The Latest

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین کی وحدت یوتھ پاکستان کی مرکزی ایک روزہ مالک اشترتربیتی ورکشاپ کا انعقاد اسلام آباد میں ہوا جس میں نوجوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ورکشاپ سے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنماؤں سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین شعبہ تعلیم کے مرکزی سیکرٹری نثار فیضی نے کہا کہ نوجوانوں کی تمام تر توجہ تعلیم پر مرکوز رہنی چاہیے۔ملکی و سماجی ترقی حصول تعلیم کے بغیر ممکن نہیں۔انہوں نے کہاتیزی سے بدلتے ہوئے عالمی رجحانات کا مقابلہ کرنے کے لیے آج کے نوجوان کو اپنی تعلیمی وفکری شعور کو بلند کرنا ہو گا۔دنیا میں جن قوموں نے تعلیم کو ترقی کا زینہ بنا لیا آج وہ بااعتماد انداز سے کامیابی کی طرف گامزن ہیں۔ملک وقوم کی ترقی اور عالمی طاقتوں کا سامنا کرنے کے لیے علم کی قوت کا درک اولین شرط ہے۔

ایم ڈبلیو ایم ایمپلائز ونگ کے سیکرٹری ملک اقرا ر حسین نے کہا کہ پڑھے لکھے نوجوانواں کو ملازمتوں کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی صورتحال تشویش ناک ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں سے ملازمتوں کے حوالے سے کیے گئے وعدے پورے کرے۔انہوں نے کہا کہ پڑھے لکھے طبقے کو برسر روزگار بنا کر، بے چینی، معاشرتی ناہمواریوں اور غربت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنما علامہ اقبال بہشتی نے کہا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔ ان کی فکری و علمی کاوشیں قومی ترقی کو بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ جو طبقات اپنے نوجوانوں کی تربیت پر توجہ نہیں دیتے وہ تنزلی و ذلت کا شکار رہتے ہیں۔ کامیابی کی منازل طے کرنے کے لیے نوجوانوں کی فکری بلوغت اور اعلی تربیت انتہائی ضروری ہے۔نوجوانوں کی تربیت کے حوالے سے مجلس وحدت مسلمین کے فعال اور مثبت کردار کو ہر سطح پر سراہا جا رہا ہے۔

ایم ڈبلیو ایم شعبہ تربیت کے مرکزی سیکرٹری ڈاکٹر یونس حیدری نے کہا ہے نوجوانوں کی تربیت پر توجہ دور عصر کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ اسلام دشمنوں قوتوں کا اولین ہدف عالم اسلام کے نوجوان ہیں۔ جن کے اخلاق و کردار کو تباہ کرنے کے لیے ہر طرح کے وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ثقافتی یلغار، غیر ملکی این جی اوز، سوشل میڈیا اور اخلاق باختہ مواد دشمن کے وہ مضبوط ہتھیار ہیں جن کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ اس گمراہی کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کا کام صرف باکردار و با عمل نوجوان ہی کر سکتے ہیں۔ہمیں اپنی اسلامی تشخص کی بقا کے لیے نوجوانوں کی تربیت مذہبی اصولوں کے مطابق کرنا ہو گی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان کسی ایسی مذہبی جماعت سے مربوط رہیں جو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و آل رسول ص کی تعلیمات پر کاربند رہتے ہوئے وحدت و اخوت اور اقلیتوں کی مذہبی آزادی پریقین رکھتی ہو۔مجلس وحدت مسلمین اسی ایجنڈے پر پوری طرح کاربند ہے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مقبوضہ کشمیر، یمن،فلسطین سمیت دیگر مسلم ممالک میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کا سلسلہ جاری ہے نہتے کشمیریوں کو بھارتی افواج نے چار ماہ سے محاصرے میں لے رکھا ہےجو قومیں مسلمانوں کے خلاف جاری مظالم اور انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں پر آواز نہیں اٹھا سکتیں انہیں انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنا زیب نہیں دیتا انسانی حقوق کا عالمی دن محض بیانات پر اکتفا کرنے کی بجائے عملی کوششوں کا متقاضی ہے۔ ان خیالات کا اظہارمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر مرکزی میڈیا سیل سے جاری اپنے بیان میں کیا۔

 انہوں نے کہا معاشرے کے ہر فرد کے لیے باوقار زندگی گزارنے کے بھرپور مواقع دے کرانسانی حقوق کی پاسداری کی جا سکتی ہے۔ اس وقت امت مسلمہ کو انسانی حقوق کے حوالے سے لاتعدادچیلنجزاور خطرات درپیش ہیں۔۔انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں کی انتقامی کاروائیوں کے باعث مادر وطن میں بھی انسانی حقوق کی پامالی کے ان گنت واقعات رقم ہوئے۔طویل عرصے تک شیعہ نسل کشی ہوتی رہی۔ہمارے پڑھے لکھے اور باصلاحیت افراد کو ٹارگٹ کیا جاتا رہا۔ چادر چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے ہمارے نوجوان کو گھروں سے غائب کیا گیا جن میں سے اکثریت تاحال لاپتا ہیں۔جو حکومت انسانی حقوق کو مقدم سمجھتی ہے وہ اپنے عوام کو اذیت کا شکار نہیں ہونے دیتی۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں میں اصلاحات کے عمل میں تیزی لا کر عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جا سکتاہے۔اپنے آئینی اختیار سے تجاوزکرنے والے اداروں کی سرزنش ہونی چاہیے۔انہوں نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر موجودہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ آزادانہ زندگی بسر کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔جبری گمشدہ افراد کے بارے میں ان کے خاندان کو آگاہ کیا جائے۔ ملک سے طبقاتی تفریق کا خاتمہ کر کے تمام شہریوں کو مساوی حقوق ملنے چاہیے،اور انسانی حقوق کا عالمی دن ہم سے یہ بھی تقاضا کرتا ہے کہ ملک سے غربت،پسماندگی،جہالت اور عدم مساوات کے خاتمے کی لئے سب مل کر کوششیں کریں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود علی ڈومکی نے ممتاز کشمیری رہنما خواجہ شجاع عباس کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ وحدت ہاؤس میڈیا سیل سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ مرحوم نہ صرف ایک حریت پسند شخصیت تھے بلکہ علمی و فکری اعتبار سے بھی ہمہ جہت خوبیوں کے مالک تھے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا خواب مرحوم کی زندگی میں پورا نہیں ہوسکا تاہم ان کی جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی، نہتے کشمیریوں پر بھارتی بربریت کے خلاف پوری دنیا میں آواز بلند ہوچکی ہے، مقبوضہ کشمیر میں چار ماہ سے زائد عرصے سے جاری کرفیو نے بھارتی حکومت کے متعصبانہ طرز عمل کو آشکار کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازع کشمیر دو ممالک کے درمیان محض زمینی تنازع نہیں بلکہ ایک ایسے مسلم اکثریتی علاقے پر بھارتی حکومت کا غاصبانہ قبضہ ہے جس نے اپنے الحاق کا فیصلہ پاکستان کے حق میں دے دیا تھا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بھارتی ہٹ دھرمی اور جنگی جنون عالمی امن کے لئے سنگین خطرہ ہے، دو ایٹمی طاقتوں کے ٹکراؤ  سے بدترین انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے، اقوام عالم بھارت کو اس آگ و خون کے ہولناک کھیل سے باز رکھیں، مقبوضہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اس کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جانا چاہیئے، مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقوام متحدہ بھارت پر زور دے۔ انہوں نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم کشمیری عوام کے ساتھ کھڑی ہے، پاکستان نے کسی بھی مشکل کی گھڑی میں کشمیر کو تنہا چھوڑا ہے نہ چھوڑیں گے۔

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل آغا علی رضوی نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ وفاقی اور صوبائی حکومت جی بی میں گندم سبسڈی ختم کرنے کے حوالے سے سوچنے کی بھی غلطی نہ کریں۔ اگر ایسا کوئی عوام دشمن اقدام اٹھایا گیا تو ماضی کی طرح عوام سڑکوں پہ نکل آئیں گے۔ گندم سبسڈی کے سبب عام عوام کی زندگی آسان ہے اور اس کا خاتمہ انکے منہ سے نوالہ چھیننے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ذمہ داران کی طرف سے گندم سبسڈی کے خاتمے اور کوٹے میں کمی کی خبریں میڈیا میں گردش کر رہی ہیں، وفاقی حکومت عوام دشمن پالیسی سے باز رہے۔ گلگت بلتستان کے عوام کا مطالبہ ہے کہ آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ گندم کے کوٹے میں بھی اضافہ کیا جائے۔

آغا علی رضوی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے جی بی سے متعلق فیصلے کے بعد نہ صرف گندم سبسڈی کے خاتمے کا قانونی جواز نہیں بنتا بلکہ دیگر اشیائے ضروریہ پر سبسڈی ملنی چاہیے۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ وفاق کی طرف سے فراہم کی جانے والی گندم کی کوالٹی پر پہلے ہی تحفظات ہیں اور نون لیگ کی حکومت میں کوٹے میں بھی کمی کی گئی۔ وفاقی حکومت کے ذمہ داران گندم کی کوالٹی کے حوالے سے تحفظات دور کریں اور جی بی کے لیے کوٹہ بڑھانے کے حوالے سے اپنا موقف واضح کریں۔ گلگت بلتستان کے عوام کو گندم ضروریات کے مطابق نہیں مل رہی ہے۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ گندم سبسڈی ختم کی گئی تو صرف اسکی بحالی کے لیے ہی نہیں بلکہ اور بھی مطالبات کے ساتھ تاریخی تحریک چلائی جائے گی۔

وحدت نیوز(سکھر) مجلس وحدت مسلمين ضلع سکھرکی جانب سے سکھرمیں پریس کلب سکھر تک یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ایک ریلی نکالی گئی جس کی قیادت صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سندھ چوہدری اظہر حسن، ضلعی سیکرٹری جنرل سید محمد عباس و دیگر ضلعی و تعلقہ کے رہنما کررہے تھے۔

مقررین نے خطاب میں کہا کہ ہم کشمیر میں جاری انڈین فوج کے مظالم پر خاموش نہیں رہ سکتے ،کشمیر کی آزادی نوشتہ دیوار ہے اور حق خودارادیت کشمیریوں کا بنیادی حق ہے۔ کشمیر کے مقدر کا فیصلہ قابض انڈین فوج نہیں بلکہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیئے، ریلی کے مظاہرین نےکشمیر کی حمایت میں اور انڈیا کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) حسب معمول رات کے ایک پہر گزرنے کے بعدجب گھر پہنچا تو دیکھا بجلی نہیں ہے۔ بجلی نہ ہونے پر کوئی تعجب بھی نہیں ہوا کیونکہ میں سکردو میں رہتا ہوں جہاں بجلی صرف یا ارباب اقتدار اور عہدہ دار کے گھر میں یا امیر کے گھرمیں ہوتی ہے۔ بے چارے عوام کے گھروں میں ، گرمیوں کے موسم میں جب پانی کی فراوانی ہوتی ہے تب بھی بجلی نہیں ہوتی ہے تو اب سردیوں میں کہاں بجلی ہوگی۔ جبکہ سنا ہے کہ سدپارہ ڈیم میں پانی لیکیج کا سوراخ اتنا بڑا ہوا ہے جس میں وزیر بجلی کو بھی ڈالا جائے تو سوراخ بند نہ ہونے پائے۔ اور گزشتہ دوماہ سے مسلسل ڈیم سے پانی کو ضائع کیا جارہا ہے جس کی وجہ سمجھنے سے میں آج بھی قاصر ہوں۔

بہر کیف بجلی کا انتظار کرتا رہا اچانک بجلی آگئی تو فورا وائی فائی آن کیا۔ سوشل میڈیا پر ایک صاحب کی تحریر نظر سے گزری جس میں موصوف نا معلوم نے ایم ڈبلیو ایم کے حوالے سے کچھ باتیں تحریر کی ہیں۔ موصوف مذکور کی کچھ باتوں نے مجھے بھی قلم اٹھانے پر مجبور کیا۔ میں تو حق اور حقیقت کا متلاشی ہوں جہاں حق اور حقیقت نظر آ جائے فورا کود جاتا ہوں۔ مجھے کچھ حق نظر آیا ایم ڈبلیو ایم میں جس کی وجہ سے اس سیاسی مذہبی پارٹی کا ایک ادنا سا نظریاتی کارکن ہوں۔ موصوف نا معلوم لکھتا ہے کہ ایم ڈبلیو ایم ایک پریشر گروپ ہے مگر سیاسی جماعت نہیں ہے، کیونکہ ان کو سیاست نہیں آتی۔ میں موصوف سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ سیاست سے کیا مراد لیتے ہیں؟ اگر آپ کی سیاست سے مراد وہ ہے جو آج ان نام نہاد سیاسی پارٹیوں میں ہورہا ہے، مثلا کرپشن' لوٹ کھسوٹ ' اقربا پروری اور اپنوں کوٹھیکوں اور نوکریوں سے نوازنا۔ تو جناب عالی! یہ سیاست نہیں ہے یہ تو لوٹ مار ہے۔ اگر آپ اسی کو سیاست سمجھتے ہیں تو ہمیں ایسی سیاست نہیں آتی۔ یہ والی سیاست ہم کرتے بھی نہیں۔ ایم ڈبلیو ایم اقدار اور میرٹ کی بات کرتی ہے جو کہ مقدس امر اور عبادت ہے۔ آپ کو یاد ہوگا اسی بلتستان میں نوکریاں بکتی تھیں، سرعام رشوت لیتے تھے، اور محکمہ ایجوکیشن کو اصطبل بنایا گیا تھا۔ سب سے زیادہ قانون شکنی ہوتی رہی۔ مگر آج الحمد للہ سر عام کسی کو نوکری فروخت کرنے کی جرآت نہیں ہوتی ہے تو یہ ایم ڈبلیو ایم ہی کی وجہ سے ہے۔

یوں تو بلتستان کا کونسا ایسا سیاست دان ہے جس نے مذہب کا سہارا نہ لیا ہو۔ آج جو بھی سیاست دان ہے تو مذہبی کارڈ اور علماء کی وجہ سے سیاست دان ہے اور انہی سیاست مداروں نے سب سے ذیادہ مذہبی کارڈ استعمال کرکے سیاست دان بنے اور سب سے ذیادہ مذہبی پارٹی کودھوکہ بھی دیا اور مذہبی پارٹی کے ساتھ خیانت بھی کی۔ گزشتہ الیکشن میں بھی ایک بے ضمیر نے مذہبی جماعت کا سہارا لیا اور مذہب کو گندا کرنے کے لئے ہاتھ پیر بہت مارا۔ مگر مرد حر آغا علی رضوی نے اس بے ضمیر کی مٹی پلید کر کے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کے نام کو داخل دشنام کیا۔ واضح رہے ضمیر کا سودا صرف اس نے نہیں کیا تھا بلکہ مبینہ طور پر شگر حلقے سے نمایندے عمران ندیم نے بھی ضمیرکا سودا کرکے بہت کچھ کمایا تھا۔ مگر ان کی ضمیر فروشی پہ سب خاموش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ ان کے حلقے اور جماعت میں کوئی سید علی رضوی نہیں !!! مگر بلتستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حلقہ 2 میں ایک ضمیر فروش کو ضمیر فروشی کی سزا ملی اسکا سارا کریڈیٹ ایم ڈبلیو ایم کو ہی جاتا ہے۔ جس نے جیتی ہوئی سیٹ کو قربان کیا مگر بے ضمیری کا راستہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کیا۔ آپ پھر بھی کہتے ہیں کہ ایم ڈبلیو ایم کو سیاست نہیں آتی ۔۔۔۔؟ سابقہ الیکشن گواہ ہے کہ پہلی مرتبہ سیاست میں آتی ہے ایک پارٹی اور دوسری سب سے بڑی سیاسی جماعت کے طور پہ سامنے آتی ہے۔ مجلس وحدت المسلمین کے سیاسی اور سیاست کے میدان میں ماھر ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

ایم ڈبلیو ایم ہر جائز عوامی مطالبے میں صف اول میں رہی ہے۔ جتنی تحریکیں اور مطالبات اس ایک دہائی میں ہوئی ہے ان میں فرنٹ لائن پر کونسی جماعت نظر آتی ہے؟ انکی قیادت کس نے کی؟ یہ سیاست کا نہ آ نا کہلاتا ہے تو پھر ایسے ہی سہی۔ ایم ڈبلیو ایم یہی سیاست کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔ ہر نا انصافی پر عوام کی آواز بنتی رہی ہے، آگے بھی بنتی رہیگی۔ عوام کے حق میں ہر جائز مطالبہ کرتی رہی ہے ، آگے بھی کرتی رہیگی۔ ہر کرپٹ چور اور اقربا پرور کیخلاف اٹھتی رہی ہے آئندہ بھی اٹھتی رہے گی۔ ایم ڈبلیو ایم ہر ناجائز کام کیخلاف بولتی رہی ہے، آئندہ بھی بولتی رہیگی۔ ایم ڈبلیو ایم کے پلیٹ فارم سے اور قائدین کی طرفسے اپنی تاسیس سے ابتک علاقے میں امن و امان کیلئے کوششیں بچہ بچہ تک کو معلوم ہیں۔ ایم ڈبلیو ایم ہمیشہ علاقے میں اتحاد و اتفاق کے فروغ کیلئے صف اول میں رہی ہے۔

تعصب، پا بازی، لسانی و علاقائی اور مسلکی منافرت کے سد باب کیلئے ہر اول دستے کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ دہشت گردی اور حکومتی جبر کیخلاف سیسہ پلائی دیوار کی مانند رہی ہے اور آیندہ بھی رہے گی۔ ہماری سیاست یہی ہے، ہم اسی کو سیاست سمجھتے ہیں، یہی سیاست ہم جانتے ہیں، اور ہم یہی سیاست کرتے رہیں گے۔ جن کاموں کو آپ سیاست سمجھتے ہیں وہ ہمیں آتی ہے تو بھی نہیں کرتے۔ اور ہمیں کوئی سکھانے کی کوشش کرے تو بھی ہم نہیں کریں گے۔ یہی آپ کا اعتراف ہے کہ ہم موجودہ دور میں رائج لوٹ کھسوٹ، ٹھیکیدار نوازی، کمیشن خوری، نوکری، پروموشن اور تبادلوں کو سیاست کے نام پر نہیں کرتے۔ ہم عوامی فنڈز کو منظور نظر لوگوں کی آشیربادی کیلئے اور عوام پر اپنا احسان سمجھ کر استعمال کرنے اور پیش کرنے کو بھی سیاست نہیں بلکہ منافقت سمجھتے ہیں۔ ہم ووٹ بنانے کیلئے تختیاں لگانے اور فیتے کاٹنے کو بھی سیاست نہیں سمجھتے، یہ بھی عوامی پیسے عوامی امور میں خرچنا ہے کسی سیاسی مداری کے گھر کے پیسے نہیں، نہ اسکا احسان ہوتا ہے عوام پر۔ ہم اقدار کی سیاست کرنا جانتے، قانون اور انصاف کی سیاست کرنا جانتے ہیں، عوامی آواز بننے اور عوام کا ساتھ دینے کی سیاست جانتے ہیں۔ اگر آپکے خیال میں ایسا کرنا سیاست ہے تو ہم یہی جانتے ہیں۔

ازقلم: شیخ فداعلی ذیشان

وحدت نیوز(راجن پور) مکاتب ولایت پاکستان کے زیراہتمام ضلع راجن پور کے قرآن و دینیات سینٹرز کے اساتذہ اور طلبہ و طالبات کا پروگرام امام بارگاہ جعفریہ راجن پور میں منعقد ہوا۔ تقریب میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود علی ڈومکی، شیعہ علماء کونسل کے صوبائی صدر علامہ موسی رضا جسکانی، مکاتب ولایت پاکستان کے انچارج علامہ مراد علی بلاغی و دیگر شریک ہوئے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ مساجد کو نماز و بندگی مناجات کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت اور عوامی فلاح اور رفاہی کاموں پر توجہ دینی چاہئے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے مراکز تعلیم القرآن اور دینیات سینٹرز کی خدمات قابل تحسین ہیں مگر اسے اسلام کے نظام تعلیم و تربیت اور عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جانا ضروری ہے۔

انہوں نےکہا کہ دینیات سینٹرز کے اساتذہ اور آئمہ جمعہ و جماعت کی تعلیم و تربیت پر توجہ کی ضرورت ہے۔ منبر و محراب اگر درست ہاتھوں میں ہوں تو معاشرے کی اصلاح اور فلاح ہوگی۔اس موقع پر دینیات سینٹرز کے پوزیشن حاصل کرنے والے بچوں میں انعامات تقسیم کئے گئے۔

وحدت نیوز (پشاور) مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ وحید کاظمی نے وزیرستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک دشمن منفی قوتیں شر پسندی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔ سیکورٹی فورسز نے ان دہشت گردوں کے لیے اس سرزمین کو قبرستان بنا دیا ہے جو پاکستان کو اپنی محفوظ پناہ گاہ سمجھتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک میں انتہا پسندوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ ایسے عناصر کےخلاف بھی کارروائی ہونی چاہیئے جو تکفیریت اور نفاق کا درس دے کر قوم کے نوجوانوں کو فکری طور پرگمراہ کر رہے ہیں۔ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کے تشخص کو داغدار کرنے والے دشمنوں کے آلہ کار ہیں ان کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔اسلام اخوت و رواداری کا درس دیتا ہے۔کسی بھی بےگناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ مذہب ومسلک کی بنیاد پر نفرتیں پھیلانے والے اس ملک کے دشمن اور فکری دہشت گرد ہیں ان کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جانا چاہئے۔

انہوں نےکہا ملک میں امن کے قیام کے لیے ریاستی اداروں کی کارکردگی اطمینان بخش ہے۔ دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ ہمارے ادارے اپنے فرائض سے لمحہ بھر بھی غافل نہیں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) پاکستان میں سرکاری تدریسی اداروں کا معیارِ تعلیم نجی اداروں کی نسبت بہتر نہیں ہے جس سے متوسط طبقہ شدید متاثر ہوا ہے۔انہوں نے کہا پاکستان میں نجی تعلیمی ادارے ایک نفع بخش صنعت کا روپ دھار چکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری تعلیمات نثار فیضی نے طلبہ تنظیموں کے ایک وفد سے ملاقات میں کیا۔

 انہوں نے کہا جو قومیں اپنی تمام تر صلاحیتیں تعلیم کے شعبے کی بہتری پر صرف کرتی ہیں انہیں دنیا کی کوئی طاقت نیچا نہیں دیکھا سکتی۔اس وقت دنیا کے وہی ممالک زندگی کے مختلف شعبوں میں ترقی کی طرف تیزی سے گامزن ہیں جہاں خواندگی کی شرح زیادہ ہے۔  ان اداروں کے غیر معمولی اخراجات اور ہوشربا فیسیں عام آدمی کی دسترس سے باہر ہیں۔ملک کےہر فرد کو تعلیم کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن اس کے خاطر خواہ نتائج تب ہی برآمد ہوں گے جب ملک کے ہر ادارے میں جدید نصاب کے مطابق حصول تعلیم کے یکساں مواقع موجود ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری سکولوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ وہاں کے اساتذہ جدید تعلیمی تقاضوں سے آشناہوں۔بچوں کی بہترین تربیت صحت مند معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔جس کے لیے اساتذہ کا با کردار اور عالی وصف ہونا انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا تعلیم کے میدان میں بہتری کے لیے ان ممالک سے رہنمائی حاصل کی جانی چاہیے جو تدریسی حوالے سے عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ جس طرح زندگی کے متعدد شعبوں میں مختلف ممالک کے درمیان معاہدے کیے جاتے ہیں اسی طرح ترقی یافتہ ممالک اور ہمارے مابین تعلیم وتحقیق کے میدان میں ترقی کے لیے اشتراک عمل ہونا چاہیئے تاکہ ارض پاک ترقی کی منازل زیادہ سرعت کے ساتھ طے کرے۔

وحدت نیوز(کراچی) حکومت گیس و بجلی کی قیمتوں میں کمی کرکے عوام کو سہولیات فراہم کرے، بڑھتی ہوئی مہنگائی و بے روزگاری سے عوامی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے، موجودہ حکومت معاشی پالیسی و عوامی ریلیف پر توجہ دے، مخصوص طبقے نے اسلامی فلاحی ریاست کو دیوالیہ ریاست بنا دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ سید باقر عباس زیدی نے وحدت ہاؤس سے جاری اپنے بیان میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ مخصوص طبقے نے اسلامی فلاحی ریاست کو دیوالیہ ریاست بنا دیا، آج قسم قسم کی خرابیاں جنم لے کر بحرانوں کی شکل اختیار کررہی ہیں، پاکستان کی ترقی کا راز قانون کی عمل داری، آئین کی بالادستی اور انصاف کی سب کیلئے یکساں فراہمی میں ہے لیکن افسوس اس جانب توجہ نہیں دی گئی۔

علامہ باقر زیدی نے کہا کہ اگر ہم ملک کو صحیح معنوں میں پھر سے فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں اور اس تصور کو عملی شکل دینا چاہتے ہیں تو پھر ملک پر مسلط کرپشن، اقرباء پروری، دہشت گردی و فرقہ واریت، ناانصافی، قانون میں عدم یکسانیت جیسی غلاظتوں سے پاکستان کو پاک کرنا ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ ملک پر مسلط اشرافیہ کا بھی زور توڑنا ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اسلامی فلاحی مملکت کے نام پر معرض وجود میں آیا لیکن افسوس بعدازاں اسے پٹڑی سے ہٹادیا گیا، موجودہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ عوامی ریلیف پروگرامز پر توجہ دے اور جلد از جلد عملی اقدامات کرے۔

Page 16 of 1001

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree