The Latest

SHORAAAمجلس وحدت مسلمین یونٹ مورو کا اجلاس زیر صدارت یونٹ سیکریٹری جنرل منظور علی رند کی ہوا جس میں یونٹ کی جنرل باڈی نے شرکت کی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ انسانیت کی خدمت کرنا مجلس وحدت مسلمین کا نصب العین ہے انہوں کہا کہ احساس زمیداری ، محنت اور لگن کے ساتھ جو امور انجام دیے جاتے ہیں ان کے نتائج شاندار برآمد ہوتے ہیں - انہوں کہا کہ عید الاضحی ا کا دن ہمیں ایثار اور قربانی کا درس دیتا ہے یہ وہ عظیم دن ہے جس دن الله تعالی ا کے برگزیدہ نبی حضرت ابراہیم (ع) نے اپنے پیارے لخت جگر حضرت اسمٰعیل (ع) کو راہ خدا میں قربانی کے لیےپیش کیا اسی دن سے رہتی دنیا تک عالم اسلام کے لیے عظیم یادگار بنا دیا اور ہمیں پیاری سی پیاری چیز قربان کرنے کا سبق دیا -اس سے بڑھ کر عظیم سے عظیم تر قربانی مولا امام حسین (ع) کی ہے جس کی بدولت آج ہم انسان ہیں کیونکہ یزید جیسا ظالم اور فاسق حکمران اسلام پر قابض تھا  آج اسلام پر ایک بار وقت کا یزید امریکا قابض ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور ہر حسینی کی ذمیواری ہے کہ وقت کے یزید کا مقابلہ کریں کیونکہ یہ زندگی مولا حسین کا دیا ہوا صدقہ ہے آخر میں محرم الحرام کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا اور مختلف کامتیاں بنائیں گئیں-

askri.deraمجلس وحدت مسلمین پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ اصغر عسکری کا کہنا ہے کہ حکومت محرم الحرام سے قبل دہشتگردی کے ذریعے امن و امان کی فضاء خراب کرنے والے عناصر کیخلاف کارروائی کرے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں اتوار کے روز ہینڈ گرنیڈ حملے اور فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والے ذیشان حیدر اور یاسر فیاض کی نماز جنازہ کے موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشتگرد عناصر محرم الحرام سے قبل ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضاء کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، تاہم شیعہ سنی عوام اور علماء کرام ملکر ان ملک دشمنوں کی اس سازش کی ناکام بنا دیں اور حکومت قیام امن کیلئے شرپسند عناصر کو کنٹرول کرے، انہوں نے ہینڈ گرنیڈ حملے اور فائرنگ کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں اہل تشیع کا قتل عام جاری ہے اور حکومت شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈی آئی خان کی انتظامیہ دہشتگردی کے اس حملے میں ملوث شرپسندوں کو فوری طور پر گرفتار کرے اور شہر کے امن کو خراب کرنے کی کوششوں کو فوری نوٹس لے۔

mwm.raja.01مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا،جو کہ ان دنوں بلوچستان کے دورے پرہیں ڈیر ہ الہ یار پہنچنے پر مجلس وحدت کے عہدہ داران، کارکنوں اور عوام کا کی جانب سے پرتپاک استقبال کیا گیا ،علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ڈیر الہ یار میں ایک اجتماع سے خطاب کیا اور پھر آپ نے سیلاب متاثرین کے لئے مجلس وحدت کے شعبہ ویلفیر خیر العمل فاؤنڈیشن کی جانب سے قائم خیمہ بستی کا دورہ کیا اور سیلاب متاثرین کے لئے امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا نیز ان کی مشکلات کو قریب سے دیکھا سیکرٹری جنرل نے سیلاب متاثرین کے لئے قائم خیمہ بستی اور سیلاب زدگان کی امدادرسانی کے عمل کو تسلی بخش قراردیتے ہوئے شعبہ ویلفیر کی خدمات کو سراہا اور

سوشل میڈیا پر ان دنوں عرب حکمرانوں کے اسرائیل کے خلاف راست اقدام کے بیانات کی گونج ایک مرتبہ پھر سنائی دینے لگی ہے۔ نوجوان بلاگرز اور سوشل میڈیا فالورز کا کہنا ہے کہ 'زبانی جمع خرچ' پر مبنی عرب حکمرانوں کے یہ بیان محض عوام کو 'لبھانے' کا وقتی ذریعہ ثابت ہوئے ہیں۔

گزشتہ دنوں سوڈانی دارلحکومت خرطوم میں یرموک اسلحہ ساز فیکٹری پر اسرائیلی حملہ دراصل ماضی کے عرب حکمرانوں کے تند و تیز بیانات کی یاد آوری کا باعث بنا۔ بیانات میں اسرائیل کو للکارنے کا سلسلہ صدر جمال عبدالناصر کے فلسطین آزاد کرانے سے متعلق اعلان سے شروع ہو کر عراق کے سابق ڈکٹیٹرصدام حسین پر ختم ہوتا ہے کہ جو سن 1981ء میں اپنی ایٹمی تنصیاب پر اسرائیلی حملے کے بعد صم بکم کی عملی تفسیر بنے رہے۔

انٹرنیٹ بلاگرز نے موجودہ شامی صدر بشارالاسد کی جانب سے خود کو اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی علامت قرار دینے سے متعلق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ چھے برس قبل اللاذقیہ میں اپنے محل پر اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی پرواز کو اسی 'دلیر رہنما' نے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیا۔ سن 2001ء کو شامی علاقے البیدر میں اسرائیل کے شامی رڈاروں پر حملے اور بعد میں دیر الزور میں 'کبر' ایٹمی تنصیبات پر حملے پر خاموشی بھی بشار الاسد کے کاغذی مزاحمتی کردار کی قلعی کھولنے کے لئے کافی تھی۔

بشار الاسد کے والد اسرائیلی قبضے میں جانے والی گولان کی پہاڑیوں کو آزاد کرائے بغیر ہی دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔

کویتی صحافی فؤاد الھاشم نے عرب قیادت کے اسرائیل کو للکارنے سے متعلق دلچسپ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کویت میں سن 1972ء کو لیبی سفارتخانے نے 18 سے 24 سال کے عرب نوجوانوں کی بھرتی کا اعلان کیا، جنہیں فلسطین آزاد کرانے کے لئے متحدہ عرب فورس میں شامل کیا جانا تھا ۔۔۔۔ فلسطین کی آزادی تو خواب ہی رہی تاہم اس کا پرچار کرنے والے کرنل معمر القذافی اپنے ہی عوام کے ہاتھوں مارے گئے۔

جمال عبدالناصر سن 1963ء میں سعودی عرب کو نجران ایئرپورٹ پر کھڑے چھے لڑاکا جہاز پانچ منٹ میں تباہ کرنے کی دھمکی دیتے رہے جبکہ 1967ء میں اسرائیل نے صرف سات منٹ پر محیط کارروائی میں مصر کو پوری فضائیہ لپیٹ کر رکھ دی۔

فؤاد الھاشم نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکومت جب حافظ الاسد کو اشتعال دلاتی تو ایسے میں شامی میڈیا ان کے مشہور بیان سے تادیر گونجتا رہتا ۔۔۔۔ 'کوئی ہم پر جنگ مسلط نہیں کر سکتا، ہم میدان جنگ اور اس کے وقت کا تعین کریں گے'۔

کویتی دانشور نے مصری رہنماؤں کے اسرائیل مخالف بیانات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اخوان المسلمون خود آزادی فلسطین کے لئے 1948ء میں جنگ کرنے کے اعلانات سے لوگوں کے دلوں کو گرماتی رہی ہے لیکن اب اسی جماعت کے حکمران ڈاکٹر محمد مرسی اپنے اسرائیلی ہم منصب کو اپنا عزیز دوست قرار دیکر محبت نامے کا اختتام کرتے ہیں۔

فؤاد الھاشم نے کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ عرب دنیا کیونکر اپنی ساری قوت ایک فرد واحد کے پلڑے میں ڈال دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دانشوروں وہ اسباب کو تلاش کرنا ہوں گے کہ جن کے ہاتھوں مجبور ہو کر عرب عوام حکمرانوں کے 'عشق' میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ فرد واحد کے عشق میں مبتلا ہونے کا عمل بہت سے ممالک کے نظام ہائے حکومت کی ڈکشنری میں موجود نہیں۔

amin.exprestvایکسپریس ٹی وی نیٹ ورک کے پروگرام کل تک میں گفتگو کا خلاصہ
خودکش حملے اور ٹارگٹ کلنگ کو فرقہ واریت کا نام نہ دیا جائے ،ٹارگٹ کلنگ اور مذہبی نام پر قتل ترکی ،بنگلہ دیش انڈیا میں کیوں نہیں ہوتامعلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں حکومتی رٹ سمیت کچھ اندرونی عوامل ہیں جو یہ کام کرتے ہیں ۔
میزبان :سوشل میڈیا میں خوفناک اختلافی باتیں موجود ہیں آپ علماء حکومت سے مطالبہ کریں کہ وہ ہٹادیں جائیں۔
نمائشی اقدامات سے ریاست نہیں چل سکتی بنیادی بات یہ ہے ریاست اپنی ریٹ قائم کرے ،داخلی عوامل میں سے ایک عامل حکومتی رٹ ہے گذشتہ ساٹھ سال میں فرقوں کے نام پر جو قتل عام ہوا اس میں سے کسی ایک کو بھی سزا نہیں دی گئی ،

mwm.blnمجلس وحدت مسلمین پاکستان بلتستان ڈویژن تحصیل گمبہ یونٹ کی سیکرٹریٹ کا باقاعدہ افتتاح مرکزی انجمن امامیہ بلتستان کے سیکرٹری تبلیغات علامہ آغا علی رضوی کے دست مبارک سے ہوا۔ اس موقع پر انجمن امامیہ بلتستان کے سینئر نائب صدر علامہ سید مظاہر حسین الموسوی نے بھی خصوصی شرکت کی۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انجمن امامیہ بلتستان کے سینئر نائب صدر علامہ سید مظاہر حسین الموسوی نے کہا کہ اس وقت دنیا اسلام کو متحد ہونے کی سخت ضرورت ہے، اسلام کے خلاف سازشیں بام عروج پر ہیں ان تمام سازشوں کا حل صرف اور صرف طاقت ایمانی اور اتحاد میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ جنایت کار ہے جس کی رگ رگ میں شیطنت کے علاوہ کچھ نہیں اورآج بلتستان کے گاؤں گاؤں میں یو ایس ایڈ کی شکل میں پہنچ چکا ہے۔ یہ شیطانی طاقتیں مالی مفادات کے عوض ہم سے عشق رسول (ص) اور طاقت ایمانی کو چھیننا چاہتی ہیں۔ انہوں نے اس افتتاحی تقریب میں دیگر مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی شرکت کو مستحسن قرار دیا اور کہا کہ ہمارے دشمن اگر ایک ہیں تو ہم مختلف پارٹیوں میں رہ کر ایک کیوں نہیں ہوسکتے۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان بلتستان ڈویژن تحصیل گمبہ کے سیکرٹری جنرل آغا نوری نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہمارا دفتر تمام سیاسی اور مذہبی تنظیموں کے علاوہ تمام مکاتب اسلامی کے کھلا ہے

anadoluترکی کی نیوز ایجنسی کو سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سے دئے گئے انٹریو کا دوسرا حصہ

اناتولی نیوزایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین نے ملک میں جاری بد امنی خاص کر گلگت بلتستان و کراچی کے حالات کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں بد امنی کا فائدہ انڈیا اور امریکہ کو ہے ،انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک کے حالات اس نہج پر پہنچے ہیں کہ یہاں ٹارگٹ کلر اور خودکش حملہ آور بکتے ہیں اور ان لوگوں کو پاکستان دشمن قوتیں استعمال کرتیں ہیں ،یہ لوگ امریکہ انڈیا اور اسرائیل سمیت تمام ان ممالک کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں جو اس ملک میں بدامنی دیکھنا چاہتے ہیں ۔

anatulo.mwmمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ترکی کی نیوزایجنسی اناتولو کو مختلف مسائل پر ایک انٹریودیا جس کا کچھ حصہ ہم یہاں پیش کررہے ہیں ۔

آپ نے اناتولو کو انٹریو دیتے ہو ئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دنیا میں جہاں بھی اسلامی حکومت قائم ہوگی ہم اس کے حامی ہیں ،انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ہم پاکستانی شیعہ ہیں اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ہر حوالے سے اپنے فرائض ادا کریں

ہیومن رائٹس واچ یا انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے ادارے نے آل سعودی کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ملک میں مختلف ایشوز پر احتجاج کرنے والوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان کے خلاف قانونی کاروائیاں کر رہی ہے 
ہیومن رائٹس واچ کے مشرق وسطی ٰ کے ڈپٹی کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت احتجاج کرنے والوں کے خلاف عدالتی سسٹم کو حرکت میں لے آتی ہے ان کہنا ہے کہ بعض افراد کے خلاف عدالتی فیصلے اس قسم کے ہیں کہ ملک میں ہر احتجاج و اعتراض کرنے والوں کو خوف زدہ کرتے ہیں 
ہیومن رائٹس نے سعودی حکومت سے ان خصوصی عدالتوں کے فورا خاتمے کا مطالبہ کیا ہے جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق کیس کی پیروی نہیں کرتے اور نہ ہی ان میں ان عدالتوں میں شفافیت نظر آتی ہے جس کے سبب بے جا قسم کی گرفتاریوں جیسے مسائل جنم لیتے ہیں 
مسٹر اسٹروک کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف عدالتی کاروائیوں کو روک دیا جائے اور ملک میں پرامن احتجاج کی اجازت دی جائے 
واضح رہے کہ سعودی عرب کے شاہی خاندان عرب دنیا میں بڑھتی ہوئی بیداری اور حق خود ارادیت سے سخت خوفزدہ ہیں جبکہ ملک کے مشرقی علاقے پچھلے کئی سالوں سے محرومیوں کے شکار نظر آتے ہیں جس کے سبب آئے دن مشرقی علاقے میں احتجاج ہورہا ہے اور اس احتجاج میں درجنوں افراد گرفتار اور کم ازکم پانچ افراد جاں بحق ہوچکے ہیں 
دوسری جانب ملک میں جمہوریت پسند افراد کی تعداد اب عوام سے نکل کر خود شاہی امراء کے اندر بھی بڑھتی جارہی ہے

azarbaijanآذربائیجان کہ جہاں روس سے آزادی کے بعد ایک ڈکٹیٹر کی حکومت قائم ہے اورجہاں ہرقسم کا احتجاج قانونا جرم تصور کیا جاتا ہے لیکن گذشتہ دنوں سینکڑوں ایسے جوان سڑکوں پر نکل آئے جو ملک میں پارلیمنٹ کے ممبروں کی کرپشن کے خلاف احتجاج کررہے تھے احتجاج کرنے والوں کا جواب حکومتی فورسز نے ڈنڈوں اور لاتوں سے دیا یہاں تک کہ بہت سی خواتین کو بھی شدید قسم کے تشدد کا نشانہ بنایا 
اور متعدد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ۔
اس سے قبل ملک میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج کے دوران بھی مظاہرین پر تشدد کیا گیا تھا جبکہ متعدد باحجاب خواتین کے سروں سے زبردستی حجاب کو چھینا گیا تھا 
آذربائیجان میں ملک کی تقریبا نناوے فیصد آبادی مسلمان ہے جس میں سے نوے فیصد یعنی ملک کی اکثریت شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے آذربائیجان کے لوگ دیندار ہیں اور روس سے آزادی کے بعد بڑی تیزی کے ساتھ مذہب کی جانب ان کا لگاؤ بڑھ چکا ہے جبکہ حکومت انتہاپسند سیکولر نظریات رکھتی جو کسی بھی عوامی احتجاج یا مطالبے کا شدت کے ساتھ سامنا کرتی ہے 
کہا جاتا ہے کہ اس وقت ملک کی جیلوں میں علمائے کرام سمیت تین سو سے زائد مرد اور خواتین اسلامی نظریات خاص کر حجاب کی حمایت کے جرم میں قید ہیں

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree