اپنے وطن کے خلاف کبھی کوئی سازش نہیں کی بلکہ اپنی عزت،توقیر،اورعظمت کامحورجانا،پچھلے کچھ عرصہ سے ملت جعفریہ کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے جس میں بہت سے مسائل ہیں لیکن آج میں ایک اہم موضوع برادر ناصر عباس شیرازی مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے اغوا کا ہے جن کو یکم نومبر2017 کو واپڈاٹاؤن لاہور سے تقریبا رات نو بجے اُن کے بچوں اور بیوی کے سامنے اغواکرلیا گیا اورتاحال اُن کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں ؟اور کس حال میں؟۔

انہوں نے کہا کہ کیا ایسے واقعات میں ریاست کا معذرت خواہانہ رویہ قابلِ قبول ہونا چاہئے؟کیا یہ کہہ دینے سے کہ آپ کا شخص ہمارے پاس نہیں ہے ریاست کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے ،لاہور جو کہ پنجاب کا دارالخلافہ ہے جس میں کروڑوں روپے مالیت سے Safe City بنایا گیا کیا اس قسم کے واقعات میں اس نظام سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا،افسوس کی بات یہ ہے کہ کسی حکومتی شخصیت یاادارے نے اس پر کوئی وضاحت بیان نہیں کی اور اس اغوا کے معاملے کو کوئی اہمیت نہیں دی جس بنا پر ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آخر معاملہ کیا ہے؟ ۔ایک مذہبی سیاسی جماعت کے فعال رہنما کے ساتھ یہ زیادتی ہوتی ہے اور داد رسی کرنے والا کوئی نہیں ہے یعنی دوسرے لفظوں میں ملت جعفریہ کی تکلیف کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہمارے ساتھ ناروا سلوک کیا جارہا ہے۔ہمارے نوجوانوں کو ناجائز فورتھ شیڈیول میں ڈالا گیا ہم نے اس دھرتی کی خاطر برداشت کیا۔لیکن اب یہ چیزیں ناقابل برداشت ہیں اور ہم جلد ایک لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

انہوں نے مزید کہاکہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان مذہبی سیاسی جماعت ہے اور آئین پاکستان ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ہم اپنے مسائل سیاسی جدوجہد سے حل کروائیں مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک پُرامن اور آئین پاکستان کی پاسدار جماعت ہے لہذا اس قسم کے غیر قانونی ہتھکنڈوں سے اس کو دبایا نہیں جا سکتا۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا شاندار ماضی آپ کے سامنے ہے ہم حکومت اور تمام حکومتی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ سید ناصر عباس شیرازی اور دیگر گم شدہ شیعہ افراد کو بازیاب کروایا جائے اگر وہ کسی قسم کی منفی سرگرمیوں میں ملوث ہیں تو ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے اور اُن پر مقدمات چلا کر قرار واقعی سزا دی جائے۔

ان کا کہنا تھاکہ ہمیں شک ہے کہ سید ناصر عباس شیرازی کو صوبائی وزیر رانا ثنااللہ صاحب کے ایماء پر اغوا کیا گیا ہے ؟لیکن اگر ایسا فرض کر بھی لیا جائے کہ ایسا نہیں ہے تو بالاخر اس کی ذمہ دارحکومت ہے ۔کیا قانون کی پاسداری صرف عوام کے لئے ہے ؟حکومتوں کے لئے نہیں ہے اگر کوئی شہری قانون کی خلاف ورزی کرتاہے تو اس سزادی جاتی ہے ۔اگرحکومت ماورائے آئین اقدامات کرے توکیا کرنا چاہئے؟یقیناًیہ ناانصافی اور ظلم ہے اور ظالموں کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے ۔ میں اس پریس کانفرنس کے زریعے حکومت پنجاب اوروفاقی حکومت کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہماری قیادت ناصر عباس شیرازی اور کارکنان کوجلدازجلد بازیاب کرایا جائے۔ہم حکومت سے عدلیہ سے اورآرمی چیف سے سوال کرتے ہیں کہ فی الفور ہمارے لیڈر جس کا جرم یہ ہے کہ وہ وحدت کی بات کرتا ہے۔ شیعہ سنی ہم آہنگی کی بات کرتا ہے ۔جو قانون کی بالادستی کی بات کرتا ہے۔

انہو ں نے کہا کہ ایم ڈبلیوایم  پاکستان کو ایک مضبوط پاکستان بنانے کی جدوجہد میں سرگرم ہے ، ناصر شیرازی کو فوری بازیاب کرایا جائے،ورنہ احتجاج ہمارا حق ہے اورایم ڈبلیوایم  کا احتجاج ہمیشہ نتیجہ خیز رہا ہے ،ہم اس حق کو استعمال کریں گے اور ایک نئے انداز کا احتجاج کریں گے ابھی فی الحال لاہور میں مظاہروں سے ہم اس کی ابتدا کررہے ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ حکومت نہ خود آزمائش میں پڑے گی اور نہ ہی ہماری آزمائش کرے گی،یہاں میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کو اس ظلم پر خاموش رہنے پر ان سے سوال کرتا ہوں کہ اس پرخاموش کیوں ہیں کیا ان کا مطمع نظر انسان اور انسانی حقوق کے علاوہ کچھ اور ہے،آخر میں تمام مذہبی سیاسی شخصیات اور جماعتوں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی اور میڈیا کے اینکر پرسنز کے بھی مشکور ہیں جو اس زیادتی پر آواز بلند کررہے ہیں۔

وحدت نیوز( مظفرآباد) مجلس وحدت مسلمین آزاد جموں و کشمیر  کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل  مولانا سید طالب حسین ہمدانی، ترجمان مولانا سید حمید حسین نقوی ، سیکرٹری شماریات عابد علی قریشی اور سیکرٹری روابط مولانا سید زاہد حسین کاظمی نے مرکزی ایوان صحافت مظفرآباد میں مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی کے اغوا کے خلاف پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  مجلس وحدت مسلمین ملک گیر سیاسی و مذہبی جماعت ہے۔ چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں باقاعدہ و فعال سیٹ اپ موجود ہے۔ گلگت بلتستان اور بلوچستان کی اسمبلیوں میں ہمارے نمائندگان موجود ہیں۔ ایسی جماعت کے سینئر ترین رہنماء کی جبری گمشدگی اور لاہور ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود بازیاب نہ کرنے کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔  ایک سیاسی و مذہبی جماعت کے مرکزی رہنماء کو اغوا کرنا جبکہ وہ سپریم کورٹ کا وکیل بھی ہو اور اس پر کوئی الزام یا ایف آئی آر بھی کہیں درج نہ ہو، آئین پاکستان اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ ایک پرامن جماعت جو ملک کے استحکام اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے دن رات میدان میں ہے، اس جماعت کے مرکزی رہنماء کو اس طرح اغوا کرنا غیر قانونی عمل اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال اور طاقت کے گھمنڈ میں عوام کو خوف و ہراس میں مبتلا کر کے ملک میں افراتفری پیدا کر رہی ہے۔ سید ناصر عباس شیرازی ایڈووکیٹ پنجاب نے وزیر قانون رانا ثناءاللہ کی ماڈل ٹاؤن جے آئی ٹی رپورٹ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے اور اعلٰی عدلیہ کو مسلکی بنیاد پر تقسیم کرنے کی سازش کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے، جس کی سماعت دو رکنی بنچ کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ سید ناصر عباس شیرازی کو ملک بھر سے لاپتہ مظلوم افراد کے حق میں بولنے اور اعلٰی عدلیہ کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازش کے خلاف کھڑے ہونے کی سزا دی گئی ہے۔

 ایم ڈبلیو ایم کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ وزیرقانون پنجاب رانا ثناءاللہ نے ملک کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی مذموم کوشش کی ہے اور یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ وزیر موصوف کے کالعدم جماعتوں کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں، سانحہ ماڈل ٹاؤن میں رانا ثناءاللہ براہ راست ملوث ہیں۔ جس شخص پر کوئی ایک ایف آئی آر بھی درج تک نہ ہو اس کو خوفناک طریقے سے اغوا کرنا ملک میں جنگل کے قانون کا پتہ دیتا ہے، جہاں آج کوئی بھی شخص محفوظ نہیں اور کسی بھی چور، ڈاکو، لٹیرے اور ملک دشمن کو خطرہ نہیں۔

رہنماوں کا کہنا تھا کہ  آج ملک بھر کے گوشہ و کنار میں گمشدگان کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں۔ ناصر عباس شیرازی کا اغواء نواز لیگ کی پنجاب حکومت کا سیاہ کارنامہ ہے۔ پنجاب میں ایک عرصے سے ملت تشیع انتقامی کارروائیوں کے نشانے پر ہے۔ مجلس وحدت مسلمین نے ہمیشہ ایسی قوتوں کی مخالفت کی ہے جو ملک میں نفاق کا بیج بو کر وطن عزیز کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتی ہیں۔ ہم سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک ملک گیر مذہبی و سیاسی جماعت کے سینئیر رہنماء کے اغوا پر سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے ذمہ داروں کو طلب کیا جائے۔ سیکورٹی اداروں کو دہشت کی علامت بنا کر عوام کو عدم تحفظ کا شکار کیا جا رہا ہے۔

رہنماوں نے کہا کہ لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق سلب کئے جا رہے ہیں۔ ملک میں قانون و آئین کی بجائے طاقت و اختیارات کی حکمرانی ہے۔ اگر ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو پھر قانون کے نام پر قانون شکنی کرنے والے عناصر کے حوصلوں کو تقویت ملتی رہے گی۔ یہ بھی یاد رہے کہ ابھی تو پاکستانی قوم نے رانا ثناءاللہ سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کا حساب مانگا ہے، ملت تشیع کسی بھی صورت ناصر شیرازی اور دیگر بے گناہ افراد کی غیر قانونی حراست پر خاموش بیٹھنے والی نہیں اور ہم رانا ثناءاللہ کا قانون کے شکنجے میں آنے تک پیچھا کرتے رہیں گے۔  16 نومبر کو سید ناصر عباس شیرازی کو بازیاب کرواتے ہوئے اگر عدالت میں پیش نہ کیا گیا تو جیسا کہ اعلان ہو چکا کہ ملک بھر سے لاہور کا رخ کیا جائے گا مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر نہ صرف حمایت کرے گی بلکہ عملی طور پر میدان میں اترے گی۔ مرکز کی جانب سے جو بھی اعلان ہو گا آزاد کشمیر میں تاریخی احتجاج ریکارڈ کروایا جائے گا۔

Page 3 of 783

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree