The Latest

mwm.kharمجلس وحدت مسلمین کراچی شعبہ خواتین کی جانب سے خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران میں منعقدہ ایک روزہ ورکشاپ کی مکمل رپورٹ
فاضلہ قم خواہر مہ جبیں نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ: ’’حماسہء حسینی‘‘ وہ عنوان ہے جو شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہری نے دیا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس عنوان کو اس کے اصل مفہوم کہ ساتھ سمجھا اور سمجھایا جا ئے یہ لفظِ حماسہ اردو ادب میں بھی رائج ہے مگر بعض اوقات لفظوں کو سازش کہ تحت رائج نہیں ہونے دیا جاتا کہ کہی ملت ان الفظوں کہ زیر اثر نہ آجائے۔مگر ہم نے اس کے مطلب بدل دیئے ضرورت اسکی ہے کہ اسکے اصل مطلب کو سمجھا جائے۔انھوں نے فرمایا کہ حماسہ حسینی ایک ایسے موضوع کی یاد ہے جو روح کو تڑپا دے۔ حماسہ کے چار ارکان ہیں۔عزت،افتخار،حرکت،شجاعت،استقامت یہ خصوصیات جس شخصیت میں یا کسی تحریر یا شاعری یا کلام میں جیسے نہج البلاغہ کا کلام اوّل سے آخر تک حماسی ہے۔ ؑ جب سب گھر میں بیٹھ گئے تھے تو جنابِ زھر ہ ولایت کی دفع کے لئے گھر سے نکلی یہ خصوصیات ہوتی ہیں ایک حماسی شخصیت میں امامِ معصوم ؑ نے فرمایا: مجھے ود راستوں پرلاکر کھڑا کر دیاگیاہے، ایک عزت کا اور ایک ذلت کا۔امام نے فرمایا: ھہات من الز لہ اس کا آغاز عزت سے ہو رہا ہے ،موت کے سائے سے، عزت کے سائے سے۔ اگر ممبر پرسے ہی یہ پیغام عزت نہ پہنچایا جائے تو یہ ظلم ہے۔امام حسین ؑ نے پورے وجودکے ساتھ عزت کا پیغام دیا ایران اور لبنان نے اس پیغام عزت کو سمجھااور عمل کیا تو عزت ملی مگر ہم نے کیا کیا؟ ہم کو یہ دیکھنا ہوگاکہ ہم نے کہاں کوتاہی کی؟
امام نے فرمایاکہ:کیا تم نہیں دیکھ رہے کے حق پر عمل نہیں ہو رہا ۔ہرمومن پر لازم ہے کہ وہ خدا کے لئے قیام کرے۔ہم جو حضرت زہیر اور حضرت حر ؑ میں شجاعت،غیرت،فرض شناسی اور حرکت دیکھتے ہیں اگریہ ہی حرکت ،شجاعت،غیرت،فرض شناسی ممبر سے نہیں پہنچ رہی تو حق ادا نہیں ہو رہا۔سب سے زیادہ عزاداریہمارے ملک میں ہوتی ہےمگرنتیجہہم سب سے پیچھے ہیں۔ ابھی تک ویسے آگے بڑھ نہیں سکے کے

جیسے دنیا کی باقی اقوام آگے بڑھیں کیونکہ ہم نے حماسہ حسینی کو سمجھا ہی نہیں۔پیغامِ حسینی حرکت کے لئے ہے نہ کہ امت کوسلانے کہ لیے ممبر مصلحتوں کی جگہ نہیں ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں سے صرف حق اور سچ بیان ہونا چاہیے ،ظالم کے ظلم کو بیان ہونا چاہیے ،جہاں مظلوم کی مظلومیت بیان ہونی چاہیے لیکن ہم نے حسین ؑ کہ حماسہ کو حماسہ حسینی کو لوری بنادیا ہے جس سے حرکت نہیں بلکہ صرف خواب جنت دیکھ کر امت سو رہی ہے۔ ممبر سے حماسہ حسینی کو اس کہ چار ارکان یعنی(عزت ، افتخار،حرکت،شجاعت،استقامت) کو مد نظر رکھتے ہوئے اسکے اصل مفہوم کہ ساتھ بیان کیا جائے۔ ۔خدا بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔کیا ہم نے اپنی حالت بدلنے کی کوشش کی؟یہ کوشش اسی صورت میں ہوسکتی ہے کہ جب ہم واقعی کربلا کو حادثہ نہ سمجھے کیونکہ حادثے پر افسوس کیا جاتا ہے مگر واقعات سے ،تحریک سے سبق لیاجاتاہے بہت فرق ہے کہ عوام حماسہ حسینی کو صرف حادثہ سمجھتی یا تحریک یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے۔عزاداری ایک تحریک ہے جس کہ مرحلے ہیں اس کو نہ ہی مصائب سے جدا کیا جاسکتا ہے نہ فضائل سے اگر حماسہ حسینی کے ثمر کو حاصل کرنا ہے تو پھر عزاداری کے ہر مرحلے پر محنت کرنی ہوگی علم و تفکر ،شعور اور حرکت کہ پہلو وءں پر محنت کرنے کی ضرورت ہے ۔ایسا نہیں کہ فضائل کم کرکہ مصائب زیادہ بڑھا دیئے جائے یا فضائل بڑھا کر مصائب کم کردیئے جائیں ، نہیں ہر پہلو پر توجہ دیں۔ آخر میں مجلس وحدت مسلمین کہ اس اقدام کو سرہاتے ہوئے فرمایا کہ ایسی ورکشاپ منعقد ہوتی رہنی چاہیے تاکہ عزاداری اپنے اصل فلسفے کے ساتھہ منعقد کی جا سکے۔خواہر مہ جبیں کے بعد خواہر طاہرہ فاضلی(فاضلہ قم) کو خطاب کی دعوت دی گئی ۔۔
خواہر طاہرہ فاضلی نے حماسہ حسینی کہ عنوان پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ:
سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کے دیکھنا چاہیے کے آیا لوگوں نے اس کو حادثہ سمجھا یا واقعہ؟ کیونکہ اس سے واقعی بہت فرق پڑتا ہے۔کربلا کا سب سے خو بصورت ترجمہ رہبر کبیر نے کیا آپ ؒ نے فرمایا کہ: پیغام کربلا صرف ملت تشیع تک محدود نہیں کیونکہ یہ ایک تحریک ہے اور تحریک کسی ایک پر نہیں بلکہ اس کے اثرات دور داز تک یعنی دوسرے مکاتب پر بھی اس کے اثرات ہوتے ہیں اور کربلا ایسی تحریک کا نام ہے جو مسلسل حرکت میں ہے لہٰذا جب انقلاب اسلانی ایران انہیں آیا تھا تو شہنشاہ ایران کے دور میں ایران میں کامیابی کے لیے خود کو سیکولر ثابت کرنا ہوتا تھا مگر جب انقلاب اسلامی آیا اور حماسہ حسینی کے حوالے سے دروس وغیرہ منعقد کئے گئے تو وہاں ایسی تبدیلی آئی جس کو دنیا نے عزت کی نگاہ سے دیکھا۔جی عزیزپاکستان میں واقعاَسب سے زیادہ عزاداری منعقد ہوتی ہے مگر نتیجہ

ہم سب سے پیچھے ہیں امام حسین ؑ کو سمجھنے کے لئے شیعہ ہونا ضروری نہیں ہے۔گاندھی نے تحریک آزادی کو کامیاب بنانے کے لئے کربلا وحماسہ حسین کا مطالعہ کیا تھا۔امام باظل کے سامنے حق کو بیان کرنا ہی حسینیت اور مقصد عزاداری ہے اور یہ ہی عزاداری کی طاقت ہے ۔بہت افسوس کہ ہم عزاداری کہ ثمر سے ابھی تک محروم ہیں۔امام ؑ نے قیام کا مقصد منزل بہ منزل بیان کیا صرف عراقیوں کے لئے نہیں بلکہ رہتی دنیا تک کہ لئے۔ مقاصد اور اسباب بیان کئے کہ میں اپنے جد رسولﷺ اور اپنے بابا کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے دین اسلام کی بقاء کے لئے قیام کررہا ہو ۔خواہر طاہر فاضلی نے حماسہ حسینی کہ عنوان پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے فرمایاکہ:جب بھی کوئی انصار امامؑ مقتل کی جانب جاتا تو رجز پڑھتا اپنا مقصد بیان کرنے کے لئے کہ کیوں ہم فرزند ٖفاظمہ پر جان نصار کر ہے ہیں۔یہ رجز مقصد بیان کرنے کا ایک طریقہ تھا تاکہ آنے والے سمجھ سکے ثمر پا سکیں۔ کربلا میں اول سے آخر تک ہر شہید کی یہی آرزو رہی کہ مقصد پہنچ جائے آنے والوں تک۔ مگر ہم کیا کرر ہے ہیں؟mwm.khr01
شو قیہ ذاکری سب سے بڑا مسئلہ:خواہر طاہرہ فاضلی نے فرمایا کی عزاداری امانت دین ہے امانت آل رسولﷺ ہے مگر ہم نے اس کو شوق کی نظر،ریاکاری،ناموونمود ،تحریفات کی نظر کردیا ہے۔ شوقیہ زاکری نے عزاداری کہ مقصد کو حد درجہ نقصان پہنچایا ہے، ممبر کے لئے مصیبت بن گیا ہے ۵سال کہ بچے کو بیٹھا دیا شوق ہے ممبر علم کی جگہ ہے ابھی بارہ اماموں کے نام یاد نہیں مگر شوق کو پور کرنا ہوتا ہے ۔ صرف شوق کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے لئے سیکھنا اور علم حاصل کرنا ضرروری ہے ۔شرط اول ہے علم ،شرط اول ہے عمل و معرفت۔مثلا اگر آپ کو ڈاکٹر بنے کا شوق ہو operation کرنے کا شوق ہے تو کیا آپ چھری لے کر اپنے بچے کا operation کریں گی؟ نہیں کریں گی ایسا کیونکہ جان کا خطرہ ہے اس کے لئے علم کا ہونا مہارت کا ہونا ضروری ہے ،تو آیا ہمیں پھر یہ حق کس نے دیا کہ ہم زہراء ؑ کے فرزند کی قربانی کو ایک شوق کی نظر کردیں ایک غیر معلم کے سپرد کردے۔ایک بار ہمارے ایک استاد نے بہت خوبصورت بات کہی کہ جب کوئی بغیر درس و تدریس کہ ممبر پر جاتا ہے تو میں سوچتا ہو کہ ایسے لوگوں کی وجہ سے حسین ؑ کو پتہ نہیں اور کتنی بار مقتل میں جاناہوگا۔
خواہر طاہر فاضلی کے بعد آغا خطیب مہدی (ڈائریکٹر خانہ فرہنگ) کو خطاب کے لئے دعوت دی گئی 
آغا خطیب مہدی (ڈائریکٹر خانہ فرہنگ) نے فرمایا کہ:امام ؑ نے اپنے میں شعارمیں فرمایا کس مقصد کہ لئے کیوں دشمن کے مطلبات تسلیم نہیں کرے یہاں تک کہ اپنے آخری خطرہ بہانے کو تیارہوں ۔مگر ہم نے اس شعا رکو بھلا دیا ہے بلکے کچھ شعار لئے آئے ہیں۔وہ نہذتِ عاشورہ کو بیان کرنے کہ بجائے غلط مطلب بیان کرتا ہے۔جو ہم نے اپنایا ہے و ہ دشمن کے ساتھ تعاون کرنا سکھاتا ہے۔ عاشور کو جو ہم ماتم کرتے ہیں اسکا مقصد ،مقصدِ عاشورہ بیان کرنے میں ہے۔امام ؑ نے جنگ کے لئے قیام نہیں کیا تھا بلکہ اقوال کہ ذریعے مقصد واضح کیا۔روزِہ عاشورہ امام ؑ نے اپنے شعار کے ذریعے بنی امیہ اور بنی عباس کی بنیادوں کو ہلا دیا اگر ایسا نہیں کرتے امامؑ تو بنو عباس کئی عرصے تک قا ئم رہتے۔۔امام ؑ نے روز عاشور ایک شعار پڑھا جس کا مطلب یہ تھا کہ:
موت میرے لئے ذلت پرستی سے بہتر ہےmwm.kh02
آپ اس نعرے کا کیا نام رکھیں گے یہ عزت کا نعرہ ہے ،یہ خود اعتمادی کا نعرہ ہے،یہ عزت،شرافت ،شجاعت کا نعرہ ہے۔یہ بتاتا ہے کہ ذلت کی، پستی کی زندگی سے بہتر موت ہے۔دنیا یہ جان لے اپنے خون بہانے اپنے فرزند قربان کرنے کہ لئے تیار ہیں تو مقصد کیا ہے؟ امامؑ کی تربیت رسول اللہﷺ اور پرورش شیرِفاطمہ سے ہوئی ہے۔
امام ؑ کا قول :انسان جنگ لے لئے جب تیارہوتا ہے جب ساری امیدیں خطہ ہو جاتی ہیں۔
امام ؑ کاکلام اگرغور سے پڑھیں تو والہانہ انداز معلوم ہوتا ہے ۔زیاد کا جو بیٹا تھا اس کی تلوار سے خون ٹپکتا رہتا تھا اسکا باپ بھی اسی کی طرح ظالم تھاجب لوگوں کو پتاہ چلا کہ ابن زیادآگیا تو سب اپنے گھروں میں چھپ گئے۔امام ؑ نے فرمایا:مجھے اس نجس زنا زادے، حرام زادے نے دو راستوں پر لا کھڑا کیا ’’کہہ رہا ہے کہ تلواروں کا نشاناں بنو یا بیعت کرلو۔۔ایسی صورت حال میں ،میں کوسعاد ت کہ سوا کچھ نہیں سمجھتا ۔ ظالموں کے ساتھ زندگی گزارنے کو ذلت محسوس کرتا ہو اس لئے امام نے فرمایا میرے قیام کا مقصد مال و دولت حا صل کرنا نہیں ہے بلکہ اپنے نانا کی امت کی اصلاح ہے۔ آغا خطیب مہدی (ڈائریکٹر خانہ فرہنگ) نے فرمایا کہ عزاداری کو زندہ رہنا چاہیے۔عزاداری کرنے والے کا اتنا ثواب رکھا گیا کیوں آئمہ معصومین نے عزاداری کی سفارش کی ہے کیوں کہ اس کی روحَ ایثار ہے،روحِ بندگی ہے،دشمن شناسی ،رضا الہی خود اعتمادی اپنے آپکو پہچانا ،عزت ،سرفرازی غیرت اور شیطان کی ساتھ جنگ اور دور ی ہے۔عاشورہ اس وقت عاشورہ ہے جب لوگوں میں روح ِ مقصد حسینیؑ پیدا کر ے۔عاشورہ اس وقت عاشورہ ہے جب زندگی ملے۔صحیح عزاداری اس وقت عزاداری ہے جو دشمن نے اس میں شامل کیا ہے وہ دور ہو جائے جو عزاداری میں تحریفات شامل کی جاتی ہیں اس سے پاک ہو جائے۔ہمیں جو کچھ آج تک ملاہے امام ؑ کہ وسیلے سے ملا ہے۔
کچھ اہم نکات: 
کچھ اہم نکات جن پر زیادہ توجہ دیں ایام عزا قریب آرہے ہیں لہذا بھی سے ان نکات پر خا ص توجہ رکھیں:
* عزاداری میں جو تحریفات شامل ہوئی ہیں ان سے دور رہیں.
*جہاں بھی مجلس برپا کرئے مشن حسینی کوبیان کریں اور جہاں بھی مجلس پڑھیں وہاں زیادہ سے زیادہ خطبات سید الشہداء ؑ بیا ن کریں حماسہ حسینی بیان کریں۔
*جو ظاہری طور پر شامل ہیں ذوالجناح،تابوت وغیرہ انکو اصل مقصد کے لئے استعمال کریں۔مجلس اس انداز سے پربا کریں جیسے امام زین العابدین ؑ نے کی جیسے امام باقرؑ نے کی جیسے امام رضا ؑ نے کی اس حوالے سے پڑھیں کہ کیا طریق کار تھا آئمہؑ کی عزاداری کرنے کا۔ وہ طریقہ کار خود بھی پڑھیں اور دوسروں کے سامنے بھی یبان کریں کیونکہ آئمہ ؑ نے جو عزاداری و بیداری کہ لئے اپنایا۔،ا ن سب کی کوشش کرئے کیونکہ خواہران بی بی سیدہ ؑ کی کنیزوں میں ہیں تو تحریفات سے دور رہیں، صحیح واقعا ت بیان کرئے کتابیں پڑھیں حقیقت سے بڑھ کر کو ئی چیز اثر انداز نہیں ہو تی۔شہید استاد مطہری کی کتاب( حماسہ حسینی ؑ ) پڑھیں اور ایک ساتھ بیٹھ کر اس موضوع پر تبادلہ خیال کریں۔آپ جب مصائب پڑھیں لہوف المقتل سے پڑھیں(سید ابن طاوس ) کی۔
مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کراچی ڈویژنل سیکرٹیری جنرل خواہر زہراء نجفی کا خطاب:
مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کراچی ڈویژنل سیکرٹیری جنرل خواہر زہراء نجفی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ مجلس وحدت مسلمین کہ اغراض و مقا صد عزاداری کا انعقاد اور اسکی بقاء بنیادی مقاصد میں سے ہے،مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹیری جنرل آغا راجہ ناصر صاحب نے فرمایاکہ: یہ خطیب اور ذاکرین ہمار ی �آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔مجلس وحدت مسلمین کا کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس دن وہ مقصد سید الشہدا ء کے لئے کوئی اقدام نہ کرے۔اور اسی کوشش کی ایک کڑی ذاکری ورکشاپ ہے۔مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کراچی ڈویژنل سیکر ٹیری جنرل خواہر زہراء نجفی نے فرمایاکی امام مظلوم نے اپنے قیام کا مقصد بیان کردیا تھا اور فرمایا تھا کہ ا گرمیرے خون کے علاوہ دین نہیں بچ سکتا تو آؤ تلواروں مجھ پر ٹوٹ پڑو۔تو مقصد دین کی بقاء ہے ،مجلس وحدت مسلمین یہی مقصد لے کر چل رہی ہے۔ آخر میں فاضلِ قُم و مشہد اور اسکالر زکے پینل نے شرکاء کے سوالات کے جوابات دےئے اور عنا و ینِ مجالس ، بانیانِ مجالس و سامعین کی ذمہ داریوں جیسے اہم نکات پر گفتگو فرمائی۔

amin.lhrمجلس وحدت مسلمین لاہور خواتین ونگ کے زیر اہتمام وارث کربلا زینب کبری(ع) کانفرنس قومی مرکز خواجگان لاہور میں منعقد ہوئی جس سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی، مرکزی سیکرٹری تبلیغات علامہ ابوذر مہدوی اور خواتین ونگ کی انچارج خانم سکینہ مہدوی نے خطاب کیا۔ علامہ محمد امین شہیدی نے کہا کہ ایک واعظ اور معلم کا معاشرے میں بہت اہم کردار ہے، معلم ایک استاد کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی بحث معاشرے میں زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔

Photo2439مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کی جانب سے14 اکتوبر 2012 بروز اتوار خانہ فرھنگ ایران کراچی میں ایک روزہ ذاکری ورکشاپ بعنوان(حماسہ حسینی ) منعقد کی گئی جس میں مختلف سے علاقوں سے خواتین کی ایک کثیر تعدادمیں شرکت کی شعبہ خواتین نے مختلف علاقوں سے شرکت کرنے والی خواتین کے لئے ٹرانسپورٹ کا بھی انتظام کیاتھا خانہ فرھنگ اسلامی جمہوریہ ایران میں ذاکری وخطابت ورکشاپ میں استقبالیہ کیمب اور بک اسٹال بھی لگایا گیا تھا اس کہ علاوہ خانہ فرھنگ کی جانب سے تصویری نمائش بمناسبت اما علی رضا ؑ کا انعقاد کیا گیا تھا جس کو کافی سہراہاگیا ۔ذاکری ورکشاپ میں کراچی کی ذاکرات و معلمات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ذاکری ورکشاپ کی صدارت خواہر حنا نے کی ورکشاپ کا باقاعدہ آغار قرآن پاک کی تلاوت سے کیا گیا جس کہ بعد بارگاہ امام میں ہدیہ سلام پیش کیا گیا۔سلام کے بعد فاضلہ قم خواہر مہ جبیں نقوی کو خطا بت کہ لئے دعوت دی گئی

zainab confلاہور( ) مجلس وحدت مسلمین لاہور خواتین ونگ کے زیر اہتمام وارث کربلا زینب کبریؑ کانفرنس قومی مرکز خواجگان لاہور میں منعقد ہوئی جس سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہید ی ،مرکزی سیکرٹری تبلیغات علامہ ابوذر مہدوی اور خواتین ونگ کی انچارج خانم سکینہ مہدوی نے خطاب کیا۔
علامہ محمد امین شہیدی نے کہا کہ ایک واعظ اور معلم کامعاشرے میں بہت اہم کردار ہے معلم ایک استاد کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی بحث معاشرے میں زیادہ اہمیت کی حامل ہے انہوں نے کہا کہ سیرت زینب ؑ نے کربلا کی تحریک کو وہ طاقت دی کہ ظالم کو ہمیشہ کے لئے عبرت کا نشان بنا دیا اس پر آشوب دور میں بھی جس طرح سے اسلامی اقدار کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں ہماری خواتین کو میدان میں آکر کردار جناب زینب ؑ پر عمل کر تے ہوئے اسلامی اقدار اور اصولوں کا محافظ بننا ہو گا۔ 
حسین ابن علیؑ کے خطبات جو حریت ، آزادی اور غیرت و حمیت درس دیتے ہے۔ آج ہمیں ان پر عمل کرنے کی شدید ضرورت ہے ۔ مشن کربلا توحید و نبوت کے تحفظ کانام ہے اور وارث کربلا زینب کبریؑ جیسی شخصیات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔موجودہ دور میں ایک بار پھر یزیدیت سر اٹھاتی نظر آرہی ہے اس کو کچلنے کے لئے کردار زینبیؑ کی ضرورت ہے جس طرح انہوں نے کربلا کی تحریک کو منظم اور طاقت ور بنایا تھا اور یزید کے کرتوتوں کو عالم دنیا کے سامنے رکھ دیا تھا اسی طرح موجودہ دور کے یزید (شیطان بزرگ امریکہ ) کے مظالم اور اس کے کردار کو مسلم دنیا کے سامنے آشکار کرنا ہو گا اور مسلم معاشرے کو اسلامی اقدار کاتحفظ کرنا ہو گا

برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن(بی بی سی) کے ڈائریکٹر جنرل جارج اینٹوسل آج قانون سازوں کو بی بی سی کے جمی سیوائل کے خلاف جنسی زیادتی کے دعووں کے حوالے سے جواب دیں گے۔اس کے علاوہ پولیس بھی جمی سیوائل پر لگے ان الزامات کی تفتیش کررہی ہے ان الزمات میں بی بی سی میں کام کرنے والی عورتوں کا جنسی استحصال اور زیادتی جیسے مسائل شامل ہیں اور گذشتہ چالیس سال میں اس قسم کے دو سو کیس سامنے آئے ہیںجمی سیوال ایک مشہور ٹی وی اسٹار تھے جن کا انتقال پچھلے سال اکتوبر میں ہوا۔ ان کی عمر چوراسی سال تھی۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے چالیس سالوں میں بہت سے لوگون کے ساتھ جنسی زیادتی کی جن میں لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ خبر کے مطابق کئی دفعہ یہ واقعات بی بی سی کے احاطے میں بھی پیش آئے۔

پولیس نے جمعے کے روز فوجداری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دو سو سے زائد ممکنہ متاثرین ابھی تک سامنے آچکے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل بی بی سی کے حریف نجی ٹی وی اسٹیشن آئی ٹی ان الزامات کو منظر پر لایا۔پولیس نے جمی سیوائیل کو ‘جنسی مجرم’ قرار دیا ہے۔

یہ بی بی سی کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکینڈل ہوگا۔

نیوزنائٹ کی تحقیقات کے دوران انٹوسل بی بی سی کے ویژن ہیڈ تھے، جو بی بی سی کے کمیشن اور پروگرامنگ کو دیکھ رہے تھے۔

مجلس وحدت میڈیا سیل کےانچارچ کا کہنا ہے کہ بی بی سی جو کہ پروپگنڈہ اور خبروں کی لفظی توڑ جوڑ میں بڑا ماہر سمجھا جاتا ہے اس کے سربراہ کا اس طرح کے گنائونے فعل میں شامل ہونا کوئی عجیب بات نہیں بی بی سی جہاں خبروں کی ترسیل میں تیزترین ہے وہیں پر خبروں میں الفاظ کی ہیراپھیری سے مخصوص رخ کی جانب موڑنے میں بھی ماہر ہے ان کا کہنا تھا کہ بی بی سی ایک ہی نیوز کو مختلف زبانوں میں پیش کرتے ہوئے خوب الفاظ کی ہیراپھیری کرتا ہے تاکہ اس کا وہ مطلب نکل آئے جو بی بی سی جیسے ادارے کا مشن ہے 

tasleiatعلامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مرحوم ذاکر اہلبیت عارف شاہ کے رسم قل میں شرکت کی 
رسم قل میں ملک کے نامور ذاکرین کرام اور معززین شہر کی ایک بڑی تعداد شامل تھی جنہوں نے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے ساتھ مختلف امور کے حوالے سے نشست کی اور گفت و شنید کی 

شام کے صدر بشار الاسد نے ایک بار پھر اپنے ملک میں عام معافی کا اعلان کر دیا ہے۔ شامی کی سرکاری نیوز ایجنسی "سانا" کے مطابق شام کے صدر مملکت نے حکم نمبر 71 کے ذریعے ان افراد کے لئے جنہوں نے آج سے پہلے جرائم کا ارتکاب کیا، معافی کا اعلان کر دیا ہے۔
اس عام معافی کے حکم کا اطلاق دہشتگردی کے ان جرائم پر نہیں ہوگا جن کا ذکر دہشتگردی کے خلاف جنگ کے قانون میں ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ شام کے صدر نے اس سے پہلے بھی اپریل کے مہینے میں ایک حکم صادر کرکے فوجی خلاف ورزیوں سمیت 2 مئی 2012ء تک بعض جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے عام معافی کا اعلان کیا تھا

Sg.karachiوکلاء، ڈاکٹرز اور علماء کے بعد شیعہ صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ ریاستی اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، کھڈہ مارکیٹ میں امریکی پے رول پر پلنے والے دہشت گردوں کی فائرنگ سے جانباز اخبار کے رپورٹر علی رضا کی شہادت کے ذریعے دہشت گردوں نے پڑھے لکھے طبقے کو نشانہ بناکر خود کو جہالت کا پیروکار ثابت کیا ہے، شہید علی رضا کی شہادت اس بات کا اعلان ہے کہ اب انتہاء پسندی صحافی برادریوں کے بعض حلقوں میں بھی سرائیت کر چکی ہے، معتدل صحافی حضرات اپنے حلقوں سے ایسے عناصر کو نکال باہر کریں۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل مولانا صادق رضا تقوی نے شیعہ صحافی علی رضا کی شہادت پر اپنے مذمتی بیان میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی پے رول پر پلنے والے دہشت گرد ملک بھر میں ہونے والی شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے سر زمین پاکستان کو کمزور کرنے کے درپے ہیں، پاکستان بھر میں فرقہ کی بنیاد پر نشانہ وار قتل عام پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں سمیت ریاستی اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے ریاستی اداروں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں، کیونکہ جن لوگوں کو افغان جہاد کے نام پر امریکہ سے پیسے لے کر پالا گیا تھا آج وہ سر زمین خداداد کے لئے ناسور بن گئے ہیں۔

مولانا صادق رضا تقوی نے مزید کہا کہ حکومت روزنامہ جانباز کے رپورٹر علی رضا کی شہادت کا فی الفور نوٹس لے اور اس گھناؤنے فعل میں ملوث مجرموں کے گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دے۔ ایم ڈبلیو ایم کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل نے صدر زرداری، وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی، چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری، گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ سے پر زور مطالبہ کیا کہ شہر کراچی میں بے گناہ شیعہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ورنہ شیعیان حیدر کرار (ع) آئندہ الیکشن میں دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والی جماعتوں اور موجودہ حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کو ووٹ نہ دینے کی مہم چلائیں گے۔

Dua Arafaذی الحجہ کی نویں تاریخ روز عرفہ ھے جو پورے سال میں عبادت اور دعا کے لحاظ سے ممتاز ھے جیسا کہ کوئی بھی رات شب قدر کے برابر فضیلت نھیں رکھتی، روز عرفہ ،بعد از زوال سال کے دنوں میں مخصوص امتیاز رکھتا ھے۔

اگرچہ روز عرفہ حضرت سید الشہداءامام حسین علیہ السلام کی قبر مطہر کے پاس ھونا اور اسی طرح حج سے مشرف ھونا اور صحرائے عرفات میں وقوف کی ایک بہت بڑی فضیلت ھے کہ جس سے ہم بہت سے لوگ محروم رہتے ھیں، لیکن ہم میں سے ہر شخص چاھے کسی بھی جگہ ھو عصر روز عرفہ میں خداوندعالم کی بارگاہ میں دعا اور التجا کے موقع کو فرصت شمار کرے۔

جیسا کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ھے کہ آپ نے فرمایا: ”یوم عرفہ یوم دعاءو مسالة“(۱) (روز عرفہ [خداوندعالم سے] سوال اور دعا کا دن ھے)

روز عرفہ کی دعاﺅں میں سے دعائے عرفہ حضرت امام حسین علیہ السلام ھے کہ جو توحید کی نایاب تعلیمات ، معرفت الٰھی اور تزکیہ نفس کے اسباق کا گرانقدر مجموعہ ھے، اور اسی طرح صحیفہ سجادیہ (زبور آل محمد ”ع“)میں حضرت امام سجاد علیہ السلام کی دعائے عرفہ بھی ھے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ملک بھر میں دعائے عرفہ کے روحانی ماحول کا اہتمام کیا ہے کراچی کوئٹہ لاہور سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں دعائے عرفہ کی تلاوت کی جائے گی ۔لاہور میں علامہ امین شہیدی کوئٹہ میں علامہ ہاشم موسوی جبکہ کراچی اور دیگر شہروں میں بھی علمائے کرام یوم عرفہ کی دعا اجتماعی شکل میں تلاوت کرینگے 

دوسری طرف سے ذی الحجہ کی نویں تاریخ کوفہ میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے ایلچی جناب مسلم بن عقیل کی شھادت کا دن ھے، جو ابن زیاد کے حکم سے اور کوفہ کے لوگوں کی بے وفائی اور عہد شکنی کے بعد مظلومانہ طور پر شھید ھوئے، جناب مسلم کی فضیلت میں یھی کافی ھے کہ آپ کی شھادت سے چند سال پہلے حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے خطاب کرتے ھوئے فرمایا: [مسلم] ابن عقیل آپ کے فرزند کی محبت میں قتل کیا جائے گا، اور مومنین کی آنکھیں ان پر اشک بھائیں گی، اور ملائکہ مقرب ان پر درود بھیجیں گے۔(۲)

قابل ذکر بات یہ ھے کہ اسی روز جناب ھانی بن عروہ بھی (جو اپنے قبیلہ کے سردار تھے) جناب مسلم کو پناہ دینے کے جرم میں شھید ھوئے ھیں اور دونوں بزرگواروں کے جسم اطہر کو مسجد کوفہ کے ایک حصہ میں دفن کیا گیا۔

lahr hightcouertلاہور ہائی کورٹ میں مجلس وحدت مسلمین، عزاداری کونسل پاکستان اور شیعہ شہریان کے زیراہتمام سید شاکر علی رضوی کے قاتلوں کی گرفتاری اور علامہ غلام رضا نقوی کی رہائی کے لئے مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کی قیادت مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علامہ احمد اقبال رضوی، علامہ حسن ہمدانی، سید اسد عباس نقوی، مظاہر شگری، ماجد علی، شیعہ شہریان کے صدر علامہ وقار الحسنین اور وکلاء رہنماؤں نے کی۔ مظاہرین نے علامہ غلام رضا نقوی کو فوری رہا اور سید شاکر علی رضوی کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ شاکر رضوی کا عدالت کے دروازے پر قتل دراصل عدلیہ کا قتل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسیر ملت جعفریہ علامہ غلام رضا نقوی بے جرم گزشتہ 16 سال سے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں اور پنجاب حکومت اور عدلیہ انہیں رہا کرنے سے گریزاں ہیں جو شیعہ دشمنی کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ غلام رضا نقوی کی جانب سے 6 سال قبل درخواست ضمانت دائر کی گئی لیکن اس کی سماعت ہی نہیں کی جا رہی۔

انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ تاریخ پر غلام رضا کی ضمانت نہ منظور کی گئی تو محرم کے جلوسوں کا رخ ہائی کورٹ کی جانب موڑ دیں گے۔ مقررین نے کہا کہ بلوچستان اور کراچی سے دہشت گردی پنجاب میں آ چکی ہے اور اس کی سرپرستی پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نام پر دہشت گردوں سے اتحاد کر رہی ہے اور انہیں مراعات دی جا رہی ہیں جو دہشت گردی کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔ اس موقع پر شرکاء نے رانا ثناء اللہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

مقررین نے کہا کہ آج عورتیں اور بچے ہمارے ساتھ آئے ہیں جو کربلا کا طرز احتجاج ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ہم امن پسند ہیں اس لئے حکومت ہماری امن پسندی کو بزدلی سے تعبیر نہ کرئے ہم ابھی حکومت اور عدلیہ کا طرز عمل دیکھ رہے ہیں اور جب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو پھر ہم راست اقدام کریں گے پھر تخت گرائے جائیں گے اور تاج اچھالے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ نے سید شاکر علی رضوی کے قتل کو اسی وقت ذاتی دشمنی اس لئے قرار دیدیا کیوں کہ قتل کا کھرا ان کے گھر جا رہا ہے۔

رہنماؤں نے کہا کہ سید شاکر علی رضوی کا قتل انصاف کا قتل ہے اور جس ملک میں وکلا محفوظ نہیں اس ملک میں عام آدمی کا کیا حال ہو گا، پنجاب حکومت کو اپنے اس ’’گڈگورننس‘‘ پر ڈوب مرنا چاہیے۔ مظاہرے میں خواتین کی بھی کثیر تعداد نے شرکت کی جن میں علامہ غلام رضا نقوی کی اہلیہ اور بیٹیاں بھی شریک ہوئیں۔ مظاہرین نے علامہ غلام رضا کی درخواست ضمانت کی سماعت اگلی تاریخ تک ملتوی ہونے کے خلاف ایک گھنٹے تک علامتی دھرنا دیا اور پنجاب حکومت کیخلاف نعرے بازی کی۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree