The Latest

وحدت نیوز(راولپنڈی) خواہر سیدہ زہراء نقوی مرکزی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ خواتین کی زیر صدارت راولپنڈی میں شعبہ خواہران کا ڈویژنل اجلاس منعقد ہوا جس میں راولپنڈی ڈویژن کی فعال خواہران کی کثیر تعداد نے شرکت کی اس اجلاس میں راولپنڈی ڈویژن کی کابینہ کا انتخاب عمل میں آیا ۔

اجلاس میں نامزد ڈویژنل کابینہ کا اعلان بھی کیا گیا ۔ نئی کابینہ میں شامل جن خواہران کو منتخب کیا گیا ان کے اسماء گرامی اور ذمہ داریا ں یہ ہیں محترمہ سیدہ قندیل زہراء کاظمی کو ڈویژنل سیکرٹری جنرل راولپنڈی ،محترمہ سیدہ سمن زہراء نقوی صاحبہ کو نشرواشاعت اور محترمہ سیدہ راضیہ رضوی صاحبہ کو ڈویژنل ڈپٹی سیکرٹری جنرل راولپنڈی ڈویژن منتخب کیا گیا ۔

ڈویژنل کابینہ کے صدارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ خواہر سیدہ زہراء نقوی صاحبہ نے کہا کہ جن خواہران کا آج کے اجلاس میں انتخاب عمل میں آیا ہے ۔ان سے یہی امید ہے وہ پہلے کی طرح اب بھی بھر پور انداز میں اپنی توانائیوں کو مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے لئے وقف کریں گیں ۔ آج مجلس پہلے سے کہیں زیادہ اپنی حیثیت کو منو ا چکی ہے ۔ آج مجلس ایک ملت کی آواز بن چکی ہے لہذا اب ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ فعال ہو نا ہو گا ۔امید ہے کہ خواہران اپنا زینبی (س) کردار ادا کرتے ہوئے 7 اگست قائد شہید ؒ کی برسی کے پروگرام اورتحفظ پاکستان کانفرنس میں خود بھی اور دیگر خواہران کی شرکت کو بھی یقینی بنائیں گیں ۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مرکزی بھوک ہڑتالی کیمپ ۔ایف ۔6، اسلام آباد میںمجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ خواتین اسلام آباد کی جنرل سیکرٹری محترمہ خانم زہراء حیدر کی زیر صدارت ایک عظیم الشان خواتین ذاکرات کانفرنس منعقد ہوئی جس میں 17 جولائی کو ہونے والے احتجاج کا جائزہ لیا گیا اور انتظامات کو آخری شکل دی گئی ۔راولپنڈی ،اسلام آباد کی معروف ذاکرات نے اس پروگرام میں بھرپور شرکت کی اس کانفرنس سے قائد وحدت علامہ ناصر عباس جعفری ،علامہ حسن ظفر نقوی ،سید زاہد حسین جعفری ،سید تطہیر رضوی کے علاوہ معروف ذاکرات نے بھی خطاب کیا اور 17 جولائی کو ہونے والے احتجاج کو کامیاب بنانے کے لئے بھرپور جدوجہد اور عزم کا اظہار کیا گیا۔

وحدت نیوز(بھکر) مجلس وحدت مسلمین 13 مئی سے جاری اسلام آباد میں علامہ ناصر عباس جعفری کی بھوک ہڑتال اور ان کے مطالبا ت کی بھرپور حمایت کے لئے سینکڑوں خواتین کی قصرزینب سے دربار قصر علی اصغر گڈولہ روڈ تک شاندار احتجاجی ریلی کے دوران مختلف خواتین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم اپنے گھروں سے اس لئے باہر آئی ہیں کہ ملک بھر میں ہمارے وکلاء ، علماء ، پروفیسرز ، ڈاکٹر ز، ٹیچرزکیوں قتل کیے جارہے ہیں ڈی آئی خان سمیت پارا چنار، گلگت، کراچی اور دیگر اضلاع میں ہمارے ساتھ امتیازی سلوک جاری ہے ۔ کیا ہم پاکستان کے شہری نہیں ہیں؟ ہمارے گھروں سے روز جنازے اٹھتے ہیں کہرام برپا ہوتا ہے اور الٹا حکومتی اہلکار ہمارے خلاف کاروائیاں کرتے ہیں ۔ ۔ حکومتی اہلکار اور سیاست دان ملکر ہمارا ستحصال کر رہے ہیں ۔ ہمارے عظیم قائدعلامہ عارف حسین الحسینی کو کس نے شہید کیا تھا؟ اس کا جواب حکومتی اہلکاروں کے پاس ہے ۔ اب تک ان دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کاروائی نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے خواتین پر جوش انداز میں میں کہنا تھا لاشیں اٹھاتے ہیں اٹھاتے رہیں گے مجلس میں جاتے ہیں جاتے رہیں گے ۔

خواتین نے اپنے ہاتھوں میں پر چم اور پلے کارڈ اٹھا کر ظالم حکومت کے خلاف، دہشتگروں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھر پور نفرت کا اظہار کیا۔ ریلی اختتام پر مرکزی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ ناصر عبا س جعفری کے مطالبات جن میں نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد ، شیعہ کلنگ میں ملوث دہشتگردوں کے خلاف کاروائی، عزاداری امام حسین پر لگائی جانے والی پابندی کا خاتمہ، پنجاب میں ذاکرین اور علماء پر لگائی جانیوالی پابندی کا خاتمہ کے علاوہ دیگر تمام مطالبات کی حمایت بھر پور اعلان کیا ہے اور اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے قائد وحدت کی ایک آواز پر جان قربان کرنے کو تیار ہیں ریلی میں شریک خواتین اور بچوں نے دعائیہ کلمات کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ بھر پور میڈیا Coverge پر پرنٹ میڈیا اور الیکٹرک میڈیا کا خواتین نے شکریہ ادا کیا ۔

وحدت نیوز(گلگت) دہشت گرد عناصر کا جب تک مکمل صفایا نہیں کیا جاتا چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ہم کب تک اپنے پیاروں کی لاشوں پر ماتم کرتے رہیں گے حکومت ہمارے زخموں پر مرہم لگانے کی بجائے نمک پاشی کررہی ہے۔ایک منظم سازش کے تحت ملک بھر اہل تشیع کی ٹارگٹ کلنگ کی جارہی ہے ،دہشتگردوں کو لگام دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ہمارے چودہ بے گناہ اسیروں کو فوری رہا کیا جائے۔
مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے شعبہ خواتین کے رہنما محترمہ سائرہ ابراہیم، محترمہ بی بی سلیمہ رکن اسمبلی کی قیادت میں علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کی بھوک ہڑتال کی حمایت اور ملک بھر میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔اس احتجاجی ریلی میں سینکڑوں خواتین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جن پر دہشت گردوں اورحکومت کی دہشت گردی کو روکنے کی ناکام پالیسی کے خلاف نعرے درج تھے۔ وحدت ہاؤس سے نکالی جانیوالی یہ ریلی شہید ملت روڈ سے ہوتے ہوئے شہید کیپٹن ضمیر عباس چوک پر پہنچ گئی جہاں خواتین رہنماؤں نے مظاہرین سے خطاب کیا۔

اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی کوارڈینیٹر محترمہ سائرہ ابراہیم نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت پورے ملک میں وکلاء ،ڈاکٹرز، پروفیسرز اور دیگر پروفیشنلز کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے اور حکومت کی مجرمانہ خاموشی سے لگتا ہے کہ انہوں نے دہشت گردوں کو چھوٹ دے رکھاہے۔ انہوں نے سانحہ 1988 سے لیکر شاہراہ قراقرم کے واقعات جن میں سینکڑوں کی تعداد میں اہل شیع کو شناخت کرکے قتل کیا گیا لیکن تاحال نہ تو کوئی قاتل گرفتار ہوا ہے اور نہ ہی کسی کے خلاف کوئی کاروائی ہورہی ہے جو کہ شیعہ نسل کشی میں حکومت کا برابر کا حصہ ہے۔

رکن اسمبلی محترمہ بی بی سلیمہ نے احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں انارکی پھیلانے کی درپے ہے،ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھیں ۔وفاقی حکومت کی سیاہ کاریاں سب کے سامنے آچکی ہیں اور حکومت دہشت گردوں کی دہشت کا شکار ہوچکی ہے جس کے سبب کوئی ٹھوس کاروائی کرنے سے گریزاں ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت گلگت بلتستان میں ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت شیعہ آبادی کو محدود کرنے کیلئے ہماری بنجر زمینوں کو سرکاری تحویل میں لے رہی اور مقامی لوگوں کو آباد کاری سے روکا جارہا ہے جبکہ دوسری جانب ایک مخصوص فکر رکھنے والوں کو سعودی حکومت کے تعاون سے مکانات تعمیرکرکے گلگت میں بسایا جارہا ہے۔صوبائی حکومت کی یہ روش کسی صورت بھی علاقے کے مفاد میں نہیں۔

محترمہ خواہر کنیززہراء نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کا یہ اجتماع گلگت بلتستان کی تاریخ کا اپنی نوعیت کا پہلا مظاہرہ ہے جس میں خواتین نے ظلم و زیادتی کے خلاف سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کیا۔حکومت ہمارے اس اقدام کو روایتی انداز میں نہ لے بلکہ سنجیدگی سے ہمارے مطالبات کو حل کرے اور گلگت بلتستان کے عوام میں پائی جاینوالی بے چینی کا ازالہ کرے ورنہ اس احتجاج کو مزیدپھیلایا جائیگا اور صوبائی حکومت کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے بے گناہ اسیر رہا نہیں ہوئے تو وزیر اعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ کیا جائیگا اور وہ دن صوبائی حکومت کاآخری دن ہوگا۔

وحدت نیوز(جنوبی پنجاب) مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کے زیراہتمام آج ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔اسلام آباد، کراچی،لاہور، پشاور،کوئٹہ ،ملتان،ڈیر اسماعیل خان اور فیصل آباد سمیت مختلف شہروں میں منعقدہ مظاہروں میں سینکڑوں کی تعداد میں خواتین اور بچوں نے شرکت کی۔تفصیلات کے مطابق جنوبی پنجاب کے آٹھ شہروں میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے اظہاریکجہتی کے طور پر ریلیاں نکالی گئیں۔ ملتان میں امام بارگاہ دولت سے چوک گھنٹہ گھر تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، بہاولپور میں شیعہ جامع مسجد سے فرید گیٹ تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، ڈیرہ غازیخان میں پاکستان چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، لیہ میں میلاد گراؤنڈ سے پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، بھکر میں امام بارگاہ قصرزینب سے امام بارگاہ قصرعلی اصغر تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، رحیم یارخان میں پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، ملتان میں مظاہرین نے بینرز اورپوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر شیعہ ٹارگٹ کلنگز اور ملک میں جاری دہشت گردی کے خلاف نعرے درج تھے۔جبکہ احتجاجی ریلی سے علامہ اقتدار حسین نقوی، علامہ قاضی نادر حسین علوی، مولانا ہادی حسین ہادی، محمد عباس صدیقی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

مقررین نے مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس کی بھوک ہڑتال کو دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود حکومت کی طرف سے عدم توجہی پر کڑی تنقید کی۔انہوں نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کی آڑ میں ہمارے بے گناہ لوگوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ہمارے باصلاحیت ،پڑھے لکھے اور ہنرمند افراد کو چن چن کر شہید کیا جا رہا ہے۔کالعدم مذہبی جماعتوں کو حکومت کی مکمل آشیر باد حاصل ہے جس کے باعث وہ ملک میں دندناتی پھر رہی ہیں۔عدلیہ سمیت ملک کے دیگرمقتدر اداروں کی طرف سے ان واقعات پرمسلسل خاموشی ہمارے لیے تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا جب ریاست بے گناہوں کو پابند سلاسل کرنے لگے اور جرائم پیشہ افراد کو رعایت دینے لگے تو پھر ملک میں عدل و انصاف کی بجائے اختیارات کی حاکمیت سمجھی جاتی ہے۔اس وقت وطن عزیز کو ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔اس غیر منصفانہ طرز عمل کے خلاف علامہ ناصر عباس نے اپنی آواز بلند کی ہے۔۔ ملک و ملت کے لیے علامہ ناصر عباس کی مخلصانہ جدوجہد لائق تحسین ہے۔

انہوں نے پاکستان میں ملت تشیع پر ہونے والے مظالم سے نہ صرف اقوام عالم کو آگاہ بلکہ ایک طویل اور پرامن احتجاج کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کے شیعہ پرتشدد سیاست کے خلاف ہیں اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے آ ئینی و قانونی راہ کو ہی بہترین ذریعہ سمجھتے ہیں۔علامہ ناصر عباس کو پوری قوم کی تائید حاصل ہے اس کے باوجود حکومت دانستہ طور پر غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے جو حکومتی ذمہ داریوں اور اخلاقی قدروں کے منافی ہے۔جن حکمرانوں کے پاس پاکستان کے پانچ کروڑ تشیع کی نمائندہ جماعت کے سربراہ کی بات سننے کا وقت نہیں ان کے پاس اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بچتا۔ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکے ہیں۔ ہم آج سے اپنے احتجاج کی تحریک کو ملک کی اہم شاہراوں کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ کے مطالبات کی منظوری تک ہمارا احتجاج میں کمی واقعہ نہیں ہو گی۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کے زیراہتمام آج ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ کراچی،حیدر آباد،اسلام آباد،لاہور، پشاور،کوئٹہ،ملتان،ڈیر اسماعیل خان ، فیصل آباد،سکھر،جیکب آباد ،ٹنڈو محمدخان اور شکار پور سمیت مختلف شہروں میں منعقدہ مظاہروں میں سینکڑوں کی تعداد میں خواتین اور بچوں نے شرکت کی۔مظاہرین نے بینرز اورپوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر شیعہ ٹارگٹ کلنگ اور ملک میں جاری دہشت گردی اورنواز حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔کراچی مرکزی ریلی مسجد شاہ خراسان سے امام بارگاہ علی رضا ایم اے جناح روڈ تک نکالی گئی جس میں مرکزی سیکرٹری خانم زہرا نقوی،گل زہرا،علامہ احمد اقبال ،علی حسین نقوی،علامہ مرزا یوسف حسین،علامہ باقر زیدی ،علامہ اظہر نقوی،سمیت دیگر رہنماؤں نے احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئےمجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس کی بھوک ہڑتال کو دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود حکومت کی طرف سے عدم توجہی پر کڑی تنقید کی۔

مرکزی سیکرٹری خانم زہرا نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کی آڑ میں ہمارے بے گناہ لوگوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ہمارے باصلاحیت،پڑھے لکھے اور ہنرمند افراد کو چن چن کر شہید کیا جا رہا ہے۔کالعدم مذہبی جماعتوں کو حکومت کی مکمل آشیر باد حاصل ہے جس کے باعث وہ ملک میں دندناتی پھر رہی ہیں۔عدلیہ سمیت ملک کے دیگرمقتدر اداروں کی طرف سے ان واقعات پرمسلسل خاموشی ہمارے لیے تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا جب ریاست بے گناہوں کو پابند سلاسل کرنے لگے اور جرائم پیشہ افراد کو رعایت دینے لگے تو پھر ملک میں عدل و انصاف کی بجائے اختیارات کی حاکمیت سمجھی جاتی ہے۔اس وقت وطن عزیز کو ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔اس غیر منصفانہ طرز عمل کے خلاف علامہ ناصر عباس نے اپنی آواز بلند کی ہے۔۔ ملک و ملت کے لیے علامہ ناصر عباس کی مخلصانہ جدوجہد لائق تحسین ہے۔

انہوں نے پاکستان میں ملت تشیع پر ہونے والے مظالم سے نہ صرف اقوام عالم کو آگاہ بلکہ ایک طویل اور پُرامن احتجاج کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کے شیعہ پرتشدد سیاست کے خلاف ہیں اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے آئینی و قانونی راہ کو ہی بہترین ذریعہ سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ میں ملک کی تمام بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنما اپنے اعلی سطح وفود کے ہمراہ احتجاجی کیمپ کا دورہ کر کے علامہ ناصر عباس کے مطالبات کو آئینی و اصولی قرار دے چکے ہیں۔علامہ ناصر عباس کو پوری قوم کی تائید حاصل ہے اس کے باوجود حکومت دانستہ طور پر غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے جو حکومتی ذمہ داریوں اور اخلاقی قدروں کے منافی ہے۔جن حکمرانوں کے پاس پاکستان کے پانچ کروڑ تشیع کی نمائندہ جماعت کے سربراہ کی بات سننے کا وقت نہیں ان کے پاس اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بچتا۔ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکے ہیں۔ ہم آج سے اپنے احتجاج کی تحریک کو ملک کی اہم شاہراوں کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ کے مطالبات کی منظوری تک ہمارا احتجاج میں کمی واقعہ نہیں ہو گی۔مظاہرے سے خطاب میں علامہ احمد اقبال کا کہنا تھا مطالبات کی عدم منظوری پر 22جولائی کو پر امن ملک گیر احتجاجی دھرنے دیئے جائیں گے اور ملکی اہم شاہراہوں کو بند کردیا جائے گا ۔

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی بھوک ہڑتال تحریک سے اظہار یکجہتی،شیعہ ٹارگٹ کلنگ،حکمرانوں کی  مجرمانہ بے حسی اور سیکیورٹی اداروں کی مسلسل خاموشی کے خلاف شعبہ خواتین نے شانہ بشانہ ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے مل بھر میں بھرپور احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا ہے،لاہور میں خواتین کی احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین لاہور کی سیکرٹری جنرل محترمہ خانم لبنی زیدی  نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم انشااللہ پاکستان کو قائد اعظم و علامہ اقبال کا پاکستان بنا کر دم لینگے،ہم اس وطن کو مسلکی بنیاد پر تقسیم نہیں ہونے دینگے،ہمارے مطالبات تسلیم نا کیئے گئے تو احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا جو حکمرانوں کے اقتدار کو بہا کر لے جائے گا احتجاجی ریلی میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شریک تھی جو اپنے مطالبات کے حق میں پر جوش نعرے لگارہی تھیں،ریلی میں بچے بھی بڑی تعداد میں شریک تھے ہم سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں عزاداری پر قدغن اور پابندیاں برداشت نہیں کریں گے،یہ قتل و غارت اور گرفتاریاں ہمارے راستے کی دیوار نہیں بن سکتے ۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کے وارث ہیں ہم اسے تکفیریوں کا پاکستان نہیں بننے دینگے۔

مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کے رہنما خانم معصومہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ علامہ راجہ ناصر عباس کی احتجاجی تحریک کی کامیابی تک ہم میدان میں ہی رہینگی اور جہاں بھی پکارا گیا ہمیں حاضر پائیں گے۔

تحریک ا حیاء پاکستان کی سربراہ محترمہ ردا زہرا نے کہا کہ پاکستان تمام مکاتیب فکر کی مشترک میراث ہے اسے کسی بھی ایک مکتب کی جھولی میں ڈالنا اس دھرتی کے ساتھ غداری کے مترادف ہے ،حکمرانوں اور سیکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کو اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ کون لوگ اس ملک اور اس کے اداروں کے دوست و دشمن ہیں جن لوگوں نے ملک کی اینٹ سے اینٹ بجائی ان کو سرکاری پروٹوکول میں رکھنا کہاں کا انصاف و وطن دوستی ہے،یاد رہے کہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر ملک بھر میں شعبہ خواتین نے آج احتجاجی ریلیاں نکالیں اور ملک بھر میں ان کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے جلسے و جلوس برپا کیے22جولائی علامہ راجہ ناصر عباس کے مطالبات کی حمایت میں ملک بھر کی اہم شراہوں پر دھرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی طرف سےاسلام آباد پریس کلب تا ڈی چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔ریلی میں سینکڑوں کی تعداد میں خواتین اور بچے شریک تھے۔ریلی کے شرکا نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر شیعہ ٹارگٹ کلنگز،تکفیریت اور ملک میں جاری دہشت گردی کے خلاف نعرے درج تھے۔ڈی چوک پرریلی سے خانم زارا حیدر،خانم رخسانہ گوہر،خانم گل زہرا اورخانم  قندیل کاظمی کے علاوہ دیگر مقررین نے بھی خطاب کرتے ہوئے حکومت پر کڑی تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت اور بدامنی کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہے جس کی نا اہلی کے باعث ملک کا ہر فرد خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہے۔کہ نیشنل ایکشن پلان کی آڑ میں ہمارے بے گناہ لوگوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ہمارے باصلاحیت ،پڑھے لکھے اور ہنرمند افراد کو چن چن کر شہید کیا جا رہا ہے۔کالعدم مذہبی جماعتوں کو حکومت کی مکمل آشیر باد حاصل ہے جس کے باعث وہ ملک میں دندناتی پھر رہی ہیں۔عدلیہ سمیت ملک کے دیگرمقتدر اداروں کی طرف سے ان واقعات پرمسلسل خاموشی ہمارے لیے تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا جب ریاست بے گناہوں کو پابند سلاسل کرنے لگے اور جرائم پیشہ افراد کو رعایت دینے لگے تو پھر ملک میں عدل و انصاف کی بجائے اختیارات کی حاکمیت سمجھی جاتی ہے۔اس وقت وطن عزیز کو ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔اس غیر منصفانہ طرز عمل کے خلاف علامہ ناصر عباس نے اپنی آواز بلند کی ہے۔مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس کی بھوک ہڑتال کو دو ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے ۔اس معاملے میں حکومت کی عدم توجہی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ملک و ملت کے لیے علامہ ناصر عباس کی مخلصانہ جدوجہد لائق تحسین ہے۔انہوں نے پاکستان میں ملت تشیع پر ہونے والے مظالم سے نہ صرف اقوام عالم کو آگاہ بلکہ ایک طویل اور پُرامن احتجاج کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کے شیعہ پرتشدد سیاست کے خلاف ہیں اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے آئینی و قانونی راہ کو ہی بہترین ذریعہ سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ میں ملک کی تمام بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنما اپنے اعلی سطح وفود کے ہمراہ احتجاجی کیمپ کا دورہ کر کے علامہ ناصرعباس کے مطالبات کو آئینی و اصولی قرار دے چکے ہیں۔علامہ ناصر عباس کو پوری قوم کی تائید حاصل ہے اس کے باوجود حکومت دانستہ طور پر غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے جو حکومتی ذمہ داریوں اور اخلاقی قدروں کے منافی ہے۔جن حکمرانوں کے پاس پاکستان کے پانچ کروڑ تشیع کی نمائندہ جماعت کے سربراہ کی بات سننے کا وقت نہیں ان کے پاس اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بچتا۔ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکے ہیں۔ ہم آج سے اپنے احتجاج کی تحریک کو ملک کی اہم شاہراوں کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ کے مطالبات کی منظوری تک ہمارا احتجاج میں کمی نہیں ہو گی۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی مرکزی سیکرٹری جنرل خانم زہرا نقوی نے کہا ہے کہ ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے اعلان پر آج 17 جولائی بروز اتوار ملک کے تمام بڑے شہروں میں خواتین کے احتجاجی پروگرام منعقد ہوں گے۔کراچی،اسلام آباد،لاہور،کوئٹہ،ملتان،ڈیرہ اسماعیل خان،پشاور ،فیصل آباداور آزاد کشمیر سمیت دیگر شہروں میں پروگراموں کے بھرپور انعقاد کے لیے حتمی تیاریاں مکمل کر لی گئیں ہیں۔پاکستان میں جاری شیعہ ٹارگٹ کلنگ اور ریاستی جبر کے خلاف مختلف شہروں کی مرکزی اور مصروف شاہراوں پر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم سیرت زینب سلام اللہ علیہ کی پیروکار ہیں۔ طاغوتی و استکبار ی طاقتیں ہماری حق کی آواز کو دبانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ہم حسینت کا پرچم لے کر نکلیں ہیں۔اب ظالم و جابر حکمرانوں کا اصل چہرہ آشکار ہو کر رہے گا۔انہوں نے کہا کہ اس وطن کو ہمارے اباو اجداد نے قربانیاں دے کر حاصل کیا تھا۔آج اسی سرزمین کو ہم پر تنگ کیا جا رہا ہے۔ہمارے نوجوان اور باصلاحیت لوگوں کو چن چن کر قتل کرنے والے مذموم عناصر پر قابو پانااگر حکومت کی دسترس میں نہیں تو پھر حکمرانوں کا اقتدار میں رہنا بددیانتی اور ظلم ہے۔ہمیں دہشت گردی اور حکومتی مظالم جیسی دوہری اذیتوں کا سامنا ہے۔ہمارے افراد کو نیشنل ایکشن پلان کے نام پر قید و بند کی صعوبتیں سہنی پڑ رہی ہیں۔حکومت واضح کرے کہ یہ قانون دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بنا تھا یا کہ ملت تشیع سے انتقام لینے کے لیے۔پاکستان میں بسنے والے تمام افراد کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔مکتب تشیع کے ساتھ کسی قسم کے غیر انسانی سلوک کو قبول نہیں کیا جائے گا۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ کی بھوک ہڑتال کو دو ماہ سے زائد عرصہ گزرا چکا ہے لیکن حکومت کی طرف بے جا ہٹ دھرمی اور بے حسی کا مسلسل اظہار یہ ثابت کر رہا ہے کہ حکمرانوں کے پاس عوام کے مسائل سننے کا وقت نہیں۔حکومت کی جانب سے پاکستان کے پانچ کروڑ تشیع کی یہ تضحیک نا قابل برداشت ہے۔ حکومت کے اس ناروا رویہ کے خلاف پورے عزم سے میدان میں نکلنے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ ہماری یہ جدوجہد پرامن پاکستان کے لیے ہے جو مطلوبہ نتائج کے حصول تک جاری رہے گی۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ خواتین کی مرکزی سیکریٹری جنرل خانم سیدہ زہرانقوی نے ایک بیان میں کہاہے کہ ریاستی جبر وتشدد ، پاکستان کی فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم اور شیعہ نسل کشی کے خلاف کنیزان زینب ع17جولائی کو تمام چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کریں گی اور ریلیاں نکالیں گی،خانم زہرا نقوی کا کہنا تھا کہ ہمارے قائد وحدت انصاف کے حصول کے لئے گذشتہ دو ماہ سے پر امن بھوک ہڑتال پر بیٹھے ان بے حس حکمرانوں کے مردہ ضمیروں کو جھنجھوڑ رہے ہیں لیکن ان کم ظرف حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی،انہوں نے کہا کہ ہماری قیادت اور جماعت نے آخری وقتوں تک کوشش کی بغیر کسی شور شرابے اور طاقت کے استعمال کے حکمران ہمارے جائز مطالبات تسلیم کرلیں اور ملک بھر میں اہل تشیع مکتب فکر کو درپیش مشکلات اور مسائل کو فوری بنیادوں پر حل کرلیں لیکن حکومت نے ہمارے پر امن رہنےکو ہماری ک کمزوری سمجھا ہے ، 13مئی سے جاری علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کی بھوک ہڑتالی تحریک عید الفطرکے بعد دوسرے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے ، انصاف کے حصول کیلئے17جولائی کوکنیزان زینب ؑ 22جولائی کو اورعاشقان حسینیؑ ملک بھرکی سڑکوں پر سراپا احتجاج ہوں گے، 22جولائی کو ملک بھر کی اہم شاہراہیں دن دو بجے سے رات آٹھ بجے تک جام کی جائیں گی ، اس کے بعد بھی حکمران ٹس سے مس نہ ہوئے تو پنجاب اسمبلی کے باہر غیر اعلانیہ دھرنے کا اعلان کردیا جائے گا، انہوں نے ملک بھر کی خواتین اور حضرات سے اپیل کی کہ ملت تشیع کے جائز حقوق کے لئے بھرپور انداز میں احتجاجی اجتماعات میں شرکت کریں ۔

Page 88 of 104

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree