The Latest

فرزند پاکستان ناصرعباس شیرازی

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر سید افتخار حسین نقوی

وحدت نیوز (آرٹیکل) عرصہ دراز سے پاکستان میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کے لئے مسائل پیدا کئے جا رہے ہیں نہ صرف مسائل بلکہ ان میں روزبروزاضافہ ہوتا چلا جارہا ہے پاکستانی شیعوں کو ریاستی جبر کا نشانہ بنا کر اُن کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے ،کبھی بیلنس پالیسی کے تحت نظربندیاں اوشیڈول، کبھی قتل وغارت گری ، کبھی کافر کافر کے نعرے ، کبھی عزاداری پرحملے، اور کبھی سرکاری سرپرستی میں عزاداری کو بند کرنے کے مکروہ منصوبے ، کبھی بسوں سے اتار کر شناختی کارڈدیکھ کرقتل عام ، کبھی زائرین کو زیارات پر جانے سے روکنے کے حیلے بہانے، کبھی ٹارگٹ کلنگ ، کبھی بم دھماکے، کبھی مذہبی پروگرامز پر انتظامیہ کی طرف سے ڈھیروںFIR's ،کبھی جلوسوں پر پابندی، کبھی مجالس پر پابندی،کبھی سپیکر پر پابندی، کبھی زبان بندی، کبھی چاردیواری کی پابندی اور کبھی چار دیواری کے تقدس کی پامالی اور کبھی متحرک شیعہ تنظیم مجلس وحدت مسلمین پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش ،کبھی ہراسمنٹ، کبھی دھونس، اور کبھی مذہبی وسیاسی شیعہ تنظیموں کے کاکنوں کااغواء،کبھی ان پر ملک دشمنی کے مقدمات ، کبھی ان پر دہشت گردی کے مقدمات گو میں یہ کہہ سکتا ہوں کبھی ہماری ماؤں بہنوں کے سہاروں کو قتل کرکے رلایا جا رہا ہے کبھی بے جا مقدمات میں ملوث کرکے کبھی دہشت گرد کہہ کر کبھی اغوا کرکے ماؤں کے کلیجوں میں چھرا گھونپا جارہا ہے اور کبھی سیاسی مخالفین اور کبھی مذہبی مخالفین کے حملے، بے چاری ماؤں کو رلایا جارہا ہے بچوں کو یتیم بنایا جارہا ہے سہاگنوں کے سہاگ لوٹے جارہے ہیں بہنوں سے بھائی چھینے جارہے ہیں اتنا سب ہونے کے بعد میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں شیعہ قوم نے مادروطن پاکستان کے خلاف کبھی کچھ نہیں کیا اور نہ ہی کبھی آئین پاکستان کو پامال کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی ایسی حرکات پر یقین رکھتی ہے لیکن اس کے باوجود تسلسل سے اس کام کا جاری رہنا ملت جعفریہ کیلئے باعث تشویش تو ہے ہی سوچنے کا بھی مقام ہے کہ آخر کب تک؟؟؟؟؟؟؟

 


سید ناصرعباس شیرازی ایڈووکیٹ کو گزشتہ دنوں واپڈا ٹاؤن لاہور سے مسلح افراد نے اغوا کرلیا تاحال کوئی اداراہ ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ،یہاں دوستوں میں بحث چل رہی ہے کہ یہ ہماری کمزوری ہے لیکن میں اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں کہ یہ سب ہماری کمزوری کی وجہ سے ہورہا ہے بلکہ میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں یہ ہماری طاقت کی وجہ سے ہورہا ہے۔
مثال کے طور پر جب دہشت گردتنظیمیں کسی دہشت گردی کی کاروائی قبول کرلیتی ہیں تو کیا اس سے وہ اپنی کمزوری کا اظہار کرنا چاہتی ہیں یا طاقت کا یقیناًوہ اپنی طاقت کا اظہار کرنا چاہتی ہیں اور ان طاقتوں کو پیغام دیتی ہیں کہ ہم آپ کی طاقت سے خوفزدہ ہیں اور آپ کی تمام طاقت کو ہم نے حملہ کر کے ملیا میٹ کردیا ہے۔ دوسری طرف ریاست پاکستان اتنی کمزور ہے کہ وہ لوگوں کو اٹھا کر لے جاتی ہے اور پھر ماننے سے انکاری ہو جاتی ہے یہ یقیناًریاستی اداروں کی یا تو کمزوری ہے یا بددیانتی اگر کمزوری ہے تو اسے طاقت میں بدلنا چاہئیے اور اگر بددیانتی ہے تو یہ آئین پاکستان سے غداری کے زمرہ میں آتا ہے۔ایسی ریاست جس میں کم ازکم سات فعال ایجنسیاں کام کررہی ہوں اور بھی بہت سارے ادارے ہوں وہاں دن دیہاڑے ایک بندہ اغوا ہوجائے اور وہ کہیں ہمیں معلوم نہیں ،اس کا مطلب کیا ہے؟یہ اداروں کو خود سوچنا چاہئیے ہم جو بولیں گے شکایت ہو گی۔

 


یہ ایک بزدلانہ اقدام ہے جو مجرمانہ ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے اگر حکومت یہ کہتی ہے کہ ہمیں خبرنہیں تو حکومت کیسی؟ یہ تو جنگل ہوا جس کا جودل چاہے کرے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو لیکن یہ سیاہ دور زیادہ عرصہ نہیں چلے گا اور ہم اپنے بنیادی انسانی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والے تمام ڈکٹیٹروں سے حساب برابر کریں گے۔ لیکن میں تصویر کا ایک اور رخ بھی دکھانا چاہتا ہوں مجھے معاف کردینا جب ناصرشیرازی جیسے محب وطن ، ہمدرد قوم، شیعہ قوم کی عزت کا خواب دیکنے والے شیعہ قوم کو طاقتور بنانے کا عزم کرنے والے اس طرح دن دیہاڑے اغوا کرلئے جائیں گے اور اکابرین ملت خاموش رہیں گے تو قلم خون ہی روئے گا ۔ فضل الرحمٰن سے مصافحہ کرنے والے کسی کے خلاف پاکستان میں کوئی خلاف قانون کام ہو تو بابانگ دہل اس کا ساتھ دیتے ہیں وہ ناصر شیرازی کے اغوا پر لب کشادہ کیوں نہیں ۔۔شیعہ قوم کو لوٹنے والے لٹیرے مختلف رنگوں اور بہروپوں میں موجود ہیں لیکن اس قومی ہیرو کے ساتھ جو زیادتی اور ناانصافی ہورہی ہے اس پر خاموشی؟وہ سوچ لیں ابھی مجلس وحدت مسلمین ان کی حفاظتی دیوار ہے اگر یہ گر گئی تو آپ سب تک رسائی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اپنی ذمہ داری محسوس کرو! میں ہر عالم دین ، خطباء حضرات ،ذاکرین عظام ، تنظیمی عہدیداران اور لیڈران سے درخواست کرتا ہوں کہ سید ناصر عباس شیرازی کی بازیابی کے لئے زبان کھولیں اور نہ صرف زبان کھولیں بلکہ عملی میدان میں نکلیں اور شیعت کے خلاف ہونے والی تمام سازشوں کو ناکام بنادیں اور آنے والی نسلوں کو محفوظ پاکستان کی نوید سناتے جاؤ۔

وحدت نیوز(ہری پور) مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین خیبر پختون خوا نے جماعت کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی کی اغواء کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے اغواء میں صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ کی ایما پرصوبائی حکومت ملوث ہے جس کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ ملک کو انارکی کی طرف نہ لے کے جائے ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین خیبر پختون خوا کی صوبائی سیکرٹری جنرل راضیہ جعفری ایڈوکیٹ ،ڈپٹی سیکرٹری جنرل مسز روبینہ واجد او ر ضلعی جنرل سیکرٹری تصور نقوی نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا۔

 ان کا کہناتھا کہ سید ناصر شیرازی نے پنجاب کے صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک کیس دائر کیا جس کی پاداش میں ناصر شیرازی کو بیوی بچوں کے ہمراہ سفر کے دوران وردی میں ملبوس افراد نے اغواء کیا جن کا اس کے بعد کوئی پتہ نہیں جو کہ انتہائی افسوس ناک اور شرم ناک بات ہے پنجاب حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر اوچھے ہتھکنڈوں اتر آئی ہے جس کی مذمت کرتے ہیں اورمطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور ملک کو انارکی کی طرف نہ لے کرجائے بصورت دیگر اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے ان کا کہنا تھا کہ اگر ناصر شیرازی کو رہا نہ کیاگیا تو مرکزی قیادت کی کال پر خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ ہوں گی ۔

وحدت نیوز(مظفر آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی ایڈووکیٹ کے اغوا کے خلاف، شیعہ جوانوں کی ماورائے عدالت گرفتاریوں اور آزاد حکومت کی علامہ تصور جوادی کیس پر غفلت کے خلاف ریاست آزادکشمیر میں احتجاجی مظاہرے۔ بروز جمعہ یوم احتجاج کے طور پر منایا گیا۔ خطباء نے جمعہ کے خطبات میں احتجاج ریکارڈ کروایا۔ مرکزی احتجاجی مظاہرہ سینٹرل پریس کلب کے قریب برہان مظفر وانی چوک مظفرآباد میں ہوا، جس میں مجلس وحدت مسلمین اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزادکشمیر ڈویژن کے رہنماؤں اور کارکنوں، علمائے کرام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی۔مظاہرین نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر ناصر شیرازی کے اغوا اور علامہ تصور جوادی کیس پر آزاد حکومت کی غفلت کے خلاف نعرے درج تھے۔ شرکا ء نے پنجاب اور آزاد کشمیر کی حکومتوں کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ احتجاجی مظاہرہ سے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر مولانا سید طالب ہمدانی، ترجمان ایم ڈبلیو ایم آزادکشمیر مولانا حمید نقوی، نمائندہ آئی ایس او سید رضی عباس، رہنما ایم ڈبلیو ایم آزادکشمیر مولانا زاہد کاظمی، مولانا جواد سبزواری اور سید ممتاز حسین نقوی نے خطاب کیا۔

مقررین نے کہا مجلس وحدت مسلمین ایک ملک گیر سیاسی و مذہبی جماعت ہے اور جماعت کے مرکزی سینئر رہنما ناصر شیرازی ایڈوکیٹ کو اغوا کرکے حکومت پنجاب نے جس غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا ہے اور سیاسی و مسلکی انتقام کا مظاھرہ کیاجس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ایم ڈبلیو ایم ایک پُرامن جماعت ہے جس کا ملکی استحکام، رواداری و بھائی چارے کے فروغ میں اہم کردار رہا ہے۔اس جماعت نے ہمیشہ ایسی قوتوں کی مخالفت کی ہے جو ملک میں نفاق کا بیج بو کر وطن عزیز کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔رانا ثنا اللہ اپنے بیانات کے ذریعے عدلیہ کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا۔ اس کے خلاف ناصر شیرازی ایڈوکیٹ نے عدالت عالیہ میں پٹیشن دائر کر رکھی تھی جس پر انہیں انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے اغوا کرایا گیا ہے۔انہوں نے کہا ریاستی اداروں کو گھر کی لونڈی سمجھنے والے نا اہل حکمران اپنے انجام سے زیادہ دور نہیں ہیں۔مقررین نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک ملک گیر مذہبی و سیاسی جماعت کے سینئر رہنما کے اغوا پرسوموٹو ایکشن لیتے ہوئے ذمہ دار اداروں کو طلب کیا جائے۔ انہوں نے کہا سیکورٹی اداروں کو دہشت کی علامت بنا کرعوام کو عدم تحفظ کا شکار کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ملک میں قانون و آئین کی بجائے طاقت و اختیارات کی حکمرانی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو پھر قانون کے نام پر قانون شکنی کرنے والے عناصر کے حوصلوں کو تقویت ملتی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ ناصر شیرازی پر کسی قسم کا کوئی مقدمہ یا الزام نہیں ہے،ان کی جبری گمشدگی پنجاب حکومت کی غنڈہ گردی اور انتقامی کاروائی ہے۔ وزیر اعظم اور وفاقی داخلہ سے بھی مطالبہ کیا کہ ناصر شیرازی کی فوری بازیابی کے احکامات صادر کیے جائیں۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ریاستی اداروں کو آئین و قانون کے تابع ہونا چاہیے مگر بدقسمتی سے ادارے نا اہل حکمرانوں کی اطاعت میں پیش پیش ہیں۔ ملت تشیع کے سینکڑوں نوجوان کئی سالوں سے جبری گمشدہ ہیں۔انہیں نہ تو عدالتوں میں پیش کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ان کے اہل خانہ کو ان کی خیریت سے آگاہ کیا جارہا ہے۔جو بنیادی انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ملت تشیع کے تمام نوجوانوں کو فوری بازیاب کیا جائے۔ مقررین نے علامہ تصور جوادی پر حملہ کرنے والوں کی عدم گرفتاری پر بھی آزاد حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ نو ماہ گزر جانے کے بعد ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ آزادکشمیر حکومت نا اہل ہے۔ ریاست کے امن کے ساتھ کھیلنے والوں کو گرفتار نہ کیا جانا باعث تشویش ہے۔ کیا یہ حکمران اسلم رئیسانی کا انجام بھول گئے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ علامہ جوادی پر حملہ کرنے والوں کو جلد از جلد گرفتار کرتے ہوئے سامنے لایا جائے بصورت دیگر شہری سڑکوں پر نکلنے اور تمہارے ایوانوں کا گھیراؤ کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

وحدت نیوز(پاراچنار) مجلس وحدت مسلمین پاراچنار کی جانب سے ناصر عباس شیرازی کے اغوا اور تفتان سرحد پر پھنسے زائرین کو درپیش مشکلات کے خلاف پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ایم ڈبلیو ایم کیجانب سے ناصر عباس شیرازی کے اغوا اور تفتان سرحد پر پھنسے زائرین کو درپیش مشکلات کے خلاف پاراچنار پریس کلب میں احتجاجی پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ایم ڈبلیو ایم کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ناصر عباس شیرازی کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا گیا۔ پاراچنار پریس کلب میں پریس کانفرنس سے ایم ڈبلیو ایم کرم ایجنسی کے سیکرٹری جنرل شبیر ساجدی، مسرت حسین منتظر، علامہ باقر حیدری، علامہ مزمل اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ناصر عباس شیرازی کے اغوا کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ایم ڈبلیو ایم کے رہنماؤں نے کہا کہ معزز شہریوں کا اغواء پنجاب حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور شہباز شریف و رانا ثناء اللہ اپنے جرائم چھپانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔ شبیر ساجدی کا کہنا تھا کہ ناصر عباس شیرازی کو ملک بھر سے لاپتہ افراد کے حق میں بولنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت بیرونی اشاروں پر ناچنا بند کر دے اور ناصر عباس شیرازی کو فی الفور بازیاب کرایا جائے۔ ایم ڈبلیو ایم کے رہنما شبیر ساجدی نے تفتان بارڈر پر پھنسے زائرین کی مشکلات حل نہ کرنے پر بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت زائرین کے امیگریشن پراسس اور دیگر مسائل کے حل کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے، تاکہ زائرین چہلم شہدائے کربلا میں شرکت کے لئے بروقت کربلا معلٰی پہنچ سکیں۔

وحدت نیوز (بھکر) مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع بھکر کا ہنگامی اجلاس سفیر حسین شہانی شہانی ایڈووکیٹ کی زیرصدارت ہوا جس میں پوری قوم کی ترجمانی کرتے ہوئے اظہار کیا گیا کہ ملک بھر میں ایک عرصہ سے بغیر قصور کے نوجوانوں کو غائب کیا جا رہا ہے اور آج تک انہیں سامنے نہیں لایا گیا۔ اگر کسی کا کوئی قصور ہے تو مقدمہ درج کر کے عدالتوں میں پیش کیا جائے اور ملکی قوانین پر عمل کیا جائے۔ اس مسئلہ پرملت تشیع میں تشویش پھیل رہی ہے، اگریہ سلسلہ جاری رہا تو ملک میں انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے فطرت کا مسلمہ اصول ہے کہ کوئی معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے گمر ظلم پر نہیں۔مسلم لیگ (ن) پانامہ ایشو پر نااہل وزیر اعظم کے دفاع کے علاوہ پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کے مسائل پر بھی توجہ دے۔ تین روز قبل لاہور واپڈا ٹائون سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ناصر عباس شیرازی ایڈووکیٹ کااغوا حکومتی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔ناصر عباس شیرازی جو کہ ایڈووکیٹ ہائی کوٹ ہیں ، محب وطن اور باصلاحیت شخصیت کا دن دیہاڑے اغواہ ہونا قابل مذمت ہے، ان کے اغوا میں سیاسی مخاصمت شامل ہے کیونکہ انہوں نے صوبائی وزیر رانا ثناء اللہ پر اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کرنے پر رٹ پٹیشن دائر کر رکھی ہے ۔ اجلاس میں ملکی سطح کی سیاسی جماعتوں اور رہنمائوں کی طرف سے بے جا سیاسی گرفتاری پر آنے والے مذمتی بیانات کو خوش آئندقر ارد یا گیا۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جمہوری قدروں کی بقا کا تسلسل ہے ۔ اجلاس میں ناصر عباس شیرازی کی جلد از جلد رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

وحدت نیوز(رانی پور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندہ کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ مقصودعلی ڈومکی نے رانی پور نیشنل پریس کلب میں ضلعی رہنما ضمیر حسین، بیگ علی جعفری اور پرویز احمد خاکی کے ہمراہ پریس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما سید ناصر عباس شیرازی کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصودعلی ڈومکی نے کہا ہے کہ ن لیگ کی صوبائی حکومت انتقامی کاروائیوں پر اتر آئی ہے، صوبائی دارالحکومت میں سید ناصر عباس شیرازی کی اغوا نما گرفتاری ، لاقانونیت کی انتہا ہے۔ پوری قوم کو اس اغوا نما گرفتاری پر شدید تشویش ہے۔ رانا ثناء اللہ اور پنجاب حکومت کی انتقامی کاروائیاں افسوس ناک ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن سے لے کر سید ناصر شیرازی کے اغوا تک ن لیگ اور پنجاب حکومت کا مجرمانہ کردار نا قابل قبول ہے۔ سید ناصر عباس شیرازی کا اغوا ریاستی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ لاہور کے مین روڈ پر اپنے اہل خانہ کی موجودگی میں ملکی سطح کے ایک سیاسی رہنما کا اغوا ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ایڈوکیٹ سید ناصر شیرازی کے اغوا کا از خود نوٹس لیں۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کا جبر اس کے زوال کا سبب بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندہ کے بہادر عوام اور مجلس وحدت مسلمین کے کارکن قائد وحدت کے ہر حکم پر لبیک کہنے اور احتجاجی تحریک چلانے کے لئے آمادہ ہیں۔

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکریٹری سیاسیات علی حسین نقوی نے کہا ہے کہ ناصر شیرازی کے اغوا میں نواز شریف،شہباز شریف، حمزہ شہباز،رانا ثنا اللہ اور سی ٹی ڈی کے سربراہ رائے محمد طاہر ملوث ہیں اور مغوی رانا ثنا اللہ اور رائے طاہرکے نجی ٹارچر سیل میں قید ہیں۔وزیر اعظم،چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف اس لاقانونیت کا نوٹس لیتے ہوئے ناصر شیرازی اور ملت تشیع کے دیگر جبری گمشدہ افراد کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ ایک بیان میں ایم ڈبلیو ایم سندھ کے سیکریٹری سیاسیات کا کہنا تھا کہ جمہوریت کو خطرے کا واویلا کرنے والے نون لیگی حکمران اس ملک میں فسطائیت چاہتے ہیں،ریاستی اداروں کو اپنے گھر کی لونڈی بنایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم قانون کی عملداری پر یقین رکھتے ہے،ہم اپنے شہدا کے سو سو جنازے لے کر سڑکوں پر بیٹھے رہے،ہمارے نوجوانوں کو شناختی کارڈ چیک کر کے بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا جاتا رہا،ہم نے سیاسی مذہبی جماعت ہونے کے ناطے ہمیشہ قانون و آئین کی بالادستی کی بات کی،اس ملک میں محبت و اخوت کے فروغ میں ہمارا کردار روز روشن کی طرح آشکار ہے،ہم اقلیتوں کے پاس بھی گئے تا کہ دنیا کو پتا چلے کہ پاکستان میں مذہبی رواداری اور بھائی چارہ قائم ہے۔ علی حسین نقوی نے مزید کہا کہ جمہوری اقدار اور قانون کا راگ الاپنے والے قانون شکنوں نے ملت تشیع کی زبان بندی میں ناکامی پر انتقام کا نشانہ بنانا شروع کر دیا، حکمرانوں کو اپنے ہر ظلم کا جواب دہ ہونا پڑے گا۔اللہ کے قانون سے یہ ظالم کبھی نہیں بچ سکیں گے۔

جبری گمشدگی، اغوا اور بے حسی

وحدت نیوز(آرٹیکل) مسائل کے حل کا تعلق دِل و دماغ سے ہے، اس کام  کے لئے صاف دِل اور شفاف دماغ چاہیے۔جو دِل احساس کی دولت سے عاری ہو وہ انسانی مسائل کو حل نہیں کرتا بلکہ بڑھا دیتا ہے۔

2005میں پاکستان میں دنیا کی تاریخ کا چوتھا بڑا زلزلہ آیا۔ اعداد و شمار کے مطابق  سب سے زیادہ ہلاکتیں آزاد کشمیر اور پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ہوئیں، جن کی تعداد 74,698  ہے۔ یہ اموات 1935 کوئٹہ میں  ہونے والے بدترین زلزلے سے بھی کئی گنا زیادہ ہیں۔  

اس زلزلے کے دوران ایک سکول کے  ملبے کےنیچے تقریبا دو سو بچے دب گئے۔ سکول کے ہمسائے میں رہنے والے ایک شخص سے یہ منظر دیکھا نہ گیا، وہ جان پر کھیل کر ملبے کو پیچھے ہٹاتا ہوا خود بھی ملبے میں دفن ہوتا چلا گیا۔ کچھ دیر بعد اس نے اپنے آپ کو دبے ہوئے بچوں کے درمیان پایا۔ اُن میں اس کی اپنی بھی ایک بیٹی اور بیٹا تھا۔ وہ دونوں کو دیوانہ وار پکار رہا تھا، اتنے میں اس کے بیٹے  نے پکارا ابّو ۔۔۔ابّو۔۔۔

باپ نے حسرت سے اپنے بچے کو دیکھا اور پھر اس کے ارد گرد دوسرے  سسکتے ہوئےبچوں پر نظر پڑی، اتنے میں اس نے سوچا کہ یہ بھی تو کسی کے جگر کے ٹکڑے بکھرے ہوئے ہیں،   اس نے اپنے بچے کو چھوڑ کر دوسروں کے بچوں کو نکالنا شروع کر دیا۔ جب اپنے بچے اور بچی کے پاس پہنچا تو وہ دونوں مر چکے تھے۔

یہ کوئی ناول یا افسانہ نہیں بلکہ  انسانی تاریخ کا ایک سچا واقعہ ہے۔، ایسے ہی لوگ انسانی تہذیب کی میراث ، انسانی اقدار کا سرمایہ اور انسانی سماج کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں۔

جبکہ اس زلزلے میں ایسا بھی ہوا کہ زخمیوں کے ہاتھ کاٹ کر انگوٹھیاں اتار لی گئیں،  امدادی ٹرکوں کو اسلحے کی نوک پر  گوداموں میں ذخیرہ کیا گیا، اور ایک صاحب کے مطابق جب وہ کمرتک ملبے میں دب چکے تھے تو ایسے میں انہوں نے ایک شخص کو گزرتے دیکھا اور اسے آواز دی کہ خدارا مجھے یہاں سے نکالو۔ وہ قریب آیا اور پھنسے ہوئے شخص کی جیب کی تلاشی لی، سائیڈ والی جیب کے گرد سے پتھر ہٹائے، رقم نکالی اور زخمی کو وہیں ، اسی حالت میں پھنسا ہواچھوڑ کر چلا گیا۔

افسوس کہ اس طرح کے بے حس لوگ بھی اسی سرزمین پر جیتے ہیں اور انسان کہلواتے ہیں۔

آج جب کوئی خاتون یہ فریاد کرتی ہے کہ کتنے سالوں سے میرا شوہر لاپتہ ہے، جب کوئی بچی واویلا کرتی ہے کہ میرا باپ اغوا ہو گیا ہے اور جب کوئی نونہال خون کے آنسو روتا ہے کہ ہمارے گھر کا چولہا بجھ گیا لیکن اُن کی چیخ و پکار سےسرکار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، ان کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی، کہیں مقدمہ نہیں چلتا، کہیں از خود نوٹس نہیں لیا جاتا، کہیں اس پالیسی کو تبدیل کرنے کی بات نہیں ہوتی تو  میں ۲۰۰۵ کے زلزلے کے مناظر میں کھوجاتا ہوں جہاں ایک طرف انسانیت ، ہمدردی اور ایثار کی تاریخ رقم ہو رہی تھی جبکہ دوسری طرف بے حسی، مفاد پرستی  اور لوٹ مار کے ریکارڈ توڑے جا رہے تھے۔

اس وقت ہمارے ملک کو چاروں طرف سے مسائل و مشکلات نے گھیر رکھا ہے، عالمی تناظر میں ہونے والی تبدیلیاں ایک طرف تو دوسری طرف داخلی طور پر دہشت گردی، نظام تعلیم، صحت عامہ،ملکی دفاع، اداروں کے اندر کرپشن ۔۔۔ اور نجانے ان گنت مسائل ۔۔۔ ، چاہیے تو یہ کہ ہمارے  ملکی ادارے بتدریج ان مسائل کو حل کریں لیکن بے حسی کا یہ عالم ہے کہ مسائل کو بتدریج حل کرنے کے بجائے بگاڑا جا رہا ہے۔

دانشوروں اور اربابِ دانش کے ساتھ مل بیٹھ کر مسائل کو حل کرنے کے بجائے سروں کی فصل کاٹی جارہی ہے اور لوگ مسلسل لاپتہ اور گُم ہو رہے ہیں۔  پانچ دن پہلے دی نیوز اور جنگ کے انوسٹی گیٹو رپورٹر احمد نورانی پر حملہ کیا جاتا ہے اور تین دن پہلے  ایڈوکیٹ ناصر شیرازی کو اغوا کر لیا جاتا ہے۔ایک صحافی ہے اور دوسرا وکیل، صحافی کا قصور  شفاف رپورٹنگ تھا اور وکیل کا جرم مسنگ پرسنز کے لئے آواز اٹھانا  اور وزیرِ قانون کو آئینہ دکھانا تھا۔

ہمارے ہاں اب کس میں جرات ہے کہ وہ اپنے متعلقہ پیشے کا حق ادا کرنے کی سوچے۔اب کوئی صحافی ہو یا وکیل  اگر اپنے پیشہ وارانہ اصولوں پر چلے گا تو اسے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

اس وقت پاکستانی قوم بے بسی اور بے حسی کے زلزلے میں دبی ہوئی ہے۔ہر روز  سرکاری دفاتر میں  کچھ بے حس لوگ  آتے ہیں، عوام کی جیبیں صاف کرتے ہیں اور پھر  انہیں وہیں مسائل میں چھوڑ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ افسوس کہ اس طرح کے بے حس  لوگ بھی اسی سرزمین پر جیتے ہیں اور انسان کہلواتے ہیں۔

اب ہم سب کو اپنی زبان و بیان سے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس ملک کی تاریخ میں ہم نے انسانیت، ایثار، محبت اور احساس کی شمعیں جلانی ہیں یا پھر بے حسی اور مفاد پرستی کی تاریخ رقم کرنی ہے۔


تحریر۔۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز( آرٹیکل) خامس آل عبا امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت اور مصیبت اس قدر عظیم تھی کہ گریہ و زاری آپ  کے نام سے ملی ہوئی تھی اورجس طرح حریت،شجاعت، غیرت، دفاع از دین وغیرہ، امام حسین علیہ السلام کے نام سے ملی ہوئی ہیں۔اس دلخراش حادثے نے نہ صرف اہل اسلام کو متاثر کیا بلکہ عرشیان اورساکنان آسمان کے لئے یہ حادثہ سنگین ترہوا۔[ و جلت و عظمت المصیبۃبک علینا و علی جمیع اہل السلام و جلت و عظمت المصیبۃ بک علینا و علی جمیع اہل السموات]
تاریخچہ عزاداری مظلومیت امام حسین علیہ السلام کوہم تین حصوں میں تقسیم کر کے ہر  ایک  پرقسم مختصرروشنی ڈالیں گے۔

1۔ امام حسین علیہ السلام کی ولادت سے قبل ان کے لئے عزاداری:
روایت میں ہے کہ انبیاء الہی امام علیہ السلام کی ولادت  سے کئی ہزار سال پہلے جب ماجرائے کربلا سے باخبر ہوئے تو ان کی مظلومیت پر گریہ کیا۔روایت میں ہے کہ جب جبرئیل[ع]حضرت آدم علیہ السلام کو توبہ کرنے کے لئے کلمات کی تعلیم دے رہے تھے اور جب انہوں نے خداوند متعال کو پانچ مقدس اسماء سے پکارا،اور جب نام امام حسین علیہ السلام پر پہنچے تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ایک خاص کیفیت ان پر طاری ہو گئی ۔

 جناب آدم [ع]جبرئیل سے پوچھتے ہیں کہ میں جب پانچویں شخصیت پر پہنچاتونہیں معلوم کیوں ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی اور آنسو جاری ہوگئے ؟جبرئیل[ع] کہتے ہیں اس شخصیت پر ایک عظیم مصیبت آئے گی کہ تمام مشکلات و مصائب اس مصیبت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہیں   ۔انہیں  غریبانہ بالب تشنہ بغیریارو مدد گار شھید کر دیا جائے گا ۔جبرئیل امام حسین علیہ السلام اور انکے خاندان پرڈھائے جانے والے مصا ئب حضرت آدم علیہ السلام کو بیان کرتے ہیں یہاں تک کہ جبرئیل [ع] وآدم [ع] مثل مادر[فرزند مردہ]ان پر روتے ہیں {فبکی آدم و جبرئیل بکاء الثکلی }اور جب خداوند متعال نے حضرت موسی[ع] کے لئے امام حسین علیہ السلام کی مظلومانہ شھادت اور اہل حرم کی اسیری اور سر شھداء کا مختلف شھروں میں پھیرانے کی خبرسنائی تو حضرت موسی علیہ السلام نے بھی گریہ و زاری کیا ۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے بھی جب جبرئیل[ع] سے پانچ مقدس شخصیات کے نام سیکھ لئے اور جب امام حسین علیہ السلام کا اسم مبارک انکی زبان سے جاری ہوا تو ایک عجیب سی حالت  ان پر طاری ہو گئی اور اشک جاری ہوئے۔خداوند متعال سے عرض کی خداوندا! کیوں جب ان چہار مقدس شخصیات کے نام لیتا ہوں توغم و اندوہ مجھ سے ختم ہو جاتا ہے لیکن جب حسین علیہ السلام کا نام میری زبان پر جاری ہوتا ہے تو آنسو جاری ہو جا تے ہیں؟خداوند متعال  نے مصائب امام حسین علیہ السلام میں سے بعض مصائب حضرت زکریا علیہ السلام کو سنائے اور جب حضرت زکریا علیہ السلام ان مصائب سے آگاہ ہوئے تو تین دن تک مسجد سے باہر نہیں آئے اور لوگوں سے بھی ملاقات نہیں کی اور ان تمام مدت میں امام حسین علیہ السلام کی مصیبت پر گریہ و زاری کی۔
  روایت میں منقول ہے کہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : جب حضرت عیسی علیہ السلام ا پنے حواریوں کے ساتھ کربلا کی سر زمین سے گزرے تو گریہ کرنا شروع کردیا  ۔حواریین نے بھی حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ گریہ شروع کردیا  اور جب حواریین نے حضرت عیسی علیہ السلام سے گریہ کی وجہ پوچھی تو حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا : اس سر زمین پر پیامبر اسلام [ص]اور فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیہا کا فرزند قتل کیا جائیگا۔

2۔ حضرت امام حسین علیہ السلام پر انکی ولادت کے بعد عزاداری:
امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام علی علیہ السلام اور حضرت زھراء[س] جب انکی مظلومیت سے آگاہ ہوئے تو ان کی مظلومیت پر گریہ و زاری کی ۔

رسول خدا [ص]کا گریہ:
روایت میں ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی ولادت کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  حضرت زھراء[س]کےگھر تشریف لے گئے اور اسماء سے فرمایا: میرے بیٹے کو لے آو۔اسماء نے امام حسین علیہ السلام کو ایک سفید کپڑے میں ملبوس کر کے رسول خدا[ص]کو دیا ۔پیغمبر اکرم [ص] نے امام حسین علیہ السلام کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اور انہیں آغوش میں لے کر گریہ کیا ۔ اسماءنقل کرتی ہیں جب میں نے حضرت[ص] سےپوچھا کہ میرے ماں باپ آپ[ص] پر فدا ہو جائیں آپ کیوں گریہ کر رہےہیں ؟آپ[ص] نے فرمایا: اس فرزند کی خاطر رو رہا ہوں ۔اسماء کہتی ہیں یہ فرزند تو ابھی ابھی متولد ہوا ہے اس پر آپ [ص]کو خوشحال ہونا چاہیے ۔آپ[ص] نے فرمایا [ تقتلہ الفئتہ الباغیتہ من بعدی لا انا لھم اللہ شفاعتی] میرے بعد ان کو ایک گروہ ستم کار شھید کرے گا کہ ہرگز خداوند متعال انہیں میری شفاعت نصیب نہیں کرے گا۔ اسکے بعد آپ[ص] نے فرمایا [یا اسماء لا تخبری فاطمۃ بھذا فانھا قریبتہ عھد بولادتہ]اے اسماء فاطمہ [س]کو اس سے آگاہ نہیں کرنا چونکہ وہ ابھی تازہ اس بچے کی ماں بنی ہے ۔

امام علی علیہ السلام کا امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت پر گریہ:
ابن عباس نقل کرتے ہیں کہ میں اورامیر المومنین علی علیہ السلام صفین جاتے وقت ساتھ تھے اور جب نینوا کے مقام پر پہنچے تو بلند آواز میں مجھ سے فرمایا : اے ابن عباس اس مکان کو پہچانتے ہو ؟ میں نے عرض کی میں نہیں جانتا ہوں ۔فرمایا :اے ابن عباس جس طرح میں اس سر زمین کو جانتاہوں اسی طرح تم اسکے بارے میں جانتے تو حتما میری طرح گریہ کرتے ہوئے اس سر زمین سے گزرتے۔ اسکے بعد امام علیہ السلام کافی دیر تک گریہ کرتے رہے یہاں تک آنسو آپکی محاسن سے سینہ مبارک کی طرف سرازیر ہوگئے ۔میں بھی امام علیہ السلام کے ساتھ گریہ کرنے لگا امام[ع] نے اسی حالت میں فرمایا وای ،وای ابوسفیان کو مجھ سے کیا کام ؟مجھے آل حرب سے کیا کام؟یہ لوگ حزب شیطان اور اولیائے کفر ہیں ۔اے ابا عبد اللہ صبر کرو چونکہ آپکے والد کو بھی اسی گروہ سے وہی ظلم و ستم پہنچے گے جس طرح تمھیں پہنچے گے۔[اوہ اوہ مالی و لآل سفیان؟ مالی و لآل حرب حزب الشیطان؟ و اولیاء الکفر؟صبرا یا ابا عبد اللہ فقد لقی ابوک مثل الذی تلقی منھم]

گریہ حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیہا
جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے شھادت امام حسین علیہ السلام اور انکے مصائب کی خبر اپنی بیٹی کو سنائی تو حضرت زھراء [س] نے سخت گریہ کیا اور اسکے بعد اپنے والد سے پوچھتی ہیں کہ یہ ماجرا کس زمانے میں واقع ہوگا ؟ رسول خدا [ص]نے فرمایا : یہ حادثہ اس زمانے میں رونما ہو گا جب نہ میں اس دنیا میں ہونگا اور نہ تم اور نہ علی اس دنیا میں ہو نگے ۔جب یہ سنا تو حضرت فاطمہ[س] شدید گریہ کرنے لگیں اسکے بعد رسول خدا[ص]نے انہیں امت کی طرف سے امام حسین علیہ السلام اور شھداء کربلا کے لئے عزاداری کی خبر دی اور اس گریہ و زاری کی جزاء بھی بیان فرمائی۔

3۔ امام حسین علیہ السلام پر ان کی شہادت کے بعد عزاداری:
آخر کار ابتدائے خلقت میں اولیاء الھی کو جس دلخراش و دلسوزناک واقعے کی اطلاع دی گئی تھی وہ61ہجری کو سر زمین کربلا پر واقع ہوا ۔وہ حادثہ جو واقع ہو نے سے پہلے ہی اشکوں کو جاری کر دیتا تھا دسویں محرم 61ہجری کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مومنین کے دلوں میں آگ کی طرح حرارت وجود میں لے کر آیا جو قیامت تک خاموش نہیں ہوگی۔اس قدر یہ حادثہ المناک تھا کہ روز عاشورا کو روز عزاداری و سوگواری میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تبدیل کر دیا۔آج تک یہ سلسلہ جاری و ساری ہے اور رہیگا چونکہ امام صادق علیہ السلام   نے فرمایا:[ ان القتل الحسین حرارۃ فی قلوب المومنین لا تبرد ابدا] یقینا امام حسین علیہ السلام کی شہادت نے مومنین کے دلوں میں ایسی حرارت بھر دی ہے جو کبھی بھی خاموش نہیں ہوگی ۔9

جب اہل حرم کی نظر شہداء کے جسموں پر پڑی تو فریاد کرنے لگے اس وقت زینب بنت علی[س] بھی فریاد کرنی لگی۔]وا محمداہ صلی علیک ملیک السماء ھذا حسین مرمل بالدماء مقطع الا عظاء و بناتک سبایا [اے پیغمبر ،درود خدا ہو آپ[ص] پر :یہ آپ کا فرزند حسین[ع] ہے جو اپنے خون میں غلطان ہے اور انکے جسم کو قطعہ قطعہ کیا گیا ہے اور یہ آپ[ص]کی بیٹیاں ہیں جو اسیر ہو چکی ہیں ۔ زینب بنت علی[س] نے جب گریہ شروع کیا تو منقول ہے کہ [فابکت واللہ کل عدو و صدیق]خدا کی قسم دوست و دشمن سب گریہ کرنے پر مجبور ہوئے اور سب نے گریہ کیا۔

اسیروں کے کاروان کو کوفہ و شام لے جانے کے بعد امام سجاد علیہ السلام اور حضرت زینب[س] کے خطبوں نے شہر دمشق میں ہلچل مچا دی ، یہاں تک کہ یزید کے محل میں ہی مراسم عزاداری برپا ہوئی اور اموی خاندان کی عورتوں نے بھی مراسم میں شرکت کی اور یہ برنامہ تین تک دن جاری رہا ۔[فخرجن حتی دخلن دار یزید فلم تبق من آل معاویہ امراۃ الا استقبلھن تبکی و تنوح علی الحسین فا قاموا علیہ المناحۃ ثلاثا]
امام حسین علیہ السلام کی عزاداری ائمہ علیہم السلام کے زمانے میں:

امام حسین علیہ السلام کی عزادری امام باقر علیہ السلام اور امام صادق علیہ السلام کےزمانے میں  بھی منعقد ہوا کرتی تھی ۔کمیت اسدی امام باقر علیہ السلام کی خدمت میں شھداء کربلا پر مرثیہ سرائی کرتےیہاں تک امام علیہ السلام کے آنکھوں سے اشک جاری ہو جاتے۔امام صادق علیہ السلام ابو ہارون مکفوف سے امام حسین علیہ السلام پر مرثیہ خوانی کے لئے فرمایا: اور ابو ہارون مرثیہ خوانی شروع کی۔

امرر علی جدث الحسین
فقل لا عظمہ الزکیتہ
امام[ع] کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں آخر میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں[یا ابا ہارون من آنشد فی الحسین فابکی عشرۃ فلہ الجنۃ]اے ابا ہارون جو کوئی امام حسین علیہ السلام پر مرثیہ خوانی کرے گا اور دس افراد کو رلائے گا اس کی جزا جنت ہے ۔امام رضا  علیہ السلام نے  دعبل خزاعی سے فرمایا: اے دعبل ایام  عاشورا ہمارے لئے بہت غمگین و اندوھناک ہیں لذا اسی مناسبت سے  چند اشعار پڑھو ۔

دعبل نے مرثیہ خوانی شروع کی اور امام[ع] نے اپنے جد بزرگوار پرگریہ کیا   ۔

غم امام حسین علیہ السلام میں نہ صرف انسان بلکہ فرشتے اور آسمان والوں نے بھی گریہ و زاری کیا ۔٦١ ہجری سے آج تک غم حسین علیہ السلام میں آنسو بہائے جا رہے ہیں اور ہر سال یہ مراسم پر رونق تر ہو رہیں ہیں اس لئے کہ حسین علیہ السلام نے درس بندگی اور درس آزادی دیا ۔آج جسے بھی امام حسین علیہ السلام کی ذرہ برابر معرفت ہو وہ بھی اس عظیم کاروان میں شامل ہو جاتا ہے جس کاروان کا امیر رسول خدا [ص]،علی مرتضی[ع] ،زھرامرضیہ [س]حسن مجتبی[ع] اور باقی ائمہ علیھم السلام اور بالخصوص امام زمان علیہ السلام ہیں جو فرماتے ہیں :[فلا ندبنک صباحا و مساء و لا بکین علیک بدل الدموع دما حسرۃ علیک و تا سفا و تحسرا علی ما دھاک و تلھفا حتی اموت بلوعۃ العصاب و غصۃالاکتیاب]

یعنی اے میرے جد مظلوم و غریب !اس قدر تجھ پر صبح و شام گریہ کروں گا اور اس قدر رووں گا کہ آنسووں کے بدلے آنکھوں سے خون رواں ہو گا ۔ایسا رونا جس کی بنیاد تجھ پر حسرت و افسوس ، غم و اندوہ اور جگر سوز ہے۔اس المناک اور دردناک عظیم سانحہ کی وجہ سے جو تیرے ساتھ پیش آیا۔یہاں تک کہ تیری اس جگر سوز اور اندوہناک مصائب کی وجہ  سے قریب ہے کہ میری روح پرواز کر جائے۔

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین


منابع:
١۔زیارت عاشورا
٢۔بحارالانوار،ج٤٤،ص٢٤٥
٣۔معالی السبطین،ج١ص١٨٦
٤۔احتجاج طبرسی،ج٢،ص٥٢٩
٥۔بحار الانوار،ج٤٤،ص٢٥٣
٦۔بحار الانوار،ج٤٣،ص٢٣٩
٧۔بحار الانوار،ج٤٤،ص٢٥٢
٨۔بحار الانوار،ج٤٤،ص٢٩٢
٩۔مستدرک الوسائل ،ج١٠ص  ٣١٨      
١٠۔بحارالانوار،ج٤٥،ص٨١کامل بن اثیر  ، ج ٤ ،ص٨١
١١۔تاریخ طبری،ج٤٥ص١٤٢
١٢۔بحار الانوار،ج٤٤،ص٢٨٧
١٣۔زیارات ناحیہ۔

تحریر۔۔۔۔محمد لطیف مطہری کچوروی

وحدت نیوز(آرٹیکل) اس وقت جب ہم لوگ اربعین امام حسین ؑ کے پروگرام فائنل کرنے میں مصروف ہیں ،کسی نے کربلا جانا ہے اور کسی کو اپنے ہاں مجلس ،جلوس،نیاز،ماتم داری کا اہتمام کرنا ہے،کوئی جلوسوں کو پر امن بنانے کیلئے سیکیورٹی معاملات کو آخری شکل دے رہا ہے،ہماری قوم پر ایک شدید وار پنجاب کے حکمرانوں کی طرف سے کیا گیا ہے،،گذشتہ شب یہ خبر ملی کہ مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل جو ایک وکیل اور سابق طالبعلم رہنما کے طور پہ بھی جانے جاتے ہیں کو کالے ڈبل کیبن والی پارٹی نے زبردستی ان کے گھر کی نزدیکی مارکیٹ سے اس وقت اغوا کیا ہے جب ان کی فیملی اور گارڈ بھی ہمراہ تھے،یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح ہر سو پھیل گئی اور اس پر رد عمل آنا شروع ہوا،ظاہر ہے مجلس وحدت جو اس وقت اہل تشیع کا سب سے فعال اور مربوط قومی پلیٹ فارم ہے جس کی فعال ترین شخصیت کو بے جرم و خطا انتہائی بھونڈے ا نداز میں اٹھالیا جانا کسی بھی طور مناسب نہیں بلکہ ایسے اشتعال انگیز اقدام کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اور اس کے ذمہ داروں کو کورٹ میں لایا جانا چاہیئے، سید ناصر عباس شیرازی کوئی عام کارکن یا معمولی فرد نہیں وہ ایک تاریخ ہے جس نے زمانہ اسکول سے شیعہ قومیات میں حصہ لینا شروع کیا اور یونیورسٹی کے زمانہ میں پورے پاکستان کے طلبا کی قیادت کی،جبکہ موجودہ قومی پلیٹ فارم تشکیل دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا،حقیقت یہ ہے کہ ہمارے حکمران چاہے ان کا تعلق پنجاب سے ہو یا مرکز سے،ہماری خفیہ ایجنسیاں ان کا تعلق فیڈرل سے ہو یا صوبے یہ توقع نہیں رکھتی تھیں کہ شیعہ قوم ایک بار پھر ابھر آئے گی اور اپنے مسائل کے حل اور ایشوز منوانے کیلئے سٹریٹ پاور کی سیاست کر سکے گی،جب مجلس وحدت مسلمین کا قیام عمل میں آیا تو اس قومی پلیٹ فارم نے عوامی ترجمانی کا حق ادا کیا،اور اپنی بھرپور فعالیت سے ڈیرہ اسماعیل خان،پاراچنار،ہنگو،کوئٹہ،اور ملک کے دیگر ان علاقوں جہاں شیعیان حیدر کرار ؑ کا قتل  بے دریغ اورآئے روز کی مشق بن چکا تھا ان علاقوں کے یوتھ کو فعال بنانے میں ایک کردار ادا کیا۔مجوروں اور مظلوموں کی آواز کو اسلام آباد کے ایوانوں تک پہنچایا۔بکھری ہوئی قوم کو یکجا کیا،امیدیوں کے بادلوں کو امید میں تبدیل کیا،علما ء سے فرار کر جانے والے قوم کے نوجوانوں کو ایک بار پھر علما ء پر اعتماد کی صورت میں مجتمع کیا،ملت کی دبا دی گئی آواز کو ایک طاقت می تبدیل کیا،اسی طاقت نے دینی و مکتبی اجتماعات کیساتھ سیاسی پلیٹ فارم پر بھی اپنے لوہے کو منوایا،اور پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے پہلی بار بھرپور روبط قائم ہوئے اور قومی وزن محسوس کیا جانے لگا،وہ لوگ جو اپنے علاقوں سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیئے گئے تھے ایک بار پھر اپنے آبائی علاقوں میں واپس لوٹ آئے اور ان کا ٹوٹا ہوا اعتماد بحال ہوا،قوم نے مجلس وحدت  مسلمین کی شکل میں اپنے مسائل کا حل سمجھا تو قائدین کو بھی اعتماد ملااور انہیں بڑے فیصلے کرنے کی ہمت بڑھی اسی حوالے سے ہم نے دیکھا کہ مجلس وحدت مسلمین نے سولہ برس کے بعد مینار پاکستان کے سائے تلے ایک قومی اجتماع کا اعلان کیا،یہ اجتماع اگرچہ سخت گرمی میں منعقد ہوا مگر قوم اور قائدین کو داد دینا پڑے گی کہ دونوں طرف سے بھرپور ذمہ داری کا مظاہرہ کیاگیا،اور علماء ،ذاکرین،عمائدین،اور عوام نے اتنی بڑی تعداد میں شرکت کی کہ دشمن کے منہ کھلے رہ گئے،ایجنسیوں اور سازشیوں کی انگلیاں دانتوں تلے دبی ہوئی دیکھی گئیں،اور پھر ہم نے دیکھا کہ سازشیں شروع ہو گئیں،کہ کسی بھی طرح یہ قوم اکٹھی نا ہو،منظم نا ہوسکے اور پاکستان میں ایکبھرپور قومی کردار ادا نہ کر سکے،اسی دوران یمن پر سعودیہ نے حملہ کیا،عراق و شام میں دولت اسلامیہ کے نام سے عالمی دہشت گردوں کا ٹولہ سامنے آیا اور اسلام کی ایک انتہائی مکروہ شبیہ پیش کی،جسے عالمی استعمار کی مکمل سرپرستی اور حمایت حاصل رہی،پاکستان کے نوجوانوں میں بھی عراق و شام کے جہادی جذبوں کے اثرات مرتب ہوئے،مزارات آئمہ کے تحفظ کے عنوان سے مجلس وحدت مسلمین نے بھرپور تحریک چلائی اور ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے عملی آمادگی کا اظہار کیا۔
    
ہمارے ملک میں عجیب طریقہ رائج ہے کہ ملک کے سیکورٹی اداروں کو ناکوں چنے چبوانے والے دہشت گردوں کو تو کھلا چھوڑا جا سکتا ہے ان سے تو مزاکرات کا دور چلایا جا سکتا ہے مگر اہل تشیع پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا،یہ بعض انتہائی موثر لوگوں کی ایک ایسی پالیسی ہے جو ضیا ء کے دور سے چلی آ رہی ہے،اور اس کا خمیازہ ہم ہمیشہ بھگتتے چلے آ رہے ہیں،اسی پالیسی کے نتیجہ میں ایک بار پھر ہمیں توڑنے کی سازشیں ہوئیں،اور ایک منظم قومی پلیٹ فارم کو مختلف قسم کے الزامات کے تحت مشکلات کا سامنا کرنا پرا حتی یہ کہ اگر کسی ایریا میں ایک بندے نے ذمہ داری کا حلف اٹھایا تو دوسرے دن اسے استعفے دینا پڑا یعنی اسے اس قدر ڈرایا گیا کہ وہ بیچارہ اپنی جان بچانے کیلئے سائیڈ پہ ہو گیا،چنیوٹ،جھنگ،کوئٹہ،پشاور،اسلام آباد،فیصل آباد،خانیوال،ملتان،وہاڑی،سکردو،گلگت،راولپنڈی،اور ملک کے اکثر اضلاع میں سی ٹی ڈی کے نام پہ لوگوں کو ڈرایا گیا،انہیں تھانوں کے چکر لگوا کے زدوکوب کیا گیا،ان کے خلاف پرچے کاٹے گئے،انہیں تنگ کیا جاتا رہا،یہ سلسلہ اب بھی چل رہا ہے مگر اس سے بھی زیادہ خطرناک صورتحال اس وقت سامنے آئی جب مجلس عہدیداران اور ہمدردوں کو نشانہ بناتے ہوئے جبری طور پہ غائب کیا جانے لگا،اس وقت بھی مجلس کے کئی ذمہ دار اور ہمدرد جبری طور پہ غائب ہیں،ان میں علما کی کی بھی تعداد ہے اور کارکنان بھی شامل ہیں۔
    
قارئین! آپ آگاہ ہیں کہ انہی جبری غائب کردہ افراد قوم کی رہائی کیلئے کئی ہفتوں سے کراچی سے ایک تحریک اٹھی ۔جسے مجلس وحدت کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ حسن ظفر نقوی لیڈ کر رہے ہیں ،علامہ احمد اقبال رضوی اور اسیران کے ورثا بھی اس تحریک کے تحت گرفتاریاں پیش کرنے والوں میں شامل ہیں۔یہ تحریک ابھی چل رہی تھی اور دنیا کی توجہ حاصل کر رہی تھی کہ گزشتہ رات برادر ناصر عباس شیرازی کو جبری طور پہ اغوا کر کے غائب کر دیا گیاہے،یہ وقوعہ صوبائی دارالحکومت میں پیش آیا ہے جس کے گواہ برادر ناصر شیرازی کی فیملی اور سرکاری گارڈ بھی ہیں ،برادر موصوف کاا س انداز میں اٹھایا جانا موجودہ حکمرانوں کا ایک متجاوز اقدام ہے جس سے ملت تشیع کے قلوب میں نون لیگی حکومت اور اس کے متعصب قائدین کیلئے نفرت میں اضافہ ہی ہوا ہے ،نون لیگ کی متعصبانہ پالیسیوں کے نتیجہ میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ آئندہ انتخابات میں ان کرپٹ و نااہل حکمرانوں کے خلاف بھرپور کردار ادا کیا جائے گا،برادر ناصر عباس شیرازی چونکہ مرکزی سیاسی سیکرٹری بھی رہے ہیں اور ان کے روابط دیگر سیاسی جماعتوں سے بھرپور ہیں  اور انہوں نے موجودہ متعصب وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کے خلاف ہائیکورٹ میں ایک رٹ پٹیشن بھی دائر کر رکھی ہے لہذا ان کی شخصیت سے خوف زدہ یہ حکمران اپنے اختیارات اور اقتدار کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس طرح کے بھونڈے اقدامات کرتے دکھائی دیتے ہیں،ہم سمجھتے ہیں کہ اب نون لیگی چراغوں میں روشنی باقی نہیں رہی ،یہ بجھا ہی چاہتے ہیں،عوام ان کو اس ملک اور اقتدار سے اٹھا کر باہر پھین دیں گے اور کرپشن کی سزا دینگے،رہا سوال برادر ناصر شیرازی کے جبری غائب کیئے جانے کا تو یہ سلسلہ ہمارے لیئے نیا نہیں،یہ چودہ صدیوں سے ہوتا آ رہا ہے،ہم محبت علی کا خراج ادا کرتے آ رہے ہیں اور کرتے رہینگے ،ہمیں کسی قسم کی گھبراہٹ یا پچھتاوا نہیں ہوتا،ہم اپنے ہدف کے حصول تک چراغ سے چراغ جلاتے رہینگے تاوقتیکہ حضرت حجت فرزند اباعبد الللہ الحسین ؑ پردہ غیبت سے ظاہر نہیں ہو جاتے اور مظلوموں اور مجبوروں کے ہاتھ میں اقتدار کا علم نہیں تھما دیتے،برادر ناصر عباس شیرازی کی گرفتاری اور جدوجہد اسی راہ اور راستے میں آنے والی مشکلات و مصائب کا حصہ ہیں وہ ہم سب سے زیادہ باہمت ہیں اور اس کا ادراک انہیں اٹھانے والوں کو بھی باخوبی ہو گیا ہو گا،مولا کریم ان کی حفاظت فرمائے،اور وہ ابا عبداللہ الحسین ؑ کے اربعین کیلئے انہیں سلام پیش کرنے کربلا میں نظر آئیں۔۔۔انشا اللہ


از۔۔۔۔  علی ناصر الحسینی

Page 7 of 783

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree