The Latest

labbeyk.ya rasolullh1کراچی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی مفادات کی پاسداری میں پولیس اب گستاخانہ امریکی فلم کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر ربڑ کی گولیاں چلائے گی جبکہ کراچی میں دسیوں ہزارکی تعداد میں آنسوؤں گیس کے شل بھی منگوادیے گئے ہیں اوربکتربند گاڑیاں بھی طلب کی گئی ہیں، یہ بھی اطلاعات آرہی ہیں کہ امریکہ اعصاب شکن گیس کے گولے بھی کراچی پولیس کو دے رہا ہے
یہاں ان تیاریوں کو دیکھ کر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ گستاخ رسول اللہ امریکہ کی ایمبیسی کی حفاظت اور عاشقان رسول اللہ کے احتجاج کے خلاف مسلمان ملک کی مسلمان فورسز کررہی ہیں؟
امریکی سفارتخانے نے پولیس کو شاباش دی ہے ہوسکتا ہے کہ وہ انعام بھی دیں لیکن ضروت اس بات کہ ہے کہ احتجاج کرنے والوں کو امریکی قونصل خانوں اور سفارت میں یاداشت پیش کرنے دیا جانا چاہیے تاکہ اس قسم کی جنگی تیاریوں کی ضرورت ہی نہ بنے جب پولیس اور فورسز امریکی دفاع میں پرامن مظاہرین پرتشدد کرتی ہے تو پر نتائج برے ہی نکلتے ہیں بقول سنی اتحاد کونسل کے رہنما کے کہ پولیس میں امریکہ نوازلوگوں کی کمی نہیں جو چند ڈالروں کے عوض کچھ بھی کرسکتے ہیں جس کی مثال ہمیں کراچی میں مل گئی ہے ۔
اگر عقل مندی سے کام لینے کے بجائے امریکہ نوازی سے کام لیا گیا تو ملک بھر کا احتجاج امریکیوں کے بجائے خود پولیس اور فورسز کے خلاف بھی ہوسکتا ہے اس لئے پولیس کو عقل مندی سے کام لینا چاہیے

ناصر ملت کی میڈیامیں جمعہ کے دن ملک گیر پرامن احتجاج کی اپیل پر عوام کی لبیک
ناصر ملت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اور سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صابزادہ فضل کریم کی جانب سے پاکستان کی امت مسلمہ سے اپیل کی گئی کہ جمعہ کے دن گستاخانہ امریکی فلم کے خلاف پرامن ملک گیر احتجاج کیا جائے جس میں تمام سیاسی پارٹیاں اور مذہبی پارٹیاں شریک ہونگی ۔
ایم ڈبلیوایم پاکستان نے ملک بھر میں جمعہ کے دن پرامن احتجاج کی تیاریاں شروع کردیں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ اس پرامن احتجاج پر شریک ہوں اور لبیک یا رسول اللہ اور امریکہ مردہ باد کے نعرے لگائیں

امریکی گستاخانہ فلم کے خلاف کے چنیوٹ میں تین جماعتوں کی مشترکہ ریلی شہر کے اندرونی راستوں سے ہوتے ہوئے تحصیل چوک کی جانب روانہ ہوگئی ہے ہزاروں کی تعدادمیں شریک افراد امریکہ مردہ باد کے نعرے لگارہے ہیں ،عاشقان مصطفی کے لبیک یا رسول اللہ کے نعروں سے شہر کی فضاء معطر ہو گئی ہے

 Allama.raja nasir.geotvسربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان  علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے جیو ٹی وی کے پروگرام کپیٹل ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے شہید عظمت رسالت کو خراج تحسین پیش کیا اور اس شہادت کو باعث افتخار سمجھاآپ نے فرمایا ’’میں سب سے پہلے اس عظیم ظلم پر(یعنی شان رسالت پر بنائی جانے والی گستاخانہ فلم کے ظلم پر)قرآن کی اس آیت کی تلاوت کرونگاکہ انا للہ و انا الیہ راجعون اور سلام پیش کرونگا ان پر جنہوں نے عظمت رسول کی خاطر اپنی جانیں فداء کیں آج دیر بالا ایک اہلسنت بھائی شہید ہوئے اور کل کراچی میں جو ظلم ہوا نہتے مسلمانوں پر جس میں خواتین تھیں بچے تھے اپنے گھر والوں اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ لوگ گئے ہوئے تھے ان پر فائرنگ کی گئی انہیں گولیاں ماری گئیں ان کے سروں میں گولیاں ماری گئیں اور کراچی میں آج صبح علی رضا تقوی شہید ہوئے ان سب دوستوں کی شہادت کو رسول خدا کی بارگاہ میں ہدیہ کے طور پر پیش کرتے ہیں ہماری ہزار جانیں فدا ناموس رسالت پر جو زخمی اللہ سے دعا ہے کہ انہیں شفاء عاجلہ و کاملہ عطا فرمائے
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ ہم نہتے عاشقان رسول (ص) پر گولیاں چلانے والوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اس شرانگیز فلم کے بنانے والوں کو جہان اسلام کے حوالے کیا جائے۔ اگر عافیہ صدیقی ان کے مطابق ان کی مجرم ہیں تو توہین آمیز فلم بنانے والے عالم اسلام کے مجرم ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم نے نجی ٹی وی کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کے دوران کیا۔

علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ کو اس موقع پر متحد ہو جانا چاہیے اور ایک پلیٹ فارم سے آواز اٹھائی جائے اور ایسا بین الاقوامی قانون پاس کروایا جائے کہ جس کے مطابق کسی بھی مذہب کی مقدسات کی توہین سنگین جرم قرار دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کی خاموشی قابل مذمت ہے اور تمام مسلم حکمران ایک ہو کر دشمن اسلام کا مقابلہ کریں۔
انہوں نے پروگرام میں موجود پیپلز پارٹی کے رہنما نذر گوندل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتیں عوامی جذبات کی ترجمان ہونی چاہییں اور ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس احتجاج کو حکومتی سطح پر منعقد کیا جائے اور 21 ستمبر بروز جمعہ کو ناموس رسالت کے لیے ایک سونامی آنا چاہیے۔ جس میں تمام علماء، تمام سیاسی پارٹیاں، تمام مذہبی پارٹیاں اور پوری عوام سڑکوں پر آکر ایک پرامن مظاہرہ کریں اور دنیا کو اپنی طاقت، ہیبت اور وحدت کا پیغام دیں

hasim11مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماء علامہ سید ہاشم موسوی اور مجلس وحدت مسلمین ضلع کوئٹہ کے تمام اراکین و عہدیداران نے کراچی میں ایم ڈبلیو ایم اور آئی ایس او کے زیر اہتمام گستاخانہ فلم کے خلاف نکالی گئی پرامن ریلی پر انتظامیہ کے وحشیانہ تشدد اور فائرنگ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں نہتے عاشقان رسول اللہ (ص) پر نااہل انتظامیہ کی فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ریلی پر فائرنگ سے شہید ہونے والے علی رضا کی شہادت اور زخمیوں کے خون کی اصل ذمہ دار نااہل انتظامیہ ہے جبکہ حکومت پاکستان کو رسول اللہ (ص) کی حرمت کی لاج رکھتے ہوئے امریکہ سے فوراً اپنے تعلقات ختم کرنے چاہیے تھے مگر نااہل حکمرانوں نے رسول اکرم (ص) کی شان میں گستاخانہ فلم کے خلاف پرامن مظاہرہ کرنے والوں پر وحشیانہ تشدد اور فائرنگ کرکے امریکی غلامی کا ثبوت دیا ہے۔ جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب بھی موقع ہے کہ پاکستانی حکومت ہوش کے ناخن لیتے ہوئے فوراً امریکہ سے قطع تعلقات کرکے اس کے ناپاک سفارتکاروں کو ملک بدر اور سفارتخانے اور قونصل خانوں کو ہمیشہ کیلئے بند کرے کیونکہ پاکستانی عوام اور دنیا بھر کے غیرت مند مسلمانوں کیلئے رسول اللہ (ص) کی شان میں گستاخی کسی بھی صورت قابل برداشت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کو چاہیے پاکستانی عوام کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے امریکہ سے اس گستاخانہ حرکت پر عام معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے اس معاملے کو اقوام متحدہ میں بھرپور انداز اٹھائے تاکہ آئندہ کوئی بھی ایسی گستاخانہ حرکت کرنے کی ہمت نہ کرے۔ علامہ سید ہاشم موسوی نے مزید کہا کہ کراچی میں گرفتار کئے گئے پرامن مظاہرین کو فوراً رہا کیا جائے بصورت دیگر مجلس وحدت مسلمین پورے پاکستان میں احتجاج کرے گی۔

کراچی میں آج جماعت اسلامی اور جمعیت طلبہ کی ریلی نے امریکی قونصلیٹ کی جانب مارچ کی عاشقان مصطفی کو پولیس اور رینجرز کی فارنگ لاٹھی چار چ ارو شلینگ کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود عاشقان مصطفی ابھی تک کہ چار گھنٹے ہوئے ہیں سڑک پر موجود ہیں اور امریکی گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج کررہے ہیں

Breaking-News-mwm1لاہور میں گستاخانہ فلم کے خلاف ریلی تمام روکاوٹیں عبورکرتے ہوئے امریکی قونصلیٹ جا پہنچے اور قونصلیٹ میں داخل ہوگئے پولیس کی لاٹھی چارچ اور شلینگ اور فائرنگ کے باوجود عاشقان مصطفی نے احتجاج ختم نہ کیا اور شیطانی قونصلیٹ کا گھراو جاری رکھا اور آخری اطلاعات تک گھراو جاری ہے ریلی ایم ڈبلیوایم اور آئی ایس او کی قیادت میں نکالی گئی

1stshaheedایم ڈبلیوایم کے مرکزی ترجمان علامہ سید حسن ظفرنقوی نے امت مسلمہ پاکستان اور خاص کر ملت جعفریہ کو اس بات پر مبارکباد پیش کیا ہے کہ ناموس رسالت پر قربان ہونے والا پہلا فرد شہید رضا تقوی ہے انہوں نے شہید کے خاندان کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد پوری امت اور خاص کر ملت جعفریہ کے محسنوں میں سے قرار پائے ہیں
انہوں نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ناموس رسالت پر سب سے پہلا شہید ملت جعفریہ اور ایم ڈبلیوایم نے پیش کیا علامہ حسن ظفرنقوی نے کہا کہ رسول گرامی اسلام کے تقدس اور احترام کی خاطر ہم ہزاروں لاکھوں جانیں قربان کرتے رہے گے
مرکزی ترجمان مجلس وحدت نے مزید کہا کہ یہ وہ وقت ہے کہ امت مسلمہ کو ایک ہونا چاہیے اور اس ناپاک فلم بنانے والوں خاص کر امریکہ شیطان کے خلاف ڈٹ جانا چاہیے
حکومت کو چاہیے کہ امریکی سفیر کو ملک سے نکال دیں اور جب تک گستاخانہ فلم بنانے والوں کو سزا نہیں دی جاتی احتجاج جاری رکھے

001مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی کے ڈپٹی سیکرٹری علامہ تقوی کے بھائی رضا تقوی نے حرمت رسول اللہ کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کردیا ۔
رات گئے اگرچہ پہلی خبر یہ تھی کہ لبیک یا رسول اللہ ریلی پرپولیس اور رینجرزکی امریکیوں کی خاطرکی جانے والی فائرنگ سے شہید رضا کے سر پر گولی لگی ہے اور وہ کوما کی حالت میں ہیں اس سے قبل میڈیا نے ان کی شہادت کی رپورٹ دی تھی ابھی کچھ دیر قبل تازہ ترین اطلاع ملی ہے کہ شہید رضا تقوی نے جام شہادت نوش کیا ہے اور شہید کے جسدخاکی کو انچولی منتقل کردیا گیا ہے کچھ ہی دیر میں شہید کی تدفین ہوگی
مختلف مکاتب فکر کے علماء اور شخصیات نے پولیس کی اس امریکہ
نوازی کی سخت مذمت کی ہ

میرا درد اور تکلیف ناقابل بیاں تھی۔ یہ تکلیف میری صحافیانہ جستجو کا نتیجہ تھی۔ میں نے سی این این پر ایک اسلام مخالف فلم کے خلاف لیبیا میں احتجاجی مظاہروں کی خبر دیکھی تو انٹرنیٹ پر اس فلم کو تلاش کرنا شروع کیا۔ ایک ساتھی نے فلم کو کسی ویب سائٹ سے ڈان لوڈ کرکے میری مشکل کو آسان کردیا لیکن جیسے ہی میں نے فلم دیکھنی شروع کی تو مجھے ایسے لگا کہ کسی نے میرے دل و دماغ پر ہتھوڑے برسانے شروع کردئیے ہیں۔ میں خود کو بہت مضبوط اعصاب کا مالک سمجھتا ہوں لیکن سام بیسائل کی طرف سیمسلمانوں کی مظلومیت کے نام سے بنائی گئی یہ فلم اس دور کی سب سے بڑی دہشتگردی تھی کیونکہ اس فلم کے مناظر اور ڈائیلاگ مسلسل بم دھماکوں سے کم نہ تھے۔ گیارہ ستمبر2001 کو نیویارک اور واشنگٹن میں القاعدہ کے حملوں سے تین ہزار امریکی مارے گئے تھے لیکن گیارہ ستمبر2012 کو یو ٹیوب پر جاری کی جانے والی اس فلم نے کروڑوں مسلمانوں کی روح کو زخمی کیا۔ میں اس فلم کو چند منٹ سے زیادہ نہیں دیکھ سکا۔ اس خوفناک فلم کی تفصیل کو بیان کرنا بھی میرے لئے بہت تکلیف دہ ہے۔ بس یہ کہوں گا کہ اس فلم کے چند مناظر دیکھ کر سام بیسائل کے مقابلے پر اسامہ بن لادن بہت چھوٹا سا انتہا پسند محسوس ہوا۔ یہ اعزاز اب امریکہ کے پاس ہے کہ اس صدی کا سب سے بڑا دہشتگرد سام بیسائل اپنی انتہائی گندی اور بدبو دار ذہنیت کے ساتھ صدر اوباما کی پناہ میں ہے۔ اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آج تک کبھی کسی مسلمان نے حضرت عیسی  یا کسی دوسرے نبی کی شان میں گستاخی نہیں کی ۔ امریکہ کی طرف سے ہمارے دینی مدارس پر بہت اعتراضات کئے جاتے ہیں کہیں ان دینی مدارس کے طلبہ نے کبھی مسیحی یا یہودی مذاہب کی ایسی توہین کے بارے میں سوچا بھی نہ ہوگا جو سام بیسائل نے مسلمانوں اور ان کے پیارے نبی حضرت ۖ کی۔ مجھے افسوس ہے کہ امریکی صدر اوباما کی طرف سے اس فلم کے خلاف آنے والا ردعمل برائے نام ہے۔ اس فلم کو امریکی اقدار کے خلاف قرار دینا کافی نہیں بلکہ یہ اعتراف کرنا بھی ضروری ہے کہ کچھ مسیحی اور یہودی انتہا پسند ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو مسلمانوں کے خلاف ایک بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ انتہا پسند القاعدہ، طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے زیادہ خطرناک ہیں۔ میں صدر اوباما سے سام بیسائل اور ٹیری جونز جیسے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کی بھیک نہیں مانگوں گا لیکن امریکی میڈیا میں ا پنے دوستوں سے گزارش کروں گا کہ وہ یہ پتہ ضرور لگائیں کہ ان کے ہم وطن دہشتگردوں کو امریکہ کے کون کون سے خفیہ ادارے کی حمایت حاصل ہے۔ یقینا ٹیری جونز اور سام بیسائل پورے امریکہ کے ترجمان نہیں اور آج امریکہ میں رمزے کلارک جیسے بزرگ بھی موجود ہیں جو ایک پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن مجھے ایسے لگتا ہے کہ آج عالم اسلام میں امریکہ کی پہچان رمزے کلارک نہیں بلکہ سام بیسائل بن چکا ہے۔
سام بیسائل کی دہشتگردی نے مجھے صلاح الدین ایوبی کی یاد دلائی جس نے ایک مسیحی بادشاہ کی طرف سے مسلمانوں کے پیارے نبی حضرت محمد اکرم کی شان میں گستاخی پر غضبناک ہو کر تلوار اٹھالی تھی اور آخر کار بیت المقدس کو فتح کرکے دم لیا تھا۔ افسوس کہ آج عالم اسلام کے کسی حکمران میں اتنا دم نہیں کہ وہ آئے روز توہین رسالت اور توہین قرآن کرنے والوں کے عالمی سرپرستوں کو للکار سکے۔ ہمارے ریاستی ادارے توہین رسالت اور توہین قرآن کے جھوٹے الزامات میں اپنے ہم وطن غریب غیر مسلموں کو گرفتار کرنے میں کوئی دیر نہیں لگاتے لیکن جب امریکی فوجی گوانتاناموبے یا قندھار میں قرآن کی توہین کرتے ہیں جب ٹیری جونز الاعلان قرآ ن پاک کو نذر آتش کرتا ہے اور جب سام بیسائل ایک فلم کے ذریعہ ہماری روح کو لہولہان کردیتا ہے تو ہم اور ہمارے حکمران محض زبانی کلامی مذمت کو کافی سمجھتے ہیں اگر لیبیا یا یمن میں امریکی سفارتخانے پر حملہ ہوجائے تو امریکہ وہاں فوج بھیجنے کی دھمکی دے سکتا ہے لیکن ہم آجاکر اپنی ہی سڑکوں پر اپنی ہی املاک کی توڑ پھوڑ کے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔
ہمیں اعتراف کرنا چاہئے کہ آج ہم صلاح الدین ایوبی کو یاد تو کرسکتے ہیں لیکن صلاح الدین ایوبی بننے کی سکت نہیں رکھتے۔ صلاح الدین ایوبی ایک کرد تھا لیکن اس نے ا پنی ہمت و شجاعت سے ایک ایسی فوج کی قیادت کی جس میں عرب، ترک اورکردوں سمیت کئی زبانیں بولنے والے مسلمان شامل تھے۔اس فوج کے پاس سب سے بڑی طاقت جذبہ ایمانی تھی اور اس جذبہ ایمانی کو ختم کرنے کے لئے دشمن نے مسلمانوں میں لسانی، نسلی اور فرقہ وارانہ اختلافات کوفروغ دیا۔ کون نہیں جانتا کہ برطانوی فوج کے افسر کرنل لارنس نے مسلمانوں کا اتحاد توڑنے کے لئے ان میں قومیت پرستی کا جذبہ ابھارا اور عربوں کو ترکوں سے لڑا دیا۔ آج ہمارے پاس ایٹمی طاقت موجود ہے لیکن جذبہ ایمانی مفقود ہے۔ ہمارے اندرونی حالات نے ہمارے ایٹم بم کو بھی ا یک مذاق بنادیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم نے ایٹم بم اپنے بچا کے لئے نہیں بنایا بلکہ ہم ہر وقت ایٹم بم کو دشمن سے بچائے پھرتے ہیں۔ ہماری بے بسی کا عالم یہ ہے کہ ہم اپنے دشمنوں کو خوش کرنے کے لئے ایک دوسرے پر گولیاں چلاتے ہیں اور ایک دوسرے کو اغوا کرتے ہیں، پھر اس قتل و غارت اور اغوا کاری کی تحقیقات کا تقاضا بھی دشمن سے کرتے ہیں۔پچھلے گیارہ سال کے دوران دہشتگردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں امریکہ کے اتحادی پاکستان کے کچھ ریاستی ادارے اتنے بے لگام ہوچکے ہیں کہ اپنے ہم وطنوں کو لاپتہ کرتے ہیں، جب عدالتیں حکم دیتی ہیں کہ لاپتہ افراد کو قانون کے سامنے پیش کرو تو عدالتوں کا حکم بھی نہیں مانا جاتا۔ ریاستی اداروں کی اس من مانی کے سامنے مجبور سویلین حکومت نے چپکے سے اقوام متحدہ کے ایک وفد کو پاکستان بلالیا تاکہ لاپتہ افراد کے معاملے میں اپنی بے گناہی ثابت کی جاسکے۔ اسے کہتے ہیں اپنے پاں پر خود کلہاڑی مارنا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمارا قانون ہمیں تحفظ نہیں دے سکتا، ہم ایک دوسرے کو تحفظ نہیں دے سکتے تو ہم اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی ۖ کی ناموس کی حفاظت کیسے کرسکتے ہیں؟ میری اطلاع کے مطابق امریکہ اور ہالینڈ میں دو ایسی فلمیں بنائی جارہی ہیں جن میں مسلمانوں کے شیعہ سنی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے گا۔ اس میں سے ایک فلم ایران کے خلاف ہے جس کا مقصد شیعہ سنی اختلافات کے علاوہ ایرانیوں اور عربوں کے نسلی اختلافات کو اچھالنا ہے۔ دوسری فلم شام کے شیعہ سنی اختلافات کے متعلق ہے۔ ایک مغربی ٹی وی چینل کی طرف سے بلوچستان کے حالات پر ڈاکو منٹری فلم بنائی جارہی ہے جس میں بلوچوں اور پشتونوں کے اختلافات کو ابھارنے کی کوشش کی جائے گی۔ بلوچستان میں بلوچ ، پشتون، ہزارہ اور پنجابیوں سمیت ہندو برادری کو کون کیسے ایک دوسرے سے لڑا رہا ہے اس پر کسی اگلے کالم میں بات ہوگی فی الحال صرف یہ کہنا ہے کہ ایک نبی ماننے والو ہوش کے ناخن لو۔ نہ پشتون کسی بلوچ کا دشمن ہے نہ بلوچ کسی ہزارہ کا دشمن ہے نہ سندھی کسی مہاجر کا دشمن ہے بلکہ سب صرف مسلمان ہیں اور ہمارا اصل دشمن وہ ہے جو ہمارے نبی کی شان میں گستاخی کررہا ہے۔ دشمن ہمیں آپس میں لڑارہا ہے ،ہمیں مارتا بھی ہے اور ایک دوسرے کے ہاتھوں مرواتا بھی ہے اس مشترکہ دشمن کے خلاف متحد ہوجا و ۔۔۔۔۔شکریہ جنگ اخبار!

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree