The Latest

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی صدر سید علی رضوی نے پیپلز پارٹی کی رہنما و سندھ اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر سیدہ شہلا رضا کے اس بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے کہاتھا کہ پارا چنار کی صورتحال پر کراچی میں دئیے گئے دھرنے میں گلگتی بلتی اور ہزارہ کے لوگ شریک تھے مقامی لوگوں نے دھرنے میں شرکت سے معذرت کرلی دھرنے میں بیٹھے افراد نے شرپسندی کی ایمبولنس جلادی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔

 اپنے ایک بیان میں سید علی رضوی نے کہاکہ میری بہن شہلا رضا صاحبہ سے میرا ایک سوال  ہے کہ وہ بتائیں کہ دھرنے میں مقامی لوگ شریک نہیں تھے تو سید شہنشاہ نقوی سید حسن ظفر نقوی اور اصغر شہیدی کا تعلق گلگت بلتستان کے کس علاقے سے ہے ؟ سیدہ ہونے کے ناطے انہیں قومی کاز کیلئے دئیے گئے دھرنے کو غلط رنگ دینا زیب نہیں دیتا میری بہن اقتدار ملنے پر اپنے اسلاف کی تعلیمات کا پاس بھی نہیں رکھ رہی ہے جس پر دکھ ہی ہوتا ہے آپ جب جب گلگت بلتستان تشریف لائی تھیں ہمارے لوگوں نے آپ کا استقبال پھولوں کے ساتھ کیا تھا مگر آج آپ نے یہ کیا کہہ دیا آپ نے کہاکہ گلگتی بلتی اور ہزارہ کے لوگ شرپسند ہیں آپ سے کم ازکم یہ توقع تو نہیں تھی کہ آپ اندھا دھند بیان داغ دیں گی فائرنگ شیلنگ کے بعد آپ لوگ ہمیں شرپسند بھی کہنے لگے اور کراچی میں ہماری آبادیوں پہ چھاپے لگائے جارہے ہیں اور ہمارے نوجوانوں کو اب بھی تنگ کیا جارہا ہے جس پر بہت دل دکھا خیر ہم معاملہ اللہ کی عدالت میں رکھتے ہیں خدا ہی فیصلہ کرے گا کہ شرپسندی کس نے کی ہے اور خدا کی خوشنودی کس نے حاصل کی ہے۔

 پیپلز پارٹی کا کوئی اور شخص من گھرٹ بات کرتا تو ہمیں کوئی افسوس نہ ہوتا مگر من گھرٹ الزامات لگانے کیلئے پیپلز پارٹی نے ایک سیدہ کا انتخاب کیا جس پر دلی افسوس ہوا لیکن سیدہ شہلا رضا صاحبہ سے یہی کہنا چاہتے ہیں کہ  الزامات کے باوجود آپ گلگت بلتستان آئیں ہم آپکے اوپر آنسو گیس کی شیلنگ نہیں کریں گے اور آپ کو شرپسند بھی نہیں کہیں گے یہ ہماری روایات اور آداب کا تقاضا نہیں ہے کہ ہم اپنے مہمان کو برا بھلا کہیں اور ان پر الزامات کی بوچھاڑ کردیں۔

وحدت نیوز(لندن)برطانیہ کے شہر لندن میں پاکستانی کمیونٹی نے مظلومین پارہ چنار کی حمایت اور کراچی میں پارہ چنار کے حق میں ہونے والے پرامن دھرنوں پر پولیس کے بہیمانہ تشدد کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔برطانیہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی میں پارچنار میں ہونے والے ظلم و بربریت کے خلاف شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ پچھلے ہفتے برطانیہ کے مختلف شہروں لندن برمنگھم مانچسٹر اور بریڈ فورڈ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے سامنے بہت بڑے مظاہرے کیے گئے۔

آج پاکستانی ہائی کمیشن کے سامنے ہونے والے احتجاج میں مظاہرین نے کراچی میں ہونے والے پرامن احتجاجی دھرنوں پر پولیس کی طرف سے فائرنگ، انسو گیس شیلنگ اور بہیمانہ تشدد کی بھرپور مذمت کی، خصوصا بزرگ عالم دین حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ حسن ظفر نقوی پر ہونے والے حملے، ایک نوجوان کی شہادت اور کئی مظاہرین کے زخمی ہونے پر لندن میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور تمام حکومتی اور پولیس اہلکاروں کو اس ظلم و بربریت پر فوری طور پر معطل کرنے اور مظاہرین پہ ہونے والی بے جا ایف ائی ار کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

پارہ چنار کے مظلومین تین ماہ سے محصور ھیں اور 200 افراد بشمول بچے ، خواتین، بوڑھے اور جوان شہید ھو چکے ھیں، اس کے علاوہ 150 کے قریب معصوم بچے ادویات نہ ھونے کی وجہ سے سردی اور نمونیا سے شہید ھو چکے ھیں۔ آج ملت تشیع پارہ چنار اور پورے پاکستان و عالمی سطح پر احتجاج و  دھرنوں کی وجہ سے سرخرو  ھوئی اور پارہ چنار میں امن معاہدہ طے پایا۔

یہ قائد وحدت ناصر ملت جناب حجت الاسلام والمسلمین علامہ سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری صاحب حفظ اللہ کی بر وقت دھرنوں اور احتجاج کی کال تھی کہ حکومت وقت، اسٹیبلشمنٹ اور تکفیریوں پر دباؤ بڑھا۔ پاراچنار میں ہونے والے ظلم اور بربریت کو دیکھ کر پورے اقوام عالم میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر پارہ چنار کے لئے ہر رنگ نسل دین مذہب کا شخص بول اٹھا اور اس ظلم کا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی نوٹس لے لیا ۔

اس اجتماع سے الزھرہ سینیٹر نوٹنگھم کے عالم جناب حجت الاسلام والمسلمین علامہ غلام حر شبیری صاحب حفظ اللہ، مجلس وحدت مسلمین برطانیہ کے صدر جناب حجت الاسلام مولانا ابرار حسین الحسینی صاحب، پارہ چنار سوسائٹی کے جناب شبیر بنگش صاحب نے خطاب فرمایا۔

 مقررین نے پارہ چنار میں مستقل امن پر زور دیا اور جو امن گرینڈ جرگہ نے معاہدہ پر دستخط کئے ہیں اسے عملی جامہ پہنانے پر زور دیا۔ مقررین نے کہا کہ اگر اس معاہدہ پر عمل نہ ھوا تو پورے پاکستان بلکہ پوری دنیا میں اس سے بھی ذیادہ شدت سے احتجاج کیا جائے گا۔

وحدت نیوز(کراچی)مجلس وحدت مسلمین کے ترجمان علامہ مختار امامی کا کہنا تھا کہ پر امن پاراچنار احتجاجی دھرنوں پر پولیس گردی کی مذمت کرتے ہیں انہوں نے میئر کراچی مرتضی وہاب کی پریس کانفرنس پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی قیادت مرتضی وہاب کے مسلسل عوام مخالف بیانات کا نوٹس لے۔مرتضی وہاب شہر سے ایک کونسلر کی سیٹ نہیں جیت سکتے۔انہوں نے کہا کہ نمائش دھرنے کے ساتھ ویں روز پیپلزپارٹی کے حکومتی وفد نے ایم ڈبلیو۔ایم رہنماوں سے ملاقات کی اور ہمارے پر امن احتجاجی دھرنوں کو مثالی قرار دیا۔پورے شہر میں دھرنے ایک جانب رہے ٹریفک اور کاروبار سمیت زندگی معمول پر رہی۔

انہوں نے کہا پاراچنار کا مسئلہ پشاور میں تو کشمیر اور غزہ کے مسئلے کہاں حل ہونگے۔پاراچنار دہشتگردی، راستوں کی بندش انسانی المیہ اختیار کرتا جارہا تھا۔وفاقی و صوبائی حکومت اور ریاستی اداروں کی۔جانب سے پاراچنار کے راستوں کی بندش اور دہشتگردوں کے خلاف کاروائی نہ ہونے پر ملک گیر احتجاج کیا ۔احتجاج کرنا ہمارا قونی و آئینی حق ہے ۔انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری بحیثیت صدر ذمہ دارہیں کہ کرم کا مسئلہ میں کردار ادا کرتے ۔پیپلزپارٹی کی یہ سیاست اور زبان نہیں آپ کے منہ میں جس کی زبان ہے قوم کو اچھی طرح پتہ ہے ۔ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو شہید کئ جماعت آج اسٹیبلشمنٹ کی زبان بولے لمحہ فکریہ ہے۔ملک گیر دھرنوں میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ علی امین گنڈہ پور کی نا اہلی پر استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔مرتضی وہاب لندن، امریکہ، جرمنی کے وزیر خارجہ کو خط لکھیں کے وہاں احتجاج کیوں ہوا؟

 انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت کی ایماء پر شرکاء دھرنے پر گولیاں برسائیں گئیں پولیس کی فائرنگ سے ملیر 15 پر ایک نوجوان شبیہ حیدر زیدی شہید ہوگیا اور درجنوں کے قریب زخمی ہوئے ۔جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ میئر کراچی پولیس کی فائرنگ سے شہید ہونے والے شبیہ حیدر زیدی کے قتل کی مذمت کریں سندھ حکومت کے ایماء پر گولیوں سے درجنوں پر امن شرکاء زخمی ہوئے جس کے مقدمات حکومت سندھ کے خلاف کٹوائے جائیِں گے۔

وحدت نیوز(کراچی) مرکزی جنرل سیکریٹری مجلس وحدت مسلمین پاکستان ناصر عباس شیرازی کی نمائش چورنگی کراچی مرکزی دھرنے میں اہم پریس کانفرنس ، انہوں نے کہا کہ میں پورے پاکستان کے دھرنوں سے رابطے میں ہوں،لیکن پارا چنار والوں کے دلوں کو کراچی والوں نے جیتا ہے،انہیں یقین ہوگیا ہے آپ کی استقامت سے کے وہ تنہا نہیں ہیں،آج پاراچنار کے مظلوموں کی آواز بلند کرنے کیلئے اپنا سکوں آرام قربان کیا گیا،ہماری بیٹیاں بہنیں ہمارا فخر ہیں کہ وہ ڈٹ کر کھڑی رہیں،آپ کو پتہ ہونا چاہئیے کہ آپ صرف دھرنا نہیں دے رہے،آپ صرف سڑکوں پر نہیں بیٹھے،یہ مظلوموں کے حق میں کھڑا ہونا عبادت ہے،ظالم کے مقابلے میں مظلوم کے حق میں آواز بلند کرنا ہی مولا کے چاہنے والوں کا راستہ ہے،آپ جس مقصد کیلئے کھڑے ہیں وہ کسی فرقے کیلئے نہیں ہے،آپ کسی ایک علاقے یا کمیونٹی کیلئے نہیں کھڑے،یہ دھرنے یہ احتجاج ان تمام باتوں سے ماورا ہے،یہ ملک کے استحکام کیلئے ہے،یہ پاکستان کے بارڈرز کا اصل تحفظ کرنے والوں کی بات ہے۔کل جس جوان کی گردن کاٹی گئی،یزیدیت کی رسم پوری کی گئی،وہ لڑکا عیسائی تھا، نا شیعہ نا سنی،یہ فرقے کی نہیں وطن کی بقا کی جنگ ہے،اس میں شامل ہونا ہماری ذمے داری ہے، انسانی تقاضا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کچھ کنونشن سائن کیئے ہیں،جنگ میں عوام اگر دشمن کی بھی ہو تو اسے سزا نہیں دے سکتے،اگر یہ جنگ تھی تو  اس کلیکٹو پنشمنٹ میں بچوں اور عورتوں کو سزا دی گئی،اس عمل کو جنگی جرم شمار کیا جاتا ہے،پارا چنار میں ساڑھے تین سو میڈیکل اسٹور ہیں،ان تمام پر بخار تک کی دوا دستیاب نہیں،وہاں مریض کو اسپتال پہنچانے کیلئے ایمبولینس کا دیول تک نہیں،ساڑھے چار ہزار لوگ بیرون ملک کام کرنے والے ہیںان کے ویزوں کی مدت ختم ہو گئی ہے،پارا چنار میں طالبعلموں کو حصول تعلیم کا موقع نہیں مل رہا،وہاں گھروں میں روٹی پکانے کیلئے آٹا تک نہیں،آپ کہتے ہیں اسٹیٹ کی رٹ برقرار رکھنی ہے،تو کیا پارا چنار اس اسٹیٹ کا حصہ نہیں،اگر ہے تو پہلے وہاں کے راستے کھولیں،صوبائی حکومت کی ذمے داری ہے کہ راستے کھولے جائیں،اگر وہ یہ نہیں کر سکتے تو ناکام ہیں۔

ناصر شیرازی نے کہا کہ جو ہمیں تحفظ نہیں دے سکتا ہے اورحق نہیں دے سکتا وہ حکومت کے لائق نہیں،وہ کہتے ہیں کہ آج اسلحے کا خاتمہ ہو جائے تو راستے کھلوا دیں گے،مطلب راستے انہوں نے بند کرائے ہوئے ہیںاور اس تمام عمل میں وفاقی حکومت بھی برابر کی ذمے دار ہے،یہ کیسی سیکیورٹی ہے کہ محافظ بچ جائیں اور جن کی حفاظت کی جارہی ہو وہ مارے جائیں،بارڈر سیکیورٹی صوبے کی ذمے داری نہیں ہے،جو یہ سمجھتا ہے کہ وفاق ذمے دار نہیں وہ دھوکے میں ہے۔فیڈریشن بھی صوبائی حکومت کے برابر کی ذمے دار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ2007 سے 13 تک پاراچنار کا محاصرہ رہا،اس وقت بھی ساڑھے چار سالہ محاصرے میں زرداری صاحب صدر تھے،آج بھی زرداری صاحب ایوان صدارت میں بیٹھے ہیں،صدر تو صوبوں کی اکائی ہوتا ہے،تو پھر سوال تو بنتا ہے کہ ذمے داری  کس کی ہے،یہاں آئین اور قانون کو پامال کیا گیا ہے،ہمیں پتہ ہے یہاں جلاؤ گھیراؤ کس نے کیا،سب سڑکیں کھلی ہیں راستے کھلے ہی ،پر امن احتجاج ہمارا حق ہے اور احتجاج کر رہے ہیں،بی بی کی شہادت پر پورا پاکستان جلا ہے،آپ کرو تو سہی، ہم کریں تو غلط،بی بی کی شہادت کا پہنیں بھی غم ہے،اگر آپ سب کی محنت، تکلیف کا کوئی صلہ نہ بھی ملے تو غم نہیں کرنا،جیسے نبی رحمت کو اللہ نے محفوظ رکھا تھا ویسے ہی پارا چنار کی عوام کو بھی اللہ محفوظ رکھے گا،یہ ساری کاوشیں آپ نے پارا چنار یا کسی اور کیلئے نہیں ہے،یہ اللہ اور رسول کیلئے امام حسین کیلئے مولا علی  کیلئے ہے، آپ کی یہ صدا با صحرا نہیں ہے، اس کا نتیجہ آیا ہے،میری پاراچنار میں علما اور عوام سے بات ہوئی ہے،وہاں سب آپ کے شکر گزار ہیں آپ سے خوش ہیں،بظاہر یہ معاملہ معاہدے کی وجہ سے حل ہوا ہے،لیکن درحقیقت یہ آپ ماؤں بہنوں بیٹوں کی وجہ سے  ہوا ہے،آپ کا یہ پاراچنار کیلئے کھڑے ہونا، پارا چنار کیلئے کھڑے ہونا ملک کیلئے کھڑا ہونا سب سے اہم ہے،ہماری قیادت جو فیصلہ کرے گی ہم سب اس پر لبیک کہیں گے۔

وحدت نیوز(کوہاٹ) انجمن حسینیہ پاراچنار کے مرکزی جنرل سیکرٹری جلال حسین طوری کا خصوصی ویڈیو پیغام جاری ہوگیا ہے ۔

جلال حسین طوری نے کہا کہ جرگہ کامیاب اورہمارا معائدہ ہوگیا ہے، جو خوش آئند ہے۔ تمام مومنین سمیت اہل سنت علماء کے حمایت پرمشکور ہیں۔

ہم سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس سے گزارش کرتے ہیں کہ اندرون ملک اور بیرون ملک جاری دھرنے ختم کرنے کی اپیل کریں۔

ملک بھر میں جاری دھرنوں کے شرکاء کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انشاءاللہ جلد پاراچنار کے راستے کھل جائیں گے ۔

جلال حسین بنگش نے ملک وبیرون ملک دھرنوں کی کال دینے پر کہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی کاوشیں لائق صد تحسین ہیں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے ہنگامی پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع کرم اور پارا چنار کے مظلوموں کی حمایت کیلئے جاری پاکستان اور دنیا بھر میں جاری دھرنے اور احتجاج کے سلسلے کے خاتمے کا اعلان کرتا ہوں۔ کراچی سے خیبر تک سخت سردی میں اپنے ہم وطن ساتھیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے دھرنا دینے والے بزرگ، جوان، خواتین سبھی عظیم اور بے مثال لوگ ہیں جنہوں نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو خواب غفلت سے بیدار کیا۔

پاراچنار میں دونوں فریقین کی رضامندی سے امن معائدہ ہوچکا ہے،ضلع کرم کے فریقین کے درمیان امن معاہدہ خوش آئند ہے،اب بال حکومت کے کورٹ میں ہے، معائدے پر عمل درآمد کریں۔ تاہم معائدہ پر مکمل عمل درآمد تک ہم اپنی آواز اٹھاتے رہیں گے اور ہر فورم پر پار ضلع کرم کے مسائل کے مستقل حل تک اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے۔ جبکہ کراچی میں شہید ہونے والے کارکن کی ایف آئی آر کا اندراج بھی یقینی بنایا جائے گا۔

علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے کہا کہ پاراچنار کا مرکزی دھرناجاری رہےگا، وہاں کے مرکز اور دھرنا منتظمین کی مشاورت سے پاکستان بھر میں دھرنے ختم کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔میں ملک گیر دھرنوں کے خاتمے کا اعلان کرتا ہوں۔ میں دھرنا شرکاء کا مشکور ہوں جنہوں نے ہمت دکھائی۔

وحدت نیوز(سکردو) امجدایڈوکیٹ کو یہ بھی نہیں پتہ کہ ایم ڈبلیو ایم کے پی حکومت کا حصہ نہیں ہے، اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی جی بی کاصدر شور مچا رہا ہے کہ ایم ڈبلیو ایم کے پی حکومت سے الگ ہوجائے۔ ان کو کیا یہ بھی نہیں پتہ کہ ہم کے پی گورنمنٹ کا حصہ  نہیں ہے یا سیاسی بیان بازی ہو رہی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ نہ ہم کے پی کے حکومت کی کابینہ کا حصہ ہے، نہ ہمارا کوئی وزیر ہے بلکہ اس حکومت کے خلاف پورے ملک میں ہم ہی دھرنا دے رہے ہیں۔ لاہور سے کوئٹہ اور گلگت بلتستان سے کراچی تک ہم پاراچنار کے محاصرہ کے خلاف اور صوبائی حکومت کی نااہلی پر برسراحتجاج ہے۔ انکی اپنی حکومت سے کراچی میں پاراچنار کے لیے دھرنا تک برداشت نہیں ہو رہا ہے۔ سندھ حکومت مظاہر پر طاقت کا بدترین استعمال کرکے شہید بی بی کی روح تک تڑپائی ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاراچنار کی موجودہ صورتحال کی ذمہ دار کے پی کی حکومت اور وفاقی حکومت دونوں ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وزیراعلی کے پی، گورنر کے پی، وزیراعظم پاکستان اور صدر پاکستان سنجیدہ ہوکر اس کا حل نکالے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا چاہتے ہیں کہ اس  انسانی المیے پر سیاست ہو رہی ہے۔ اس بحران سے نکالنے کے لیے سکیورٹی اداروں کی غفلت بھی سب سے سامنے ہے۔ سب مل کر ہمارا گھیراو کیا جا رہا ہے۔ ہمیں سیاسی مداریوں کی نوراکشی سے کوئی غرض نہیں ہمیں جینے کا حق دیا جائے۔ یہ ثابت کیا جائے کہ ملک میں قانون کی رٹ قائم ہے۔ کوئی بھی خطہ ملک سے الگ نہ ہو۔ پارا چنار اسوقت انسانی المیے کا گزر رہا ہے۔ نہ خوراک ہے، نہ کفن ہے اور دیگر ضروریات زندگی۔ لیکن ذمہ داران ننھے منے بچوں کی شہادتوں کو بھی سیریس لینے کو تیار نہیں ہے۔

وحدت نیوز(کراچی)صدر مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ علامہ سید باقرعباس زیدی نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ گزشتہ رات ملیر 15 دھرنے میں زخمی شبیہ حیدر زیدی شہید ہوگئے۔نہتے عوام پر ریاستی جبر و تشدد کی مذمت کرتے ہیں ۔گزشتہ روز سندھ حکومت نے ظلم و بر بریت کی داستان رقم کی۔ وزیر اعلیٰ سندھ شبیہ حیدر کے قتل کا اصل ذمہ دار ہے۔شہید شبیہ حیدر کی نماز جنازہ امرہہ سوسائٹی میں ادا کر دی گئی۔

کراچی میں مظلوم پاراچنار کی عوام کے حق میں دھرنے دیئے ہوئے ہیں۔احتجاجی دھرنے ہمارا آئینی و قانونی حق ہے۔دھرنوں پر ریاستی جبر کے خلاف ہائی کورٹ و سپریم کورٹ جائیں گے۔شہید شبیہ حیدر کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی ہے۔

واضح رہے کہ شہید شبیہ حیدر کی نماز جنازہ علامہ باقر عباس زیدی نے پڑھائی ۔نماز جنازہ میں شیعہ علماء کرام سمیت عمائدین بڑی تعداد موجود تھے۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے سابق وزیر اعظم و چیئرمین عوام پاکستان پارٹی شاہد خاقان عباسی اور سردار مہتاب خان عباسی کی ملاقات، دونوں رہنماؤں کا باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال، اس موقع پر سردار شاہد خاقان عباسی نے پارہ چنار کرم کی دلخراش صورتحال پر مشکلات میں گری عوام سے ہمدردی اور بحران کے طول پکڑنے پر افسوس کا اظہار کیا،اور اس بات پر زور دیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو پاراچنار میں پائیدار  امن کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔

 انہوں نے کراچی کے پرامن احتجاج کو طاقت کے زور پر منتشر کرنے پر افسوس کا اظہار کیا،اس موقع پر سردار مہتاب عباسی نے کہا کہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کے لیے کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور آپ جیسی روادار اور معتدل مذہبی شخصیت کو ملک کے تمام مکتبہ فکر میں پذیرائی حاصل ہے۔ آپ کو آگے بڑھ کر ملک سے فرقہ وارایت کے خاتمے کے لئے قائدانہ کردار ادا کرنا چاہئے۔

وحدت نیوز(لاہور)وائس چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ سید احمد اقبال رضوی نے سندھ حکومت کی طرف سے کراچی میں پرامن احتجاجی دھرنوں کے خلاف کریک ڈاون کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر قائد میں ریاستی جبر اور اشتعال انگیزی کا حکومتی سلسلہ تاحال جاری ہے، کراچی میں پرامن احتجاجی دھرنوں پر شیلنگ و لاٹھی چارج پیپلز پارٹی حکومت کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے، کراچی میں پر امن مظاہرین سے ان کا جمہوری حق چھیننا بنیادی حقوق کی سریحا خلاف ورزی ہے، پر امن خواتین و بچوں پر ریاستی جبر وتشدد بلاجواز اور خلاف قانون ہے،۔

آمریت کی کوکھ سے جنم لینے والی پیپلز پارٹی اپنے آپ کو جمہوری پارٹی کہنے کا راگ الاپنا بند کرے، آمرانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے پی پی لیڈر شپ نے نہتے شہریوں پر تشدد کر کے رعونت کی تمام حدیں عبور کی ہیں، زرداری حکومت کی جانب سے پارہ چنار کے مظلوم و محصور بچوں وخواتین کے لیے صدائے احتجاج بلند کرنے والوں پر وحشیانہ ظلم و تشدد ملت جعفریہ کے لیے ناقابل فراموش ہے، کراچی پولیس گردی اور ریاستی جبر کے خلاف سندھ بھر میں احتجاج کا اعلان کرتے ہیں۔

Page 21 of 1543

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree